
شبیر احمد میر
دیکھو! وہ کب سے تمہاری طرف دیکھ رہا ہے۔ لگتا ہے تمہارے جادو اثر حسن نے اسے بری طرح گھائل کر دیا ہے۔ اس کی سہیلی نے کولڈ ڈرنک کا ہلکا سا سیپ لیتے ہوئے ایک طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اس کی توجہ دلائی۔ نظر باز کہیں کا۔ بے ہودہ انسان۔ یوں کرو تم اور ذرا سامنے ہو کر بیٹھ جاؤ۔ وہ بھی ٹیڑھی نظریں کرتے کرتے ٹیڑھا نہ ہو کہیں۔ بدتمیز کہیں کا۔ ویسے ایک بات کہوں۔ تم اسے اچھی لگتی ہو۔ اس لیے دیکھتا ہے گہری گہری نظروں سے۔ وہ تمہیں ایک نظر دیکھتے ہی گھائل ہو گیا۔
چل ذرا اس لنگور کے پاس۔ میں اسے اچھی طرح سے سمجھاتی ہوں۔
اس کی سہیلی نے دوبارہ کہنا شروع کیا۔ تم کیا سمجھاؤ گی اسے۔ یہ سب بکواس ہے۔ فضولیات ہے۔ کوئی ضرورت نہیں سر کھپانے کی۔ فلاسفر بن کر تم کیا سمجھاؤ گی اسے اور کس کس کو سمجھاؤ گی۔ کیا اپنا معاشرہ بدل دو گی یا دنیا کا ظالمانہ نظام زندگی۔ یہ یاد رکھ۔ اپنے اردگرد کے برے ماحول پر چیخنے چلانے سے تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔ الٹا اپنا سر پھوڑ پھوڑ کر پھوڑا بنا لو گی اپنے سر کا۔
کیسی باتیں کر رہی ہو تم؟ دل و روح سے جڑا ہر احساس، ہر تعلق اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک دل دھڑکتا ہے اور روح جسم کا ساتھ دیتی ہے۔ اس نے چہرہ موڑ کر دیکھا، وہ یوں ہی اپنی آنکھیں اس پر ٹکائے ہوئے تھا۔ اس وقت سفید لباس میں یہ سادہ سی لڑکی اپنے پورے حسن سمیت نمایاں تھی۔ لیکن اس کی ذات پر اس کی بری نظر اندازی کے دکھ اس وقت اس کے چہرے پر صاف نظر آ رہے تھے۔ اب اس کے لہجے میں پختہ چٹانوں کا سا عزم تھا۔ ٹھیک ہے۔ کامیابی کی دیوی، میں بھی ساتھ چلتی ہوں تمہارے۔
میری پیاری بلبل، پہلے مجھے تمہیں سمجھانا پڑے گا۔ ذرا اپنے کان کھول کر سنو۔ پھر اس لنگور سے نپٹ لوں گی۔
جو لوگ ڈرتے ہیں، وہ خوابوں سے رابطہ ہمیشہ کے لیے کھو دیتے ہیں۔ انہیں درحقیقت اپنے آپ پر بھروسہ نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اندر کے ڈر سے نکل نہیں پاتے۔ سو وہ حقیقت کا سامنا کرنے سے ڈرتے ہیں۔ صرف دوسروں کو جتانے کے لیے کہ وہ حقیقت پسند ہیں، وہ دوسروں کے لیے جینے کی کوشش بھی نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے لیے جی پاتے ہیں۔ جب جذبے نیک اور ارادے صادق ہوں تو کامیابی خود منزل بن کر قدموں میں چلی آتی ہے۔ بات مشکل نہیں ہوتی، نہ ہی الفاظ پیچیدہ ہوتے ہیں۔ بس لہجہ سمجھ لینے سے ساری مشکل حل ہو جاتی ہے۔ وہ خود کو حقیقت پسند کہتی تھی۔ اسے آج کل کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے سخت چڑ تھی جو ہر وقت پیار و محبت کی باتیں کرتے ہیں۔ چند ایک ڈائیلاگ بول کر وقتی پسندیدگی کو محبت کا نام دے کر خود کو عشق کی انتہا سمجھنے لگتے ہیں۔ جنہیں حال کی پرواہ ہوتی ہے نہ ہی مستقبل کی۔ انہیں وقت کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ وقت کا کام ہے گزرنا، جو کسی کے لیے رکتا نہیں، بس دوڑتا چلا جاتا ہے۔ خواہشیں نفرت کے لیے ہوں یا محبت کے لیے، تپتے صحرا کے مانند ہیں، جس پر پاؤں رکھنے سے سوائے آبلوں کے کچھ نہیں ملتا۔ محبت کی انتہا ہو یا نفرت کی، دونوں رشتے جنون کی طرف لے جاتے ہیں۔ انتقام، حسد اور ذلت کے جذبے نے آج کل کے انسان کو حیوان بنا دیا ہے۔ نظر اور نصیب کا کچھ ایسا اتفاق ہے کہ نظر کو اکثر وہی چیز پسند آتی ہے جو نصیب میں نہیں ہوتی اور نصیب میں لکھی چیز اکثر نظر نہیں آتی۔ اکثر لوگ ایسی ہی چھوٹی چھوٹی نادانیوں کے باعث ذلیل ہو جاتے ہیں اور بہت قریب کی باتیں انہیں سمجھ نہیں آتیں۔
غور سے سننے کے بعد اس کی سہیلی نے دونوں ہاتھوں سے تالی بجاتے ہوئے کہا۔ ارے واہ۔ دنیا بولتی ہے کہ مرد زیادہ عقلمند ہوتا ہے، لیکن آج میں مان گئی عورت کی عقل مردوں سے زیادہ کام کرتی ہے۔ جو بات مرد کی کھوپڑی میں نہیں گھستی، عورت وہ بھی جان لیتی ہے۔
چپ کر بے ہودہ۔ جو جی میں آتا ہے بول دیتی ہے۔ اتنی سی بات تیری کھوپڑی میں نہیں جاتی۔ اگر شخصیت میں پختگی ہو تو عادت میں سادگی خود بخود آ جاتی ہے۔ اب چھوڑ۔ چل اس لنگور کی طرف۔ اس نے اپنی سہیلی کا ہاتھ پکڑ کر اس اجنبی آدمی کی طرف اپنے قدم بڑھائے جو اس کی طرف مسلسل دیکھ رہا تھا۔ اجنبی کے سامنے پہنچ کر بڑے ادب سے سلام کرتے ہوئے اس سے کہا۔ ایک بات کہوں، اگر آپ برا نہ مانیں تو۔ اگر میں نے میک اپ کیا ہوتا تو آپ اس سے بھی زیادہ گھورتے مجھے جتنا آپ ابھی مجھے گھور رہے تھے۔ جب آپ میرے ساتھ کوئی لحاظ مروت رکھنے کو تیار نہیں تو مجھے بھی فرشتہ نہ سمجھیں کہ میں تمیز سے پیش آؤں۔
یہ سن کر وہ اجنبی چکرا کر زمین بوس ہونے لگا۔ اس وقت اسے اپنی بے عزتی محسوس ہوئی۔ اسے لگا جیسے اس جہاں میں اس جیسا بے حیا، بدبخت کوئی نہیں۔ آوازوں کا ایک بھنور سا اس کے گرد محیط ہونے لگا اور وہ خاموش تاریکی کے سمندر میں ڈوبتا جا رہا تھا۔ ہم اطمینان سے بیٹھ کر باتیں کریں گے اور مجھے امید ہے آپ میری باتیں غور سے سنیں گے۔
ہاں تو مسٹر، ہم جو کچھ دیکھتے، سنتے اور محسوس کرتے ہیں، ان تجربات کو زبان سے بیان کرنے کو ہم اظہار کہتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے تاثرات کو ضبط کر لیا، اس کا اظہار نہیں کیا، جو کچھ دیکھا اور سنا اس کے بارے میں کسی سے ایک لفظ بھی نہیں کہا، تو اس طرح ہم ذہن کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں۔ کیونکہ اظہار کی عادت ہماری ذہنی قوت اور صلاحیت کو پروان چڑھانے میں بہت نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ نگاہیں جس جگہ جاتی ہیں وہیں جمتی ہیں، پھر ان کا اچھا اور برا اثر اعصاب و دماغ اور ہارمونز پر پڑتا ہے۔ شہوت کی نگاہ سے دیکھنے سے ہارمونری سسٹم کے اندر خرابی پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ ان نگاہوں کا اثر زہریلی رطوبت کا باعث بن جاتا ہے۔ جدید فرنگی کے چونچلے اور ان کی تہذیب کی یہ سوچ ہے کہ دیکھنے سے کیا ہوتا ہے، صرف دیکھا ہی تو ہے، کون سا غلط کام کیا ہے۔ تو کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اچانک اگر شیر سامنے آ جائے تو آدمی صرف دیکھ لے۔ صرف دیکھنے سے جان پر کیا بنتی ہے۔ سبزہ اور پھول صرف دیکھے جاتے ہیں، پھر ان کے دیکھنے سے دل مسرور اور مطمئن کیوں ہوتا ہے۔ زخمی اور لہو لہان کو صرف دیکھتے ہی تو ہیں، لیکن پریشان، غمگین اور بعض بے ہوش ہو جاتے ہیں، آخر کیوں۔ الغرض نگاہیں جس جگہ جاتی ہیں وہیں جمتی ہیں، پھر ان کا اچھا اور برا اثر اعصاب، دماغ اور ہارمونز پر پڑتا ہے۔ ان نگاہوں کا اثر زہریلی رطوبت کا باعث بن جاتا ہے اور ہارمونری گلینڈ ایسی تیز اور خلاف جسم زہریلی رطوبتیں خارج کرتے ہیں جس سے تمام جسم درہم برہم ہو جاتا ہے اور آدمی بے شمار امراض و علل میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ تجربات کے لحاظ سے یہ بات واضح ہے کہ نگاہوں کی حفاظت نہ کرنے سے انسان ڈپریشن، بے چینی اور مایوسی کا شکار ہوتا ہے، جس کا علاج ناممکن ہے، کیونکہ صرف اور صرف اسلامی تعلیمات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ بعض لوگوں کے تجربات بتاتے ہیں کہ شہوانی اور خوبصورت چہروں کو عمارتوں میں لگائیں تو صرف تین دن کے بعد جسم میں درد، بے چینی، تھکن، دماغ بوجھل بوجھل اور جسم کے عضلات کھنچنے لگتے ہیں۔ اگر اس کیفیت کو دور کرنے کے لیے سکون آور ادویات بھی استعمال کی جائیں تو کچھ وقت کے لیے سکون اور پھر وہی کیفیت۔ اس کا علاج نگاہوں کی حفاظت ہے۔ بہرحال مردوں اور عورتوں کو عصمت اور پاکدامنی حاصل کرنے کے لیے بہترین علاج اپنی نظروں کو جھکانا ہے۔ خاص طور پر اس معاشرے اور گندے ماحول میں بے شرمی اور بے حیائی اس قدر عام ہے کہ نظروں کو محفوظ رکھنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ظاہری و عملی شکل تو یہی ہے جو قرآن نے ہمیں بتائی ہے کہ چلتے پھرتے اپنی نگاہوں کو پست رکھیں اور دل کے اندر اللہ کا خوف ہو۔ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ جس قدر اللہ تعالیٰ کا خوف زیادہ ہو گا، اتنا ہی حرام چیزوں سے بچنا آسان ہو گا۔ اپنا دم سنبھالتے ہوئے پھر کہا۔
حدیث پاک کا ارشاد ہے۔ آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے۔ بد نظری کے طبی نقصانات، ایک بد نظری سے کئی مرض پیدا ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ ایک سیکنڈ کی بد نظری ہو تو دل ضعیف ہو جاتا ہے، فوراً کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی ادھر کبھی ادھر دیکھتا ہے، کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔ اسی کشمکش سے دل مردہ ہو جاتا ہے اور گندے خیالات سے مثانے کے غدود نرم ہو جاتے ہیں، جس سے دماغ کمزور اور نسیان پیدا ہو جاتا ہے۔ ہر عصیان سبب نسیان ہے اور اس کا علم بھی ضائع ہو جاتا ہے اور گردے بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔ سارے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں۔ یوں سمجھ لو کہ زلزلے میں کیا ہوتا ہے۔ جب کہیں زلزلہ آتا ہے تو عمارت کمزور ہو جاتی ہے یا نہیں۔ گناہ نفس و شیطان کی طرف سے زلزلہ جو ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو گناہ سے بچاتے ہیں، اچانک نظر پڑی اور فوراً ہٹا لی تو بھی دل میں زلزلہ آتا ہے، جھٹکا لگتا ہے، مگر گناہ کرنے کے زلزلے پر لعنت برستی ہے اور اللہ کی طرف سے عذاب کے جھٹکے لگتے ہیں۔ بدترین غلام وہ ہوتے ہیں جو عادتوں کے غلام ہوتے ہیں۔ اللہ کے نزدیک ہر وہ انسان پاکیزہ ہے جس نے اپنی سوچوں کو پاکیزہ رکھا اور اپنے کردار کو مضبوط بنایا۔ خیالات کی پاکیزگی جس انسان کو حاصل ہو جائے، اس پر علم کی راہیں آسان ہو جاتی ہیں۔ خوش نصیب ہے وہ انسان جس کا دل ہوس، بغض، لالچ، حسد، طمع جیسی چیزوں سے پاک ہو۔ وہ اپنے رب کے فیصلوں پر راضی ہو۔ ایسا انسان بہت ہی پرسکون زندگی گزارتا ہے اور زندگی کی کتاب پڑھ کر صرف وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جن کی توجہ اگلے باب پر ہوتی ہے۔ اور اعلیٰ انسان کی زندگی میں چار نشانیاں ہیں۔ نیک گفتار، نیک نیت، نیک کردار اور نیک بخت۔ انسان قابل عزت تب بن جاتا ہے جب وہ اپنے آپ کو کسی کی نظروں میں نہیں گراتا، جس سے سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ نظر ملانا اس سے مشکل اور سر اٹھانا اس سے دوبھر ہو جاتا ہے۔ آپ عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں بہت سے راستے مل سکتے ہیں، لیکن ایسی اوچھی حرکت کرتے ہوئے آپ اس جگہ کھڑے ہیں جہاں راستوں کا اختتام قریب ہے۔
اس اجنبی کا چہرہ اس کی نظروں کی تپش سے جلنے لگا اور اسے لگا جیسے اسے بھری محفل میں گالی دے دی ہو۔ عزت و احترام کا شیش محل ایک لفظ سے چکنا چور ہو کر کرچی کرچی ہو گیا۔ مجھے معاف کر دیجیے، مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ میں آپ سے نظریں ملانے کے قابل بھی نہیں۔ وہ بری طرح بکھر رہا تھا۔
جلدی جائیے، بارش تیز ہو جائے گی۔ بھیگ جاؤ گے اور بیمار پڑ جاؤ گے۔ اس نے اپنا آپ اس لڑکی سے یوں چھڑایا جیسے بجلی کے ننگے تاروں نے اسے چھو لیا ہو۔
جانے سے پہلے ایک اور بات کہنا چاہتی ہوں۔ تمہارا غم یا تمہاری خوشی جتنی عظیم ہو گی، تمہاری روح اس قدر نکھرے گی۔ والسلام
یہ افسانہ مرحوم شبیر احمد میر کا تحریر کردہ ہے جو روزنامہ سری نگرجنگ کوموصوف کے فرزند میر عمران سے موصول ہوا۔


