خواتین پر تشدد رکا خاتمہ مہذب سماج کی ضمانت

دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن انسانیت کو یہ یاد دلانے کے لیے منایا جاتا ہے کہ نصف دنیا آج بھی خوف، دباؤ اور عدم تحفظ کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے۔ یہ دن محض ایک علامت نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہمارے سماج کی تلخ حقیقتوں کو بے نقاب کرتا ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، آنر کلنگ، جبری شادی، معاشی استحصال اور سائبر بدسلوکی آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کو پامال کر رہی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ مظالم اکثر انہی معاشروں میں پنپتے ہیں جو خود کو مہذب اور جدید کہتے ہیں۔
اس دن کا اصل مقصد محض تقاریب اور بیانات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی اجتماعی ذمہ داری کو سمجھیں اور عورت کے خلاف ہر طرح کے تشدد کو سماجی جرم کے طور پر دیکھیں، نہ کہ “گھریلو معاملہ” سمجھ کر نظر انداز کریں۔
خواتین پر ظلم کے خلاف کامیابی کا کوئی بھی سفر تین بنیادی ستونوں پر کھڑا ہے: مضبوط قانون، عملی نفاذ اور سماجی شعور۔ بہت سی ریاستوں نے قوانین تو بنا دیے لیکن نفاذ کمزور ہونے کے باعث ظلم کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مؤثر انصاف کا نظام، محفوظ ماحول، پولیس کی حساس تربیت اور خواتین کے لیے فوری مددگار مراکز کی ضرورت بھی ناگزیر ہے۔
دوسری طرف سماج کی سوچ بدلنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جب تک ہم بچپن سے لڑکے اور لڑکی دونوں کو برابر عزت، برابر مواقع، اور برابری کی پہچان نہیں سکھاتے تب تک قوانین بھی محدود اثر رکھتے ہیں۔ تشدد کی اصل جڑ وہ ذہنیت ہے جو عورت کو کمزور، تابع یا ثانوی حیثیت کا حامل سمجھتی ہے۔ اس ذہنیت کو بدلنے کے لیے گھروں سے لے کر اسکولوں، میڈیا اور مذہبی و سماجی پلیٹ فارمز تک مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن ہم سے یہ سوال پوچھتا ہے کہ ہم نے اس سمت میں کیا بدلا، کس کی حفاظت کی، کس کے حق میں آواز اٹھائی اور کہاں خاموش رہے۔
اگر ہم واقعی ایک محفوظ اور منصفانہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں صرف عورت کے خلاف ظلم روکنا نہیں بلکہ اسے عزت، وقار اور خود مختاری کے ساتھ جینے کا اختیار بھی دینا ہوگا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عورت پر ہاتھ اٹھانا صرف ایک جرم نہیں، بلکہ انسانیت پر حملہ ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموشی توڑیں، ذمہ داری قبول کریں اور ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں جہاں عورت نہ ڈرے، نہ دبے بلکہ اعتماد کے ساتھ زندگی گزارے۔ یہی ایک بہتر اور مہذب دنیا کی حقیقی پہچان ہوگی۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

خواتین پر تشدد رکا خاتمہ مہذب سماج کی ضمانت

دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن انسانیت کو یہ یاد دلانے کے لیے منایا جاتا ہے کہ نصف دنیا آج بھی خوف، دباؤ اور عدم تحفظ کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے۔ یہ دن محض ایک علامت نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہمارے سماج کی تلخ حقیقتوں کو بے نقاب کرتا ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، آنر کلنگ، جبری شادی، معاشی استحصال اور سائبر بدسلوکی آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کو پامال کر رہی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ مظالم اکثر انہی معاشروں میں پنپتے ہیں جو خود کو مہذب اور جدید کہتے ہیں۔
اس دن کا اصل مقصد محض تقاریب اور بیانات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی اجتماعی ذمہ داری کو سمجھیں اور عورت کے خلاف ہر طرح کے تشدد کو سماجی جرم کے طور پر دیکھیں، نہ کہ “گھریلو معاملہ” سمجھ کر نظر انداز کریں۔
خواتین پر ظلم کے خلاف کامیابی کا کوئی بھی سفر تین بنیادی ستونوں پر کھڑا ہے: مضبوط قانون، عملی نفاذ اور سماجی شعور۔ بہت سی ریاستوں نے قوانین تو بنا دیے لیکن نفاذ کمزور ہونے کے باعث ظلم کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مؤثر انصاف کا نظام، محفوظ ماحول، پولیس کی حساس تربیت اور خواتین کے لیے فوری مددگار مراکز کی ضرورت بھی ناگزیر ہے۔
دوسری طرف سماج کی سوچ بدلنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جب تک ہم بچپن سے لڑکے اور لڑکی دونوں کو برابر عزت، برابر مواقع، اور برابری کی پہچان نہیں سکھاتے تب تک قوانین بھی محدود اثر رکھتے ہیں۔ تشدد کی اصل جڑ وہ ذہنیت ہے جو عورت کو کمزور، تابع یا ثانوی حیثیت کا حامل سمجھتی ہے۔ اس ذہنیت کو بدلنے کے لیے گھروں سے لے کر اسکولوں، میڈیا اور مذہبی و سماجی پلیٹ فارمز تک مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن ہم سے یہ سوال پوچھتا ہے کہ ہم نے اس سمت میں کیا بدلا، کس کی حفاظت کی، کس کے حق میں آواز اٹھائی اور کہاں خاموش رہے۔
اگر ہم واقعی ایک محفوظ اور منصفانہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں صرف عورت کے خلاف ظلم روکنا نہیں بلکہ اسے عزت، وقار اور خود مختاری کے ساتھ جینے کا اختیار بھی دینا ہوگا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عورت پر ہاتھ اٹھانا صرف ایک جرم نہیں، بلکہ انسانیت پر حملہ ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموشی توڑیں، ذمہ داری قبول کریں اور ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں جہاں عورت نہ ڈرے، نہ دبے بلکہ اعتماد کے ساتھ زندگی گزارے۔ یہی ایک بہتر اور مہذب دنیا کی حقیقی پہچان ہوگی۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں