یوم انسانی حقوق اور گہری ناانصافیاں

یومِ انسانی حقوق انصاف اور برابری پر غور کا دن ہے، مگر بعض گہری ناانصافیاں ہمارے سیاسی ڈھانچوں کے اندر ہی جنم لیتی ہیں۔ خاص طور پر کشمیر میں ذات پات کی برتری، اقربا پروری اور قیادت کو خاندانی وراثت بنانے کا رواج ایک بڑے انسانی مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
دنیا عموماً ریاستی جبر یا معاشی محرومی پر بات کرتی ہے، مگر سیاسی جماعتوں کے اندر کے امتیازات بھی عوام کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ جب قیادت صرف چند خاندانوں میں محدود ہو، جب بیٹے اور بیٹیاں محض نسبت کی بنیاد پر عہدے سنبھالیں، اور جب پوری زندگی پارٹی کے لیے وقف کرنے والے کارکن نظر انداز رہیں، تو یہ سیاسی بدعنوانی سے بڑھ کر انسانی حقوق کی سنجیدہ خلاف ورزی بن جاتی ہے۔
کشمیر میں موروثی سیاست نے انتہائی محنتی کارکنوں کی راہیں بند کر رکھی ہیں۔ وہ برسوں کی خدمت کے باوجود صرف معمولی ذمہ داریاں پاتے ہیں، جبکہ اعلیٰ مناصب ان افراد کو ملتے ہیں جن کی اصل شناخت کسی بڑے نام کا وارث ہونا ہے۔ اس سے ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور ان کا حق چھن جاتا ہے۔
یہ روش جمہوری عمل کو بھی کمزور کرتی ہے اور نوجوان نسل میں سخت مایوسی پھیلاتی ہے۔ جب سیاست وراثت کا کھیل بن جائے تو نئی سوچ اور حقیقی صلاحیت سامنے نہیں آ پاتی، اور معاشرہ چند خاندانوں کے دائرے میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔
یومِ انسانی حقوق ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق تلفی صرف طاقت کے استعمال سے نہیں ہوتی۔ کبھی یہ مواقع چھیننے، قابلیت دبانے اور باصلاحیت لوگوں کو کنارے لگانے سے بھی ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتوں میں شفافیت اور حقیقی جمہوریت کو جگہ ملے۔ قیادت کا حق محنت اور اہلیت کو ہونا چاہیے۔
اصل انسانی حقوق کی تکمیل اس وقت ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں ذات پات، اقربا پروری اور خاندانی اجارہ داری سے خود کو پاک کریں۔ ورنہ انسانی حقوق کا دعویٰ محض نعرہ رہے گا اور اندرونی ناانصافیاں اس کی روح کو کمزور کرتی رہیں گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر UTفاؤنڈیشن ڈے: جموں و کشمیر امن اور ترقی کا ماڈل بن کر ابھرا

جنگ نیوز سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج جموں...

اسرائیل کے انتخابی نتائج

اسرائیل کے حالیہ انتخابی نتائج نے ایک بار پھر...

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر UTفاؤنڈیشن ڈے: جموں و کشمیر امن اور ترقی کا ماڈل بن کر ابھرا

جنگ نیوز سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج جموں...

اسرائیل کے انتخابی نتائج

اسرائیل کے حالیہ انتخابی نتائج نے ایک بار پھر...

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

یوم انسانی حقوق اور گہری ناانصافیاں

یومِ انسانی حقوق انصاف اور برابری پر غور کا دن ہے، مگر بعض گہری ناانصافیاں ہمارے سیاسی ڈھانچوں کے اندر ہی جنم لیتی ہیں۔ خاص طور پر کشمیر میں ذات پات کی برتری، اقربا پروری اور قیادت کو خاندانی وراثت بنانے کا رواج ایک بڑے انسانی مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
دنیا عموماً ریاستی جبر یا معاشی محرومی پر بات کرتی ہے، مگر سیاسی جماعتوں کے اندر کے امتیازات بھی عوام کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ جب قیادت صرف چند خاندانوں میں محدود ہو، جب بیٹے اور بیٹیاں محض نسبت کی بنیاد پر عہدے سنبھالیں، اور جب پوری زندگی پارٹی کے لیے وقف کرنے والے کارکن نظر انداز رہیں، تو یہ سیاسی بدعنوانی سے بڑھ کر انسانی حقوق کی سنجیدہ خلاف ورزی بن جاتی ہے۔
کشمیر میں موروثی سیاست نے انتہائی محنتی کارکنوں کی راہیں بند کر رکھی ہیں۔ وہ برسوں کی خدمت کے باوجود صرف معمولی ذمہ داریاں پاتے ہیں، جبکہ اعلیٰ مناصب ان افراد کو ملتے ہیں جن کی اصل شناخت کسی بڑے نام کا وارث ہونا ہے۔ اس سے ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور ان کا حق چھن جاتا ہے۔
یہ روش جمہوری عمل کو بھی کمزور کرتی ہے اور نوجوان نسل میں سخت مایوسی پھیلاتی ہے۔ جب سیاست وراثت کا کھیل بن جائے تو نئی سوچ اور حقیقی صلاحیت سامنے نہیں آ پاتی، اور معاشرہ چند خاندانوں کے دائرے میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔
یومِ انسانی حقوق ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق تلفی صرف طاقت کے استعمال سے نہیں ہوتی۔ کبھی یہ مواقع چھیننے، قابلیت دبانے اور باصلاحیت لوگوں کو کنارے لگانے سے بھی ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتوں میں شفافیت اور حقیقی جمہوریت کو جگہ ملے۔ قیادت کا حق محنت اور اہلیت کو ہونا چاہیے۔
اصل انسانی حقوق کی تکمیل اس وقت ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں ذات پات، اقربا پروری اور خاندانی اجارہ داری سے خود کو پاک کریں۔ ورنہ انسانی حقوق کا دعویٰ محض نعرہ رہے گا اور اندرونی ناانصافیاں اس کی روح کو کمزور کرتی رہیں گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں