عبادت گاہوں کی رجسٹریشن عالمی دستور

بیرزادہ  فیصل قادری
پلوامہ، کشمیر
جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے مساجد، مدارس اور مذہبی ذمہ داران کی پروفائلنگ کے اقدام کو غیر معمولی یا غیر آئینی قرار دینا حقیقت سے لاعلمی یا دانستہ سیاسی شور پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں عبادت گاہوں کی رجسٹریشن، نگرانی اور مذہبی اداروں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا ایک معمول کی ریاستی پالیسی ہے، جس کا مقصد شفافیت، نظم و ضبط اور سماجی ہم آہنگی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اس عمل کو مذہبی آزادی پر قدغن کے طور پر پیش کرنا دراصل سستی سیاست ہے جس کا مقصد صرف خبروں میں رہنا اور عوام کو گمراہ کرنا ہے۔
اگر ہم عالمی تناظر میں دیکھیں تو پاکستان میں مساجد کی رجسٹریشن سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت یا ٹرسٹ اور وقف کے طور پر کی جاتی ہے۔ اس کے لئے زمین کی ملکیت کے ثبوت، مسجد کمیٹی کے ارکان کے قومی شناختی کارڈ، حلف نامے اور دیگر قانونی دستاویزات درکار ہوتی ہیں۔ صوبائی اوقاف محکمے اور ضلعی انتظامیہ اس پورے عمل کی نگرانی کرتے ہیں۔ نئی مسجد کی تعمیر کے لئے ضلعی انتظامیہ سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ لازمی ہوتا ہے، جس کا مقصد غیر قانونی تعمیرات اور مالی بے ضابطگیوں کی روک تھام ہے۔
سعودی عرب میں مساجد کا پورا نظام وزارت اسلامی امور کے تحت آتا ہے۔ مسجد کی منصوبہ بندی، تعمیر، دیکھ بھال اور انتظام حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ امام، موذن اور دیگر عملہ سرکاری ملازم ہوتے ہیں اور ریاست کی جانب سے تنخواہیں پاتے ہیں۔ یہاں مذہبی سرگرمیوں کو مکمل طور پر ریاستی نظم کے تحت رکھا گیا ہے تاکہ خطبات اور تعلیمات قومی پالیسی کے مطابق رہیں۔
ترکی میں بیشتر مساجد دیانت یعنی صدارتی ادارہ برائے مذہبی امور کے زیر انتظام ہیں، جو ان کی فنڈنگ، انتظام اور اماموں کی تقرری کرتا ہے۔ اگر کوئی مسجد کمیونٹی کی جانب سے تعمیر کی جائے تو بھی اسے قانونی حیثیت کے لئے انجمن یا وقف کے طور پر رجسٹر ہونا پڑتا ہے اور حکومتی اجازت ضروری ہوتی ہے۔ اس طرح ریاست مذہبی ڈھانچے کو ایک منظم فریم ورک میں رکھتی ہے۔
ملیشیا میں اسلامی امور ریاستی دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ ہر ریاست میں اسلامی مذہبی کونسل اور اسلامی مذہبی محکمہ مساجد کی رجسٹریشن اور نگرانی کرتے ہیں۔ کسی بھی عمارت کو مسجد کے طور پر استعمال کرنے کے لئے تحریری اجازت ضروری ہے تاکہ شہری منصوبہ بندی اور مقاصد کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رہے۔
مصر میں وزارت اوقاف مساجد کی رجسٹریشن اور انتظام پر سخت کنٹرول رکھتی ہے۔ یہ عمل مذہبی خطبات اور سرگرمیوں پر سرکاری نگرانی کے وسیع تر نظام کا حصہ ہے، جس کا مقصد انتہا پسندی اور غیر ذمہ دارانہ مذہبی بیانیے کو روکنا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں دبئی اور ابوظہبی سمیت مختلف امارات میں سرکاری ادارے مساجد کی رجسٹریشن، لائسنسنگ اور انتظام کے ذمہ دار ہیں۔ مسجد کے قیام، ترمیم اور آپریشن کے لئے سرکاری اجازت، مالی منصوبہ بندی اور قانونی دستاویزات لازمی ہیں تاکہ اسلامی قانون اور عوامی نظم کے تقاضے پورے ہوں۔
