محفوظ عالمؔ اردو کو محفوظ کرنے والاقلم کار

 

احسن امام احسن

ایک دن واٹس ایپ کے کسی گروپ میں ایک تصویر نظر سے گزری۔ ایک صاحب کسی کو کتاب دے رہے تھے۔ میں نے بھائی اعجاز انور سے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ محفوظ عالم ہیں، افسانہ نگار ہیں اور انشائیہ نگاری سے بھی دلچسپی ہے۔ ان سے فون پر باتیں ہوئیں، پھر انہوں نے اپنی کتاب بھیجی جو کہ افسانوی مجموعہ تھا ” نقطہ سے دائرہ تک ” ۔ دیکھا اور پڑھا تو محسوس ہوا ، چلو محفوظ صاحب نے اپنی لکھی ہوئی چیزوں کو کتابی شکل میں محفوظ کر لیا ہے یعنی اردو کو محفوظ کر رہے ہیں اور یہ ایک اچھا قدم ہے۔
محفوظ عالم نے ایم اے، پی ایچ – ڈی نفسیات میں کیا ہے یعنی انہیں ڈاکٹر محفوظ عالم کہنا چاہیے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر اس لیے نہیں لگاتے کہ کچھ لوگوں نے اس کی قدر قیمت کا خیال نہیں رکھا۔ خیر چھوڑیے ان باتوں کو۔ محفوظ عالم کی تحریر سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ ایک با صلاحیت آدمی ہیں۔ یوں تو افسانوی ادب میں کئی نام ایسے ہیں جنہوں نے ادب کی بستی میں دھوم مچائی ہے۔ فکشن پر کام کرنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ محفوظ عالم کے افسانہ نگاری کا فن ان کے ہم عصروں سے تھوڑا مختلف ہے۔ پیکر تراشی کا انداز، رومانیت میں جدت طرازی، زندگی کے مسائل کو پیش کرنے کا انوکھا انداز ،معاشرے کی منظر کشی کا بہترین انداز ، یہ سب ان کی خوبیوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔
محفوظ عالم نے” جنگل راج ” میں بہت ہی خوبصورتی سے جنگلی نظام کا بہترین نقشہ کھینچا ہے۔ ایک چھوٹا سا اقتباس ملاحظہ فرمائیں
” نہ دیدی ای ہم سے نہ ہوگا۔ میرا باپ اسی چکر میں مارا گیا ۔”
” تو پھر تو بھی مر۔ تم کیا سمجھتا ہے کہ تیری عورت کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ نہ نہ یہ سب موہن سنگھ کا کیا دھرا ہے۔ وہ تیری عورت پہ برا نجر رکھتا تھا۔ جب وہ نہ مانی تو راستہ میں اپنا ٹرک سے ہی کچلوا دیا۔ او جتنا عورت اس بھٹا میں کام کرتا ہے نہ سب کو موہن سنگھ اور اس کا منسی خراب کر دیتا ہے ۔ مجبوری میں کوئی کچھ نہ کہتا ہے۔”
” یہ بتوا تو ٹھیکے لگتا ہے دیدی۔ ہم بھی ایسا ہی سوچ رہے تھے ۔ ہاں یہی بات ہے۔” جنگل راج میں علاقائی دہشت گردی سے لڑنے کا الگ طریقہ ہے۔ اسے لوگ دوسرے نام سے بھی یاد کرتے ہیں جسے محفوظ عالم نے بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ ” ماچس ” میں جس خوبصورتی کے ساتھ محفوظ عالم نے اس طرح کی حقیقت کو افسانے میں ڈھالا ہے ، وہ ان کی قابلیت کو درشاتا ہے۔ افسانے کو فن کی کسوٹی پر پرکھنا انہیں خوب آتا ہے۔ محفوظ عالم اپنی باتوں کو لطیف پیرائے میں ڈھال کر افسانے کا جال بنتے ہیں۔ ان کے مطالعہ اور مشاہدہ کو نہایت ہی وسیع پیمانے پر قاری دیکھ سکتا ہے۔ محفوظ عالم نے اپنے تجربات و احساسات کو افسانوں میں سجا کر قاری کے لیے پیش کیا ہے۔ یہ ان کی ادبی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔ عالیہ خان اپنے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں
” محفوظ عالم کی زبان بے عیب ہے۔ مکالموں میں چستی اور برجستگی ہے۔ کہانی کے بنت میں ہنرمندی اس طرح نظر آتی ہے کہ وہ سپاٹ صحافتی بیان سے گریز کر کے اپنے افسانے میں کہانی پن لانے کی شعوری کوشش کرتے ہیں اور قاری کی توجہ اپنی طرف مسلسل کھینچے رکھنے میں کامیاب ہیں۔ ”
ڈاکٹر محفوظ عالم کے یہاں حقیقت نگاری کا عمدہ نمونہ ملتا ہے۔ اب دیکھیے جس انداز میں انہوں نے ” ماچس ” کو پیش کیا، وہ ان کی پارکھی نظر کو درشاتا ہے۔ سماج کا وہ چہرہ جو آج بھی ہمارے اور آپ کے درمیان موجود ہے۔
اس مجموعے میں کئی افسانے سماج کو ننگا کرتے نظر آتے ہیں۔ محفوظ عالم نے سماج اور معاشرے کی منظر کشی میں کمال کر دیا ہے۔ ” رشتے خون کے ” میں جس خوبصورتی سے خون کے رشتے کو درشایا ہے ، اپنوں کا ایک یہ بھی چہرہ ہے، جسے دنیا دیکھتی بھی ہے اور سمجھتی بھی ہے مگر قبول کرنے میں تھوڑی پریشانی ہوتی ہے۔ ایک اقتباس دیکھیں
” ان کی آواز میں جھنجھلاہٹ، کراہیت اور غصہ تھا۔ ”
” کیا بھابھی نہیں ہیں؟ بڑی بھابی بھی تو وہیں پر ہیں۔”
” بھابھی خود بیمار ہیں اور بڑی بھابھی کے پیر میں درد ہے۔”
” اچھا میں جمیلہ کو بھیج رہا ہوں ۔ آپ اماں کو فورا” ہسپتال میں داخل کرائیں۔ ” میں بھی شام تک آ جاؤں گا ۔”
عارف نے اپنی چھوٹی بہن جمیلہ کو فون کیا۔
” ہاں سنو ، اماں کافی بیمار ہو گئی ہیں۔ تم فورا گھر چلی جاؤ۔”
” جی بھائی جان، لیکن مجھے جانے میں دیر ہو جائے گی۔ ابھی پانی والا نہیں آیا ہے اور گوالا بھی آنے والا ہے ۔”
” لیکن تم پہلے وہاں جاؤ۔”
” ٹھیک ہے آپ پریشان نہ ہوں۔ اماں تو ہمیشہ بیمار رہتی ہی ہیں۔ پانی والا آ جائے تو ہم چلے جائیں گے۔”
محفوظ عالم کے پاس ایک سلیقہ ہے وہ اپنے افسانے کو خاص سلیقے سے پیش کرتے ہیں۔ محفوظ عالم کے افسانوں کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ افسانہ کے میدان میں ثابت قدم ہیں۔ ان کی سوچ کا کینوس وسیع ہے اور انہوں نے مشق اور محنت سے اپنا مقام حاصل کیا ہے ۔ سید کریم الدین عادل کہتے ہیں
” محفوظ عالم کی زبان بے عیب ہے۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس طرح قاری کو اپنی طرف کھینچا جائے۔ آپ نے بڑی مہارت اور اپنے زور قلم سے اپنی کتاب ” نقطہ سے دائرہ تک ” میں یہ کام کیا ہے ۔ کتاب کے کسی بھی افسانہ کو پڑھا جائے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ سماجی برائی کو بہت باریکی سے بیان کیا گیا ہے۔”
محفوظ عالم کی تحریر میں” لنچنگ ” ، ” معصوم دعائیں ” تشنہ لب” ،” نمبر سات اور ” تھپکی ” کا شمار بہترین افسانوں میں ہوتا ہے۔ ” بازگشت ” بیوقوف ” دل نے پھر یاد کیا ” اور ” باقی سب خیریت ہے ” ، یہ افسانے اپنا الگ مقام رکھتے ہیں ۔
” پرارتھنا” ، ” زندہ لاشیں ” محافظ ” اچھوت ” یہ افسانے دل چھو لیں گے اور سوچنے پہ مجبور کریں گے۔ زندگی اور سماج کی نرم- گرم حقیقتیں ان افسانوں میں پس پردہ ہیں اور کچھ برہنہ حقیقت کو بھی محفوظ عالم نے پروس دیا ہے جسے ہم ننگی آنکھوں سے روز دیکھتے ہیں۔ جو قاری کے ذہن میں اتر کر اس کو اپنے خیالات و احساسات پر غور و فکر کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے کیونکہ سیاسی سماجی اور مذہبی مسائل جو روز ہم لوگوں کے سامنے آتے رہتے ہیں، انہیں محفوظ عالم نے بڑی ہنرمندی سے افسانوں میں قید کر لیا ہے۔ ان افسانوں میں اہل فکر و نظر کے لیے غور و فکر کا پہلو ہے۔ افتخار عظیم چاند نے محفوظ عالم کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا ہے
” افسانوی مجموعہ” نقطہ سے دائرہ تک ” کے خالق محفوظ عالم صاحب کو پلاٹ سازی، کردار نگاری ، واقعات ، حادثات، تشبیہات و استعارات نیز منظر کشی پر قدرت و دسترس حاصل ہے اور وہ اپنی نوک قلم سے تراش خراش کر اور سنوار کر اچھا اور خوبصورت افسانہ لکھ رہے ہیں، اور قارئین ادب کو محظوظ کر رہے ہیں۔ اس کے لیے میں موصوف کو مبارکباد تہنیت پیش کرتا ہوں۔”
محفوظ عالم افسانے کے فنی رموز و نکات سے واقفیت رکھتے ہیں ۔ اپنے تجر بات کا احساس دنیا کو دلانا چاہتے ہیں ۔ محفوظ عالم کے افسانے عصری حقائق اور حسیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ وہ اپنے افسانوں میں عصری تقاضوں کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں ۔ محفوظ عالم نے جتنا لکھا، جو بھی لکھا ، جیسا لکھا، اچھا لکھا اور اسے انہوں نے ” نقطہ سے دائرہ تک ” میں محفوظ کر لیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

بچوں کو کھیل کھیل میں اردو سکھانے والی کتاب "الفاظ کی دنیا "

احمد حاطب صدیقی سچ پوچھیے تو یہ دنیا الفاظ کی...

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

بچوں کو کھیل کھیل میں اردو سکھانے والی کتاب "الفاظ کی دنیا "

احمد حاطب صدیقی سچ پوچھیے تو یہ دنیا الفاظ کی...

محفوظ عالمؔ اردو کو محفوظ کرنے والاقلم کار

 

احسن امام احسن

ایک دن واٹس ایپ کے کسی گروپ میں ایک تصویر نظر سے گزری۔ ایک صاحب کسی کو کتاب دے رہے تھے۔ میں نے بھائی اعجاز انور سے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ محفوظ عالم ہیں، افسانہ نگار ہیں اور انشائیہ نگاری سے بھی دلچسپی ہے۔ ان سے فون پر باتیں ہوئیں، پھر انہوں نے اپنی کتاب بھیجی جو کہ افسانوی مجموعہ تھا ” نقطہ سے دائرہ تک ” ۔ دیکھا اور پڑھا تو محسوس ہوا ، چلو محفوظ صاحب نے اپنی لکھی ہوئی چیزوں کو کتابی شکل میں محفوظ کر لیا ہے یعنی اردو کو محفوظ کر رہے ہیں اور یہ ایک اچھا قدم ہے۔
محفوظ عالم نے ایم اے، پی ایچ – ڈی نفسیات میں کیا ہے یعنی انہیں ڈاکٹر محفوظ عالم کہنا چاہیے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر اس لیے نہیں لگاتے کہ کچھ لوگوں نے اس کی قدر قیمت کا خیال نہیں رکھا۔ خیر چھوڑیے ان باتوں کو۔ محفوظ عالم کی تحریر سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ ایک با صلاحیت آدمی ہیں۔ یوں تو افسانوی ادب میں کئی نام ایسے ہیں جنہوں نے ادب کی بستی میں دھوم مچائی ہے۔ فکشن پر کام کرنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ محفوظ عالم کے افسانہ نگاری کا فن ان کے ہم عصروں سے تھوڑا مختلف ہے۔ پیکر تراشی کا انداز، رومانیت میں جدت طرازی، زندگی کے مسائل کو پیش کرنے کا انوکھا انداز ،معاشرے کی منظر کشی کا بہترین انداز ، یہ سب ان کی خوبیوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔
محفوظ عالم نے” جنگل راج ” میں بہت ہی خوبصورتی سے جنگلی نظام کا بہترین نقشہ کھینچا ہے۔ ایک چھوٹا سا اقتباس ملاحظہ فرمائیں
” نہ دیدی ای ہم سے نہ ہوگا۔ میرا باپ اسی چکر میں مارا گیا ۔”
” تو پھر تو بھی مر۔ تم کیا سمجھتا ہے کہ تیری عورت کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ نہ نہ یہ سب موہن سنگھ کا کیا دھرا ہے۔ وہ تیری عورت پہ برا نجر رکھتا تھا۔ جب وہ نہ مانی تو راستہ میں اپنا ٹرک سے ہی کچلوا دیا۔ او جتنا عورت اس بھٹا میں کام کرتا ہے نہ سب کو موہن سنگھ اور اس کا منسی خراب کر دیتا ہے ۔ مجبوری میں کوئی کچھ نہ کہتا ہے۔”
” یہ بتوا تو ٹھیکے لگتا ہے دیدی۔ ہم بھی ایسا ہی سوچ رہے تھے ۔ ہاں یہی بات ہے۔” جنگل راج میں علاقائی دہشت گردی سے لڑنے کا الگ طریقہ ہے۔ اسے لوگ دوسرے نام سے بھی یاد کرتے ہیں جسے محفوظ عالم نے بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ ” ماچس ” میں جس خوبصورتی کے ساتھ محفوظ عالم نے اس طرح کی حقیقت کو افسانے میں ڈھالا ہے ، وہ ان کی قابلیت کو درشاتا ہے۔ افسانے کو فن کی کسوٹی پر پرکھنا انہیں خوب آتا ہے۔ محفوظ عالم اپنی باتوں کو لطیف پیرائے میں ڈھال کر افسانے کا جال بنتے ہیں۔ ان کے مطالعہ اور مشاہدہ کو نہایت ہی وسیع پیمانے پر قاری دیکھ سکتا ہے۔ محفوظ عالم نے اپنے تجربات و احساسات کو افسانوں میں سجا کر قاری کے لیے پیش کیا ہے۔ یہ ان کی ادبی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔ عالیہ خان اپنے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں
” محفوظ عالم کی زبان بے عیب ہے۔ مکالموں میں چستی اور برجستگی ہے۔ کہانی کے بنت میں ہنرمندی اس طرح نظر آتی ہے کہ وہ سپاٹ صحافتی بیان سے گریز کر کے اپنے افسانے میں کہانی پن لانے کی شعوری کوشش کرتے ہیں اور قاری کی توجہ اپنی طرف مسلسل کھینچے رکھنے میں کامیاب ہیں۔ ”
ڈاکٹر محفوظ عالم کے یہاں حقیقت نگاری کا عمدہ نمونہ ملتا ہے۔ اب دیکھیے جس انداز میں انہوں نے ” ماچس ” کو پیش کیا، وہ ان کی پارکھی نظر کو درشاتا ہے۔ سماج کا وہ چہرہ جو آج بھی ہمارے اور آپ کے درمیان موجود ہے۔
اس مجموعے میں کئی افسانے سماج کو ننگا کرتے نظر آتے ہیں۔ محفوظ عالم نے سماج اور معاشرے کی منظر کشی میں کمال کر دیا ہے۔ ” رشتے خون کے ” میں جس خوبصورتی سے خون کے رشتے کو درشایا ہے ، اپنوں کا ایک یہ بھی چہرہ ہے، جسے دنیا دیکھتی بھی ہے اور سمجھتی بھی ہے مگر قبول کرنے میں تھوڑی پریشانی ہوتی ہے۔ ایک اقتباس دیکھیں
” ان کی آواز میں جھنجھلاہٹ، کراہیت اور غصہ تھا۔ ”
” کیا بھابھی نہیں ہیں؟ بڑی بھابی بھی تو وہیں پر ہیں۔”
” بھابھی خود بیمار ہیں اور بڑی بھابھی کے پیر میں درد ہے۔”
” اچھا میں جمیلہ کو بھیج رہا ہوں ۔ آپ اماں کو فورا” ہسپتال میں داخل کرائیں۔ ” میں بھی شام تک آ جاؤں گا ۔”
عارف نے اپنی چھوٹی بہن جمیلہ کو فون کیا۔
” ہاں سنو ، اماں کافی بیمار ہو گئی ہیں۔ تم فورا گھر چلی جاؤ۔”
” جی بھائی جان، لیکن مجھے جانے میں دیر ہو جائے گی۔ ابھی پانی والا نہیں آیا ہے اور گوالا بھی آنے والا ہے ۔”
” لیکن تم پہلے وہاں جاؤ۔”
” ٹھیک ہے آپ پریشان نہ ہوں۔ اماں تو ہمیشہ بیمار رہتی ہی ہیں۔ پانی والا آ جائے تو ہم چلے جائیں گے۔”
محفوظ عالم کے پاس ایک سلیقہ ہے وہ اپنے افسانے کو خاص سلیقے سے پیش کرتے ہیں۔ محفوظ عالم کے افسانوں کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ افسانہ کے میدان میں ثابت قدم ہیں۔ ان کی سوچ کا کینوس وسیع ہے اور انہوں نے مشق اور محنت سے اپنا مقام حاصل کیا ہے ۔ سید کریم الدین عادل کہتے ہیں
” محفوظ عالم کی زبان بے عیب ہے۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس طرح قاری کو اپنی طرف کھینچا جائے۔ آپ نے بڑی مہارت اور اپنے زور قلم سے اپنی کتاب ” نقطہ سے دائرہ تک ” میں یہ کام کیا ہے ۔ کتاب کے کسی بھی افسانہ کو پڑھا جائے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ سماجی برائی کو بہت باریکی سے بیان کیا گیا ہے۔”
محفوظ عالم کی تحریر میں” لنچنگ ” ، ” معصوم دعائیں ” تشنہ لب” ،” نمبر سات اور ” تھپکی ” کا شمار بہترین افسانوں میں ہوتا ہے۔ ” بازگشت ” بیوقوف ” دل نے پھر یاد کیا ” اور ” باقی سب خیریت ہے ” ، یہ افسانے اپنا الگ مقام رکھتے ہیں ۔
” پرارتھنا” ، ” زندہ لاشیں ” محافظ ” اچھوت ” یہ افسانے دل چھو لیں گے اور سوچنے پہ مجبور کریں گے۔ زندگی اور سماج کی نرم- گرم حقیقتیں ان افسانوں میں پس پردہ ہیں اور کچھ برہنہ حقیقت کو بھی محفوظ عالم نے پروس دیا ہے جسے ہم ننگی آنکھوں سے روز دیکھتے ہیں۔ جو قاری کے ذہن میں اتر کر اس کو اپنے خیالات و احساسات پر غور و فکر کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے کیونکہ سیاسی سماجی اور مذہبی مسائل جو روز ہم لوگوں کے سامنے آتے رہتے ہیں، انہیں محفوظ عالم نے بڑی ہنرمندی سے افسانوں میں قید کر لیا ہے۔ ان افسانوں میں اہل فکر و نظر کے لیے غور و فکر کا پہلو ہے۔ افتخار عظیم چاند نے محفوظ عالم کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا ہے
” افسانوی مجموعہ” نقطہ سے دائرہ تک ” کے خالق محفوظ عالم صاحب کو پلاٹ سازی، کردار نگاری ، واقعات ، حادثات، تشبیہات و استعارات نیز منظر کشی پر قدرت و دسترس حاصل ہے اور وہ اپنی نوک قلم سے تراش خراش کر اور سنوار کر اچھا اور خوبصورت افسانہ لکھ رہے ہیں، اور قارئین ادب کو محظوظ کر رہے ہیں۔ اس کے لیے میں موصوف کو مبارکباد تہنیت پیش کرتا ہوں۔”
محفوظ عالم افسانے کے فنی رموز و نکات سے واقفیت رکھتے ہیں ۔ اپنے تجر بات کا احساس دنیا کو دلانا چاہتے ہیں ۔ محفوظ عالم کے افسانے عصری حقائق اور حسیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ وہ اپنے افسانوں میں عصری تقاضوں کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں ۔ محفوظ عالم نے جتنا لکھا، جو بھی لکھا ، جیسا لکھا، اچھا لکھا اور اسے انہوں نے ” نقطہ سے دائرہ تک ” میں محفوظ کر لیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں