امت میں قرآن فہمی کیسے عام ہو؟

محمد قاسم ٹانڈؔوی

بعض اشخاص و مواقع ایسے ہوتے ہیں، جن کے پیش آنے اور واسطہ پڑنے پر نا چاہتے ہوئے بھی آدمی کو ان کی حقانیت و حقائق کا معترف اور ان کی قابلیت و لیاقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اور پھر جب ان کو قریب سے سننے، جانے، سمجھنے اور ملنے دیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے تو دل کے نہاں خانوں سے خود بہ خود ہی ان کے حق میں دعائیہ کلمات اور تشکر و امتنان کے جذبات امڈنے لگتے ہیں۔
چنانچہ گذشتہ شب جمعہ کو یوپی کے صنعتی شہر مرادآباد میں پہلی مرتبہ عالمی شہرت یافتہ، علمی و تحریکی ذہن کی حامل، صاحب نسبت شخصیت، مفسر قرآن: "حضرت مولانا انیس احمد صاحب نقشبندی بلگرامی” (خلیفہ مجاز حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیؒ) کو آف لائن سننے کا موقع ملا تو نہ صرف دل و دماغ کو راحت و سکون مل رہا تھا؛ بلکہ دل کی ہر ایک کیاری کی کیفیت سر سبز و شادابی میں تبدیل ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔
ماشاءاللہ! پورا کا پورا بیان (جس کا دورانیہ زائد از ڈیڑھ گھنٹہ رہا ہوگا) ایک دم عوامی مزاج و مذاق میں ڈھلا ہوا اور ایک ایک جملہ پند و نصائح سے آراستہ پیراستہ تھا۔ (أللّہم زد فزد)
چوں کہ مہمان مکرم نے مسند خطابت پر جلوہ افروز ہوتے ہی پیشگی فرما دیا تھا؛ کہ:
"میں آج قرآن فہمی سے متعلق آپ حضرات سے گفتگو کرنے دہلی سے آیا ہوں، جو بالکل سادہ اور عام فہم ہوگی۔”
چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضرت والا از اول تا آخر اپنے ابتدائی فرمان کے مطابق اسی انداز و اطوار سے اپنے قیمتی لعل و جواہر بکھیرتے رہے، جو عوام الناس کے اذہان و قلوب میں ایسے پیوست ہوتے چلے گئے، جیسا کہ موسلا دھار بارش کے قطرات و اثرات زمین کو تر بہ تر کرکے زمین کی کایا پلٹ دیتے ہیں۔ مزید برآں! دوران خطاب ایک توحضرت کا فطری تبسم اور دوسرے سامعین و مخاطبین سے اپنے بیان کردہ سوال کا جواب طلب کرنا، عوام الناس کےلیے ماحول و فضا میں ایک ایسا رنگ برسا رہا تھا، جس سے محفل کی نورانیت میں بھی اضافہ ہو رہا تھا، اور اہل مجلس محظوظ و مسحور بھی ہو رہے تھے۔
یہ پہلا اتفاق تھا حضرت والا کو بالمشافہ سننے کا؛ حالاں کہ اب سے قبل بھی حضرت والا کی شہر مرادآباد آمد ہو چکی ہے، جہاں حضرت کے علم و عمل کے شہ پاروں کی جلوہ نمائی چکی ہے، جہاں حضرت ہر بار اپنے پیچھے اپنے متعلقین و منتسبین کو یہی ایک درد و فکر دے کر اجازت چاہتے ہیں کہ:
"امت کا ہر ہر فرد قرآن فہمی کا عادی ہو جائے، اور کوئی مسجد درس قرآن خالی نہ رہے۔” اور یہ اس لیے کہ چوں کہ حضرت کا میدان تفسیر قرآن اور فہم قرآن ہے؛ اس لیے حضرت جہاں بھی جاتے ہیں، وہاں عوام کی اصلاح کا پہلو اور طریقہ درس قرآن اور فہم قرآن کو اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اور یہ بات سو فیصد مسلم ہےکہ جب تک امت کا رشتہ و تعلق قرآن کریم سے مضبوط و مستحکم نہیں ہوگا؛ اس وقت اصلاحات کا کنارہ ناپید ہوگا۔
آج زمینی سطح سے لےکر سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم تک مفکرین و دانشوران اور اہل علم حضرات عوامی اصلاح کی کوششوں میں مصروف ہیں، جن میں لمبی لمبی تقاریر و تجاویز بھی پیش ہوتی ہیں، لیکچرز و پمفلٹ بھی تیار ہوتے ہیں، گاہے گاہے سیمینار و کانفرنسس کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے؛ مگر اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی نتائج زیرو اور منفی نظر آتے ہیں، وجہ صرف یہی ہے کہ امت نے قرآن کو مقدس و مکرم اور رب العلمین کا نازل کردہ کلام الہی تو سمجھا؛ مگر اس کو سمجھنے اور اس میں تدبر و تفکر کرنے کا مزاج نہیں بنایا۔ ہم نے قرآن کو زندوں کےلیے صرف خدائی تبرک و ہدیہ تصور کیا اور مردوں کے واسطے ایصال ثواب (قرآن خوانی) کی کتاب سمجھا؛ مگر اس کے آفاقی مضامین سے یکسر نابلد و ناواقف رہے، نتیجتا دنیا بھر کی ذلت و رسوائی ہمارا مقدر و نصیبہ بن گئی اور پھر ہر در سے دھتکارے جانے لگے۔
بارگاہ رب العلمین میں دعا ہےکہ: اللہ پاک حضرت والا کا سایۂ عاطفت دائمی صحت و عافیت کے ساتھ امت کے سر پر دراز سے دراز تر فرمائے اور حضرت والا کے علوم و فنون اور درد دل سے پوری امت کو بہرہ مند ہونے کی توفیق اور بار بار مواقع عطا فرمائے، نیز ان کی حقیقی قدر و منزلت کا ہم سب کو شناسائی بنائے، اور ہمارے اندر قرآن فہمی کا شعور و ادراک پیدا فرمائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

امت میں قرآن فہمی کیسے عام ہو؟

محمد قاسم ٹانڈؔوی

بعض اشخاص و مواقع ایسے ہوتے ہیں، جن کے پیش آنے اور واسطہ پڑنے پر نا چاہتے ہوئے بھی آدمی کو ان کی حقانیت و حقائق کا معترف اور ان کی قابلیت و لیاقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اور پھر جب ان کو قریب سے سننے، جانے، سمجھنے اور ملنے دیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے تو دل کے نہاں خانوں سے خود بہ خود ہی ان کے حق میں دعائیہ کلمات اور تشکر و امتنان کے جذبات امڈنے لگتے ہیں۔
چنانچہ گذشتہ شب جمعہ کو یوپی کے صنعتی شہر مرادآباد میں پہلی مرتبہ عالمی شہرت یافتہ، علمی و تحریکی ذہن کی حامل، صاحب نسبت شخصیت، مفسر قرآن: "حضرت مولانا انیس احمد صاحب نقشبندی بلگرامی” (خلیفہ مجاز حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیؒ) کو آف لائن سننے کا موقع ملا تو نہ صرف دل و دماغ کو راحت و سکون مل رہا تھا؛ بلکہ دل کی ہر ایک کیاری کی کیفیت سر سبز و شادابی میں تبدیل ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔
ماشاءاللہ! پورا کا پورا بیان (جس کا دورانیہ زائد از ڈیڑھ گھنٹہ رہا ہوگا) ایک دم عوامی مزاج و مذاق میں ڈھلا ہوا اور ایک ایک جملہ پند و نصائح سے آراستہ پیراستہ تھا۔ (أللّہم زد فزد)
چوں کہ مہمان مکرم نے مسند خطابت پر جلوہ افروز ہوتے ہی پیشگی فرما دیا تھا؛ کہ:
"میں آج قرآن فہمی سے متعلق آپ حضرات سے گفتگو کرنے دہلی سے آیا ہوں، جو بالکل سادہ اور عام فہم ہوگی۔”
چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حضرت والا از اول تا آخر اپنے ابتدائی فرمان کے مطابق اسی انداز و اطوار سے اپنے قیمتی لعل و جواہر بکھیرتے رہے، جو عوام الناس کے اذہان و قلوب میں ایسے پیوست ہوتے چلے گئے، جیسا کہ موسلا دھار بارش کے قطرات و اثرات زمین کو تر بہ تر کرکے زمین کی کایا پلٹ دیتے ہیں۔ مزید برآں! دوران خطاب ایک توحضرت کا فطری تبسم اور دوسرے سامعین و مخاطبین سے اپنے بیان کردہ سوال کا جواب طلب کرنا، عوام الناس کےلیے ماحول و فضا میں ایک ایسا رنگ برسا رہا تھا، جس سے محفل کی نورانیت میں بھی اضافہ ہو رہا تھا، اور اہل مجلس محظوظ و مسحور بھی ہو رہے تھے۔
یہ پہلا اتفاق تھا حضرت والا کو بالمشافہ سننے کا؛ حالاں کہ اب سے قبل بھی حضرت والا کی شہر مرادآباد آمد ہو چکی ہے، جہاں حضرت کے علم و عمل کے شہ پاروں کی جلوہ نمائی چکی ہے، جہاں حضرت ہر بار اپنے پیچھے اپنے متعلقین و منتسبین کو یہی ایک درد و فکر دے کر اجازت چاہتے ہیں کہ:
"امت کا ہر ہر فرد قرآن فہمی کا عادی ہو جائے، اور کوئی مسجد درس قرآن خالی نہ رہے۔” اور یہ اس لیے کہ چوں کہ حضرت کا میدان تفسیر قرآن اور فہم قرآن ہے؛ اس لیے حضرت جہاں بھی جاتے ہیں، وہاں عوام کی اصلاح کا پہلو اور طریقہ درس قرآن اور فہم قرآن کو اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اور یہ بات سو فیصد مسلم ہےکہ جب تک امت کا رشتہ و تعلق قرآن کریم سے مضبوط و مستحکم نہیں ہوگا؛ اس وقت اصلاحات کا کنارہ ناپید ہوگا۔
آج زمینی سطح سے لےکر سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم تک مفکرین و دانشوران اور اہل علم حضرات عوامی اصلاح کی کوششوں میں مصروف ہیں، جن میں لمبی لمبی تقاریر و تجاویز بھی پیش ہوتی ہیں، لیکچرز و پمفلٹ بھی تیار ہوتے ہیں، گاہے گاہے سیمینار و کانفرنسس کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے؛ مگر اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی نتائج زیرو اور منفی نظر آتے ہیں، وجہ صرف یہی ہے کہ امت نے قرآن کو مقدس و مکرم اور رب العلمین کا نازل کردہ کلام الہی تو سمجھا؛ مگر اس کو سمجھنے اور اس میں تدبر و تفکر کرنے کا مزاج نہیں بنایا۔ ہم نے قرآن کو زندوں کےلیے صرف خدائی تبرک و ہدیہ تصور کیا اور مردوں کے واسطے ایصال ثواب (قرآن خوانی) کی کتاب سمجھا؛ مگر اس کے آفاقی مضامین سے یکسر نابلد و ناواقف رہے، نتیجتا دنیا بھر کی ذلت و رسوائی ہمارا مقدر و نصیبہ بن گئی اور پھر ہر در سے دھتکارے جانے لگے۔
بارگاہ رب العلمین میں دعا ہےکہ: اللہ پاک حضرت والا کا سایۂ عاطفت دائمی صحت و عافیت کے ساتھ امت کے سر پر دراز سے دراز تر فرمائے اور حضرت والا کے علوم و فنون اور درد دل سے پوری امت کو بہرہ مند ہونے کی توفیق اور بار بار مواقع عطا فرمائے، نیز ان کی حقیقی قدر و منزلت کا ہم سب کو شناسائی بنائے، اور ہمارے اندر قرآن فہمی کا شعور و ادراک پیدا فرمائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں