احسا س دختر کشی

شبیر احمد میر
کشمیر

ماں ! ماں! تھوڑی دیر کے لیے میری بات سن لیجیے ۔ یہ بے قابو دھڑکن یہ بے قراری اور یہ آپکی بوجھل پلکیں آپ کے دل کی کیفیت بیان کررہی ہیں ۔ میری ایک حرکت پر آپ پھولوں کی طرح کھل اٹھتی تھی۔ مورنی کی طرح ناچ اٹھتی تھیں۔ کوئل کی طرح کوک اٹھتی تھیں ۔مگر آج میں دیکھ رہی ہوں آپ نے میری تصویر کے رنگ ہی بدل کر رکھ دیئے ۔بے شک میں آپ کے پیٹ میں ہوں مگر آپ کی سوچ اچھی طر ح سے پڑھ لیتی ہوں۔ آپ جب بھی میرے بارے میٰں سوچتی تھیں میں خوشی سے پھولے نہیں سماتی تھی ۔آج آپ خود غرض کیسے بن گیئں ؟کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ میری آرذوں کو روند کر اپنے لیے خوشیوں کا محل تعمیر کرنے کی خاطر مجھے مارڈالنا چاہتی ہو ۔بے شک انسان سپنوں کا بنا ہوا ہوتا ہے اسے ہمیشہ سپنوں کی باتیں ہی پسند آتی ہیں کیونکہ سپنوں میں بہہ کر وہ چند لمحات کے لیے سب کچھ حاصل لرلیتا ہے جسکی اس کے دل میں آرزو ہوتی ہے ۔مگر تم حقیقت کی دنیا میں رہتی ہو سپنوں کی دنیا میں نہیں ۔جب سپنے ٹوٹ جاتے ہیں تو انسان کو پچھتاوا ہوتا ہے۔
دیکھئے ماں!میں آپ سے کتنا پیار کرتی ہوں ۔آپ کی حالت دیکھتے ہی میں نے اپنے بدن کے کسی بھی حصے کو جنبش نہیں دی ۔یہ سوچ کر کہ کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو ۔کہیںآپ کی نیند نہ ٹوٹے ۔مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میرا بدن ہمیشہ کے لیے سن ہو جائے گا۔ اب آپ کی قربت میں میرا دم گھٹتا ہے ڈر لگتا ہے مجھے ۔آپ جیسی ماں کا خیال آتے ہی مجھے وحشت ہونے لگتی ہے۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے میں ذہنی مریض نہ بن جائوں۔ میں اب تک یہ نہ سمجھ سکی آپ میری کون سی غلطی کی سزا دے رہی ہو۔میں تو آپ کے پیٹ میں ہوں مجھ سے غلطی سرزد کیسے ہو سکتی ہے ؟پھر بھی اگر میری غلطی ثابت ہو جائے تو میں آپ کے قدموں میں گر کر معافی مالگ لوں گی ۔صرف ایک بار میری غلطی بتا دو۔اگر آپ میری غلطی نہیں بتا سکتیں تو آپ اپنے ضمیر کو سمجھائیں مجھے مار کر آپ اپنے ضمیر کی ہی توہیں نہیں کر یں گی بلکہ میری لاش کی بھی توہین کر یں گی۔بے شک اگر آپ مجھ سے محبت نہ بھی کریں مگر جب آپ اپنے ایمان سے محبت کریں گی تو آپ کو ساری دنیا اللہ کی کا ئنات نظر آئے گی۔ اس کے بعد میں ہر خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہوں۔ ایسا جرم کر کے آپ لاکھوںانسانوں کی قاتل بن جائیں گی ۔ ان کی آرزوں اور امنگوں کی قاتل کہلائیں گی۔ آپ میں زنجیریں پہن کر آپ اپنا جرم کبھی مٹا نہیں سکیں گی۔ لاکھوں بے کس بچیاں میری طرح زندگی سے نا آشنا ہو رہی ہیں میں نے ہی آپ کو ایک ني منزل کا نشان دیا ہے ۔ مگر افسوس آپ نے اپنے آپ کو کھوٹا سکہ بنا دیا ۔ آپ کو پتہ ہے آپ میری محبت کے جواب میں دشمنی کی فصل بورہی ہو ۔ کاش آپ ماں ہو تیں !میر ے جسم کا حصہ ھو کر میری روح میں اترتیں ۔ میرا مان میری جا ن ہو تیں۔اس وقت میرے اندر ایک آگ دہکی ہوئی ہے ۔میرا دل چاہتا ہے میں چیخ چیخ کر آپ کا گریباں پکڑوں ۔آپ کو جھنجھوڑ کے رکھ دوں ۔مگر میں کچھ نہیں کر سکتی ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا آپ اپنے آپ کو کمزور کیوں سمجھتی ہیں ۔آپ کو معلوم ہے مر د ہمیشہ عورت کو خود سے کمتر اور کمزور سمجھتا ہے۔ مگر وقت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جہاں مرد کمزور پڑا اپنی زمہ داریا ں نہ نبھا پایا ۔وہاں عورت پتواربن گئی اور زمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا ۔ رہی ماحول کی بات یہ ماحول جس کے سامنے آپ نے سب ہتھیار ڈال دیے۔ حقیقت میںماحول انسان خود بناتا ہے۔ وہ انسان ہی کیا جو ماحول میںڈھل جائے۔انسان اگر مظبوط ہو تو خود اپنا ماحول بنا لیتا ہے ۔آپ نے جو راستہ اپنایا ہے وہ اندھیروں کی سمت جاتا ہے ۔ قدر ت اور فطرت عورت کی طرف دار ہے ۔اس کا خون اور اس کا دودھ پوری انسانیت کی رگوں میں دوڑتا ہے ۔عورت کا مقام تو بے حد بلند ہے۔ اس وقت اگرکوئی آواز تھی تو دونوں ماںبیٹی کے دل کے دھڑکنے کی جوایک ہی لے میں دھڑک رہے تھے ۔آپ کوئی دودھ پیتی بچی نہیںہیں جو میں آپ کو سمجھائوں۔ آپ کو نصحیت کروں ۔اس عمر میں انسان کو اتنی عقل ضرور آچکی ہوتی ہے کہ وہ صیح اور غلط سمجھتا ہے اور اگر اس عمر میں بھی وہ صیح غلط نہیں سمجھتا تو میں سمجھتی ہوںمیرے لیے مرنا ہی بہتر ہے ۔ آپ اتنی اچھی سوچ اتنے اچھے حساس کی مالک ہیں پھر ایسا کیوں کرنے جا رہی ہو؟ میں آپ سے کوئی بحث نہیںکروں گی ۔جب آپ نے مجھے مار ڈالنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے۔ اب میرے کچھ کہنے کا مقصد نہیں بچتا ۔لیکن پھر بھی اتنا ضرور پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ کے اس فیصلے میں نظر ثانی کی بھی گنجا ئش ہے کہ نہیں۔اگر نہیں تو میں اتنا ہی آپ سے کہوں گی کہ میری بے بسی اور مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائو۔ اللہ سے ڈرو۔ پھر سوچتی ہوں آپ جیسی عورتوں کے پاس سوچنے اور کڑھنے کے علاوہ ہوتا ہی کیا ہے ۔ اللہ نے آپ کو عورت کا روپ ضرور دیا ہے لیکن آپ ایک پتھر کا مجسمہ ہیں جس میں احسا س نہیں ۔درد نہیں۔ انسانیت نہیں۔ماں کے پیار کا دردنہیں۔ماں کی ممتا نہیں۔اب آپ اس الجھن سے باہر نکل آئیں ۔میں سمجھ سکتی ہوں آپ کی مدہم سرگوشی جو آپ کے دل میں کہیں دبی ہے جسکو آپ اب تک کہہ نہیں سکیں ۔میں آپ کی اس ان کہی کو بھی سن سکتی ہوں ۔بہر طور میں نے آپ کو جو کچھ کہا۔ اگر چاہیں تو اس پر عمل کریں۔ اب زیادہ وقت نہیں ہے آپ کے پاس ۔اس لے جائیں جو کچھ کرنا ہے جلدی کریں۔ میں آپ کے ہر فیصلے پر سر تسلیم خم کرتی ہوں۔
ماں کو محسوس ہوا اس کے پائوں کے نیچے زمین ہلنے لگی ۔جیسے بجلی کی لہریں اس کے وجود میں سے ہو کر گزر رہی ہیں۔ اپنی بیٹی کی باتیں اس کے کانو ں میںلگاتار ٹکرارھی تھی اور اس کی گونج اس کے دل و دماغ کو لپیٹ میں لے ھوے تھیں ۔ اپنے ہی لخت جگر کی باتیں یوں لگیں جیسے کوئی اسے زندہ زمیں میں گاڑرہا ہے۔ طرح طرح کے خیا لات اس کے دماغ میں سوالا ت بن کے ابھر نے لگیں ۔لیکن کسی کا جواب نا ملا اور غصے میں اپنے آپ سے کہا ۔جی چاہتا ہے اس ضدی لڑکی کو پکڑ کر دوچار طمانچے لگا وں اور اس کے بعد اسے اپنے کلیجے میں چھپا لوں۔ اس کی آنکھوں پر گرے وہ غفلت کے پردے سرک گئے اور اپنے دانت پیستے ہوئے کہا ۔اگر میں نے خود غرضی کا لبادہ نہ اوڑھا ہوتا تو آج میری اولاد مجھ سے یوں بیزار نہ ہوئی ہوتی۔ اس وقت اس کے چہرے کی لالی گھبراہت کی زردی میں تبدیل ہوگئی۔پیشانی پر پسینے کے چھوٹے چھوٹے قطرے پھوٹ پھوٹ کر اس کے دامن میں گرنے لگے۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے یہ آواز چاروں طرف سے آرہی ہو جو اس وقت اس کے اپنے وجود سے خارج ہو رہی تھی ۔اس ے محسوس کیا ۔زندگی کی ہر خوشی اس سے روٹھ گئی ہے وہ بالکل مرجھا کر رہ گئی ہے۔ اس کے لیے یہ قیامت ہی تو تھی جس قدر وہ لرزتی تڑپتی اتنا ہی اس کی بیٹی اس پر کلہاڑی سے وار کرتی ۔اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کی طرف لے جا کر اپنے دونوں کان بند کر لیے مگر خیالوں کا سلسلہ برقرار رہا ۔ آخر تھک ہار کر ااس نے فیصلہ کر لیا اور زور زور سے چلائی۔ ہاں ہاں میں تمہیںماں کا پیا ر دوں گی ۔ اب تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد سوچنے لگی ۔میں تو صحرا کی طرح بکھر گئی ہوں اب میں خود اس کا ریزہ ریزہ جمع کر وں گی ۔اپنے اعتماد کی شکست پر اس کا ردعمل کچھ اتنا شدید ہو رہا تھا کہ اپنے جسم و زہن میں اٹھتے طوفان کی شدت برداشت کرنے کی کوشش میں وہ زیادہ نڈھال ہوتی چلی گئی ۔جب ڈھیر سارے آنسو بہے چکے۔ آنکھوں کی جلن اور ذہن کی گھٹن کم ہوئی۔ تو اس نے صورت حال کا ایک بارپھر جائزہ لیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا ایک مظبوط راستہ یہ ہے ۔کہ میں اس گھر سے اپنے شوہر سے الگ ہو جائوں ۔ہو سکے تو طلاق بھی لے لوں ۔کیسا آدمی ہے یہ ؟کیا اس کے دل میں اتنی سی بھی آرزو نہیں کہ یہ مجھ پر ٹوٹ پڑنے والی قیامت کی حقیقت مجھ سے پوچھے ۔میرا حال پوچھے۔ میری دل جوئی کرے ۔کیا آنے والی بچی اس کے نزدیک اتنی اہمیت نہیں رکھتی کہ یہ میرے ساتھ بیٹھے ۔مجھ سے بات کرے ۔ یہ وہ کام کرنے جارہے ہیں ۔جو کرنے کو دل نہیں چاہتا ۔ یہ تو ایک آسمانی گفٹ ہے جسے ملنا ہوتی ہے مل جاتی ہے ۔ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی خوشیاں کھوئیں تو یہ کون سی عقلمندی ہے۔ زمانہ خوش ہے ۔مسرتوں اور بہاروں کے جھولے میں جھول رہا ہے ۔واحد ہم ہیں کہ خواہ مخواہ جھلس رہے ہیں۔ گھٹ رہے ہیں۔زندگی کی خوشیوں کو ترس رہے ہیں ۔ سب کو معلوم ہے جہالت کفر کی ایک صورت ہے ۔عقل سے بہتر ہمارا کوئی ساتھی نہیں ۔اس میں شک نہیں زندگی میں کچھ لمحات انتہائی سنسنی خیز ہوتے ہیں۔جو انسان کو ایسی کیفیت سے دوچار کر دیتے ہیں ۔جس سے چھٹکارا پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن ان مشکلات کا حل بھی توانسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اگر ہم نے کوئی وحشیانہ حرکت کر کے زندگی کے کچھ لمحات بچا بھی لیے ۔تو یہ لمحات ہمیں کیا دے سکیں گے ۔مرنا تو بہر حال ہے ہی ۔کم ازکم اس سکون کے ساتھ مریں کہ ہم کوئی ایسا کام کر کے نہیں مرے ۔جس سے ہمارے ضمیر پر بوجھ ہو ۔روح کی زندگی بہر صورت زندگی ہوتی ہے۔ ضمیر زندہ رکھیں خواہ کتنی بار موت کی صورت سے گزرنا پڑے ۔میں اپنے ضمیر کو کسی بھی طرح کی آنچ نہیں آنے دودں گی ۔ اس کے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے ۔ اب مجھے پر واہ نہیں میرا ماننا ہے کو شش اور جدو جہد کے زریعے ہی اصلاحی معاشرہ ممکن ہو گا ۔تب ہی تو امن وسکون نصیب ہوگا ۔ہر برے عمل سے نجات مل سکے گی اور جس میں ڈر وخوف کی کوئی علامت نہیں ہو گی۔ اپنے دونوں کانوں کو پکڑ کر بولی ۔
توبہ! میں ارشاد باری تعالیٰ کا کلام کیسے بھول گئی جس میں وہ فرماتے ہیں۔’’آسمانوں اور زمینوں کی ملکیت اللہ ہی کے لیے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا فرماتا ہے یا بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہے بے اولا د رکھتا ہے ۔‘‘القران سورہ شوریٰ50..29
اس سے ظاہر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے مرد وعورت کو الگ الگ صفات و خصوصیات اور الگ الگ زمہ داریوں کا حامل بنایا ہے ۔دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں ۔دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے بے نیاز نہیںہو سکتے ۔ یہ تو اللہ تعالی کا بنایا ہوا نظام ہے اور قیامت تک ظاہر ہوتا رہے گا ۔ تاریخ گواہ ہے ۔تاریخ اسلامی میں عورتوں نے وہ کردار بھی ادا کیا جس کو بہت سے مرد بھی ادا کرنے سے قاصر رہے ۔ ہم اس دور میں وہ پرانے زمانے کے جاہلانہ توہمات نا معقول افکار اور اپنی ہی بیٹی کے لیے ظالمانہ افعال مجھ پر طاری ہو رہے ہیں ۔ اپنی ہی بیٹی کو اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی نت نئے طریقوں سے قتل کروں ۔کیا ہو گیا ہے مجھے؟یہ تو انسانی نہیں شیطانی فکر ہے ۔ بیٹیوں کوزیادہ بابرکت اور بہترین تربیت کر نے کی صورت میں ہمیں جنت کی بشارت دے دی گئی ہے ۔یہ تو اللہ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے۔ وہی اولاد عطا کرنے والا ہے اور وہی رزق دینے والا ہے۔ وہی پوری دنیا کا نظام چلا رہا ہے ۔انسان سے لے کر حیوانات اور کیڑے مکوڑے تک وہی تخلیق و ربوبیت کا اختیار رکھتا ہے ۔اگر میں اس نظام قدر ت کے ساتھ کھلواڑ کر ونگی تو اس کے لیے نقصانات پورے معاشرے پر بھی مرتب ہو کر رہیں گے۔ ایک عورت ہو کر میں ہی بچیوں کو ناپسند یدگی کی نگاہ سے دیکھ رہی ہوں ۔دھتکا ر ہو مجھ پر۔ دھتکار ہو مجھ پر ۔یہ کہتے ہی اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے کو چھپا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور اس کا رونا ہچکیوں میں تبدیل ہو گیا ۔ اس کے اندر سے ایک بار پھر اپنی بیٹی کی آواز گونجنے لگی ۔ تم واقعی عظیم ہو ماں ۔بہت نیک ہو مجھے تم پر فخر ہے ۔اپنا دل ہلکا نہ کرو وقت سب سے پڑا مرہم ہے وہ ہر درد کو بھر دیتا ہے ۔میں زور زور سے چلائی میری بیٹی ۔میں تم پہ صدقے جائوں ۔تم پر واری جائوں۔صرف ایک بار مجھے ماں کہہ کر بلا ۔تاکہ میرے دل کو سکون ملے ۔ میں تمہیں ماں کا پیار دوں گی ۔
میرے رونے اور چلانے کی آواز سن کے میر ے شوہر میری طرف دوڑ پڑے ۔میں ڈری ہوئی سہمی ہوئی دوڑ کے ان کے سینے سے لگ گئی اور ہچکیوں میں دوبارہ کہنا شروع کیا ۔میں قربان جائوں اپنی بیٹی پر ۔میں اس کے بغیر نہیں جی پائوں گی ۔مر جائوں گی میں اپنی بیٹی کو ماں کا پیا ر دوں گی ۔ میری حالت دیکھ کر وہ مجھے دلاسہ دیتے ہوئے بولے ۔گبھراو مت ۔شانت ہو جائو۔ میری بات غور سے سنو۔ ہمیں اپنی مشرقی اقدار کی عزت وناموس کی اور مقام و مر تبے کی حفاظت خود کرنی ہو گی ۔ ہمیں نومولود بچیوں کی تعلیم و تربیت پر پہلے دن سے ہی بہت محتاط اور دانشمندانہ رویہ اختیار کرنا ہو گا تاکہ جوانی کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے ہماری بچیاں تمہاری طرح پختہ ذہن رہیں۔ نیک اعمال اور خود اعتمادی پاکیزگی کے زیور سے آراستہ مکمل وبے مثال کردار کی مالک بن سکیں۔ ماں تو ماں ہوتی ہے۔ ماں کے بے لوث محبت اور بے غرض چاہت پر ہر معاشرے میں اعتبار کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے میرا ہاتھ مظبوطی سے پکڑ کر اپنی نم آنکھوں کے ساتھ لگا لیا اور اپنے کپکپاتے گرم لبوں سے میرے ہاتھوں کو چومتے ہوئے کہا ۔
یہ محبت ہے عقیدت ہے یا احترام میں نہیں جانتا؟ مگر میرے پاس آپ کو دینے کے لیے اس احترام کے سوا کچھ بھی نہیں ۔میں آپ کی محبت کے قابل کہاں ۔گھر میں سکون رہے تو اس کے لے گھر کے ہر مرد کی ذمہ داریاںنبھانی چاہیں اور مجھے فخر ہے تم جیسی شریک حیات پر ۔جو معاشرے میں روشنی کے چراغ جلاتی ہے اور واقعی احساس جذبوں کی امین لطیف اور ملنسار آپ ہی جیسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوتا ہے اور روزمرہ زندگی میں آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ آپ جیسے لوگوں کی جذبوں کو سلامت رکھے ۔ جب کوئی اپنے رب پر سچا ایمان لے آتا ہے تو پھر اسے ایمان والوں کو سر عام سولی پر چڑھا دیا جائے یا آگ میں ڈال دیا جائے وہ مطمئن رہتا ہے ۔کسی سے شکوہ نہیں کرتا ۔ماں دکھ میں بھی روتی ہے ۔خوشی میں بھی روتی ہے۔ مسلسل آنسوں ہی کا نام عورت ہے ۔میں نے اپنے آنچل سے آنسو پونچھ ڈالے ۔
اب ہم دونوں ڈھلتی ہوئی شام کے سایے میں درختوں کے جھنڈ کے نچیے آپس میں باتیں کررہے تھے ۔یہ جگہ آمد و رفت کے راستوں سے کافی دور تھی ۔ہم دونوں کے چہروں پر گلاب کی سی تازگی اور فرحت نظر آئی ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے کل کائنات کی مسرتیں اور بہاریں ہم پر سایہ کئے ہوئے ہوں اور ہمارے اردگر دائمی لازوال خوشیاں رقصاں تھیں ۔مگر میرے شوہر۔ میرے سر تاج۔ ان چیزوں سے بے خبر۔ وہ صرف میری زلفوں سے ڈھکی ہوئی پشت کو ٹکٹکی لگا کر دیکھ رہے تھے اور مسکرا بھی رہے تھے۔
یہ افسانہ مرحوم شبیر احمد میر کا تحریر کردہ ہے جو روزنامہ سری نگرجنگ کوموصوف کے فرزند میر عمران سے موصول ہوا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

احسا س دختر کشی

شبیر احمد میر
کشمیر

ماں ! ماں! تھوڑی دیر کے لیے میری بات سن لیجیے ۔ یہ بے قابو دھڑکن یہ بے قراری اور یہ آپکی بوجھل پلکیں آپ کے دل کی کیفیت بیان کررہی ہیں ۔ میری ایک حرکت پر آپ پھولوں کی طرح کھل اٹھتی تھی۔ مورنی کی طرح ناچ اٹھتی تھیں۔ کوئل کی طرح کوک اٹھتی تھیں ۔مگر آج میں دیکھ رہی ہوں آپ نے میری تصویر کے رنگ ہی بدل کر رکھ دیئے ۔بے شک میں آپ کے پیٹ میں ہوں مگر آپ کی سوچ اچھی طر ح سے پڑھ لیتی ہوں۔ آپ جب بھی میرے بارے میٰں سوچتی تھیں میں خوشی سے پھولے نہیں سماتی تھی ۔آج آپ خود غرض کیسے بن گیئں ؟کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ میری آرذوں کو روند کر اپنے لیے خوشیوں کا محل تعمیر کرنے کی خاطر مجھے مارڈالنا چاہتی ہو ۔بے شک انسان سپنوں کا بنا ہوا ہوتا ہے اسے ہمیشہ سپنوں کی باتیں ہی پسند آتی ہیں کیونکہ سپنوں میں بہہ کر وہ چند لمحات کے لیے سب کچھ حاصل لرلیتا ہے جسکی اس کے دل میں آرزو ہوتی ہے ۔مگر تم حقیقت کی دنیا میں رہتی ہو سپنوں کی دنیا میں نہیں ۔جب سپنے ٹوٹ جاتے ہیں تو انسان کو پچھتاوا ہوتا ہے۔
دیکھئے ماں!میں آپ سے کتنا پیار کرتی ہوں ۔آپ کی حالت دیکھتے ہی میں نے اپنے بدن کے کسی بھی حصے کو جنبش نہیں دی ۔یہ سوچ کر کہ کہیں آپ کو تکلیف نہ ہو ۔کہیںآپ کی نیند نہ ٹوٹے ۔مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میرا بدن ہمیشہ کے لیے سن ہو جائے گا۔ اب آپ کی قربت میں میرا دم گھٹتا ہے ڈر لگتا ہے مجھے ۔آپ جیسی ماں کا خیال آتے ہی مجھے وحشت ہونے لگتی ہے۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے میں ذہنی مریض نہ بن جائوں۔ میں اب تک یہ نہ سمجھ سکی آپ میری کون سی غلطی کی سزا دے رہی ہو۔میں تو آپ کے پیٹ میں ہوں مجھ سے غلطی سرزد کیسے ہو سکتی ہے ؟پھر بھی اگر میری غلطی ثابت ہو جائے تو میں آپ کے قدموں میں گر کر معافی مالگ لوں گی ۔صرف ایک بار میری غلطی بتا دو۔اگر آپ میری غلطی نہیں بتا سکتیں تو آپ اپنے ضمیر کو سمجھائیں مجھے مار کر آپ اپنے ضمیر کی ہی توہیں نہیں کر یں گی بلکہ میری لاش کی بھی توہین کر یں گی۔بے شک اگر آپ مجھ سے محبت نہ بھی کریں مگر جب آپ اپنے ایمان سے محبت کریں گی تو آپ کو ساری دنیا اللہ کی کا ئنات نظر آئے گی۔ اس کے بعد میں ہر خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہوں۔ ایسا جرم کر کے آپ لاکھوںانسانوں کی قاتل بن جائیں گی ۔ ان کی آرزوں اور امنگوں کی قاتل کہلائیں گی۔ آپ میں زنجیریں پہن کر آپ اپنا جرم کبھی مٹا نہیں سکیں گی۔ لاکھوں بے کس بچیاں میری طرح زندگی سے نا آشنا ہو رہی ہیں میں نے ہی آپ کو ایک ني منزل کا نشان دیا ہے ۔ مگر افسوس آپ نے اپنے آپ کو کھوٹا سکہ بنا دیا ۔ آپ کو پتہ ہے آپ میری محبت کے جواب میں دشمنی کی فصل بورہی ہو ۔ کاش آپ ماں ہو تیں !میر ے جسم کا حصہ ھو کر میری روح میں اترتیں ۔ میرا مان میری جا ن ہو تیں۔اس وقت میرے اندر ایک آگ دہکی ہوئی ہے ۔میرا دل چاہتا ہے میں چیخ چیخ کر آپ کا گریباں پکڑوں ۔آپ کو جھنجھوڑ کے رکھ دوں ۔مگر میں کچھ نہیں کر سکتی ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا آپ اپنے آپ کو کمزور کیوں سمجھتی ہیں ۔آپ کو معلوم ہے مر د ہمیشہ عورت کو خود سے کمتر اور کمزور سمجھتا ہے۔ مگر وقت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جہاں مرد کمزور پڑا اپنی زمہ داریا ں نہ نبھا پایا ۔وہاں عورت پتواربن گئی اور زمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا ۔ رہی ماحول کی بات یہ ماحول جس کے سامنے آپ نے سب ہتھیار ڈال دیے۔ حقیقت میںماحول انسان خود بناتا ہے۔ وہ انسان ہی کیا جو ماحول میںڈھل جائے۔انسان اگر مظبوط ہو تو خود اپنا ماحول بنا لیتا ہے ۔آپ نے جو راستہ اپنایا ہے وہ اندھیروں کی سمت جاتا ہے ۔ قدر ت اور فطرت عورت کی طرف دار ہے ۔اس کا خون اور اس کا دودھ پوری انسانیت کی رگوں میں دوڑتا ہے ۔عورت کا مقام تو بے حد بلند ہے۔ اس وقت اگرکوئی آواز تھی تو دونوں ماںبیٹی کے دل کے دھڑکنے کی جوایک ہی لے میں دھڑک رہے تھے ۔آپ کوئی دودھ پیتی بچی نہیںہیں جو میں آپ کو سمجھائوں۔ آپ کو نصحیت کروں ۔اس عمر میں انسان کو اتنی عقل ضرور آچکی ہوتی ہے کہ وہ صیح اور غلط سمجھتا ہے اور اگر اس عمر میں بھی وہ صیح غلط نہیں سمجھتا تو میں سمجھتی ہوںمیرے لیے مرنا ہی بہتر ہے ۔ آپ اتنی اچھی سوچ اتنے اچھے حساس کی مالک ہیں پھر ایسا کیوں کرنے جا رہی ہو؟ میں آپ سے کوئی بحث نہیںکروں گی ۔جب آپ نے مجھے مار ڈالنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے۔ اب میرے کچھ کہنے کا مقصد نہیں بچتا ۔لیکن پھر بھی اتنا ضرور پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ کے اس فیصلے میں نظر ثانی کی بھی گنجا ئش ہے کہ نہیں۔اگر نہیں تو میں اتنا ہی آپ سے کہوں گی کہ میری بے بسی اور مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائو۔ اللہ سے ڈرو۔ پھر سوچتی ہوں آپ جیسی عورتوں کے پاس سوچنے اور کڑھنے کے علاوہ ہوتا ہی کیا ہے ۔ اللہ نے آپ کو عورت کا روپ ضرور دیا ہے لیکن آپ ایک پتھر کا مجسمہ ہیں جس میں احسا س نہیں ۔درد نہیں۔ انسانیت نہیں۔ماں کے پیار کا دردنہیں۔ماں کی ممتا نہیں۔اب آپ اس الجھن سے باہر نکل آئیں ۔میں سمجھ سکتی ہوں آپ کی مدہم سرگوشی جو آپ کے دل میں کہیں دبی ہے جسکو آپ اب تک کہہ نہیں سکیں ۔میں آپ کی اس ان کہی کو بھی سن سکتی ہوں ۔بہر طور میں نے آپ کو جو کچھ کہا۔ اگر چاہیں تو اس پر عمل کریں۔ اب زیادہ وقت نہیں ہے آپ کے پاس ۔اس لے جائیں جو کچھ کرنا ہے جلدی کریں۔ میں آپ کے ہر فیصلے پر سر تسلیم خم کرتی ہوں۔
ماں کو محسوس ہوا اس کے پائوں کے نیچے زمین ہلنے لگی ۔جیسے بجلی کی لہریں اس کے وجود میں سے ہو کر گزر رہی ہیں۔ اپنی بیٹی کی باتیں اس کے کانو ں میںلگاتار ٹکرارھی تھی اور اس کی گونج اس کے دل و دماغ کو لپیٹ میں لے ھوے تھیں ۔ اپنے ہی لخت جگر کی باتیں یوں لگیں جیسے کوئی اسے زندہ زمیں میں گاڑرہا ہے۔ طرح طرح کے خیا لات اس کے دماغ میں سوالا ت بن کے ابھر نے لگیں ۔لیکن کسی کا جواب نا ملا اور غصے میں اپنے آپ سے کہا ۔جی چاہتا ہے اس ضدی لڑکی کو پکڑ کر دوچار طمانچے لگا وں اور اس کے بعد اسے اپنے کلیجے میں چھپا لوں۔ اس کی آنکھوں پر گرے وہ غفلت کے پردے سرک گئے اور اپنے دانت پیستے ہوئے کہا ۔اگر میں نے خود غرضی کا لبادہ نہ اوڑھا ہوتا تو آج میری اولاد مجھ سے یوں بیزار نہ ہوئی ہوتی۔ اس وقت اس کے چہرے کی لالی گھبراہت کی زردی میں تبدیل ہوگئی۔پیشانی پر پسینے کے چھوٹے چھوٹے قطرے پھوٹ پھوٹ کر اس کے دامن میں گرنے لگے۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے یہ آواز چاروں طرف سے آرہی ہو جو اس وقت اس کے اپنے وجود سے خارج ہو رہی تھی ۔اس ے محسوس کیا ۔زندگی کی ہر خوشی اس سے روٹھ گئی ہے وہ بالکل مرجھا کر رہ گئی ہے۔ اس کے لیے یہ قیامت ہی تو تھی جس قدر وہ لرزتی تڑپتی اتنا ہی اس کی بیٹی اس پر کلہاڑی سے وار کرتی ۔اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کی طرف لے جا کر اپنے دونوں کان بند کر لیے مگر خیالوں کا سلسلہ برقرار رہا ۔ آخر تھک ہار کر ااس نے فیصلہ کر لیا اور زور زور سے چلائی۔ ہاں ہاں میں تمہیںماں کا پیا ر دوں گی ۔ اب تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد سوچنے لگی ۔میں تو صحرا کی طرح بکھر گئی ہوں اب میں خود اس کا ریزہ ریزہ جمع کر وں گی ۔اپنے اعتماد کی شکست پر اس کا ردعمل کچھ اتنا شدید ہو رہا تھا کہ اپنے جسم و زہن میں اٹھتے طوفان کی شدت برداشت کرنے کی کوشش میں وہ زیادہ نڈھال ہوتی چلی گئی ۔جب ڈھیر سارے آنسو بہے چکے۔ آنکھوں کی جلن اور ذہن کی گھٹن کم ہوئی۔ تو اس نے صورت حال کا ایک بارپھر جائزہ لیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا ایک مظبوط راستہ یہ ہے ۔کہ میں اس گھر سے اپنے شوہر سے الگ ہو جائوں ۔ہو سکے تو طلاق بھی لے لوں ۔کیسا آدمی ہے یہ ؟کیا اس کے دل میں اتنی سی بھی آرزو نہیں کہ یہ مجھ پر ٹوٹ پڑنے والی قیامت کی حقیقت مجھ سے پوچھے ۔میرا حال پوچھے۔ میری دل جوئی کرے ۔کیا آنے والی بچی اس کے نزدیک اتنی اہمیت نہیں رکھتی کہ یہ میرے ساتھ بیٹھے ۔مجھ سے بات کرے ۔ یہ وہ کام کرنے جارہے ہیں ۔جو کرنے کو دل نہیں چاہتا ۔ یہ تو ایک آسمانی گفٹ ہے جسے ملنا ہوتی ہے مل جاتی ہے ۔ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی خوشیاں کھوئیں تو یہ کون سی عقلمندی ہے۔ زمانہ خوش ہے ۔مسرتوں اور بہاروں کے جھولے میں جھول رہا ہے ۔واحد ہم ہیں کہ خواہ مخواہ جھلس رہے ہیں۔ گھٹ رہے ہیں۔زندگی کی خوشیوں کو ترس رہے ہیں ۔ سب کو معلوم ہے جہالت کفر کی ایک صورت ہے ۔عقل سے بہتر ہمارا کوئی ساتھی نہیں ۔اس میں شک نہیں زندگی میں کچھ لمحات انتہائی سنسنی خیز ہوتے ہیں۔جو انسان کو ایسی کیفیت سے دوچار کر دیتے ہیں ۔جس سے چھٹکارا پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن ان مشکلات کا حل بھی توانسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اگر ہم نے کوئی وحشیانہ حرکت کر کے زندگی کے کچھ لمحات بچا بھی لیے ۔تو یہ لمحات ہمیں کیا دے سکیں گے ۔مرنا تو بہر حال ہے ہی ۔کم ازکم اس سکون کے ساتھ مریں کہ ہم کوئی ایسا کام کر کے نہیں مرے ۔جس سے ہمارے ضمیر پر بوجھ ہو ۔روح کی زندگی بہر صورت زندگی ہوتی ہے۔ ضمیر زندہ رکھیں خواہ کتنی بار موت کی صورت سے گزرنا پڑے ۔میں اپنے ضمیر کو کسی بھی طرح کی آنچ نہیں آنے دودں گی ۔ اس کے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے ۔ اب مجھے پر واہ نہیں میرا ماننا ہے کو شش اور جدو جہد کے زریعے ہی اصلاحی معاشرہ ممکن ہو گا ۔تب ہی تو امن وسکون نصیب ہوگا ۔ہر برے عمل سے نجات مل سکے گی اور جس میں ڈر وخوف کی کوئی علامت نہیں ہو گی۔ اپنے دونوں کانوں کو پکڑ کر بولی ۔
توبہ! میں ارشاد باری تعالیٰ کا کلام کیسے بھول گئی جس میں وہ فرماتے ہیں۔’’آسمانوں اور زمینوں کی ملکیت اللہ ہی کے لیے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا فرماتا ہے یا بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہے بے اولا د رکھتا ہے ۔‘‘القران سورہ شوریٰ50..29
اس سے ظاہر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے مرد وعورت کو الگ الگ صفات و خصوصیات اور الگ الگ زمہ داریوں کا حامل بنایا ہے ۔دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں ۔دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے بے نیاز نہیںہو سکتے ۔ یہ تو اللہ تعالی کا بنایا ہوا نظام ہے اور قیامت تک ظاہر ہوتا رہے گا ۔ تاریخ گواہ ہے ۔تاریخ اسلامی میں عورتوں نے وہ کردار بھی ادا کیا جس کو بہت سے مرد بھی ادا کرنے سے قاصر رہے ۔ ہم اس دور میں وہ پرانے زمانے کے جاہلانہ توہمات نا معقول افکار اور اپنی ہی بیٹی کے لیے ظالمانہ افعال مجھ پر طاری ہو رہے ہیں ۔ اپنی ہی بیٹی کو اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی نت نئے طریقوں سے قتل کروں ۔کیا ہو گیا ہے مجھے؟یہ تو انسانی نہیں شیطانی فکر ہے ۔ بیٹیوں کوزیادہ بابرکت اور بہترین تربیت کر نے کی صورت میں ہمیں جنت کی بشارت دے دی گئی ہے ۔یہ تو اللہ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے۔ وہی اولاد عطا کرنے والا ہے اور وہی رزق دینے والا ہے۔ وہی پوری دنیا کا نظام چلا رہا ہے ۔انسان سے لے کر حیوانات اور کیڑے مکوڑے تک وہی تخلیق و ربوبیت کا اختیار رکھتا ہے ۔اگر میں اس نظام قدر ت کے ساتھ کھلواڑ کر ونگی تو اس کے لیے نقصانات پورے معاشرے پر بھی مرتب ہو کر رہیں گے۔ ایک عورت ہو کر میں ہی بچیوں کو ناپسند یدگی کی نگاہ سے دیکھ رہی ہوں ۔دھتکا ر ہو مجھ پر۔ دھتکار ہو مجھ پر ۔یہ کہتے ہی اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے کو چھپا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور اس کا رونا ہچکیوں میں تبدیل ہو گیا ۔ اس کے اندر سے ایک بار پھر اپنی بیٹی کی آواز گونجنے لگی ۔ تم واقعی عظیم ہو ماں ۔بہت نیک ہو مجھے تم پر فخر ہے ۔اپنا دل ہلکا نہ کرو وقت سب سے پڑا مرہم ہے وہ ہر درد کو بھر دیتا ہے ۔میں زور زور سے چلائی میری بیٹی ۔میں تم پہ صدقے جائوں ۔تم پر واری جائوں۔صرف ایک بار مجھے ماں کہہ کر بلا ۔تاکہ میرے دل کو سکون ملے ۔ میں تمہیں ماں کا پیار دوں گی ۔
میرے رونے اور چلانے کی آواز سن کے میر ے شوہر میری طرف دوڑ پڑے ۔میں ڈری ہوئی سہمی ہوئی دوڑ کے ان کے سینے سے لگ گئی اور ہچکیوں میں دوبارہ کہنا شروع کیا ۔میں قربان جائوں اپنی بیٹی پر ۔میں اس کے بغیر نہیں جی پائوں گی ۔مر جائوں گی میں اپنی بیٹی کو ماں کا پیا ر دوں گی ۔ میری حالت دیکھ کر وہ مجھے دلاسہ دیتے ہوئے بولے ۔گبھراو مت ۔شانت ہو جائو۔ میری بات غور سے سنو۔ ہمیں اپنی مشرقی اقدار کی عزت وناموس کی اور مقام و مر تبے کی حفاظت خود کرنی ہو گی ۔ ہمیں نومولود بچیوں کی تعلیم و تربیت پر پہلے دن سے ہی بہت محتاط اور دانشمندانہ رویہ اختیار کرنا ہو گا تاکہ جوانی کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے ہماری بچیاں تمہاری طرح پختہ ذہن رہیں۔ نیک اعمال اور خود اعتمادی پاکیزگی کے زیور سے آراستہ مکمل وبے مثال کردار کی مالک بن سکیں۔ ماں تو ماں ہوتی ہے۔ ماں کے بے لوث محبت اور بے غرض چاہت پر ہر معاشرے میں اعتبار کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے میرا ہاتھ مظبوطی سے پکڑ کر اپنی نم آنکھوں کے ساتھ لگا لیا اور اپنے کپکپاتے گرم لبوں سے میرے ہاتھوں کو چومتے ہوئے کہا ۔
یہ محبت ہے عقیدت ہے یا احترام میں نہیں جانتا؟ مگر میرے پاس آپ کو دینے کے لیے اس احترام کے سوا کچھ بھی نہیں ۔میں آپ کی محبت کے قابل کہاں ۔گھر میں سکون رہے تو اس کے لے گھر کے ہر مرد کی ذمہ داریاںنبھانی چاہیں اور مجھے فخر ہے تم جیسی شریک حیات پر ۔جو معاشرے میں روشنی کے چراغ جلاتی ہے اور واقعی احساس جذبوں کی امین لطیف اور ملنسار آپ ہی جیسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوتا ہے اور روزمرہ زندگی میں آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ آپ جیسے لوگوں کی جذبوں کو سلامت رکھے ۔ جب کوئی اپنے رب پر سچا ایمان لے آتا ہے تو پھر اسے ایمان والوں کو سر عام سولی پر چڑھا دیا جائے یا آگ میں ڈال دیا جائے وہ مطمئن رہتا ہے ۔کسی سے شکوہ نہیں کرتا ۔ماں دکھ میں بھی روتی ہے ۔خوشی میں بھی روتی ہے۔ مسلسل آنسوں ہی کا نام عورت ہے ۔میں نے اپنے آنچل سے آنسو پونچھ ڈالے ۔
اب ہم دونوں ڈھلتی ہوئی شام کے سایے میں درختوں کے جھنڈ کے نچیے آپس میں باتیں کررہے تھے ۔یہ جگہ آمد و رفت کے راستوں سے کافی دور تھی ۔ہم دونوں کے چہروں پر گلاب کی سی تازگی اور فرحت نظر آئی ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے کل کائنات کی مسرتیں اور بہاریں ہم پر سایہ کئے ہوئے ہوں اور ہمارے اردگر دائمی لازوال خوشیاں رقصاں تھیں ۔مگر میرے شوہر۔ میرے سر تاج۔ ان چیزوں سے بے خبر۔ وہ صرف میری زلفوں سے ڈھکی ہوئی پشت کو ٹکٹکی لگا کر دیکھ رہے تھے اور مسکرا بھی رہے تھے۔
یہ افسانہ مرحوم شبیر احمد میر کا تحریر کردہ ہے جو روزنامہ سری نگرجنگ کوموصوف کے فرزند میر عمران سے موصول ہوا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں