برصغیر کے تعلیمی منظرنامے میں ایک بنیادی خامی ہمیشہ سے نمایاں رہی ہے۔ تعلیم دو خانوں میں بٹی رہی، ایک وہ جسے ڈگریوں کی چمک حاصل تھی، دوسرا وہ جسے محض ہنر کہہ کر پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ نوآبادیاتی دور کی یہ تقسیم آج تک ہمارے نوجوانوں کی راہوں کو محدود رکھے ہوئے ہے۔ پالیسی سازی تو ہوتی رہی، مگر عمل درآمد کی کمزوری نے ہنر مندانہ تعلیم کو وہ مقام کبھی نہ دیا جس کی اسے ضرورت تھی۔
نئی قومی تعلیمی پالیسی اس جمود کو توڑنے کی کوشش ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہنر کو تعلیمی دھارے میں مرکزی حیثیت دی جائے، اسکول کی چھٹی جماعت سے ہی عملی تربیت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے، اور نوجوانوں کو صنعت سے براہ راست جوڑا جائے۔ بھارت کی نوجوان آبادی اس وقت ایک طاقت ہے، شرط یہ ہے کہ اسے اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ تربیت ملے، اور ہدف یہ ہے کہ پچاس فیصد طلبہ 2025 تک کسی نہ کسی عملی مہارت سے لیس ہوں۔
صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون اس تبدیلی کا بنیادی ستون ہے۔ ہنر کونسلیں، تکنیکی تعلیم کے ادارے، اور تربیت یافتہ ماہرین مل کر وہ خلا پُر کر سکتے ہیں جو برسوں سے پیشہ ورانہ تعلیم کو کمزور کیے ہوئے ہے۔ حکومت کی جانب سے تربیت اور اپرنٹس شپ کے لئے دیے جانے والے مراعات نوجوانوں کے لئے راستے ہموار کر رہے ہیں، شرط یہ ہے کہ ان پر سخت نگرانی ہو تاکہ تربیت معیار کے مطابق ہو، نہ کہ سستا مزدور پیدا کرنے کا ذریعہ۔
عملی تربیت، میدان میں مشاہدہ، اور ملازمت کے دوران سیکھنے کا نظام ہی وہ بنیاد ہے جس پر مستقبل کی افرادی قوت کھڑی ہوگی۔ آن لائن اور عملی تربیت کا ملا جلا ماڈل ثابت کر چکا ہے کہ کم وسائل میں بھی بڑے پیمانے پر ہنر سکھایا جا سکتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر تربیت کے معیار پر سختی سے نظر نہ رکھی گئی تو یہ سارا منصوبہ کمزور پڑ جائے گا۔
چیلنج واضح ہیں۔ اداروں کی گنجائش کم ہے، تربیت دہندگان کی کمی ہے، اور صنعت کے ساتھ روابط ابھی بھی شہر تک محدود ہیں۔ خاص طور پر چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروبار مالی مشکلات اور سہولیات کی کمی کے باعث اس تعاون میں پوری طرح شامل نہیں ہو پاتے۔ ان کے لئے مالی مراعات، تکنیکی سہولیات، اور آسان سرکاری عمل ناگزیر ہیں۔
مختصر یہ کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی محض ایک دستاویز نہیں، بھارت کے تعلیمی مستقبل کا نقشہ ہے۔ اگر اسے درست سمت میں نافذ کیا گیا تو یہ نوجوانوں کو صرف ملازمت ڈھونڈنے والا نہیں بلکہ مواقع پیدا کرنے والا بنا سکتی ہے۔ یہی سفر بھارت کو ایک ایسی معیشت کی طرف لے جائے گا جو ہنر، جدت اور عملی علم پر کھڑی ہو۔
ہنر پر مبنی تعلیم نیا سنگ میل
ہنر پر مبنی تعلیم نیا سنگ میل
برصغیر کے تعلیمی منظرنامے میں ایک بنیادی خامی ہمیشہ سے نمایاں رہی ہے۔ تعلیم دو خانوں میں بٹی رہی، ایک وہ جسے ڈگریوں کی چمک حاصل تھی، دوسرا وہ جسے محض ہنر کہہ کر پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ نوآبادیاتی دور کی یہ تقسیم آج تک ہمارے نوجوانوں کی راہوں کو محدود رکھے ہوئے ہے۔ پالیسی سازی تو ہوتی رہی، مگر عمل درآمد کی کمزوری نے ہنر مندانہ تعلیم کو وہ مقام کبھی نہ دیا جس کی اسے ضرورت تھی۔
نئی قومی تعلیمی پالیسی اس جمود کو توڑنے کی کوشش ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہنر کو تعلیمی دھارے میں مرکزی حیثیت دی جائے، اسکول کی چھٹی جماعت سے ہی عملی تربیت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے، اور نوجوانوں کو صنعت سے براہ راست جوڑا جائے۔ بھارت کی نوجوان آبادی اس وقت ایک طاقت ہے، شرط یہ ہے کہ اسے اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ تربیت ملے، اور ہدف یہ ہے کہ پچاس فیصد طلبہ 2025 تک کسی نہ کسی عملی مہارت سے لیس ہوں۔
صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون اس تبدیلی کا بنیادی ستون ہے۔ ہنر کونسلیں، تکنیکی تعلیم کے ادارے، اور تربیت یافتہ ماہرین مل کر وہ خلا پُر کر سکتے ہیں جو برسوں سے پیشہ ورانہ تعلیم کو کمزور کیے ہوئے ہے۔ حکومت کی جانب سے تربیت اور اپرنٹس شپ کے لئے دیے جانے والے مراعات نوجوانوں کے لئے راستے ہموار کر رہے ہیں، شرط یہ ہے کہ ان پر سخت نگرانی ہو تاکہ تربیت معیار کے مطابق ہو، نہ کہ سستا مزدور پیدا کرنے کا ذریعہ۔
عملی تربیت، میدان میں مشاہدہ، اور ملازمت کے دوران سیکھنے کا نظام ہی وہ بنیاد ہے جس پر مستقبل کی افرادی قوت کھڑی ہوگی۔ آن لائن اور عملی تربیت کا ملا جلا ماڈل ثابت کر چکا ہے کہ کم وسائل میں بھی بڑے پیمانے پر ہنر سکھایا جا سکتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر تربیت کے معیار پر سختی سے نظر نہ رکھی گئی تو یہ سارا منصوبہ کمزور پڑ جائے گا۔
چیلنج واضح ہیں۔ اداروں کی گنجائش کم ہے، تربیت دہندگان کی کمی ہے، اور صنعت کے ساتھ روابط ابھی بھی شہر تک محدود ہیں۔ خاص طور پر چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروبار مالی مشکلات اور سہولیات کی کمی کے باعث اس تعاون میں پوری طرح شامل نہیں ہو پاتے۔ ان کے لئے مالی مراعات، تکنیکی سہولیات، اور آسان سرکاری عمل ناگزیر ہیں۔
مختصر یہ کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی محض ایک دستاویز نہیں، بھارت کے تعلیمی مستقبل کا نقشہ ہے۔ اگر اسے درست سمت میں نافذ کیا گیا تو یہ نوجوانوں کو صرف ملازمت ڈھونڈنے والا نہیں بلکہ مواقع پیدا کرنے والا بنا سکتی ہے۔ یہی سفر بھارت کو ایک ایسی معیشت کی طرف لے جائے گا جو ہنر، جدت اور عملی علم پر کھڑی ہو۔


