
خورشید ریشی
زندگی کے ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم ایک نئے دن میں قدم رکھتے ہیں، اور اسی تسلسل میں دن، ہفتے، مہینے اور سال ہماری زندگی کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ وقت کا یہ سفر رکتا نہیں، بلکہ ہمیں خاموشی سے آگے بڑھاتا رہتا ہے۔ ہر نئے سال کے آغاز پر ہم اپنے لیے نئے منصوبے بناتے ہیں، نئی امیدیں باندھتے ہیں اور اپنی زندگی کے لیے نئے خاکے کھینچتے ہیں کہ اب ہم ایسا کریں گے، ویسا کریں گے اور اس طرح ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ان منصوبوں کو عملی شکل دے پاتے ہیں؟ کیا ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر نئی امنگوں اور تازہ جوش کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ہر فرد اپنے دل اور ضمیر میں بخوبی جانتا ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم ماضی کی کوتاہیوں سے سبق حاصل کرنے کے بجائے حال کو پریشانیوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً ہماری زندگی میں مسائل بڑھتے چلے جاتے ہیں، کیونکہ نہ تو گزرے ہوئے سال میں ہمارے پاس کوئی واضح اور ٹھوس منصوبہ ہوتا ہے اور نہ ہی آنے والے سال کے لیے سنجیدہ تیاری کی جاتی ہے۔ یوں وقت ہاتھ سے نکلتا رہتا ہے اور زندگی یونہی گزر جاتی ہے۔
یہ حال کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ہم سب کا کسی نہ کسی حد تک مشترک المیہ ہے۔ ہم گزرتے سال کے اختتام پر گلی کوچوں، چوراہوں، محفلوں اور حتیٰ کہ مساجد کے احاطوں میں یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ سال ہمارے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔ ہماری امیدوں کے برعکس بارشیں وقت پر نہ ہوئیں، تجارت مندی کا شکار رہی، روزگار کے مواقع کم ہوتے گئے اور مجموعی طور پر کوئی بھی کام ہماری توقعات کے مطابق نہ ہو سکا۔
نئے سال کی آمد پر سوشل میڈیا پر مبارکباد کی ویڈیوز اپلوڈ کرنا، واٹس ایپ اسٹیٹس پر نیک تمناؤں کے پیغامات لگانا یا شعر و شاعری شیئر کرنا اپنی جگہ، مگر صرف ان ظاہری اظہارِ مسرت سے حالات تبدیل نہیں ہوتے۔ حالات کی بہتری کے لیے ماضی، حال اور مستقبل میں مسلسل محنت، جدوجہد اور سب سے بڑھ کر خود احتسابی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ گزرے ہوئے سال میں میں نے کتنی محنت کی؟ کن کاموں میں خلوص کے باوجود مجھے فائدہ نہ ملا؟ میں نے اپنا وقت کن مصروفیات میں صرف کیا؟ میں نے دوسروں کو سہولت پہنچانے کے لیے کتنے فلاحی کام انجام دیے؟ کتنے مجبور اور بے سہارا لوگوں کی مدد کی؟ میں نے اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے جو رزق کمایا، وہ کن ذرائع سے حاصل کیا؟ میں نے اپنے پیشے اور ذمہ داریوں کے ساتھ کتنا انصاف کیا؟
ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ میں نے دوسروں کا انتظار کیے بغیر اپنے مقدور کے مطابق کتنے فلاحی کاموں میں حصہ لیا؟ میں نے اپنے آس پاس کے ماحول میں کتنی آسانیاں پیدا کیں یا کتنی رکاوٹیں کھڑی کیں؟ میں نے اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ کہاں ڈال کر دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کیں؟ میں نے معاشرے میں بہتری کے لیے خود کو کتنا وقف کیا یا انجانے میں کتنی دشواریاں پیدا کیں؟
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ میں نے کتنے یتیموں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا، یا پھر لاپرواہی اور بے حسی کے ذریعے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ میں نے دوسروں کی خوشیوں کو دل سے قبول کیا یا حسد اور انا کا شکار رہا؟ میں نے اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر کتنے لوگوں سے صلح اور دوستی کا ہاتھ بڑھایا؟ میں نے اپنی کارکردگی سے کتنے چہروں پر مسکراہٹ بکھیری یا اپنے رویے سے کتنے دل دکھائے؟
یہ تمام سوالات انفرادی طور پر ہم سب کو خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اجتماعی سطح پر بھی ہمیں جائزہ لینا ہوگا کہ گزرے ہوئے سال میں ہم نے بحیثیتِ قوم اور معاشرہ کیا حاصل کیا۔ ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی شعبے سے وابستہ ہے؛ کوئی طالب علم ہے، کوئی سرکاری یا غیر سرکاری ملازم، کوئی مسجد کمیٹی کا رکن، کوئی سماجی تنظیم کا حصہ، کوئی مزدور، ٹھیکیدار، سیاست دان، صحافی یا عام ووٹر۔ ہر ایک کو یہ سوچنا ہوگا کہ اس نے اپنی ذمہ داریوں کو کس حد تک ایمانداری سے نبھایا اور عوام کو کتنی سہولت فراہم کی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ طالب علم سے لے کر سرکاری و غیر سرکاری ملازم تک، مسجد کمیٹی کے رکن سے لے کر مختلف تنظیموں کے عہدیدار تک، لمبردار سے لے کر چوکیدار تک، مزدور سے لے کر ٹھیکیدار تک، سیاست دان سے لے کر عام ووٹر تک، صحافی سے لے کر قاری اور ناظر تک، مقتدی سے لے کر امام تک—ہر فرد یہ سوچے کہ گزرے ہوئے سال میں اس سے کہاں غلطیاں ہوئیں اور کہاں بہتری کی گنجائش موجود تھی، مگر وہ اپنی کوتاہی یا دوسروں کے بہکاوے میں قوم کی امیدوں پر پورا نہ اتر سکا۔
اگر ہم نے گزرے ہوئے سال میں جن کاموں سے لوگوں کی تکلیفیں کم کیں، انہیں نئے سال میں مزید مضبوطی اور خلوص کے ساتھ جاری رکھا، اور جن اعمال سے ہمارا ضمیر مطمئن نہیں، ان سے بچنے کا پختہ ارادہ کر لیا، تو یہی نیا سال ہمارے لیے حقیقی معنوں میں نیا ثابت ہوگا۔
خود احتسابی نہ صرف فرد کی زندگی سنوار سکتی ہے بلکہ قوموں کی تقدیر بھی بدل سکتی ہے۔ محض سوشل میڈیا پر نیک تمناؤں کے پیغامات اور خوبصورت الفاظ لکھنے سے تبدیلی نہیں آتی، بلکہ تبدیلی عمل، دیانت اور مسلسل محنت سے آتی ہے—اور یہی نئے سال کا اصل پیغام ہے۔


