نجی اسکولوں کی من مانی پر قدغن!

جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے بدھ کے روز چار نجی اسکولوں کی الحاق منسوخ کر دی اور متعدد دیگر تعلیمی اداروں پر جرمانے عائد کیے۔ یہ فیصلہ اس پس منظر میں لیا گیا جب ان اداروں نے مقررہ نصابی قواعد کی خلاف ورزی کی، جو نہ صرف تعلیمی نظم و ضبط کو متاثر کرتا ہے بلکہ والدین اور طلبہ پر غیر ضروری مالی بوجھ بھی ڈالتا ہے۔ یہ قدم یقینی طور پر قابل تعریف ہے، مگر مسئلہ اس سے کہیں بڑا اور گہرا ہے۔
نجی اسکولوں کی لوٹ کھسوٹ گزشتہ کئی برسوں سے والدین اور سماج دونوں کے لئے تشویش کا بڑا سبب رہی ہے۔ مہنگی کتابیں، غیر ضروری کام، من مانے فیس ڈھانچے، اور اسکولوں کی جانب سے مخصوص دکانداروں یا پبلشرز سے کتابیں خریدنے پر اصرار معمول بن چکا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ابتدائی جماعتوں کے طلبہ تک کے بیگ مہنگے اور غیر ضروری بوجھ سے بھر جاتے ہیں، جبکہ والدین اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بورڈ کا موجودہ اقدام اگرچہ اہم ہے، لیکن اگر اسے اصلاحات کا مستقل اور سخت سلسلہ نہ بنایا گیا تو یہ محض ایک وقتی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف اسکولوں کو سزا دینا کافی نہ سمجھا جائے۔ جو ادارے نصابی قواعد کو پامال کرتے ہیں، انہیں منظم طریقے سے جوابدہ بنایا جائے۔ ان اسکولوں کے مالکان، پرنسپل اور انتظامی سربراہان پر بھی قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ اس من مانی کا اصل مرکز نشانے پر آئے۔ جب تک فیصلہ سازوں کو ذمہ داری کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا، حق تعلیم کے نام پر کاروبار کرنے والوں کی بیخ کنی ممکن نہیں ہوگی۔
حق تعلیم محض ایک آئینی حق نہیں بلکہ سماج کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ یہ حق اسی وقت موثر ہو گا جب تعلیم قابل رسائی اور مالی طور پر قابل برداشت ہو۔ اگر والدین اپنی کمائی کا بڑا حصہ صرف فیس، کتابوں اور غیر ضروری چارجز پر خرچ کر دیں تو ایسے نظام کو تعلیمی نہیں بلکہ تجارتی نظام کہا جائے گا۔ بچوں کے مستقبل کی تجارت بند ہونی چاہیے اور اس کے لئے حکومتی اداروں کو مزید مضبوط، شفاف اور بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھنا ہوں گی۔
بورڈ کا حالیہ فیصلہ ایک مثبت آغاز ہے، مگر اسے پورے تعلیمی ڈھانچے کی اصلاح کی طرف بڑھنے والے سفر کا حصہ بننا چاہیے۔ نجی اسکولوں کی بے جا من مانی پر قابو تب ہی ممکن ہے جب قوانین سختی سے نافذ ہوں، خلاف ورزی پر فوری اور سخت کارروائی ہو، اور والدین کو بھی یہ یقین دلایا جائے کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

نجی اسکولوں کی من مانی پر قدغن!

جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے بدھ کے روز چار نجی اسکولوں کی الحاق منسوخ کر دی اور متعدد دیگر تعلیمی اداروں پر جرمانے عائد کیے۔ یہ فیصلہ اس پس منظر میں لیا گیا جب ان اداروں نے مقررہ نصابی قواعد کی خلاف ورزی کی، جو نہ صرف تعلیمی نظم و ضبط کو متاثر کرتا ہے بلکہ والدین اور طلبہ پر غیر ضروری مالی بوجھ بھی ڈالتا ہے۔ یہ قدم یقینی طور پر قابل تعریف ہے، مگر مسئلہ اس سے کہیں بڑا اور گہرا ہے۔
نجی اسکولوں کی لوٹ کھسوٹ گزشتہ کئی برسوں سے والدین اور سماج دونوں کے لئے تشویش کا بڑا سبب رہی ہے۔ مہنگی کتابیں، غیر ضروری کام، من مانے فیس ڈھانچے، اور اسکولوں کی جانب سے مخصوص دکانداروں یا پبلشرز سے کتابیں خریدنے پر اصرار معمول بن چکا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ابتدائی جماعتوں کے طلبہ تک کے بیگ مہنگے اور غیر ضروری بوجھ سے بھر جاتے ہیں، جبکہ والدین اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بورڈ کا موجودہ اقدام اگرچہ اہم ہے، لیکن اگر اسے اصلاحات کا مستقل اور سخت سلسلہ نہ بنایا گیا تو یہ محض ایک وقتی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف اسکولوں کو سزا دینا کافی نہ سمجھا جائے۔ جو ادارے نصابی قواعد کو پامال کرتے ہیں، انہیں منظم طریقے سے جوابدہ بنایا جائے۔ ان اسکولوں کے مالکان، پرنسپل اور انتظامی سربراہان پر بھی قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ اس من مانی کا اصل مرکز نشانے پر آئے۔ جب تک فیصلہ سازوں کو ذمہ داری کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا، حق تعلیم کے نام پر کاروبار کرنے والوں کی بیخ کنی ممکن نہیں ہوگی۔
حق تعلیم محض ایک آئینی حق نہیں بلکہ سماج کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ یہ حق اسی وقت موثر ہو گا جب تعلیم قابل رسائی اور مالی طور پر قابل برداشت ہو۔ اگر والدین اپنی کمائی کا بڑا حصہ صرف فیس، کتابوں اور غیر ضروری چارجز پر خرچ کر دیں تو ایسے نظام کو تعلیمی نہیں بلکہ تجارتی نظام کہا جائے گا۔ بچوں کے مستقبل کی تجارت بند ہونی چاہیے اور اس کے لئے حکومتی اداروں کو مزید مضبوط، شفاف اور بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھنا ہوں گی۔
بورڈ کا حالیہ فیصلہ ایک مثبت آغاز ہے، مگر اسے پورے تعلیمی ڈھانچے کی اصلاح کی طرف بڑھنے والے سفر کا حصہ بننا چاہیے۔ نجی اسکولوں کی بے جا من مانی پر قابو تب ہی ممکن ہے جب قوانین سختی سے نافذ ہوں، خلاف ورزی پر فوری اور سخت کارروائی ہو، اور والدین کو بھی یہ یقین دلایا جائے کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں