G20 میں امریکا کی غیر حاضری

جنوبی افریقہ کا یہ اعلان کہ صدر سیرل رامافوسا G20 کی آئندہ صدارت کسی امریکی سفارتی اہلکار کے حوالے نہیں کریں گے، محض ایک سفارتی انکار نہیں بلکہ عالمی سیاست میں بدلتے توازن کا واضح اشارہ ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جوہانسبرگ سربراہی اجلاس میں عدم شرکت، اور اس سے پہلے مختلف عالمی فورمز سے دستبرداری کے بعد واشنگٹن عالمی اداروں میں تنہائی کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
G20 محض ایک پروٹوکول تقریب نہیں جہاں کسی بھی سطح کا نمائندہ بھیج کر رسمی کارروائی پوری کر لی جائے۔ یہ وہ فورم ہے جہاں عالمی رہنما باہم برابری کی سطح پر بیٹھتے ہیں، اور فیصلے مشترکہ ذمہ داری کے تحت لئے جاتے ہیں۔ جنوبی افریقہ نے امریکی سفارت خانے کے ایک عہدیدار کو صدارت سپرد کرنے سے انکار کر کے یہ اصول قائم رکھا کہ عالمی قیادت سنجیدگی، حاضری اور احترام کی متقاضی ہے۔
ٹرمپ کی غیر حاضری کو محض ایک وقتی حکمت عملی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اقوام متحدہ سے لے کر ماحولیات، ترقیاتی اور اقتصادی فورمز تک، متعدد مواقع پر واشنگٹن کی پسپائی نے عالمی سطح پر عدم اعتماد پیدا کیا ہے۔ اس پر مزید تلخی ٹرمپ انتظامیہ کے اس بیان نے پیدا کی کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام شہریوں پر مبینہ ظلم ہو رہا ہے، ایک ایسا دعویٰ جسے نہ صرف پریٹوریا بلکہ عالمی برادری نے بے بنیاد قرار دیا۔
جنوبی افریقہ کا حالیہ قدم دراصل ادارہ جاتی وقار کا دفاع ہے۔ یہ پیغام بھی ہے کہ عالمی فورمز پر قیادت کا حق ان ہی کو حاصل ہے جو وہاں موجود ہوں، سنجیدگی دکھائیں اور مکالمے کا حصہ بنیں۔ بڑے ممالک اگر اپنی بنائی ہوئی عالمی میز سے خود ہی اٹھ جائیں تو دنیا ان کی غیر موجودگی کا وزن ہمیشہ نہیں اٹھا سکتی۔
گزشتہ برسوں میں دنیا پہلے ہی جغرافیائی کشیدگی، ماحولیاتی بحران اور اقتصادی عدم توازن جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں جی ٹوئنٹی کی مضبوطی اور یکجہتی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ امریکا کا یہ طرز عمل نہ صرف فورم کو کمزور کرتا ہے بلکہ عالمی ترقیاتی ایجنڈے پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا امریکا اب بھی خود کو عالمی قیادت کے لئے تیار سمجھتا ہے، یا وہ بڑے فیصلوں سے کنارہ کشی کا راستہ اختیار کر چکا ہے؟
جنوبی افریقہ نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ قیادت محض طاقت کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا نام ہے۔ جو حاضر نہ ہو، اسے قیادت کی کرسی نہیں مل سکتی۔ دنیا یہ پیغام صاف سن رہی ہے، اور شاید وقت آ گیا ہے کہ واشنگٹن بھی اسے سنجیدگی سے لے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

G20 میں امریکا کی غیر حاضری

جنوبی افریقہ کا یہ اعلان کہ صدر سیرل رامافوسا G20 کی آئندہ صدارت کسی امریکی سفارتی اہلکار کے حوالے نہیں کریں گے، محض ایک سفارتی انکار نہیں بلکہ عالمی سیاست میں بدلتے توازن کا واضح اشارہ ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جوہانسبرگ سربراہی اجلاس میں عدم شرکت، اور اس سے پہلے مختلف عالمی فورمز سے دستبرداری کے بعد واشنگٹن عالمی اداروں میں تنہائی کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
G20 محض ایک پروٹوکول تقریب نہیں جہاں کسی بھی سطح کا نمائندہ بھیج کر رسمی کارروائی پوری کر لی جائے۔ یہ وہ فورم ہے جہاں عالمی رہنما باہم برابری کی سطح پر بیٹھتے ہیں، اور فیصلے مشترکہ ذمہ داری کے تحت لئے جاتے ہیں۔ جنوبی افریقہ نے امریکی سفارت خانے کے ایک عہدیدار کو صدارت سپرد کرنے سے انکار کر کے یہ اصول قائم رکھا کہ عالمی قیادت سنجیدگی، حاضری اور احترام کی متقاضی ہے۔
ٹرمپ کی غیر حاضری کو محض ایک وقتی حکمت عملی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اقوام متحدہ سے لے کر ماحولیات، ترقیاتی اور اقتصادی فورمز تک، متعدد مواقع پر واشنگٹن کی پسپائی نے عالمی سطح پر عدم اعتماد پیدا کیا ہے۔ اس پر مزید تلخی ٹرمپ انتظامیہ کے اس بیان نے پیدا کی کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام شہریوں پر مبینہ ظلم ہو رہا ہے، ایک ایسا دعویٰ جسے نہ صرف پریٹوریا بلکہ عالمی برادری نے بے بنیاد قرار دیا۔
جنوبی افریقہ کا حالیہ قدم دراصل ادارہ جاتی وقار کا دفاع ہے۔ یہ پیغام بھی ہے کہ عالمی فورمز پر قیادت کا حق ان ہی کو حاصل ہے جو وہاں موجود ہوں، سنجیدگی دکھائیں اور مکالمے کا حصہ بنیں۔ بڑے ممالک اگر اپنی بنائی ہوئی عالمی میز سے خود ہی اٹھ جائیں تو دنیا ان کی غیر موجودگی کا وزن ہمیشہ نہیں اٹھا سکتی۔
گزشتہ برسوں میں دنیا پہلے ہی جغرافیائی کشیدگی، ماحولیاتی بحران اور اقتصادی عدم توازن جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں جی ٹوئنٹی کی مضبوطی اور یکجہتی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ امریکا کا یہ طرز عمل نہ صرف فورم کو کمزور کرتا ہے بلکہ عالمی ترقیاتی ایجنڈے پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا امریکا اب بھی خود کو عالمی قیادت کے لئے تیار سمجھتا ہے، یا وہ بڑے فیصلوں سے کنارہ کشی کا راستہ اختیار کر چکا ہے؟
جنوبی افریقہ نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ قیادت محض طاقت کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا نام ہے۔ جو حاضر نہ ہو، اسے قیادت کی کرسی نہیں مل سکتی۔ دنیا یہ پیغام صاف سن رہی ہے، اور شاید وقت آ گیا ہے کہ واشنگٹن بھی اسے سنجیدگی سے لے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں