ڈاکٹرمحمد یاسین گنائی
پلوامہ کشمیر
’’برگِ نوا‘‘ سلیم ساغرؔ کی غزلیات کا مجموعہ ہے اور یہ ان کی چوتھی کتاب ہے۔ ساغر ؔ نے اُسی گھاٹ کا پانی پیا ہے جس گھاٹ کا پانی لل دید اور حبہ خاتون نے پیا ہے، نہ صرف ایک ہی گھاٹ کا پانی پیا ہے بلکہ پانپور کے زعفران زاروں میں تینوں شخصیات پلی بڑی ہیں۔ زیرِ نظر شعری مجموعہ کے اجمال کی بات کریں تو عرشیہ پبلی کیشنز دہلی نے خوبصورت کاغذ اور دیدہ زیب کاری کا کام انجام دیا ہے۔۱۹۰ صفحات پر مشتمل کتاب میں کل۷۱ غزلیں شامل ہیں۔ پیشِ لفظ میں ساغر نے اپنی تساہل پسندی، خاموش روی اور کم گوئی کی وجوہات بیان کی ہیں :
’’شعر گوئی و سخن طرازی اظہار ِذات کا وسیلہ سہی مگر میرا طبعی میلان ابتدا ہی سے کم گوئی کی طرف رہا ہے، اس لیے میں تخلیقی عوامل سے دانستہ کاوشوں سے بے نیاز رہا۔۔۔ مقدار کی بجائے میعار ملحوظِ نظر رکھنے کی کوشش کرتا ہوں‘‘۔( برگِ نوا،سلیم ساغر،ص:5)
اس شعری مجموعہ کے فنی و فکری پہلوکے پیشِ نظر ہمارے نوجوان شعراء کو ضرور مطالعہ کرنا چاہیے ۔ ہمارے نوجوان شعراء مفردات کی اہمیت سمجھتے ہیں لیکن مرکبات کی شعری پرکاریت سے ناآشنا نظر آتے ہیں۔ اس مجموعہ میں عشق کا فکری پہلو بھی ہے اور تراکیب کا فنی پہلو بھی لیکن ساغرؔ نے فنی پہلو کو کیسے فکری پہلو میں ضم کیا ہے وہ دیکھنے والی چیز ہے۔ ساغرؔ کی غزلوں میں عشق فن بھی ہے اور فکر بھی، کیونکہ انہوں تراکیب کی مدد سے عشق کی متنوع حالتیں اور کیفیتیں بیان کی ہیں ۔ اس مجموعے میںچند عشقیہ تراکیب یوں ملتی ہیں’’امکانِ عشق، ایوانِ عشق، احساسِ عشق، دیوانِ عشق، ، عشق ِجنون، عشقِ سرکش وغیرہ۔ عشق پر مشتمل ان تراکیب سے نہ صرف ساغرؔ کی شاعری کا فنی بلکہ عشق کا فکری پہلو بھی واضح ہوجاتا ہے۔
کم دو جہاں ہیں سیر گاہِ عشق کے لیے
سمجھے گا کون حرمتِ آوارگانِ عشق
آتش فشانِ عشق نہاں چیزے دیگر است
دل کے الاو میں کوئی شعلہ جواں بھی ہے
اگر آسان طریقہ سے ان ۷۱ غزلیات میں حروف تہجی کے اعتبار سے ترکیب کی نشاندہی کی جائے تو مختلف اقسام کی تراکیب بصری اورمعنوں دلچسپی و دلکشی کا سامان مہیا کرتی ہیں۔ فارسی طرز کی چند تراکیب حروفِ تہجی کے اعتبارسے یوں ملتی ہیں’’آوازِ پائے یار، اہلِ دل، بیانِ دل، ، پیشِ نظر، تارِ عنکبوت، جہان ذات، چشم خوں فشار، حرف لوح ازل، خیالِ مرگ، دلِ فقیر، ذکر ِدشت، رہ گزارِ خیالِ من، زنجیرِ پائے شوق، سرِکاخ وکو، شرارِ زیست، صرفِ تنگنائے سخن، طنابِ خیمہ، علاجِ گردشِ ابر رواں، غبارِ شہر، فصلِ ناامید، قرب وجوارِ دل، کنجِ ریگ زار، گمانِ خاکِ بدن، لطف ِبہارِ زیست، متاعِ خوف و ہنر، نشانِ فصلِ گل، وسعت ِکون ومکاں، ہجومِ وصف دشماں، یارِ خوش خصال‘‘غیرہ ۔حروفِ تہجی کے اعتبار سے ان متنوع تراکیب سے یعقوب آسی کا یہ قول درست اورکارآمد معلوم ہوتا ہے۔
’’لفظ کی ترویج کا عمل عوامی زبان میں زیادہ ہوتا ہے کہ ذخیرہ الفاظ اسی حصّے میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
ایک لفظ آیا،اس میں کچھ جمع تفریق ہوا،اور وہ رواج پاگیا۔لفظ کی چھان پھٹک اور اس کو ایک عمدہ معیار تک لانے کا کام اشرافی زبان کے امینوں کا ہوتا ہے۔یہاں کچھ اعلانیہ اور کچھ غیر اعلانیہ طریقے تشکیل پاجاتے ہیں جن کے مطابق مختلف کلمات کی ترکیب سازی ہوتی ہے،موجودہ،مقامی اور در آمد کلمات،اور زبان کے تہذیبی مزاج کے تال میل سے نئے معانی ملتے ہیں،یوں زبان میں ترقی ہوتی ہے‘‘۔(اردو زبان کا تہذیبی لسانی ورثہ،یعقوب آسی،ص:۳۷)
ان تراکیب سے اُردو کا دامن بھرجاتا ہے، تراکیب سے خود بہ خود زبان کا سرمایہ بڑھ جاتا ہے اور جو کام مصادر، سابقے و لاحقے، تراجم، اصطلاحات وغیرہ انجام دیتی ہیں ،وہیں کام منفردومتنوع قسم کی تراکیب سے بھی انجام دیا جاسکتا ہے۔تراکیب کی مدد سے شاعر حقیقی معنوں میں سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا ہنر پیش کرتا ہے۔’’برگ نوا‘‘ کی تراکیب سے ایک اُستاد اپنے کلاس میں، ایک شاعر اپنے اشعار میں اور ایک قاری اپنی روز مرہ کی زندگی میں مختلف رنگ بھر سکتا ہے۔شاعرنے لگ بھگ تراکیب کی تمام اقسام کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کو سمجھنے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ مرکبِ اضافی اور اس کی اقسام پر درجنوں اشعار اور تراکیب وضع کیں ہیں۔چند اشعار ؎
کہاں کھلے کہ ہے صدق و صفا کہ جور و ستم
جو تم پہ رشتہ تیغ و گلو نہیں کھلتا
بازار و مے کدہ پہ برسنے لگی ہے خاک
خلقِ خدا کو کرتی ہے گوشہ نشین وبا
شیریں ہے، داستاں بھی ہے، فرہاد بھی مگر
اس شہرِ بے اماں میں کہیں بے ستوں تو ہو
مرکب اضافی کی ان اقسام کے حوالے سے’’برگِ نوا‘‘کا بغور مطالعہ کیا جائے تو سینکڑوں اشعار اورہزاروں تراکیب ملتی ہیں۔’’برگِ نوا‘‘کی جمالیاتی شان کہیں یا ساغرؔ کا حسنِ بیان،دونوں لحاظ سے بہترین تراکیب کو سمیٹاگیا ہے۔ان تراکیب پر ذرا غور کیجئے تو یہ شاعرؔ کی شعری خلاقی کا پتہ دیتی ہے،اس کی محنت شائقہ وزبان دانی کا سراغ ملتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ تراکیب کے عمدہ انتخاب وعمدہ استعمال سے کلام میں نہ صرف اختصار وجامعیت بلکہ یہ قطعیت اور حسنِ ملیح کا سبب بھی بنتا ہے۔
’’برگِ نوا‘‘ میں کلاسیکی غزل گوشعراء سے مابعد جدید غزل گو شعراء تک تمام طرز کی تراکیب کا استعمال حسنِ کمال کے ساتھ ملتا ہے۔ یہاں عشقیہ تراکیب ہی نہیں بلکہ صوفی، تلمیحاتی، اشتراکی، تانیثی، جدید،مذہبی، سماجی غرض ہر قسم اور ہر نوح کی تراکیب ملتی ہیں۔ اب یہ قاری کے حسنِ انتخاب، صبر ِجمیل اور شوقِ مطالعہ پر دارمدار کرتا ہے کہ وہ کس انداز سے ’’برگ ِنوا‘‘ کی نواووں یا پنکھڑیوں میں غوطہ زنی کرتا ہے۔ عالمی منظرنامے پر اپنی ٹھاک بٹھانے والے شعراء کی طرح ساغرؔ نے بھی تراکیب کی مختلف اقسام کا استعمال بہترین انداز،موقع و محل اور برجستہ اندازمیںکیا ہے۔ ان کے کلام میں ایسی بیش بہا تراکیب ملتی ہیں، جن سے عام وخاص کو روز مرہ زندگی میں فائدہ ہوسکتا ہے۔ تراکیب کا معاملہ ایسا ہے کہ کوئی بھی شاعر کسی بھی انداز میں ان کا استعمال کرسکتا ہے۔ یہاں اس معاملے میں سرقہ نگاری کا کوئی الزام نہیں لگایا سکتا ہے، البتہ نثر میں معاملہ کارِدرد والا ہے کہ ایک بھی سطر ہو بہو کسی پیش رو سے ملے ،تو زمین آسمان کی قلابے ملائی جاتی ہیں اور پرکھوں کی قبروں پر بھی حملہ کیا جاتا ہے۔ اس انداز سے اگر’’ برگِ نوا‘‘ میں شامل تراکیب کے اذدہام کا تقابلی مطالعہ جموں و کشمیر اور عالمی شہرت یافتہ اردو شعراء کے کلام کے ساتھ کیا جائے تویہاں درجنوں شعراء نے ان تراکیب کا اپنے مدعا ومقصد کے عین مطابق استعمال کیا ہے۔ چند مثالیں ملا حظہ فرمائیں….
ترکیب:غبارِ دشت
ؔبارِ دشت وحشتِ سرمہ ساز انتظار آیا
کہ چشمہ آبلہ میں طول میل راہ مژگان ہے(غالبؔ)
کسی طلسم سے کوئی عدو نہیں کھلتا
غبارِ دشت پہ رازِ نمو نہیں کھلتا (ساغرؔ)
ترکیب :مکتبِ عشق
مکتبِ عشق کا معلم ہوں
کیوں نہ ہوئے درسِ یار کی تکرار (سراجؔ)
پیش بندی جو میں کرتا تو یہ تعظیم نہ تھی
مکتبِ عشق میں استاد سے آگے نہ گیا(ساغرؔ)
ترکیب :عرق ِانفعال
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے(اقبالؔ)
اسے انا ہی تو کہتے ہیں ہم سے سادی مزاج
ہزار اشک بہت، عرقِ انفعال نہ ہو(ساغرؔ)
ترکیب:بحرِ ظلمت
بحرِ ظلمت کا سفر درپیش ہے
ہیں ہوا میں بال و پر جلتے ہوئے (حامدیؔ)
وگرنہ عالم ہے بحرِ ظلمت کے ماسوا کیا
ہے ہفت اقلیم ضو فشاں نقش پائے امکاں(ساغرؔ)
ترکیب:غریب شہر
غریبِ شہرِ خوباں ہوں مرا کچھ حال مت پوچھو
ہوا جی زلف و کاکل کے لیے جنجال مت پوچھو ( میرؔ)
امیرِ شہر کو لاتا نہیں ہے خاطر میں
غریبِ شہر ہے کیا، ہو بہ ہو نہیں کھلتا(ساغرؔ)
یہاں عالمی سطح، ملکی سطح اور علاقہ سطح کے غزل گو شعراء کے کلام میں پائی جانے والی تراکیب اور سلیم ساغرؔ کے شعری مجموعے میں تراکیب کے گنجِ بے پائے وبے مایہ پر اظہارِ خیال کرنے کا ایک ہی مقصد ہے کہ ترکیب سازی اور ان کا حسن و ادا سے استعمال کرنا ایک اعلیٰ فن ہے اور اس فن کی بدولت اُردو زبان بلکہ کسی بھی زبان کا دامن نہ صرف وسیع ہوجاتا ہے۔اس سینئی نئی تراکیب اختراع کرنے کی صلاحیت بھی شاعر میں پیدا ہوجاتی ہے۔ ساغرؔ کے زیرِ نظر شعری مجموعہ میں درجنوں تراکیب خصوصاً فارسی طرزِ عمل وطرزِ فکر ایسی ملتی ہیں جہاں میر ؔکی طرح تین تین چار چار بلکہ پانچ پانچ الفاظ کی تراکیب بھی ملتی ہیں۔ یہاں پر اگر شمس الرحمٰن فاروقی کا ایک قول نقل کریں تو بہتررہے گا:
’’ترکیب اس وقت خوب صورت ہوتی ہے جب اس کے ذریعے کوئی نادر استعارہ پیدا ہودوسری صورت یہ ہے کہ اس کے ذریعے معنی میں اضافہ ہو۔تیسری صورت یہ ہے کہ ترکیب کے ذریعے پیکر یا استعارہ و پیکر
وجود میں آجائے۔چوتھی صورت یہ ہے کہ ترکیب کسی استعاراتی نظام کی پشت پنائی کرے،چاہے خود اس میں کوئی قابلِ ذکر استعارہ نہ ہو۔‘‘(شعر شور انگیر،جلد اول،ص:۹۶)
یوں اس مضمون کی مدد سے ایک طرف’’ برگِ نوا‘‘ کی فنی خوبی واضح ہوجاتی ہے اور دوسری طرف شاعری میں تراکیب کی اہمیت اور افادیتبھی ظہور پذیر ہوتی ہے۔ حروفِ آخر یوں ہوسکتا ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ ہر خاص وعام کے لیے مفید ثابت ہوگا ۔جہاں ادب کو اس سے فائدے ملنے یا سماج کو مراعت ملنی کی بات ہے تو دونوں کوہزارہا طریقوں سے فائدہ ملنے کی اُمید ہے۔
ززز


