نئے سال میں زخم بھرنے کی امید

سال 2026 کا آغاز ایک ایسے عالمی منظرنامے کے ساتھ ہو رہا ہے جو پچھلے برس کی تلخ یادوں سے ابھی پوری طرح آزاد نہیں ہو سکا۔ کیلنڈر بدل گیا ہے، مگر 2025 کے زخم اب بھی دنیا کے مختلف خطوں میں نمایاں ہیں اور یہ حقیقت اجاگر کر رہے ہیں کہ امن اور استحکام آج بھی ایک نایاب نعمت ہے۔
گزرا ہوا سال جنگ اور غیر یقینی حالات کی خبروں سے بھرا رہا۔ غزہ میں جاری خونریزی نے انسانیت کو مسلسل شرمندہ کیا، یوکرین کی جنگ نے عالمی سیاست اور معیشت کو ہلا کر رکھ دیا، سوڈان خانہ جنگی کے باعث شدید انسانی بحران کا شکار رہا، جبکہ مغربی ایشیا اور بحیرہ احمر کے اطراف کشیدگی نے عالمی تجارت اور سفارت کاری کو متاثر کیا۔ یہ جنگیں محض دور دراز علاقوں کی کہانیاں نہیں تھیں، بلکہ ان کے اثرات ایندھن کی قیمتوں، غذائی تحفظ اور عالمی استحکام پر براہ راست محسوس کیے گئے۔
اپنے خطے میں بھی 2025 امن اور سکون کا سال ثابت نہ ہو سکا۔ پہلگام حملہ ایک ایسا سانحہ تھا جس نے جموں و کشمیر میں امن کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا اور عوام کے دلوں میں خوف اور بے یقینی کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ دہلی دھماکے نے یہ واضح کر دیا کہ بڑے شہری مراکز بھی اچانک تشدد سے محفوظ نہیں۔ نوگام میں پیش آنے والا حادثاتی دھماکہ اگرچہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا، مگر اس کی انسانی قیمت کم نہ تھی اور اس نے حفاظتی انتظامات اور ادارہ جاتی غفلت پر سنگین سوالات کھڑے کیے۔ ان واقعات نے مجموعی طور پر 2025 کو ایک غم زدہ اور اضطراب سے بھرپور سال بنا دیا۔
یہ تمام حقائق ایک بنیادی سچ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ترقی اور خوشحالی کا سفر محض اعلانات، منصوبوں اور اعداد و شمار سے شروع نہیں ہوتا۔ اس کی اصل بنیاد سیاسی استحکام، مضبوط اداروں اور ایسا محفوظ ماحول ہے جہاں شہری خود کو غیر محفوظ نہیں بلکہ بااعتماد محسوس کریں۔ جہاں عدم استحکام ہو، وہاں ترقی عارضی اور کمزور ہوتی ہے، اور معمولی جھٹکے سے بکھر جاتی ہے۔ امن کے بغیر خوشحالی محض ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ وہی خطے آگے بڑھے جہاں اختلاف کو طاقت کے بجائے مکالمے سے حل کیا گیا، جہاں سیاست میں سنجیدگی اور شمولیت کو فروغ دیا گیا، اور جہاں اختلاف رائے کو برداشت کیا گیا۔ اس کے برعکس جہاں سیاسی بے یقینی اور تقسیم غالب رہی، وہاں ترقیاتی عمل بار بار تعطل کا شکار ہوا۔
سال 2026 کے آغاز پر پالیسی سازوں اور سیاسی قیادت کے سامنے یہ سوال نہایت واضح ہے۔ کیا سلامتی کو صرف طاقت کے ذریعے دیکھا جائے گا یا سیاسی بصیرت کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ کیا معاشی منصوبے سماجی ہم آہنگی کے بغیر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ عوام کو محض نظم و ضبط کا موضوع سمجھا جائے گا یا امن اور ترقی کے شراکت دار کے طور پر قبول کیا جائے گا۔
نیا سال محض تاریخ کی تبدیلی نہیں بلکہ اصلاح کا ایک موقع ہے۔ اگر جنگ زدہ ممالک کے تجربات اور اپنے خطے کے تلخ اسباق سے سبق سیکھا گیا تو 2026 استحکام، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ بصورت دیگر تشدد اور غیر یقینی کا وہی دائرہ دوبارہ لوٹ آنے کا خدشہ برقرار رہے گا، جس کی قیمت آنے والی نسلوں کو مزید بھاری انداز میں چکانا پڑے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

SKUAST-K میں جموں و کشمیر کا پہلا ایگری وولٹائکس منصوبہ

جنگ نیوز سرینگر/ SKUAST-K نے CSTEP کے اشتراک سے شالیمار...

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے...

غزل

  محمد ایوب ترال بالا میں تھکا ہارا کہاں جاؤں میں درد کا...

تازہ ترین خبریں

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

SKUAST-K میں جموں و کشمیر کا پہلا ایگری وولٹائکس منصوبہ

جنگ نیوز سرینگر/ SKUAST-K نے CSTEP کے اشتراک سے شالیمار...

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے...

غزل

  محمد ایوب ترال بالا میں تھکا ہارا کہاں جاؤں میں درد کا...

نئے سال میں زخم بھرنے کی امید

سال 2026 کا آغاز ایک ایسے عالمی منظرنامے کے ساتھ ہو رہا ہے جو پچھلے برس کی تلخ یادوں سے ابھی پوری طرح آزاد نہیں ہو سکا۔ کیلنڈر بدل گیا ہے، مگر 2025 کے زخم اب بھی دنیا کے مختلف خطوں میں نمایاں ہیں اور یہ حقیقت اجاگر کر رہے ہیں کہ امن اور استحکام آج بھی ایک نایاب نعمت ہے۔
گزرا ہوا سال جنگ اور غیر یقینی حالات کی خبروں سے بھرا رہا۔ غزہ میں جاری خونریزی نے انسانیت کو مسلسل شرمندہ کیا، یوکرین کی جنگ نے عالمی سیاست اور معیشت کو ہلا کر رکھ دیا، سوڈان خانہ جنگی کے باعث شدید انسانی بحران کا شکار رہا، جبکہ مغربی ایشیا اور بحیرہ احمر کے اطراف کشیدگی نے عالمی تجارت اور سفارت کاری کو متاثر کیا۔ یہ جنگیں محض دور دراز علاقوں کی کہانیاں نہیں تھیں، بلکہ ان کے اثرات ایندھن کی قیمتوں، غذائی تحفظ اور عالمی استحکام پر براہ راست محسوس کیے گئے۔
اپنے خطے میں بھی 2025 امن اور سکون کا سال ثابت نہ ہو سکا۔ پہلگام حملہ ایک ایسا سانحہ تھا جس نے جموں و کشمیر میں امن کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا اور عوام کے دلوں میں خوف اور بے یقینی کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ دہلی دھماکے نے یہ واضح کر دیا کہ بڑے شہری مراکز بھی اچانک تشدد سے محفوظ نہیں۔ نوگام میں پیش آنے والا حادثاتی دھماکہ اگرچہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا، مگر اس کی انسانی قیمت کم نہ تھی اور اس نے حفاظتی انتظامات اور ادارہ جاتی غفلت پر سنگین سوالات کھڑے کیے۔ ان واقعات نے مجموعی طور پر 2025 کو ایک غم زدہ اور اضطراب سے بھرپور سال بنا دیا۔
یہ تمام حقائق ایک بنیادی سچ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ترقی اور خوشحالی کا سفر محض اعلانات، منصوبوں اور اعداد و شمار سے شروع نہیں ہوتا۔ اس کی اصل بنیاد سیاسی استحکام، مضبوط اداروں اور ایسا محفوظ ماحول ہے جہاں شہری خود کو غیر محفوظ نہیں بلکہ بااعتماد محسوس کریں۔ جہاں عدم استحکام ہو، وہاں ترقی عارضی اور کمزور ہوتی ہے، اور معمولی جھٹکے سے بکھر جاتی ہے۔ امن کے بغیر خوشحالی محض ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ وہی خطے آگے بڑھے جہاں اختلاف کو طاقت کے بجائے مکالمے سے حل کیا گیا، جہاں سیاست میں سنجیدگی اور شمولیت کو فروغ دیا گیا، اور جہاں اختلاف رائے کو برداشت کیا گیا۔ اس کے برعکس جہاں سیاسی بے یقینی اور تقسیم غالب رہی، وہاں ترقیاتی عمل بار بار تعطل کا شکار ہوا۔
سال 2026 کے آغاز پر پالیسی سازوں اور سیاسی قیادت کے سامنے یہ سوال نہایت واضح ہے۔ کیا سلامتی کو صرف طاقت کے ذریعے دیکھا جائے گا یا سیاسی بصیرت کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ کیا معاشی منصوبے سماجی ہم آہنگی کے بغیر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ عوام کو محض نظم و ضبط کا موضوع سمجھا جائے گا یا امن اور ترقی کے شراکت دار کے طور پر قبول کیا جائے گا۔
نیا سال محض تاریخ کی تبدیلی نہیں بلکہ اصلاح کا ایک موقع ہے۔ اگر جنگ زدہ ممالک کے تجربات اور اپنے خطے کے تلخ اسباق سے سبق سیکھا گیا تو 2026 استحکام، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ بصورت دیگر تشدد اور غیر یقینی کا وہی دائرہ دوبارہ لوٹ آنے کا خدشہ برقرار رہے گا، جس کی قیمت آنے والی نسلوں کو مزید بھاری انداز میں چکانا پڑے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں