کشمیر کی بگڑتی فضائی کیفیت!

کشمیر کی پہچان ہمیشہ اس کی شفاف اور صحت بخش کوہستانی ہوا رہی ہے، وہی ہوا جو اس وادی کو سکون، پاکیزگی اور قدرتی حسن کا استعارہ بناتی ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہی نعمت اب ایک سنجیدہ خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔ اس ہفتے وادی بھر میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی اور کئی علاقوں میں ایئر کوالٹی ‘سیوریئر’ زمرے میں داخل ہو گئی۔ AQI.in کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے کچھ حصوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس 288 تک پہنچ گیا، جبکہ سرینگر نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 147 سے 172 کے درمیان آلودگی کی سطح ریکارڈ کی، جو "خراب” سے لے کر "غیر صحت بخش” زمرے تک جاتی ہے۔
مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ فضا میں موجود ٹھوس ذرات کی مقدار انتہائی بلند ہے۔ PM10 کی سطح 136 سے 243 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر کے درمیان رہی، جبکہ PM2.5کی مقدار 86 سے 167 مائیکرو گرام تک پہنچی۔ یہ دونوں سطحیں عالمی ادارۂ صحت کے تجویز کردہ محفوظ معیار سے بہت زیادہ ہیں۔ اتنے باریک اور مضر ذرات صرف دھند میں اضافہ نہیں کرتے، بلکہ پھیپھڑوں کی گہرائی تک جا کر سانس کی دائمی بیماریوں کو جنم دیتے ہیں اور صحت پر دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔
اگرچہ کشمیر میں دہلی جیسے بڑے صنعتی علاقے نہیں، مگر یہاں کی آلودگی کی بڑی وجہ گھریلو سرگرمیاں اور روزمرہ کی انسانی عادتیں ہیں، جنہیں بدلا جا سکتا ہے اور بدلا جانا چاہیے۔ ٹریفک کا بے ہنگم بہاؤ شہر کی فضا کو مسلسل دھوئیں سے بھر رہا ہے، جبکہ گھروں اور مساجد کے حمام مستقل دھواں چھوڑ کر رہائشی علاقوں کی فضا کو مزید بوجھل بنا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چنار کے پتوں اور گھریلو کوڑے کی موسمی جلاؤ مہم پورے ماحول کو دھوئیں کی ایک موٹی تہہ میں لپیٹ دیتی ہے۔
یہ بحران کسی بڑے کارخانے کی وجہ سے نہیں بلکہ ہماری وہ معمولی عادتیں ہیں جو برسوں سے جاری ہیں اور اب ماحول کے لئے خطرہ بن چکی ہیں۔ اسی لئے حل بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ پتوں کو جلانے پر پابندی، حماموں کے دھوئیں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات، صاف ایندھن اور بہتر ہیٹنگ سسٹم کے فروغ، ٹریفک ڈسپلن کے نفاذ اور معیاری عوامی ٹرانسپورٹ کی فراہمی جیسے اقدامات فوری اور مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
کشمیر اپنی سب سے قیمتی قدرتی دولت کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ صاف ہوا صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ صحت عامہ کا مسئلہ اور آئندہ نسلوں کے لئے اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر آج بے حسی جاری رہی تو کل قیمت بہت بھاری ادا کرنا پڑے گی۔ وادی کو ایک بار پھر اپنی خالص اور صحت بخش فضا واپس لانے کے لئے اجتماعی اور بھرپور کوشش کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خود بھی بدلیں اور اپنے ماحول کو بھی بچائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

کشمیر کی بگڑتی فضائی کیفیت!

کشمیر کی پہچان ہمیشہ اس کی شفاف اور صحت بخش کوہستانی ہوا رہی ہے، وہی ہوا جو اس وادی کو سکون، پاکیزگی اور قدرتی حسن کا استعارہ بناتی ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہی نعمت اب ایک سنجیدہ خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔ اس ہفتے وادی بھر میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی اور کئی علاقوں میں ایئر کوالٹی ‘سیوریئر’ زمرے میں داخل ہو گئی۔ AQI.in کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے کچھ حصوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس 288 تک پہنچ گیا، جبکہ سرینگر نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 147 سے 172 کے درمیان آلودگی کی سطح ریکارڈ کی، جو "خراب” سے لے کر "غیر صحت بخش” زمرے تک جاتی ہے۔
مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ فضا میں موجود ٹھوس ذرات کی مقدار انتہائی بلند ہے۔ PM10 کی سطح 136 سے 243 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر کے درمیان رہی، جبکہ PM2.5کی مقدار 86 سے 167 مائیکرو گرام تک پہنچی۔ یہ دونوں سطحیں عالمی ادارۂ صحت کے تجویز کردہ محفوظ معیار سے بہت زیادہ ہیں۔ اتنے باریک اور مضر ذرات صرف دھند میں اضافہ نہیں کرتے، بلکہ پھیپھڑوں کی گہرائی تک جا کر سانس کی دائمی بیماریوں کو جنم دیتے ہیں اور صحت پر دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔
اگرچہ کشمیر میں دہلی جیسے بڑے صنعتی علاقے نہیں، مگر یہاں کی آلودگی کی بڑی وجہ گھریلو سرگرمیاں اور روزمرہ کی انسانی عادتیں ہیں، جنہیں بدلا جا سکتا ہے اور بدلا جانا چاہیے۔ ٹریفک کا بے ہنگم بہاؤ شہر کی فضا کو مسلسل دھوئیں سے بھر رہا ہے، جبکہ گھروں اور مساجد کے حمام مستقل دھواں چھوڑ کر رہائشی علاقوں کی فضا کو مزید بوجھل بنا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چنار کے پتوں اور گھریلو کوڑے کی موسمی جلاؤ مہم پورے ماحول کو دھوئیں کی ایک موٹی تہہ میں لپیٹ دیتی ہے۔
یہ بحران کسی بڑے کارخانے کی وجہ سے نہیں بلکہ ہماری وہ معمولی عادتیں ہیں جو برسوں سے جاری ہیں اور اب ماحول کے لئے خطرہ بن چکی ہیں۔ اسی لئے حل بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ پتوں کو جلانے پر پابندی، حماموں کے دھوئیں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات، صاف ایندھن اور بہتر ہیٹنگ سسٹم کے فروغ، ٹریفک ڈسپلن کے نفاذ اور معیاری عوامی ٹرانسپورٹ کی فراہمی جیسے اقدامات فوری اور مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
کشمیر اپنی سب سے قیمتی قدرتی دولت کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ صاف ہوا صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ صحت عامہ کا مسئلہ اور آئندہ نسلوں کے لئے اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر آج بے حسی جاری رہی تو کل قیمت بہت بھاری ادا کرنا پڑے گی۔ وادی کو ایک بار پھر اپنی خالص اور صحت بخش فضا واپس لانے کے لئے اجتماعی اور بھرپور کوشش کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خود بھی بدلیں اور اپنے ماحول کو بھی بچائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں