پر ندے کے فریاد

 

شبیر احمد میر

اڑتے اڑتے پرندے پھڑ پھڑا کر جب صبح سویرے درختوں پر آبیٹھتے ہیں۔ شاعری کے ساتھ ساتھ قدرت نے انہیں موسیقی کا ملکہ عطا کیا ہے ۔ یہ درد بھرے گیت جب ان کے رسیلے گلے سے سوز میں ڈوبی ہوئی آواز کے ساتھ ادا ہوتی ہے تو وادیوں ۔زعفران کے لہلاتے کھیتوں میں آگ سی لگ جاتی ہے ۔ بس دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والا دل ہو نا چاہیے ۔
شفق ۔دھنک ۔مہتاب ۔گھٹائیں ۔تارے ۔نغمے ۔پھول کیا کچھ نہیں ہے ان کے دامن میں ۔بچپن سے میری ماں کو میرے حسن پر نازتھا ۔ہر وقت وہ مجھے سجا سنوار کر رکھتی جیسے میں کوئی جاپانی گڑیا تھی ۔یہ فخر اور غرور میری ذات پر چسپاں ہو تا جا رہا تھا ۔اکثر شام کو ماں مجھے ایک اونچے ٹیلے پر لے جاتی۔ وہاں ایک بڑے پتھر پر بیٹھ کر ہم سورج ڈوبنے کا منظر دیکھتے ۔پیلی پیلی سی گیند جب دھیرے دھیرے درختوں کی آڑ میں چھپتی تو مجھے بڑا مزا آتا تھا۔ اپنے گھونسلے میں جانا مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔ برسات میں ساری ساری رات کسی درخت کی ٹہنی پر بھیگتے گزر جاتی ۔ چارہ چوگنے کے لیے جب میںماں کے ساتھ جاتی وہ مجھے کسی گائوں میں لے جاتی ۔کیونکہ قدرت کی رنگینیوں اور انسان کے خلوص کا نکھا ر دیہات میں ہی ملتا ہے ۔ اس جنت ارضی کے چھوٹے چھوٹے جھونپڑیوں میں رہنے والے لوگ سادگی اور خلوص کے ہنستے مسکراتے پیکر تھے ۔یہ لوگ خوب محنت کرتے ۔دھان کے کھیتوں میں ہل چلاتے ۔گہیوں کی کھیتوں میں گہیوں اگاتے ۔ہم بھی اپنا پیٹ بھرتے اور دن بھر ان کھیتوں میں مستی کرتے ۔میری نگاہیں چاروں طرف پھیلی ہوئی چراگاہ کا احاطہ کیے ہوے اور اس کی ہریالی کو اپنے اندر سمیٹنے کی کوشش میں ہر وقت مصروف رہتی۔ چاروں طرف دھوپ پھیلی ہوئی ہوتی ۔برفیلی پہاڑوں سے برف پگھل پگھل کر آبشار پیدا کرتی جس کا پانی پتھروں کے درمیان شور مچاتا ہو ا نالے میں گر جاتا ۔پانی کے بجائے جیسے ان پتھروں کے درمیان چاندی بہہ رہی ہوتی ۔ہر لمحہ قدرت کا حسن دلوں پر راج کرتا۔ اپنی عادت سے مجبور جب مشرق میں صبح ہوتی۔ تو ہم سب مل کر حمد وثنا کے گیت گاتے ۔ اللہ کی تعریف کرتے۔ شام کے وقت جب وادیوں پر اندھیرا چھانے لگتا تو ہم پہاڑ پر چڑھ کر دن کی رخصتی کا گیت ہم آواز ہو کر گاتے اور جب رات کا جادو پھیل جاتا ہم تمام رات گلاب کے پیالوں میں شبنم کی شراب پیتے اور ازل و ابدی محبت کے غیر فانی گیت گاتے رہتے ۔ہر جگہ ہر مقام پر ہمارے قدم ایک ساتھ اور ہم آہنگ ہو کر اٹھتے ۔قدرت میں اپنا جادو جگاتے رہتے ۔اتنا کچھ کرنے کے باوجود ایک آدمی بھی ہمدرد معلوم نہیں ہوا۔ ویسے ایک بات ہے دنیا میں ہمدردی تب ہی ہوتی ہے۔ جب ہمدرد کو کسی سے کچھ امید ہو ۔ہم سے کسی کو بھلا کیا امید ہو گی الٹا ہم ہی ان لوگوں کا اناج کھا کر ان کا نقصان کرتے ہیں۔ ہمارے ہاتھ پائوں ہوتے ہم خود اپنے لیے اناج اگاتے ۔آجکل کے دور میں کسی کو فرصت نہیں جو ہمارا گاناسنیں گے۔ ہمیں اناج کھلایٔں گے۔ کاش قدرت کا فیصلہ ان کی سمجھ میں آتا کہ انسان جب دوسروں کی خوشیوں کا سوچتا ہے ان کے لیے جیتا ہے تو اسکی بھی تمام مشکلیں آسان ہو جاتی ہیں ۔ہم کسی کو اپنی مرضی سے چاہ تو سکتے ہیں لیکن کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ نہیں کہہ سکتے ۔کہ تم بھی ہم سے محبت کرو۔ ویسے ہم نے یہ سیکھا ہے ۔اس انسان کے قریب رہو جو تہمیں خوش رکھے ۔لیکن اس انسان سے اور قریبی رہو ۔جو تمہارے بغیر خو ش نہ رہ سکے ۔ویسے انسان کو بالکل ہی پتھر نہیں ہو نا چاہیے دل میں نرم گوشہ بھی رکھنا چاہیے ۔ خود ہر وقت کھاتا رہتا ہے اور ہم دیکھتے رہتے ہیں ۔گندم اور اناج میں کیڑے پید ا نہ ہوں ورنہ انسان اسے سونے چاندی کی طرح زخیرہ کرتا ۔خود بھی بھوک سے مرتا اور ہمیں بھی مارڈالتا ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔چوری اور وہ بھی برف کی۔ ہاتھ نہ آئے تواپنی جگہ پتھر۔ ہاتھ آجائے تو پگل کر پانی اور چرانے والا پانی پانی۔میں اکثر کھڑکی میں بیٹھتی ۔سورج ڈوبنے کا دلفریب منظر دیکھا کرتی۔ اس منظر کو دیکھ کر میں سہانے خواب دیکھا کرتی ۔ان خوابوں میں میں ہمیشہ اپنے بچوں کو پالنے میں مگن ہوتی ۔ہم دونوں کے درمیان ہزار قسم کی باتیں ہو ا کرتی ۔مستقبل کے منصوبے بناے جاتے۔ بچوں کے لیے نیا آشیانہ بنانے کی باتیں ہوتیں ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔جب تم نے ایک بہت ہی پر سکون علاقے میں ایک خوبصورت آشیانہ بنایا ۔وہاں پر ہر طرف اونچے اونچے درخت اور سرسبز شاداب میدان تھا۔ جس میں اونچی اونچی گھاس أگی ہوتی تھی ۔جب میں یہاں آئی مجھے پھولوں میں خوشبو رنگوں میں حسن اور حسن میں کشش محسوس ہو رہی تھی اور میں ہمیشہ ان حسین و رنگین نظاروں سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔ہم صبح سویرے چارے کی تلاش میں اپنے آشیانے سے نکل جاتے اور شام کو سیر ہو کر واپس لوٹتے ۔ پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ۔کچھ ہی دنوں کے بعد ہمارے چہروں سے رونق ہی چلی گئی ۔ میں پھر بھی ضبط کئے ہوئے تھی۔ مگر ان کو دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کی زندگی کسی بڑی الجھن میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ کیونکہ درختوں کی کٹائی آج عروج پر ہو رہی تھی جو بالکل ہمارے گھونسلے کے قریب ہو رہی تھی ۔ وہ میری طرف کسی بے جان لاش کی طرح دیکھنے لگا ۔میں اس کے سامنے بیٹھ گئی اور اسے دلاسہ دینے لگی ۔اس کی بھری نظروں سے اس نے میری طرف دیکھ کر کہا ۔یہی وہ طوفان تھا جس کی گواہی میرا دل پہلے ہی دے رہا تھا۔ چاروں طرف سیمنٹ کی بڑی بڑی بلڈگیں ان کھیتوں میں بن رہی ہیں ۔زندگی ہمارے لیے عذاب بن کر رہ گئی۔ ہماری اچھی زندگی کے خواب اس طرح بکھرگئے کہ اب ہمارے دکھوں کی ابتدا ہے ۔ اس گاوں میں جہاں میں نے کچی گندم اور چاولوں کے سرسبز کھیتوں میں بچپن کے ابتدائی ایام گزارے ہیں ۔ جہاں میرے پنجوں تلے آنے والی مٹی نرم زرخیز اور خوشبو آ رہی تھی۔ اب یہاں صرف سیمنٹ ہی سیمنٹ انیٹیں ہی انیٹیں پتھر اور لوہے کے بڑے بڑے ڈھیر۔ جن سے یہ بڑی بڑی عمارتیں بن رہی ہیں ۔یوں محسوس ہو رہا ہے گویا ہم تپتے صحرا میں ہیں ہر جانب چلچلاتی دھوپ کا راج ہے۔ زمین تب کر تانبا ہو چکی ہے۔ یہ لوگ قدرت کے حسن کو داغدار کرنے والے ۔سمجھ میں نہیں آتا یہ پہاڑ ۔چشمے ۔پھول۔ تتلیاں ۔کلیاں ۔بھنورے۔ سبزہ ان سب چیزوں کو دیکھ کر یہ لوگ کیوں آنکھیں موند لیتے ہیں ۔احساس ذمہ داری انسان کی اصل قیمت ہے ۔ذمہ داری کے احساس کے بغیر کوئی انسان ۔انسان کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔ انسان کو عقل اسی وجہ سے ملی ہے کہ اسے ذمہ داری کا شعور ہو۔
درختوں کی کٹائی کی وجہ سے اس وقت درختوں پر کوئوں اور چڑیوں کی کائیں کائیں جو چہچانے کی مشترکہ آوازیں آرہی تھیں۔ کچھ کوئے کٹے ہوئے درختوں پر ادھر ادھر پھدکتے پھر رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر میرا دل چھلنی ہو گیا اور اپنے آپ سے کہنے لگی ۔ہم سے کتنی غلطی ہوگئی! انڈے میں ہی چھپ کر مر گئے ہوتے۔ خاک میں مل گئے ہوتے ۔دنیا کا منہ دیکھنے سے انکار کر دیتے ۔بہت غلطی ہو گئی جو اس دنیا میں آئے ۔اب نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ نہ گھر کے نہ گھا ٹ کے۔ دھوبی کے کتے کی طرح ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔ ایک ایک دانے کے لیے ترس رہے ہیں۔ اس ماحول کو دیکھتے ہی پتہ چلتا ہے ہماری جو کہاتی تھی وہ ختم ہو گئی ۔ایک رنگین سپنا تھا جو ٹوٹ گیا ۔انہوں نے مجھے دلاسہ دیتے ہوئے التجا بھر نظروں سے مجھ سے کہا ۔دیکھو ! تم پر یشان مت ہونا ۔میں تہمیں یقین دلا تا ہوں ہمار اآشیانہ تمہارے خوابوں کی مانند برف پوش پہاڑوں کے درمیان کسی اونچے ٹیلے پر میں دوبارہ بنائوں گا ۔میں نئے سرے سے تمہارے خواب پورے کروں گا ۔ہمارے آشیانے میں ہر طرف سکون ہی سکون ہو گا ۔بس تھوڑا انتظار اور صبر کی ضرورت ہے ۔میں نے طنزیہ مسکراہٹ اس کی طرف اچھال دی اور کہا ۔
مسٹر شیخ چلی۔۔۔ سکون کی بات کرتے ہو ۔یہ توسوچو اب ایسی جگہ رہی کہاں جس کا تم دم بھر رہے ہو ؟غصے سے اس نے میری طرف دیکھ کر کہا ۔مجھ پر دھونس کیوں جما رہی ہو ۔غلطی کس کی ہے میری یا حضرت انسان کی؟ غلطی انسان کی اور خمیازہ بھگتوں میں۔بھاڑ میں جائے ایسا سکون ۔اب کوئی گھونسلہ نہں بنا نا ہے مجھے ۔
ان کو غصے میں دیکھ کر میں اکثر اپنے پر کھول دیتی ہوں اور اپنے پروں سے ان پر سایہ کرتی ہوں۔ اس وقت بھی میں نے ایسا ہی کیا اور بولی ۔غصے میں اپنا خون کیوں جلاتے ہو۔ دنیا کو بیماریوں ۔سیلابوں۔ آندھیوں اور زلزلوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا انسان نے آپس میں غلط مشوروں نے پہنچایا ۔ایک بار آسائشات کی عادت انسان میںپڑ جائے تو پھر ا س سے کنارہ کشی ااس کے لیے موت کی آواز دینے کے مترادف ہو جاتاہے۔اور پھر یہ طبقہ اخلاقیات سے اس حد تک گر جاتا ہے کہ۔ چوری۔ فریب کاری کو اپنی دانشمندی اور دور اندیشی کا نام دے کر فخر محسوس کرتا ہے۔ اداسی میں انسان کی ذات پر چڑھے سارے خول اتر جاتے ہیں ۔پھر اپنی کھال سے باہر آکر ایسی حرکتیں کرتا ہے ۔کہ چلو بھر پانی میں ڈوبنے کو جی کرتا ہے ۔
میڈم جی! ایک بات بتائیں ۔تاکہ میں بھی سکھ کا سانس لے سکوں ۔یہ انسان اپنی کھال کے اندر رہنے کی عادت کیوں نہیں ڈالتا اور فرنگی کی طرح کتنی بلیاں پالے گا ۔بد قسمتی سے ہر شے پر اپنا حق سمجھ کر اس پر قابض ہو جانا چاہتا ہے ۔قرض صرف روپے پیسے کا نہیں ہوتا ۔بلکہ جذبوں کا بھی ہوا کرتا ہے۔گر کوئی اپنی محبت آپ پر نچھاور کردے تو یہ آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ اس کا یہ فرض ادا کریں ۔
میڈم جی! یہ جو فلسفہ آپ نے جھاڑا ہے۔ مہربانی کر کے اسکو اپنے پاس رکھیے۔ آپ کا علم میری سمجھ سے باہر ہے۔ اب ہم یہاں نہیں رہیں گے۔ ہم شہر جائیں گے ۔سنا ہے شہر والے اتنا کھانا نہیں کھاتے جتنا وہ ضائع کر کے کوڑے دان میں ڈالتے ہیں ۔
دیکھیئے جی! آپ جلد بازی سے کام لے رہے ہیں ۔ میں نے بھی سنا ہے ۔شہر کے لوگ جنگلی جانوروں اور آزاد پر ندوں کو مختلف طریقوں سے کسی نہ کسی طرح ان کی آزادی سلب کر کے انتہائی غیر صحت مندانہ ماحول میں پنجروں میں قید کر کے لوگوں کو تفریح کی خاطر رکھا جاتا ہے ۔آپ مجھے پست ہمت کر رہی ہیں۔ اس ماحول سے بہتر ہے کہ ہم کسی پنجرے مین ہی دم توڑدیں۔ کم ازکم موت تو آئے گی ۔ آپ صرف شہر جانے کی تیا ری کیجئے ۔جب میں ہم دونوں اس گائوں سے جا رہے تھے۔ میں چھوٹے بچے کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی۔ اس وقت برف کے ننھے ننھے زرات آسمان سے زمین کی طرف سفر طے کر رہے تھے اور تاحد نگاہ اس وقت سفیدی کی چادر بچھتی جارہی تھی ۔بھوک سے برا حال ہو رہا تھا ۔کسی بھی گھر کے ورنڈے پر۔ کھڑکی کے پاس یا دیوار کی منڈ یر پر۔ اناج کا ایک دانہ بھی نظر نہیں آیا ۔اسی حالت میں ہم شہر کی طرف روانہ ہو گئے ۔ کیسا شہر ہے بھیَ؟ اتنے سارے لوگ ۔لوگوں کا اژدہام ۔سمجھ میںنہیں آتا یہ لوگ اتنے کہاں سے ہیں۔ آتے اور جاتے کہاں ہیں ؟چاروں طرف افراتفری کا ماحول جیسا لگ رہا ہے او ر اس شہر میں یہ محلہ ۔یہ محلہ بھی کیسا عجیب ہے۔ نہ آس نہ پڑوس ۔نہ رشتہ داری اور نہ برادری۔ اتنے دن ہو گئے مکان کے ایک چھید میں ہم رہ رہے ہیں ۔صکسی عورت نے جھانکا تک نہیں۔ کسی نے کوڑا کرکٹ سڑک پر پھینک کیا دیا ۔دھیرے سے لوگ آکر کرید کرید کر دیکھ لیتے ہیں ۔کہ شاہد کوئی کام کی چیز ہاتھ لگ جائے ۔وہ اپنے آپ سے بولتے رہے ۔مجھے ان کی آواز ایسی معلوم ہو رہی تھی جیسے دور بہت دور افق میں کوئی مچھر بھنبھنا رہا ہو ۔ میں کچھ نہ بولی ۔مگر من ہی من میں سوچا۔ یا تو یہ لوگ بہت ہی پریشانی میں مبتلا ہیں یا بہت ہی بے مروت ۔کچھ بھی ہو۔ آدمی ہی آدمی کا محتاج ہے ۔چاہیے اسے ایک آنکھ بھی نہ بھاتا ہو۔ انسان میں کوئی نہ کوئی فکر ۔کوئی نہ کوئی پرابلم۔ کوئی پریشانی ضرور ہو گی ۔جو اسے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے پاس کھینچ لاتا ہے ۔
میری طرف دیکھ کر وہ چلائے ۔اری او محترمہ۔ اتنی گہری سوچ میں ڈوبی ہو۔ آپ کے پنجوں میں انسان نے آس کا جگنو تھما دیا کیا ؟جو دوسری دنیا کے خواب دیکھنے لگی ۔حال سے بے حال کر کے۔ تم تو ایک ہو۔ جو انسان کی ہمدردی اور ان کا حال پوچھتی رہتی ہو۔
میں نے جواب دیا ۔شرم آنی چاہیے آپ کو۔ ایک بار کسی کا نمک کھا لو تو نمک حلا لی فرض اور حکم بن جاتی ہے ۔ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے اور اس حل کی موجودگی کا احساس کا نام امید ہے ۔ٹھیک ہے مجھے جمائیاں آرہی ہیں۔ تم پوری رات انسان کے بارے میں سوچو۔
ہر روزصبح سویرے ہم اس مکان کے چھید سے نکلتے اور شام تک لوگوں کا جھوٹا کھانا کھا کر سیر ہو جاتے۔ وہ صبح سویرے حمد وثنا کے گیت گانا۔ اللہ کو یاد کرنا ۔سب بھول گئے ۔ پولوشن کی وجہ سے ہر وقت گلہ خڑاب رہتا ۔ کھانا کھانے کے بغیر کسی اور چیز میں رغبت نہیں رہی۔ واقعی جھوٹا کھانا کھا کر ہم بے غیر ت اور بے مروت بن گئے ۔۔۔جو اللہ کو بھول گئے ۔
اتنے دنوں کے بعد آج وہ بہت خوش کھائی دے رہے تھے ۔وجہ پوچھی تو کہا !آج ایک ہوٹل کے کائونٹر کے پیچھے ایک گوشت کا پہاڑ بیٹھا تھا ۔پیٹ اس کا گھٹنوں کو چھو رہا تھا ۔کائونٹر پر سر رکھ کر وہ گہری نیند میں تھا اس کے ایک طرف پلیٹ تھی ۔جس میں کھانے کی میٹھی چیز تھی۔ میں کھانے کی نیت سے جو اس پلیٹ میں چونچ ماری ۔پلیٹ سے آواز آئی۔ اس آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ ٹھٹھک کر اس نے میری جانب دیکھا۔ مجھے نفرت سے گھورا۔ جیسے میں نے ہی پمپ کے زریعے اس کے پیٹ میں ہوا بھر دی ہو ۔ہوٹل کا کھانا کھا کھا کر سانڈ بن گیا تھا ۔اپنے جسم کا بھی خیال نہیں رکھ سکا ۔نا معقول آدمی ۔جب کھڑا ہوا ۔اس نے ایک بار پھر میر ا جائز ہ لیا اور بڑے بے تکلفانہ انداز میں ایک لمبی جمائی لی ،اتنا بڑا منہ کھولا ۔جیسے مجھے پورا نگل جائے گا ۔بد تمیز کہیں کا ۔
یہ سن کر میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ آپ ایسی چوری چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔آپ تو اس شہر میں نیک نامی کمانے آئے تھے ۔
سنتے ہی انہوں نے بگڑتے ہوئے اور غصے میں میری طرف دیکھ کر کہا۔ ۔۔اری اور ملا سفر کی بچی۔ کس کس کو راست پر لاو گی ۔نام مختلف ہیں۔ مگر پیشہ سب کا ایک ہے ۔سب چور ہین اول درجے کے۔ کوئی مزدور کا معاوضہ چرا رہا ہے تو کوئی انسان کی ہنسی ہڑپ کئے ہوے بیٹھا ہے ۔کوئی مظلوم کے حق کا چور ہے ۔کوئی فریاد کی تاخیر کا چور ہے ۔کوئی انصاف کا چور ہے ۔سرکاری دفتروں میں لوگ وقت چراتے ہیں ۔طالب علم بے علم ہو ڈگریاں چراتے ہیں ۔استاد فرصت چراتے ہیں ۔ بیوٹی پارلروں میں عورتیں مردوں کی کمائی چرالیتی ہیں ۔ یہ جو فلیٹوں میں لوگ بیٹھے ہیں ۔زر ا سی گھر میں تیز آواز ہوئی ۔درجنوں پڑوسی دروازے کے باہر جمع ہو جاتے ہیں ۔دوسروں کی پریشانیوں سے مزہ لینے کی چوری میں تاک میں بیٹھے رہتے ہیں ۔جاہل کہیں کے ۔میں نے ہر گھر میں جھانک کر دیکھا ہے۔ چوری کے مال سے لوگوں کی تجوریاں بھری پڑی ہیں اور بات کرتی ہے۔۔۔ میری چوری کی ۔
میں نے ان کا غصہ ٹھنڈ ا کرنے کے لیے پیار بھر لہجے میںکہا ۔کبھی کبھی ان کی زندگی میں وہ کچھ ہو جاتا ہے۔ جو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ۔ خاموش! میں نے کہا نا ۔تیر ی باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں ۔تیری باتیں سن کر خوامخواہ کا سردرد مجھے مول نہیں لینا ۔سمجھیں۔
اچانک میری نظر دو لڑکوں پر پڑی ۔ایک کے ہا تھ میں غلیل تھی۔ وہ ہم دونوں کا نشانہ لینے والا تھا ۔کہ دوسرے لڑکے نے منع کرتے ہوئے کہا ۔
چھوڑ یا ر۔چھٹانگ بھر کی چڑیا کو مارنے سے حاصل ۔بے چاری بے زبان ۔چند دنوں کی مہمان ۔ننھی سی جان ۔عنقریب کچھ ہی دنوں کے بعد ۔خود ہی مر جائے گی۔ سالی۔ سسرری کہیں کی ۔چل گھر چلتے ہیں ۔

یہ افسانہ مرحوم شبیر احمد میر کا تحریر کردہ ہے جو روزنامہ سری نگرجنگ کوموصوف کے فرزند میر عمران سے موصول ہوا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

پر ندے کے فریاد

 

شبیر احمد میر

اڑتے اڑتے پرندے پھڑ پھڑا کر جب صبح سویرے درختوں پر آبیٹھتے ہیں۔ شاعری کے ساتھ ساتھ قدرت نے انہیں موسیقی کا ملکہ عطا کیا ہے ۔ یہ درد بھرے گیت جب ان کے رسیلے گلے سے سوز میں ڈوبی ہوئی آواز کے ساتھ ادا ہوتی ہے تو وادیوں ۔زعفران کے لہلاتے کھیتوں میں آگ سی لگ جاتی ہے ۔ بس دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والا دل ہو نا چاہیے ۔
شفق ۔دھنک ۔مہتاب ۔گھٹائیں ۔تارے ۔نغمے ۔پھول کیا کچھ نہیں ہے ان کے دامن میں ۔بچپن سے میری ماں کو میرے حسن پر نازتھا ۔ہر وقت وہ مجھے سجا سنوار کر رکھتی جیسے میں کوئی جاپانی گڑیا تھی ۔یہ فخر اور غرور میری ذات پر چسپاں ہو تا جا رہا تھا ۔اکثر شام کو ماں مجھے ایک اونچے ٹیلے پر لے جاتی۔ وہاں ایک بڑے پتھر پر بیٹھ کر ہم سورج ڈوبنے کا منظر دیکھتے ۔پیلی پیلی سی گیند جب دھیرے دھیرے درختوں کی آڑ میں چھپتی تو مجھے بڑا مزا آتا تھا۔ اپنے گھونسلے میں جانا مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔ برسات میں ساری ساری رات کسی درخت کی ٹہنی پر بھیگتے گزر جاتی ۔ چارہ چوگنے کے لیے جب میںماں کے ساتھ جاتی وہ مجھے کسی گائوں میں لے جاتی ۔کیونکہ قدرت کی رنگینیوں اور انسان کے خلوص کا نکھا ر دیہات میں ہی ملتا ہے ۔ اس جنت ارضی کے چھوٹے چھوٹے جھونپڑیوں میں رہنے والے لوگ سادگی اور خلوص کے ہنستے مسکراتے پیکر تھے ۔یہ لوگ خوب محنت کرتے ۔دھان کے کھیتوں میں ہل چلاتے ۔گہیوں کی کھیتوں میں گہیوں اگاتے ۔ہم بھی اپنا پیٹ بھرتے اور دن بھر ان کھیتوں میں مستی کرتے ۔میری نگاہیں چاروں طرف پھیلی ہوئی چراگاہ کا احاطہ کیے ہوے اور اس کی ہریالی کو اپنے اندر سمیٹنے کی کوشش میں ہر وقت مصروف رہتی۔ چاروں طرف دھوپ پھیلی ہوئی ہوتی ۔برفیلی پہاڑوں سے برف پگھل پگھل کر آبشار پیدا کرتی جس کا پانی پتھروں کے درمیان شور مچاتا ہو ا نالے میں گر جاتا ۔پانی کے بجائے جیسے ان پتھروں کے درمیان چاندی بہہ رہی ہوتی ۔ہر لمحہ قدرت کا حسن دلوں پر راج کرتا۔ اپنی عادت سے مجبور جب مشرق میں صبح ہوتی۔ تو ہم سب مل کر حمد وثنا کے گیت گاتے ۔ اللہ کی تعریف کرتے۔ شام کے وقت جب وادیوں پر اندھیرا چھانے لگتا تو ہم پہاڑ پر چڑھ کر دن کی رخصتی کا گیت ہم آواز ہو کر گاتے اور جب رات کا جادو پھیل جاتا ہم تمام رات گلاب کے پیالوں میں شبنم کی شراب پیتے اور ازل و ابدی محبت کے غیر فانی گیت گاتے رہتے ۔ہر جگہ ہر مقام پر ہمارے قدم ایک ساتھ اور ہم آہنگ ہو کر اٹھتے ۔قدرت میں اپنا جادو جگاتے رہتے ۔اتنا کچھ کرنے کے باوجود ایک آدمی بھی ہمدرد معلوم نہیں ہوا۔ ویسے ایک بات ہے دنیا میں ہمدردی تب ہی ہوتی ہے۔ جب ہمدرد کو کسی سے کچھ امید ہو ۔ہم سے کسی کو بھلا کیا امید ہو گی الٹا ہم ہی ان لوگوں کا اناج کھا کر ان کا نقصان کرتے ہیں۔ ہمارے ہاتھ پائوں ہوتے ہم خود اپنے لیے اناج اگاتے ۔آجکل کے دور میں کسی کو فرصت نہیں جو ہمارا گاناسنیں گے۔ ہمیں اناج کھلایٔں گے۔ کاش قدرت کا فیصلہ ان کی سمجھ میں آتا کہ انسان جب دوسروں کی خوشیوں کا سوچتا ہے ان کے لیے جیتا ہے تو اسکی بھی تمام مشکلیں آسان ہو جاتی ہیں ۔ہم کسی کو اپنی مرضی سے چاہ تو سکتے ہیں لیکن کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ نہیں کہہ سکتے ۔کہ تم بھی ہم سے محبت کرو۔ ویسے ہم نے یہ سیکھا ہے ۔اس انسان کے قریب رہو جو تہمیں خوش رکھے ۔لیکن اس انسان سے اور قریبی رہو ۔جو تمہارے بغیر خو ش نہ رہ سکے ۔ویسے انسان کو بالکل ہی پتھر نہیں ہو نا چاہیے دل میں نرم گوشہ بھی رکھنا چاہیے ۔ خود ہر وقت کھاتا رہتا ہے اور ہم دیکھتے رہتے ہیں ۔گندم اور اناج میں کیڑے پید ا نہ ہوں ورنہ انسان اسے سونے چاندی کی طرح زخیرہ کرتا ۔خود بھی بھوک سے مرتا اور ہمیں بھی مارڈالتا ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔چوری اور وہ بھی برف کی۔ ہاتھ نہ آئے تواپنی جگہ پتھر۔ ہاتھ آجائے تو پگل کر پانی اور چرانے والا پانی پانی۔میں اکثر کھڑکی میں بیٹھتی ۔سورج ڈوبنے کا دلفریب منظر دیکھا کرتی۔ اس منظر کو دیکھ کر میں سہانے خواب دیکھا کرتی ۔ان خوابوں میں میں ہمیشہ اپنے بچوں کو پالنے میں مگن ہوتی ۔ہم دونوں کے درمیان ہزار قسم کی باتیں ہو ا کرتی ۔مستقبل کے منصوبے بناے جاتے۔ بچوں کے لیے نیا آشیانہ بنانے کی باتیں ہوتیں ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔جب تم نے ایک بہت ہی پر سکون علاقے میں ایک خوبصورت آشیانہ بنایا ۔وہاں پر ہر طرف اونچے اونچے درخت اور سرسبز شاداب میدان تھا۔ جس میں اونچی اونچی گھاس أگی ہوتی تھی ۔جب میں یہاں آئی مجھے پھولوں میں خوشبو رنگوں میں حسن اور حسن میں کشش محسوس ہو رہی تھی اور میں ہمیشہ ان حسین و رنگین نظاروں سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔ہم صبح سویرے چارے کی تلاش میں اپنے آشیانے سے نکل جاتے اور شام کو سیر ہو کر واپس لوٹتے ۔ پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ۔کچھ ہی دنوں کے بعد ہمارے چہروں سے رونق ہی چلی گئی ۔ میں پھر بھی ضبط کئے ہوئے تھی۔ مگر ان کو دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کی زندگی کسی بڑی الجھن میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ کیونکہ درختوں کی کٹائی آج عروج پر ہو رہی تھی جو بالکل ہمارے گھونسلے کے قریب ہو رہی تھی ۔ وہ میری طرف کسی بے جان لاش کی طرح دیکھنے لگا ۔میں اس کے سامنے بیٹھ گئی اور اسے دلاسہ دینے لگی ۔اس کی بھری نظروں سے اس نے میری طرف دیکھ کر کہا ۔یہی وہ طوفان تھا جس کی گواہی میرا دل پہلے ہی دے رہا تھا۔ چاروں طرف سیمنٹ کی بڑی بڑی بلڈگیں ان کھیتوں میں بن رہی ہیں ۔زندگی ہمارے لیے عذاب بن کر رہ گئی۔ ہماری اچھی زندگی کے خواب اس طرح بکھرگئے کہ اب ہمارے دکھوں کی ابتدا ہے ۔ اس گاوں میں جہاں میں نے کچی گندم اور چاولوں کے سرسبز کھیتوں میں بچپن کے ابتدائی ایام گزارے ہیں ۔ جہاں میرے پنجوں تلے آنے والی مٹی نرم زرخیز اور خوشبو آ رہی تھی۔ اب یہاں صرف سیمنٹ ہی سیمنٹ انیٹیں ہی انیٹیں پتھر اور لوہے کے بڑے بڑے ڈھیر۔ جن سے یہ بڑی بڑی عمارتیں بن رہی ہیں ۔یوں محسوس ہو رہا ہے گویا ہم تپتے صحرا میں ہیں ہر جانب چلچلاتی دھوپ کا راج ہے۔ زمین تب کر تانبا ہو چکی ہے۔ یہ لوگ قدرت کے حسن کو داغدار کرنے والے ۔سمجھ میں نہیں آتا یہ پہاڑ ۔چشمے ۔پھول۔ تتلیاں ۔کلیاں ۔بھنورے۔ سبزہ ان سب چیزوں کو دیکھ کر یہ لوگ کیوں آنکھیں موند لیتے ہیں ۔احساس ذمہ داری انسان کی اصل قیمت ہے ۔ذمہ داری کے احساس کے بغیر کوئی انسان ۔انسان کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔ انسان کو عقل اسی وجہ سے ملی ہے کہ اسے ذمہ داری کا شعور ہو۔
درختوں کی کٹائی کی وجہ سے اس وقت درختوں پر کوئوں اور چڑیوں کی کائیں کائیں جو چہچانے کی مشترکہ آوازیں آرہی تھیں۔ کچھ کوئے کٹے ہوئے درختوں پر ادھر ادھر پھدکتے پھر رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر میرا دل چھلنی ہو گیا اور اپنے آپ سے کہنے لگی ۔ہم سے کتنی غلطی ہوگئی! انڈے میں ہی چھپ کر مر گئے ہوتے۔ خاک میں مل گئے ہوتے ۔دنیا کا منہ دیکھنے سے انکار کر دیتے ۔بہت غلطی ہو گئی جو اس دنیا میں آئے ۔اب نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ نہ گھر کے نہ گھا ٹ کے۔ دھوبی کے کتے کی طرح ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔ ایک ایک دانے کے لیے ترس رہے ہیں۔ اس ماحول کو دیکھتے ہی پتہ چلتا ہے ہماری جو کہاتی تھی وہ ختم ہو گئی ۔ایک رنگین سپنا تھا جو ٹوٹ گیا ۔انہوں نے مجھے دلاسہ دیتے ہوئے التجا بھر نظروں سے مجھ سے کہا ۔دیکھو ! تم پر یشان مت ہونا ۔میں تہمیں یقین دلا تا ہوں ہمار اآشیانہ تمہارے خوابوں کی مانند برف پوش پہاڑوں کے درمیان کسی اونچے ٹیلے پر میں دوبارہ بنائوں گا ۔میں نئے سرے سے تمہارے خواب پورے کروں گا ۔ہمارے آشیانے میں ہر طرف سکون ہی سکون ہو گا ۔بس تھوڑا انتظار اور صبر کی ضرورت ہے ۔میں نے طنزیہ مسکراہٹ اس کی طرف اچھال دی اور کہا ۔
مسٹر شیخ چلی۔۔۔ سکون کی بات کرتے ہو ۔یہ توسوچو اب ایسی جگہ رہی کہاں جس کا تم دم بھر رہے ہو ؟غصے سے اس نے میری طرف دیکھ کر کہا ۔مجھ پر دھونس کیوں جما رہی ہو ۔غلطی کس کی ہے میری یا حضرت انسان کی؟ غلطی انسان کی اور خمیازہ بھگتوں میں۔بھاڑ میں جائے ایسا سکون ۔اب کوئی گھونسلہ نہں بنا نا ہے مجھے ۔
ان کو غصے میں دیکھ کر میں اکثر اپنے پر کھول دیتی ہوں اور اپنے پروں سے ان پر سایہ کرتی ہوں۔ اس وقت بھی میں نے ایسا ہی کیا اور بولی ۔غصے میں اپنا خون کیوں جلاتے ہو۔ دنیا کو بیماریوں ۔سیلابوں۔ آندھیوں اور زلزلوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا انسان نے آپس میں غلط مشوروں نے پہنچایا ۔ایک بار آسائشات کی عادت انسان میںپڑ جائے تو پھر ا س سے کنارہ کشی ااس کے لیے موت کی آواز دینے کے مترادف ہو جاتاہے۔اور پھر یہ طبقہ اخلاقیات سے اس حد تک گر جاتا ہے کہ۔ چوری۔ فریب کاری کو اپنی دانشمندی اور دور اندیشی کا نام دے کر فخر محسوس کرتا ہے۔ اداسی میں انسان کی ذات پر چڑھے سارے خول اتر جاتے ہیں ۔پھر اپنی کھال سے باہر آکر ایسی حرکتیں کرتا ہے ۔کہ چلو بھر پانی میں ڈوبنے کو جی کرتا ہے ۔
میڈم جی! ایک بات بتائیں ۔تاکہ میں بھی سکھ کا سانس لے سکوں ۔یہ انسان اپنی کھال کے اندر رہنے کی عادت کیوں نہیں ڈالتا اور فرنگی کی طرح کتنی بلیاں پالے گا ۔بد قسمتی سے ہر شے پر اپنا حق سمجھ کر اس پر قابض ہو جانا چاہتا ہے ۔قرض صرف روپے پیسے کا نہیں ہوتا ۔بلکہ جذبوں کا بھی ہوا کرتا ہے۔گر کوئی اپنی محبت آپ پر نچھاور کردے تو یہ آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ اس کا یہ فرض ادا کریں ۔
میڈم جی! یہ جو فلسفہ آپ نے جھاڑا ہے۔ مہربانی کر کے اسکو اپنے پاس رکھیے۔ آپ کا علم میری سمجھ سے باہر ہے۔ اب ہم یہاں نہیں رہیں گے۔ ہم شہر جائیں گے ۔سنا ہے شہر والے اتنا کھانا نہیں کھاتے جتنا وہ ضائع کر کے کوڑے دان میں ڈالتے ہیں ۔
دیکھیئے جی! آپ جلد بازی سے کام لے رہے ہیں ۔ میں نے بھی سنا ہے ۔شہر کے لوگ جنگلی جانوروں اور آزاد پر ندوں کو مختلف طریقوں سے کسی نہ کسی طرح ان کی آزادی سلب کر کے انتہائی غیر صحت مندانہ ماحول میں پنجروں میں قید کر کے لوگوں کو تفریح کی خاطر رکھا جاتا ہے ۔آپ مجھے پست ہمت کر رہی ہیں۔ اس ماحول سے بہتر ہے کہ ہم کسی پنجرے مین ہی دم توڑدیں۔ کم ازکم موت تو آئے گی ۔ آپ صرف شہر جانے کی تیا ری کیجئے ۔جب میں ہم دونوں اس گائوں سے جا رہے تھے۔ میں چھوٹے بچے کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی۔ اس وقت برف کے ننھے ننھے زرات آسمان سے زمین کی طرف سفر طے کر رہے تھے اور تاحد نگاہ اس وقت سفیدی کی چادر بچھتی جارہی تھی ۔بھوک سے برا حال ہو رہا تھا ۔کسی بھی گھر کے ورنڈے پر۔ کھڑکی کے پاس یا دیوار کی منڈ یر پر۔ اناج کا ایک دانہ بھی نظر نہیں آیا ۔اسی حالت میں ہم شہر کی طرف روانہ ہو گئے ۔ کیسا شہر ہے بھیَ؟ اتنے سارے لوگ ۔لوگوں کا اژدہام ۔سمجھ میںنہیں آتا یہ لوگ اتنے کہاں سے ہیں۔ آتے اور جاتے کہاں ہیں ؟چاروں طرف افراتفری کا ماحول جیسا لگ رہا ہے او ر اس شہر میں یہ محلہ ۔یہ محلہ بھی کیسا عجیب ہے۔ نہ آس نہ پڑوس ۔نہ رشتہ داری اور نہ برادری۔ اتنے دن ہو گئے مکان کے ایک چھید میں ہم رہ رہے ہیں ۔صکسی عورت نے جھانکا تک نہیں۔ کسی نے کوڑا کرکٹ سڑک پر پھینک کیا دیا ۔دھیرے سے لوگ آکر کرید کرید کر دیکھ لیتے ہیں ۔کہ شاہد کوئی کام کی چیز ہاتھ لگ جائے ۔وہ اپنے آپ سے بولتے رہے ۔مجھے ان کی آواز ایسی معلوم ہو رہی تھی جیسے دور بہت دور افق میں کوئی مچھر بھنبھنا رہا ہو ۔ میں کچھ نہ بولی ۔مگر من ہی من میں سوچا۔ یا تو یہ لوگ بہت ہی پریشانی میں مبتلا ہیں یا بہت ہی بے مروت ۔کچھ بھی ہو۔ آدمی ہی آدمی کا محتاج ہے ۔چاہیے اسے ایک آنکھ بھی نہ بھاتا ہو۔ انسان میں کوئی نہ کوئی فکر ۔کوئی نہ کوئی پرابلم۔ کوئی پریشانی ضرور ہو گی ۔جو اسے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے پاس کھینچ لاتا ہے ۔
میری طرف دیکھ کر وہ چلائے ۔اری او محترمہ۔ اتنی گہری سوچ میں ڈوبی ہو۔ آپ کے پنجوں میں انسان نے آس کا جگنو تھما دیا کیا ؟جو دوسری دنیا کے خواب دیکھنے لگی ۔حال سے بے حال کر کے۔ تم تو ایک ہو۔ جو انسان کی ہمدردی اور ان کا حال پوچھتی رہتی ہو۔
میں نے جواب دیا ۔شرم آنی چاہیے آپ کو۔ ایک بار کسی کا نمک کھا لو تو نمک حلا لی فرض اور حکم بن جاتی ہے ۔ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے اور اس حل کی موجودگی کا احساس کا نام امید ہے ۔ٹھیک ہے مجھے جمائیاں آرہی ہیں۔ تم پوری رات انسان کے بارے میں سوچو۔
ہر روزصبح سویرے ہم اس مکان کے چھید سے نکلتے اور شام تک لوگوں کا جھوٹا کھانا کھا کر سیر ہو جاتے۔ وہ صبح سویرے حمد وثنا کے گیت گانا۔ اللہ کو یاد کرنا ۔سب بھول گئے ۔ پولوشن کی وجہ سے ہر وقت گلہ خڑاب رہتا ۔ کھانا کھانے کے بغیر کسی اور چیز میں رغبت نہیں رہی۔ واقعی جھوٹا کھانا کھا کر ہم بے غیر ت اور بے مروت بن گئے ۔۔۔جو اللہ کو بھول گئے ۔
اتنے دنوں کے بعد آج وہ بہت خوش کھائی دے رہے تھے ۔وجہ پوچھی تو کہا !آج ایک ہوٹل کے کائونٹر کے پیچھے ایک گوشت کا پہاڑ بیٹھا تھا ۔پیٹ اس کا گھٹنوں کو چھو رہا تھا ۔کائونٹر پر سر رکھ کر وہ گہری نیند میں تھا اس کے ایک طرف پلیٹ تھی ۔جس میں کھانے کی میٹھی چیز تھی۔ میں کھانے کی نیت سے جو اس پلیٹ میں چونچ ماری ۔پلیٹ سے آواز آئی۔ اس آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ ٹھٹھک کر اس نے میری جانب دیکھا۔ مجھے نفرت سے گھورا۔ جیسے میں نے ہی پمپ کے زریعے اس کے پیٹ میں ہوا بھر دی ہو ۔ہوٹل کا کھانا کھا کھا کر سانڈ بن گیا تھا ۔اپنے جسم کا بھی خیال نہیں رکھ سکا ۔نا معقول آدمی ۔جب کھڑا ہوا ۔اس نے ایک بار پھر میر ا جائز ہ لیا اور بڑے بے تکلفانہ انداز میں ایک لمبی جمائی لی ،اتنا بڑا منہ کھولا ۔جیسے مجھے پورا نگل جائے گا ۔بد تمیز کہیں کا ۔
یہ سن کر میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ آپ ایسی چوری چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔آپ تو اس شہر میں نیک نامی کمانے آئے تھے ۔
سنتے ہی انہوں نے بگڑتے ہوئے اور غصے میں میری طرف دیکھ کر کہا۔ ۔۔اری اور ملا سفر کی بچی۔ کس کس کو راست پر لاو گی ۔نام مختلف ہیں۔ مگر پیشہ سب کا ایک ہے ۔سب چور ہین اول درجے کے۔ کوئی مزدور کا معاوضہ چرا رہا ہے تو کوئی انسان کی ہنسی ہڑپ کئے ہوے بیٹھا ہے ۔کوئی مظلوم کے حق کا چور ہے ۔کوئی فریاد کی تاخیر کا چور ہے ۔کوئی انصاف کا چور ہے ۔سرکاری دفتروں میں لوگ وقت چراتے ہیں ۔طالب علم بے علم ہو ڈگریاں چراتے ہیں ۔استاد فرصت چراتے ہیں ۔ بیوٹی پارلروں میں عورتیں مردوں کی کمائی چرالیتی ہیں ۔ یہ جو فلیٹوں میں لوگ بیٹھے ہیں ۔زر ا سی گھر میں تیز آواز ہوئی ۔درجنوں پڑوسی دروازے کے باہر جمع ہو جاتے ہیں ۔دوسروں کی پریشانیوں سے مزہ لینے کی چوری میں تاک میں بیٹھے رہتے ہیں ۔جاہل کہیں کے ۔میں نے ہر گھر میں جھانک کر دیکھا ہے۔ چوری کے مال سے لوگوں کی تجوریاں بھری پڑی ہیں اور بات کرتی ہے۔۔۔ میری چوری کی ۔
میں نے ان کا غصہ ٹھنڈ ا کرنے کے لیے پیار بھر لہجے میںکہا ۔کبھی کبھی ان کی زندگی میں وہ کچھ ہو جاتا ہے۔ جو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ۔ خاموش! میں نے کہا نا ۔تیر ی باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں ۔تیری باتیں سن کر خوامخواہ کا سردرد مجھے مول نہیں لینا ۔سمجھیں۔
اچانک میری نظر دو لڑکوں پر پڑی ۔ایک کے ہا تھ میں غلیل تھی۔ وہ ہم دونوں کا نشانہ لینے والا تھا ۔کہ دوسرے لڑکے نے منع کرتے ہوئے کہا ۔
چھوڑ یا ر۔چھٹانگ بھر کی چڑیا کو مارنے سے حاصل ۔بے چاری بے زبان ۔چند دنوں کی مہمان ۔ننھی سی جان ۔عنقریب کچھ ہی دنوں کے بعد ۔خود ہی مر جائے گی۔ سالی۔ سسرری کہیں کی ۔چل گھر چلتے ہیں ۔

یہ افسانہ مرحوم شبیر احمد میر کا تحریر کردہ ہے جو روزنامہ سری نگرجنگ کوموصوف کے فرزند میر عمران سے موصول ہوا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں