جنگ نیوز ڈیسک
جموں کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کے زیر اہتمام سری نگر میں معاصر اردو تحقیق پر ایک روزہ سمینار منعقد کیا گیا جس میں نامور ادبا، محققین اور سکالر بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ سمینار میں پروفیسر نذیر احمد ملک نے کلیدی خطاب پیش کرتے ہوئے تحقیق کے بنیادی اصولوں اور معاصر علمی تقاضوں پر جامع گفتگو کی۔ اس موقع پر ان کی نئی تصنیف اردو اور کشمیری کے لسانی رشتے اور رابطے کی رسم اجرا بھی انجام دی گئی جبکہ شیرازہ اردو کا تازہ شمارہ، جو فاروق نازکی نمبر ہے، بھی منظر عام پر لایا گیا۔
تقریب کی صدارت ممتاز شاعر اور براڈکاسٹر رفیق راز نے کی۔ ڈاکٹر نذیر آزاد اور ڈاکٹر اعجاز محمد شیخ مہمانان خصوصی کے طور پر موجود رہے۔ سمینار میں معاصر اردو تحقیق کو درپیش مسائل، چیلنجوں اور انحطاط کے اسباب پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مختلف نشستوں میں ڈاکٹر مشتاق حیدر، ناصر مرزا، سلیم سالک، ڈاکٹر جوہر قدوسی، شہزادہ سلیم اور دیگر اہل علم نے تحقیقی صورت حال خصوصاً جامعات اور آزاد تحقیق کے تناظر میں مدلل بحث کی۔
تقریب میں رخسانہ جبین، انجینئر شفیع احمد، ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی، ڈاکٹر کوثر رسول، اشرف عادل، مولوی شوکت حسین کینگ، ڈاکٹر شبنم عشائی، ڈاکٹر یاسین گنائی، ناصر ضمیر، ڈاکٹر آفاق عزیز، ڈاکٹر شوکت شفیع، ڈاکٹر اصغر رسول، صوفی یوسف، ڈاکٹر شاہ فیصل اور ڈاکٹر راشد عزیز سمیت متعدد شعرانے اور ادبا نے شرکت کی۔
تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد اقبال لون نے انجام دیے جبکہ پروگرام کا اختتام مدیر شیرازہ اردو محمد سلیم سالک کے شکریہ کے ساتھ ہوا۔


