طارق منور
ٹنگمرگ، کشمیر
شجر سے پتے جب ہوا کے ایک جھونکے سے بکھر جاتے ہیں تو اُن کے زخم اور دکھ نمایاں ہو جاتے ہیں۔ کنکر پہاڑ سے زلزلے کی دھڑکن پر اجنبی ہو جاتے ہیں، اور موجوں کی طغیانی میں قطرہ سمندر سے جدا ہو کر درد سہتا رہتا ہے۔ اپنے سے اپنا جدا ہونا کسی کرب سے کم نہیں ہوتا۔ یہ تعلق اور انسیت زنجیر یا طوق سے نہیں، بلکہ خلوص، صبر اور محبت سے پروان چڑھتے ہیں۔
میں نخلستان کے بیچ ایک سایہ دار کھجور کے تلے رات کی پناہ ڈھونڈ رہا تھا۔ نظریں ہر سمت بھٹکیں، مگر کہی کچھ نظر نہیں آیا۔ اسی لمحے پیچھے سے ایک محبت بھری نرم صدا اُبھری:
“اے ہمارے محبوب کے امتی… غم نہ کر۔”
میں ٹھٹھک گیا۔ سامنے کا منظر الفاظ کی گرفت میں آنے والا نہ تھا۔ کوہِ عہد نے اپنے دامن کو وسعت دی اور مجھے آغوشِ کرم میں لے لیا۔ رات کے لمحات کا قافلہ ہمارے سامنے سے گزرا۔ میں نے پوچھا:
“یہ قافلہ کہاں رواں ہے؟”
فرمایا: “بیٹا، ہر ایک اپنی اپنی منزل کی طرف۔”
میں نے پھر پوچھا: “اور وہ منزل کیا ہے؟”
کہا: “جسے اپنے محبوب کی رضا کی جستجو ہو، وہ عشق کے سفر میں دن رات گم رہتا ہے۔”
میری حیرت نے زبان کو پھر سوال پر آمادہ کیا:
“مجھے بتائیے، عشق کیا ہے؟ اور عاشق کسے کہتے ہیں؟”
کوہِ عہد نے ٹھہر کر نرم لہجے میں کہا:
“بیٹا… عاشق بہت دیکھے ہیں۔ مگر جس عاشق کی عاشقی پر میں متاثر ہوا ہوں، اُس کا کچھ ذکر کرتا ہوں۔۔۔
میں ادب سے دو زانو ہو بیٹھا۔
کوہِ عہد نے آغاز کیا:
“یہ عاشق حبشہ کا رہنے والا تھا۔ نہ مال و دولت، نہ حسب و نسب کی نمود۔ گھر بھی معمولی۔ مگر دل گلاب کے نرم ترین پُرے سے بھی زیادہ نرم، اور سمندر کی گہرائی سے بھی کہیں زیادہ عمیق۔ اپنے محبوب کی خاطر اُس نے وطن، گھر اور عزیز ترین رشتے تک چھوڑ دیے۔ اُس کی زندگی کا ہر لمحہ محبوب کے نام ہو چکا تھا۔ محبوب کی ایک جھلک اسے راحت دیتی۔ تعلق ایسا کہ جہاں محبوب، وہاں عاشق بھی۔ یہ عشق خاموشی کی طرح رواں تھا، مگر ہر سانس کے ساتھ زندہ۔
پھر وصل کے سائے سمٹ گئے۔ محبوب پردہ فرما گئے۔ عاشق کے دل میں ہجر کی آگ بھڑک اٹھی۔ وہ محبوب کے شہر سے دور چلا گیا، مگر جدائی کا کرب اس کے ساتھ رہا۔”
کوہِ عہد درد بھرے لہجے میں اس قدر بول رہا تھا۔کہ
اس کی سنگی پیشانی پر نمی تیر رہی ہے۔ آنکھوں میں ایک موج لرز رہی تھی۔ میرا دل بھی کانپ اٹھا۔
لرزتی آواز میں میں نے پوچھا:
“پھر… پھر کیا ہوا؟”
کوہِ عہد نے سلسلۂ سخن جاری رکھا:
“یہ نحیف عاشق راتوں کو خواب کی چوکھٹ پر دستک دینے لگا۔ ایک شب اسے اپنے محبوب کی زیارت نصیب ہوئی۔ محبوب نے فرمایا:
‘تم میرے کیسے عاشق ہو؟ میرا شہر ہی چھوڑ دیا۔’
خواب کی بشارت ملتے ہی عاشق پھر محبوب کے شہر کی طرف روانہ ہوا۔ مسلسل سفر، مسلسل تڑپ… خواب کا غلبہ ایسا تھا کہ اسے یہ خیال ہی نہ رہا کہ محبوب وصال فرما چکے ہیں۔
یوں چلتے چلتے محبوب کی دہلیز پر پہنچ گیا۔ دروازے پر دستک دی، مگر کوئی جواب نہ ملا۔ آنکھوں کے دریچوں میں آنسوؤں کا سمندر لبریز تھا۔ وہ ٹوٹے قدموں سے مسجد کی طرف بڑھا۔ ایک صف میں جا بیٹھا—سر جھکائے، دل ہجر کے داغوں سے بھرا ہوا۔ محبوب کے حجرے کی طرف دیکھنے کی ہمت نہ تھی… شاید وہ دیکھتا تو مر ہی جاتا۔
نماز کا وقت قریب ہوا۔ ایک اللہ کے بندے نے نہایت نرمی سے کہا:
“حضرت… اذان دیجیے۔”
حضرت نے لرزتے لہجے میں کہا:
“نہیں بھائی… مجھ سے نہیں ہوگا۔ میری ساری قوت ٹوٹ چکی ہے۔ پہلے جب اذان میں اشہد أن محمدًا رسول اللہ کہتا، تو اپنے محبوب کے رخِ انور کی طرف دیکھتا تھا۔ آج میں کس کی طرف دیکھوں؟ مجھ سے نہیں ہوگا…”
انہوں نے انکار کیا، مگر لوگوں کی آرزو تھی کہ اذان انہی کی آواز سے ہو۔ پھر جنت کے شہزادوں کو بھیجا گیا۔ وہ نرم لہجے میں بولے:
“چچا… آپ اذان دیں گے نا؟”
یہ سوال محبوب کے محبوبوں کا تھا… انکار ممکن نہ تھا۔
حضرت نے خود کو سنبھالا اور درد بھرے لہجے میں کہا:
“پیارو… تمہارے لیے جان بھی حاضر۔ ٹھیک ہے، میں اذان دیتا ہوں۔”
حضرت کھڑے ہوئے۔ مسجد میں سناٹا پھیل گیا۔ انہوں نے کانوں تک ہاتھ اٹھائے:
“اللہ اکبر… اللہ اکبر…”
آواز مدینہ کی فضاؤں میں گونجنے لگی۔ دروازوں، کھڑکیوں، گلیوں اور بازاروں سے لوگ دوڑتے ہوئے مسجد کی طرف آنے لگے۔ آہوں اور سسکیوں کی گونج پورے شہر میں پھیل گئی۔ کوئی آنکھ ایسی نہ رہی جس میں آنسو نہ تھے۔
حضرت اذان کے کلمات پڑھتے گئے۔ لوگ جوق در جوق مسجد میں داخل ہوتے رہے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے دورِ نبوت پھر لوٹ آیا ہو۔
جب اشہد أن محمدًا رسول اللہ پر پہنچے تو زبان ساکت ہوگئی۔ آنکھوں سے بہتا دریا ایک دم رُک گیا۔ پورا بدن کپکپایا… اور وہ گر پڑے۔ بے ہوش ہوگئے۔
ایک عاشق کی دنیا اس کا محبوب ہوتا ہے۔ وہ چلا جائے تو جینا مشکل ہو جاتا ہے۔ پوری مسجد میں رونے کی آوازیں گونجنے لگیں۔ یہ بھی اذان تھی—مگر ہجر کی اذان۔
اسی لمحے سورج کی پہلی کرن کوہِ عہد کے رخ پر پڑی۔ پوری رات آنکھ جھپکنے میں گزر گئی۔ میں رخصت ہونے لگا۔ چند قدم چلا تھا کہ آواز آئی:
“اے میرے محبوب کے امتی… سنو…”
میں رکا، دھیرے دھیرے کوہِ عہد کے قریب آیا۔
کوہِ عہد نے کہا:
“جانتے ہو اس پاکیزہ عشق کا عاشق اور محبوب کون تھے؟”
میں نے کہا: “نہیں… اگر آپ بتا دیں تو کرم ہوگا۔”
کوہ نے وقفے کے بعد نرم لہجے میں کہا:
“عاشق… حضرت بلال حبشیؓ تھے،
اور محبوب… سرکارِ دو عالم ﷺ۔”
میری روح میں کپکپی دوڑ گئی۔ جسم کا ریشہ ریشہ کھڑا ہوگیا۔
میں نے ادباً عرض کیا۔۔ اے کوہِ عہد پھر کیا ہوا:
“یہ عشق سے لبریز اور دردِ ہجر سے معمور داستان… کبھی اور سناؤں گا۔”