انڈونیشیا میں مساجد کو وزارت مذہبی امور کے تحت مذہبی تنظیم یا فاؤنڈیشن کے طور پر رجسٹر کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں مقامی اور قومی سطح پر قانونی اور انتظامی مراحل شامل ہوتے ہیں، جو دیگر مذاہب کے اداروں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔
قطر میں وزارت اوقاف و اسلامی امور مساجد کی رجسٹریشن، عملے کی تقرری اور انتظام کی نگران ہے۔ امام اور موذن سرکاری منظوری سے مقرر ہوتے ہیں اور اسلامی مراکز کے قیام کے لئے وزیر کی حتمی اجازت ضروری ہوتی ہے، کیونکہ اسلام ریاستی مذہب ہے۔
ان تمام مثالوں سے واضح ہے کہ مساجد اور مذہبی اداروں کا ریکارڈ رکھنا کوئی غیر معمولی یا مخصوص خطے کا اقدام نہیں بلکہ ایک عالمی انتظامی روایت ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی یہ عمل شفافیت، قانون کی عملداری اور مذہبی اداروں کے بہتر نظم کے لئے ضروری ہے۔
کشمیر کی مسجد کمیٹیوں کے قانون پسند اور ذمہ دار شہریوں کو چاہئے کہ وہ آگے بڑھ کر مطلوبہ معلومات فراہم کریں اور اس عمل میں انتظامیہ کا تعاون کریں۔ اس سے نہ صرف غلط فہمیوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ مساجد کے انتظام و انصرام میں بہتری آئے گی اور انہیں سماجی اصلاح اور فلاح کے مراکز کے طور پر مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ریاستی نگرانی اور مذہبی آزادی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ جو عناصر اس اقدام کو سیاسی رنگ دے کر شکوک و شبہات پھیلا رہے ہیں، وہ دراصل سنجیدہ مکالمے کے بجائے وقتی شہرت کے خواہاں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک منظم اور شفاف نظام ہی مذہبی اداروں کے وقار اور اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

عبادت گاہوں کی رجسٹریشن عالمی دستور

بیرزادہ  فیصل قادری
پلوامہ، کشمیر
جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے مساجد، مدارس اور مذہبی ذمہ داران کی پروفائلنگ کے اقدام کو غیر معمولی یا غیر آئینی قرار دینا حقیقت سے لاعلمی یا دانستہ سیاسی شور پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں عبادت گاہوں کی رجسٹریشن، نگرانی اور مذہبی اداروں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا ایک معمول کی ریاستی پالیسی ہے، جس کا مقصد شفافیت، نظم و ضبط اور سماجی ہم آہنگی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اس عمل کو مذہبی آزادی پر قدغن کے طور پر پیش کرنا دراصل سستی سیاست ہے جس کا مقصد صرف خبروں میں رہنا اور عوام کو گمراہ کرنا ہے۔
اگر ہم عالمی تناظر میں دیکھیں تو پاکستان میں مساجد کی رجسٹریشن سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت یا ٹرسٹ اور وقف کے طور پر کی جاتی ہے۔ اس کے لئے زمین کی ملکیت کے ثبوت، مسجد کمیٹی کے ارکان کے قومی شناختی کارڈ، حلف نامے اور دیگر قانونی دستاویزات درکار ہوتی ہیں۔ صوبائی اوقاف محکمے اور ضلعی انتظامیہ اس پورے عمل کی نگرانی کرتے ہیں۔ نئی مسجد کی تعمیر کے لئے ضلعی انتظامیہ سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ لازمی ہوتا ہے، جس کا مقصد غیر قانونی تعمیرات اور مالی بے ضابطگیوں کی روک تھام ہے۔
سعودی عرب میں مساجد کا پورا نظام وزارت اسلامی امور کے تحت آتا ہے۔ مسجد کی منصوبہ بندی، تعمیر، دیکھ بھال اور انتظام حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ امام، موذن اور دیگر عملہ سرکاری ملازم ہوتے ہیں اور ریاست کی جانب سے تنخواہیں پاتے ہیں۔ یہاں مذہبی سرگرمیوں کو مکمل طور پر ریاستی نظم کے تحت رکھا گیا ہے تاکہ خطبات اور تعلیمات قومی پالیسی کے مطابق رہیں۔
ترکی میں بیشتر مساجد دیانت یعنی صدارتی ادارہ برائے مذہبی امور کے زیر انتظام ہیں، جو ان کی فنڈنگ، انتظام اور اماموں کی تقرری کرتا ہے۔ اگر کوئی مسجد کمیونٹی کی جانب سے تعمیر کی جائے تو بھی اسے قانونی حیثیت کے لئے انجمن یا وقف کے طور پر رجسٹر ہونا پڑتا ہے اور حکومتی اجازت ضروری ہوتی ہے۔ اس طرح ریاست مذہبی ڈھانچے کو ایک منظم فریم ورک میں رکھتی ہے۔
ملیشیا میں اسلامی امور ریاستی دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ ہر ریاست میں اسلامی مذہبی کونسل اور اسلامی مذہبی محکمہ مساجد کی رجسٹریشن اور نگرانی کرتے ہیں۔ کسی بھی عمارت کو مسجد کے طور پر استعمال کرنے کے لئے تحریری اجازت ضروری ہے تاکہ شہری منصوبہ بندی اور مقاصد کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رہے۔
مصر میں وزارت اوقاف مساجد کی رجسٹریشن اور انتظام پر سخت کنٹرول رکھتی ہے۔ یہ عمل مذہبی خطبات اور سرگرمیوں پر سرکاری نگرانی کے وسیع تر نظام کا حصہ ہے، جس کا مقصد انتہا پسندی اور غیر ذمہ دارانہ مذہبی بیانیے کو روکنا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں دبئی اور ابوظہبی سمیت مختلف امارات میں سرکاری ادارے مساجد کی رجسٹریشن، لائسنسنگ اور انتظام کے ذمہ دار ہیں۔ مسجد کے قیام، ترمیم اور آپریشن کے لئے سرکاری اجازت، مالی منصوبہ بندی اور قانونی دستاویزات لازمی ہیں تاکہ اسلامی قانون اور عوامی نظم کے تقاضے پورے ہوں۔
انڈونیشیا میں مساجد کو وزارت مذہبی امور کے تحت مذہبی تنظیم یا فاؤنڈیشن کے طور پر رجسٹر کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں مقامی اور قومی سطح پر قانونی اور انتظامی مراحل شامل ہوتے ہیں، جو دیگر مذاہب کے اداروں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔
قطر میں وزارت اوقاف و اسلامی امور مساجد کی رجسٹریشن، عملے کی تقرری اور انتظام کی نگران ہے۔ امام اور موذن سرکاری منظوری سے مقرر ہوتے ہیں اور اسلامی مراکز کے قیام کے لئے وزیر کی حتمی اجازت ضروری ہوتی ہے، کیونکہ اسلام ریاستی مذہب ہے۔
ان تمام مثالوں سے واضح ہے کہ مساجد اور مذہبی اداروں کا ریکارڈ رکھنا کوئی غیر معمولی یا مخصوص خطے کا اقدام نہیں بلکہ ایک عالمی انتظامی روایت ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی یہ عمل شفافیت، قانون کی عملداری اور مذہبی اداروں کے بہتر نظم کے لئے ضروری ہے۔
کشمیر کی مسجد کمیٹیوں کے قانون پسند اور ذمہ دار شہریوں کو چاہئے کہ وہ آگے بڑھ کر مطلوبہ معلومات فراہم کریں اور اس عمل میں انتظامیہ کا تعاون کریں۔ اس سے نہ صرف غلط فہمیوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ مساجد کے انتظام و انصرام میں بہتری آئے گی اور انہیں سماجی اصلاح اور فلاح کے مراکز کے طور پر مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ریاستی نگرانی اور مذہبی آزادی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ جو عناصر اس اقدام کو سیاسی رنگ دے کر شکوک و شبہات پھیلا رہے ہیں، وہ دراصل سنجیدہ مکالمے کے بجائے وقتی شہرت کے خواہاں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک منظم اور شفاف نظام ہی مذہبی اداروں کے وقار اور اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں