بھارت جو دنیا کی تیسرے نمبر کی اندرونی فضائی منڈی ہے، گزشتہ چند دنوں سے شدید افراتفری کا شکار ہے۔ روزانہ سینکڑوں پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں، ہزاروں مسافر ایئرپورٹس پر پھنسے ہیں اور پورا نظام بے ترتیبی کی لپیٹ میں ہے۔ نقصان صرف منسوخ پروازوں تک محدود نہیں بلکہ مہنگی ری بکنگ، ضائع ہونے والے گھنٹے اور منسوخ تقریبات نے عوام کو بڑا مالی بوجھ دیا ہے۔ کشمیر کے مسافر بھی محدود پروازوں کے باعث دوہری مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بحران صاف ظاہر کرتا ہے کہ ذمہ داری ایئرلائن اور ریگولیٹر دونوں پر برابر عائد ہوتی ہے۔
ملک کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو کا وضاحتی بیان کہ مسئلہ غلط اندازوں اور منصوبہ جاتی خلا کی وجہ سے پیدا ہوا، کافی نہیں۔ FDTL کے نئے قواعد 1 جولائی اور 1 نومبر کو نافذ ہوئے تھے، اس لئے ایک وسیع نیٹ ورک چلانے والی ایئرلائن کو پہلے ہی اس صورتحال کا اندازہ ہو جانا چاہیے تھا۔ کمپنی کے پیش کردہ اعداد و شمار بھی واضح کرتے ہیں کہ عملے کی کمی اصل وجہ ہے۔ نئے قواعد کے تحت انڈیگو کو 2422 کپتان اور 2153 فرسٹ آفیسرز درکار ہیں جبکہ اس کے پاس 2357 کپتان اور 2194 فرسٹ آفیسرز ہیں۔ یہ کمی پورے نظام پر اثر انداز ہوتی ہے اور یہی ہوا۔
ریگولیٹر DGCA کا کردار بھی سوالات سے خالی نہیں۔ پائلٹ تھکن جیسے حساس معاملے میں اسے اصول سختی سے نافذ کرنے چاہیے تھے مگر عارضی نرمی دے کر اس نے کمزوری کا تاثر دیا۔ حفاظت ہمیشہ اولین ترجیح ہونی چاہیے تھی۔
یہ بحران بھارت کے ایوی ایشن سیکٹر میں موجود گہرے ڈھانچہ جاتی مسئلے کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ مارکیٹ کا زیادہ تر حصہ دو بڑی کمپنیوں میں تقسیم ہے۔ انڈیگو کے پاس 60 فیصد سے زائد شیئر ہے جبکہ ایئر انڈیا تقریباً 27 فیصد رکھتی ہے۔ اس طرح کے ڈھانچے میں طلب بڑھنے پر سپلائی کو فوری نہیں بڑھایا جا سکتا جس کے نتیجے میں کرایے بڑھتے ہیں اور حکومت کو قیمتوں کی حد مقرر کرنا پڑتی ہے۔
بھارت جو جلد دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے جا رہا ہے اسے ضروری شعبوں میں زیادہ مضبوط کمپنیوں کی ضرورت ہے۔ مسابقت کے فروغ، سرمایہ کاری کے آسان ماحول اور بہتر منصوبہ بندی کے بغیر ایسا بحران بار بار جنم لیتا رہے گا۔ کشمیر کے مسافر بھی اسی کمزور ڈھانچے کے سبب ہر افراتفری کا پہلا شکار بنتے ہیں۔
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ مضبوط نظام، بہتر نگرانی اور دور اندیش پالیسی کے بغیر جدید معیشت کا کوئی بھی شعبہ مستحکم نہیں رہ سکتا۔
بھارت کی فضائی افراتفری
بھارت کی فضائی افراتفری
بھارت جو دنیا کی تیسرے نمبر کی اندرونی فضائی منڈی ہے، گزشتہ چند دنوں سے شدید افراتفری کا شکار ہے۔ روزانہ سینکڑوں پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں، ہزاروں مسافر ایئرپورٹس پر پھنسے ہیں اور پورا نظام بے ترتیبی کی لپیٹ میں ہے۔ نقصان صرف منسوخ پروازوں تک محدود نہیں بلکہ مہنگی ری بکنگ، ضائع ہونے والے گھنٹے اور منسوخ تقریبات نے عوام کو بڑا مالی بوجھ دیا ہے۔ کشمیر کے مسافر بھی محدود پروازوں کے باعث دوہری مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بحران صاف ظاہر کرتا ہے کہ ذمہ داری ایئرلائن اور ریگولیٹر دونوں پر برابر عائد ہوتی ہے۔
ملک کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو کا وضاحتی بیان کہ مسئلہ غلط اندازوں اور منصوبہ جاتی خلا کی وجہ سے پیدا ہوا، کافی نہیں۔ FDTL کے نئے قواعد 1 جولائی اور 1 نومبر کو نافذ ہوئے تھے، اس لئے ایک وسیع نیٹ ورک چلانے والی ایئرلائن کو پہلے ہی اس صورتحال کا اندازہ ہو جانا چاہیے تھا۔ کمپنی کے پیش کردہ اعداد و شمار بھی واضح کرتے ہیں کہ عملے کی کمی اصل وجہ ہے۔ نئے قواعد کے تحت انڈیگو کو 2422 کپتان اور 2153 فرسٹ آفیسرز درکار ہیں جبکہ اس کے پاس 2357 کپتان اور 2194 فرسٹ آفیسرز ہیں۔ یہ کمی پورے نظام پر اثر انداز ہوتی ہے اور یہی ہوا۔
ریگولیٹر DGCA کا کردار بھی سوالات سے خالی نہیں۔ پائلٹ تھکن جیسے حساس معاملے میں اسے اصول سختی سے نافذ کرنے چاہیے تھے مگر عارضی نرمی دے کر اس نے کمزوری کا تاثر دیا۔ حفاظت ہمیشہ اولین ترجیح ہونی چاہیے تھی۔
یہ بحران بھارت کے ایوی ایشن سیکٹر میں موجود گہرے ڈھانچہ جاتی مسئلے کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ مارکیٹ کا زیادہ تر حصہ دو بڑی کمپنیوں میں تقسیم ہے۔ انڈیگو کے پاس 60 فیصد سے زائد شیئر ہے جبکہ ایئر انڈیا تقریباً 27 فیصد رکھتی ہے۔ اس طرح کے ڈھانچے میں طلب بڑھنے پر سپلائی کو فوری نہیں بڑھایا جا سکتا جس کے نتیجے میں کرایے بڑھتے ہیں اور حکومت کو قیمتوں کی حد مقرر کرنا پڑتی ہے۔
بھارت جو جلد دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے جا رہا ہے اسے ضروری شعبوں میں زیادہ مضبوط کمپنیوں کی ضرورت ہے۔ مسابقت کے فروغ، سرمایہ کاری کے آسان ماحول اور بہتر منصوبہ بندی کے بغیر ایسا بحران بار بار جنم لیتا رہے گا۔ کشمیر کے مسافر بھی اسی کمزور ڈھانچے کے سبب ہر افراتفری کا پہلا شکار بنتے ہیں۔
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ مضبوط نظام، بہتر نگرانی اور دور اندیش پالیسی کے بغیر جدید معیشت کا کوئی بھی شعبہ مستحکم نہیں رہ سکتا۔


