جنگ فیچر: 2025-ایک نظر پیچھے: حادثات، کشیدگی اور امید

 

بلال بشیر بٹ
مدیر ، سری نگر جنگ

 

سال 2025 وادی کشمیر کے لئے آزمائشوں اور مسائل کا سال رہا۔ دہشت گردی اور سانحات نے دل دہلا دیے، جب کہ عوامی ردعمل، انتظامی فیصلے اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں نے امید کی کرن دکھائی۔
پہلگام میں دہشت گردانہ حملے نے نہ صرف سیاحتی مرکز کو نشانہ بنایا بلکہ پورے خطے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ سکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی نے خطرات کم کیے اور یہ واضح ہوا کہ وادی میں سلامتی کے مسائل بدستور سنجیدہ ہیں۔ عوام، علما اور سماجی حلقوں نے اس بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے امن اور یکجہتی کا پیغام دیا۔
حملے کے بعد بھارت و پاکستان کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہوئے، سرحدی سرگرمیوں میں اضافہ اور سفارتی تعطل نے خطے کی نازک صورت حال کو اجاگر کیا، حالانکہ وقتی طور پر جنگ سے بچاؤ ممکن ہوا۔
جموں-سرینگر شاہراہ کی طویل بندش نے پھل کی صنعت کو شدید نقصان پہنچایا، ہزاروں ٹرک پھنس گئے اور باغبانوں نے متبادل راستوں اور بہتر انتظامات کا مطالبہ کیا۔ اسی سال وزیر اعظم نریندر مودی نے ادھم پور-سرینگر-بارہمولہ ریل رابطے کا افتتاح کیا، جو طویل مدتی ترقی اور آمد و رفت میں سہولت کا ضامن ہے۔
سال بھر سڑے گوشت کے اسکینڈل، حضرت بل درگاہ کی تجدید اور قومی نشان کے تنازعہ، نوگام پولیس اسٹیشن کا حادثاتی دھماکہ اور کشتواڑ فلیش فلڈ نے عوامی تحفظ، انتظامی جوابدہی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
مجموعی طور پر 2025 وادی کشمیر کے لئے درد، چیلنجز اور عزم کا سال رہا، جس نے یہ سبق دیا کہ سخت حالات میں درست فیصلے اور اجتماعی شعور ہی مستقبل کی سمت متعین کرتے ہیں۔

پہلگام حملہ اور آپریشن سندور

سال 2025 کے سب سے سنگین سکیورٹی چیلنجز میں سے ایک اس وقت سامنے آیا جب جموں و کشمیر کے سیاحتی مرکز پہلگام میں ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ اس حملے نے خطے میں امن اور عوامی سلامتی کو نشانہ بنایا اور پورے ملک میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی، جس کے نتیجے میں حساس علاقوں میں سکیورٹی سے متعلق خدشات ایک بار پھر ابھر آئے۔
سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کی، جس کے بعد شدت کے ساتھ آپریشن اور انٹیلی جنس پر مبنی اقدامات کیے گئے تاکہ مزید خطرات کو روکا جا سکے۔
مجموعی طور پر پہلگام حملہ اور اس کے بعد ہونے والا ردعمل سال 2025 کے نمایاں لمحات میں شامل ہو گیا، جس نے ایک طرف بھارت کو درپیش مستقل سکیورٹی چیلنجز کو اجاگر کیا اور دوسری طرف ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فورسز کے عزم، طاقت اور درست حکمت عملی کو بھی نمایاں کیا۔

پہلگام حملے پر کشمیر بھر میں مذمت

پہلگام میں پیش آنے والے افسوسناک حملے کی کشمیر بھر میں شدید مذمت کی گئی ہے۔
عوام، سماجی تنظیموں، علما اور سول سوسائٹی نے متفقہ طور پر اس بزدلانہ کارروائی کو انسانیت، امن اور کشمیر کی صدیوں پرانی تہذیبی اقدار کے خلاف قرار دیا۔
کشمیری عوام نے واضح کیا کہ تشدد اور بے گناہوں کو نشانہ بنانا نہ ان کی روایت ہے اور نہ ہی ان کی آواز کی نمائندگی کرتا ہے۔
اس موقع پر متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا اور خطے میں امن، باہمی احترام اور پائیدار سلامتی کے عزم کو دہرایا گیا۔

بھارت اور پاکستان جنگ کے دہانے پر

پہلگام میں پیش آنے والےحملے کے بعد سال 2025 میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے اور دونوں ممالک ایک خطرناک حد تک جنگ کے دہانے تک پہنچ گئے۔
سرحدوں پر فوجی سرگرمیوں میں اضافہ، سخت بیانات اور سفارتی روابط میں تعطل نے پورے خطے کو عدم استحکام کے خدشات سے دوچار کر دیا۔ عالمی برادری نے بھی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا کیونکہ اس کشیدگی کے اثرات براہ راست عوامی جان و مال اور علاقائی امن سے جڑے ہوئے تھے۔
اگرچہ مکمل جنگ سے وقتی طور پر بچاؤ ممکن ہوا، مگر یہ بحران جنوبی ایشیا میں امن کی نازک حقیقت اور سنجیدہ مکالمے و ضبط نفس کی فوری ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے USBRL کا افتتاح کیا

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ 6 جون کو اپنے دورۂ جموں و کشمیر کے دوران ادھم پور سرینگر بارہمولہ ریل رابطے کا افتتاح کیا۔
یہ تاریخی منصوبہ کشمیر وادی کو ہمہ موسمی ریل نیٹ ورک کے ذریعے ملک کے دیگر حصوں سے جوڑتا ہے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
اس ریل لنک سے نہ صرف آمد و رفت میں آسانی آئے گی بلکہ معیشت سیاحت اور علاقائی انضمام کو بھی فروغ ملے گا جس سے جموں و کشمیر کے عوام کو طویل مدتی فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

سڑے گوشت کی باز گشت

سال 2025 میں کشمیر میں سڑے ہوئے گوشت کا اسکینڈل مسلسل خبروں میں رہا اور عوامی سطح پر شدید تشویش کا باعث بنا۔
بازاروں میں غیر معیاری اور صحت کے لیے مضر گوشت کی فروخت نے فوڈ سیفٹی نظام اور نگرانی کے عمل پر سنگین سوالات کھڑے کیے۔
اس معاملے پر شہری حلقوں اور سول سوسائٹی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور معائنہ نظام کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا۔
یہ اسکینڈل عوامی صحت کے تحفظ اور انتظامی اصلاحات کی فوری ضرورت کی علامت بن گیا۔

راجیہ سبھا انتخابات

24 اکتوبر 2025 کو جموں و کشمیر میں راجیہ سبھا کی چار خالی نشستوں کے لیے پہلی انتخابات ہوئیں، جو آرٹیکل 370 کی منسوخی اور ریاست کی یونین ٹیریٹری میں تبدیلی کے بعد پہلی تھیں۔ نیشنل کانفرنس (این سی) نے تین نشستیں جیتیں: چوہدری محمد رمضان، سجاد کچلو اور شمی اوبری۔ بی جے پی نے ایک نشست جیتی: ست پال شرما (کراس ووٹنگ کی وجہ سے)۔

حضرت بل درگاہ کی تجدید اور تنازعہ

2025 میں سرینگر کی تاریخی حضرت بل درگاہ کو 1970 کی دہائی کے بعد پہلی بڑی اندرونی تجدید ملی۔ ڈاکٹر سید درخشاں اندابی کے زیر اثر جموں و کشمیر وقف بورڈ کے پراجیکٹ میں کشمیری دستکاری جیسے خطم بند چھتیں اور سونے کا کام شامل تھا، جسے خوب سراہا گیا۔
تنازعہ 3 ستمبر 2025 کو اس وقت شروع ہوا جب ایک مرمر کے کتبے پر بھارت کا قومی نشان (اشوک ستون کی شیر والی علامت) نصب کیا گیا۔ بہت سے عقیدت مندوں نے اس مجسمہ نما نشان کو توحید کے اصول کی خلاف ورزی قرار دیا۔
5 ستمبر کو عید میلاد النبی کی نمازوں کے دوران مظاہرین نے کتبہ توڑ دیا، جس پر پولیس نے 26 سے زائد افراد کو حراست میں لیا اور ایف آئی آر درج کی۔ وقف بورڈ اور بی جے پی لیڈران نے اسے قومی نشان کی توہین قرار دیا، جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نشان کی تنصیب کو مذہبی مقام پر غیر حساس قرار دیا۔

نوگام دھماکہ: ایک المناک حادثہ

14 نومبر 2025 کو سرینگر کے نواح میں نوگام پولیس سٹیشن پر ایک زوردار حادثاتی دھماکہ ہوا، جس میں 9 افراد (زیادہ تر پولیس اور فرانزک اہلکار) ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے۔
یہ دھماکہ رات کو اس وقت ہوا جب ایک مشترکہ ٹیم ہریانہ کے فرید آباد سے ضبط شدہ بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد (بشمول تقریباً 2900 کلو امونیم نائٹریٹ اور دیگر کیمیکلز) کی جانچ اور سیمپلنگ کر رہی تھی۔
یہ مواد جیش محمد سے منسلک ایک "وائٹ کالر” دہشت گرد ماڈیول کی چھاپہ ماری میں برآمد ہوا تھا۔جموں و کشمیر ڈی جی پی نلن پربھات اور وزارت داخلہ نے تصدیق کی کہ یہ حادثاتی تھا، کوئی دہشت گردی کا زاویہ نہیں، اور تحقیقات کا حکم دیا گیا۔
حکومت نے ہلاک شدگان کے خاندانوں کو 10 لاکھ روپے امدادی اور رحم دلی کی بنیاد پر نوکریاں دینے کا اعلان کیا۔اس حادثے سے پولیس سٹیشن اور قریبی گھروں کو نقصان پہنچا، جو ضبط شدہ دھماکہ خیز مواد کی ہینڈلنگ کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔

ہائی وے بندش اور پھل کی صنعت

اگست اور ستمبر میں جموں-سرینگر نیشنل ہائی وے کی طویل بندش (بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے تقریباً ایک ماہ تک) نے کشمیر کی پھل کی صنعت، خاص طور پر سیب کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا۔ ہزاروں ٹرک پھل لدے پھنس گئے، سیب سڑ گئے اور اندازاً 1000 سے 2000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔باغبانوں اور تاجروں نے احتجاج کیے، منڈیاں بند کیں اور متبادل راستوں (جیسے مغل روڈ اور ریل) کی مانگ کی۔

کشتواڑسانحہ فلیش فلڈ

14 اگست 2025 کو جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے چھوٹی (چاشوتی) گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ سے شدید فلیش فلڈ آیا، جس میں 68 افراد ہلاک، 300 سے زائد زخمی اور درجنوں لاپتہ ہوئے۔یہ سانحہ ماچیل ماتا یاترا کے راستے پر پیش آیا، جہاں زائرین موجود تھے۔ لنگر، گاڑیاں اور عمارتیں بہہ گئیں، یاترا معطل ہوئی اور مقامی کمیونٹیز کو بھاری نقصان پہنچا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

جنگ فیچر: 2025-ایک نظر پیچھے: حادثات، کشیدگی اور امید

 

بلال بشیر بٹ
مدیر ، سری نگر جنگ

 

سال 2025 وادی کشمیر کے لئے آزمائشوں اور مسائل کا سال رہا۔ دہشت گردی اور سانحات نے دل دہلا دیے، جب کہ عوامی ردعمل، انتظامی فیصلے اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں نے امید کی کرن دکھائی۔
پہلگام میں دہشت گردانہ حملے نے نہ صرف سیاحتی مرکز کو نشانہ بنایا بلکہ پورے خطے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ سکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی نے خطرات کم کیے اور یہ واضح ہوا کہ وادی میں سلامتی کے مسائل بدستور سنجیدہ ہیں۔ عوام، علما اور سماجی حلقوں نے اس بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے امن اور یکجہتی کا پیغام دیا۔
حملے کے بعد بھارت و پاکستان کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہوئے، سرحدی سرگرمیوں میں اضافہ اور سفارتی تعطل نے خطے کی نازک صورت حال کو اجاگر کیا، حالانکہ وقتی طور پر جنگ سے بچاؤ ممکن ہوا۔
جموں-سرینگر شاہراہ کی طویل بندش نے پھل کی صنعت کو شدید نقصان پہنچایا، ہزاروں ٹرک پھنس گئے اور باغبانوں نے متبادل راستوں اور بہتر انتظامات کا مطالبہ کیا۔ اسی سال وزیر اعظم نریندر مودی نے ادھم پور-سرینگر-بارہمولہ ریل رابطے کا افتتاح کیا، جو طویل مدتی ترقی اور آمد و رفت میں سہولت کا ضامن ہے۔
سال بھر سڑے گوشت کے اسکینڈل، حضرت بل درگاہ کی تجدید اور قومی نشان کے تنازعہ، نوگام پولیس اسٹیشن کا حادثاتی دھماکہ اور کشتواڑ فلیش فلڈ نے عوامی تحفظ، انتظامی جوابدہی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
مجموعی طور پر 2025 وادی کشمیر کے لئے درد، چیلنجز اور عزم کا سال رہا، جس نے یہ سبق دیا کہ سخت حالات میں درست فیصلے اور اجتماعی شعور ہی مستقبل کی سمت متعین کرتے ہیں۔

پہلگام حملہ اور آپریشن سندور

سال 2025 کے سب سے سنگین سکیورٹی چیلنجز میں سے ایک اس وقت سامنے آیا جب جموں و کشمیر کے سیاحتی مرکز پہلگام میں ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ اس حملے نے خطے میں امن اور عوامی سلامتی کو نشانہ بنایا اور پورے ملک میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی، جس کے نتیجے میں حساس علاقوں میں سکیورٹی سے متعلق خدشات ایک بار پھر ابھر آئے۔
سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کی، جس کے بعد شدت کے ساتھ آپریشن اور انٹیلی جنس پر مبنی اقدامات کیے گئے تاکہ مزید خطرات کو روکا جا سکے۔
مجموعی طور پر پہلگام حملہ اور اس کے بعد ہونے والا ردعمل سال 2025 کے نمایاں لمحات میں شامل ہو گیا، جس نے ایک طرف بھارت کو درپیش مستقل سکیورٹی چیلنجز کو اجاگر کیا اور دوسری طرف ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فورسز کے عزم، طاقت اور درست حکمت عملی کو بھی نمایاں کیا۔

پہلگام حملے پر کشمیر بھر میں مذمت

پہلگام میں پیش آنے والے افسوسناک حملے کی کشمیر بھر میں شدید مذمت کی گئی ہے۔
عوام، سماجی تنظیموں، علما اور سول سوسائٹی نے متفقہ طور پر اس بزدلانہ کارروائی کو انسانیت، امن اور کشمیر کی صدیوں پرانی تہذیبی اقدار کے خلاف قرار دیا۔
کشمیری عوام نے واضح کیا کہ تشدد اور بے گناہوں کو نشانہ بنانا نہ ان کی روایت ہے اور نہ ہی ان کی آواز کی نمائندگی کرتا ہے۔
اس موقع پر متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا اور خطے میں امن، باہمی احترام اور پائیدار سلامتی کے عزم کو دہرایا گیا۔

بھارت اور پاکستان جنگ کے دہانے پر

پہلگام میں پیش آنے والےحملے کے بعد سال 2025 میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے اور دونوں ممالک ایک خطرناک حد تک جنگ کے دہانے تک پہنچ گئے۔
سرحدوں پر فوجی سرگرمیوں میں اضافہ، سخت بیانات اور سفارتی روابط میں تعطل نے پورے خطے کو عدم استحکام کے خدشات سے دوچار کر دیا۔ عالمی برادری نے بھی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا کیونکہ اس کشیدگی کے اثرات براہ راست عوامی جان و مال اور علاقائی امن سے جڑے ہوئے تھے۔
اگرچہ مکمل جنگ سے وقتی طور پر بچاؤ ممکن ہوا، مگر یہ بحران جنوبی ایشیا میں امن کی نازک حقیقت اور سنجیدہ مکالمے و ضبط نفس کی فوری ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے USBRL کا افتتاح کیا

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ 6 جون کو اپنے دورۂ جموں و کشمیر کے دوران ادھم پور سرینگر بارہمولہ ریل رابطے کا افتتاح کیا۔
یہ تاریخی منصوبہ کشمیر وادی کو ہمہ موسمی ریل نیٹ ورک کے ذریعے ملک کے دیگر حصوں سے جوڑتا ہے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
اس ریل لنک سے نہ صرف آمد و رفت میں آسانی آئے گی بلکہ معیشت سیاحت اور علاقائی انضمام کو بھی فروغ ملے گا جس سے جموں و کشمیر کے عوام کو طویل مدتی فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

سڑے گوشت کی باز گشت

سال 2025 میں کشمیر میں سڑے ہوئے گوشت کا اسکینڈل مسلسل خبروں میں رہا اور عوامی سطح پر شدید تشویش کا باعث بنا۔
بازاروں میں غیر معیاری اور صحت کے لیے مضر گوشت کی فروخت نے فوڈ سیفٹی نظام اور نگرانی کے عمل پر سنگین سوالات کھڑے کیے۔
اس معاملے پر شہری حلقوں اور سول سوسائٹی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور معائنہ نظام کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا۔
یہ اسکینڈل عوامی صحت کے تحفظ اور انتظامی اصلاحات کی فوری ضرورت کی علامت بن گیا۔

راجیہ سبھا انتخابات

24 اکتوبر 2025 کو جموں و کشمیر میں راجیہ سبھا کی چار خالی نشستوں کے لیے پہلی انتخابات ہوئیں، جو آرٹیکل 370 کی منسوخی اور ریاست کی یونین ٹیریٹری میں تبدیلی کے بعد پہلی تھیں۔ نیشنل کانفرنس (این سی) نے تین نشستیں جیتیں: چوہدری محمد رمضان، سجاد کچلو اور شمی اوبری۔ بی جے پی نے ایک نشست جیتی: ست پال شرما (کراس ووٹنگ کی وجہ سے)۔

حضرت بل درگاہ کی تجدید اور تنازعہ

2025 میں سرینگر کی تاریخی حضرت بل درگاہ کو 1970 کی دہائی کے بعد پہلی بڑی اندرونی تجدید ملی۔ ڈاکٹر سید درخشاں اندابی کے زیر اثر جموں و کشمیر وقف بورڈ کے پراجیکٹ میں کشمیری دستکاری جیسے خطم بند چھتیں اور سونے کا کام شامل تھا، جسے خوب سراہا گیا۔
تنازعہ 3 ستمبر 2025 کو اس وقت شروع ہوا جب ایک مرمر کے کتبے پر بھارت کا قومی نشان (اشوک ستون کی شیر والی علامت) نصب کیا گیا۔ بہت سے عقیدت مندوں نے اس مجسمہ نما نشان کو توحید کے اصول کی خلاف ورزی قرار دیا۔
5 ستمبر کو عید میلاد النبی کی نمازوں کے دوران مظاہرین نے کتبہ توڑ دیا، جس پر پولیس نے 26 سے زائد افراد کو حراست میں لیا اور ایف آئی آر درج کی۔ وقف بورڈ اور بی جے پی لیڈران نے اسے قومی نشان کی توہین قرار دیا، جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نشان کی تنصیب کو مذہبی مقام پر غیر حساس قرار دیا۔

نوگام دھماکہ: ایک المناک حادثہ

14 نومبر 2025 کو سرینگر کے نواح میں نوگام پولیس سٹیشن پر ایک زوردار حادثاتی دھماکہ ہوا، جس میں 9 افراد (زیادہ تر پولیس اور فرانزک اہلکار) ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے۔
یہ دھماکہ رات کو اس وقت ہوا جب ایک مشترکہ ٹیم ہریانہ کے فرید آباد سے ضبط شدہ بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد (بشمول تقریباً 2900 کلو امونیم نائٹریٹ اور دیگر کیمیکلز) کی جانچ اور سیمپلنگ کر رہی تھی۔
یہ مواد جیش محمد سے منسلک ایک "وائٹ کالر” دہشت گرد ماڈیول کی چھاپہ ماری میں برآمد ہوا تھا۔جموں و کشمیر ڈی جی پی نلن پربھات اور وزارت داخلہ نے تصدیق کی کہ یہ حادثاتی تھا، کوئی دہشت گردی کا زاویہ نہیں، اور تحقیقات کا حکم دیا گیا۔
حکومت نے ہلاک شدگان کے خاندانوں کو 10 لاکھ روپے امدادی اور رحم دلی کی بنیاد پر نوکریاں دینے کا اعلان کیا۔اس حادثے سے پولیس سٹیشن اور قریبی گھروں کو نقصان پہنچا، جو ضبط شدہ دھماکہ خیز مواد کی ہینڈلنگ کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔

ہائی وے بندش اور پھل کی صنعت

اگست اور ستمبر میں جموں-سرینگر نیشنل ہائی وے کی طویل بندش (بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے تقریباً ایک ماہ تک) نے کشمیر کی پھل کی صنعت، خاص طور پر سیب کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا۔ ہزاروں ٹرک پھل لدے پھنس گئے، سیب سڑ گئے اور اندازاً 1000 سے 2000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔باغبانوں اور تاجروں نے احتجاج کیے، منڈیاں بند کیں اور متبادل راستوں (جیسے مغل روڈ اور ریل) کی مانگ کی۔

کشتواڑسانحہ فلیش فلڈ

14 اگست 2025 کو جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے چھوٹی (چاشوتی) گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ سے شدید فلیش فلڈ آیا، جس میں 68 افراد ہلاک، 300 سے زائد زخمی اور درجنوں لاپتہ ہوئے۔یہ سانحہ ماچیل ماتا یاترا کے راستے پر پیش آیا، جہاں زائرین موجود تھے۔ لنگر، گاڑیاں اور عمارتیں بہہ گئیں، یاترا معطل ہوئی اور مقامی کمیونٹیز کو بھاری نقصان پہنچا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں