ٹرمپ پلان:اقوام متحدہ کی تلخ گولی

17 نومبر 2025 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکہ کی تیار کردہ وہ قرار داد منظور کر لی جس میں صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی غزہ منصوبے کی توثیق کی گئی۔ تیرا ووٹ حق میں پڑے جبکہ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ قرار داد کے مطابق ایک بین الاقوامی فورس تشکیل دی جائے گی جو غزہ کو غیر عسکری بنائے گی، حماس کی تنظیمی قوت کو ختم کرے گی اور ایک ایسی عبوری انتظامیہ قائم کرے گی جس کی سربراہی خود ٹرمپ کریں گے۔
حماس نے اس تجویز کو فوری طور پر مسترد کر دیا اور اسے غزہ پر نئے طرز کی بالواسطہ قبضہ داری قرار دیا۔ ان کے نزدیک غیر مسلح ہونے کا تقاضا دراصل مزاحمت کو دفن کرنے کی کوشش ہے، اس لئے اس منصوبے کی بنیاد ہی ناقابل قبول ہے۔
لیکن اصل المیہ کچھ اور ہے۔ وہ جنگ بندی جس پر اس پوری سفارتی کوشش کی عمارت کھڑی ہے خود ہی زمین بوس ہو چکی ہے اور اس انہدام کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیاں ہیں۔ اکتوبر کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوج تقریباً چار سو بار جنگ بندی توڑ چکی ہے۔ کم سے کم دو سو اسی فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور پندرہ سو سے زیادہ عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں۔ اسرائیل کا دعوی ہے کہ یہ کارروائیاں سرنگوں کی صفائی کے لئے کی جا رہی ہیں لیکن کل کا فضائی حملہ جس میں بارہ بے گناہ شہری جان سے گئے ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ تل ابیب نے کبھی بھی اس جنگ بندی کو سنجیدگی سے قبول نہیں کیا۔ جوابی طور پر حماس نے چند راکٹ داغے ہیں مگر دونوں جانب کے وسائل کا فرق خود ہی منظر واضح کر دیتا ہے۔ ایک طرف جدید لڑاکا طیارے اور امریکی اسلحہ ہے دوسری طرف گھریلو ساخت کے کمزور راکٹ۔ اس عدم توازن کے درمیان فلسطینی آبادی کو اجتماعی سزا دینا کسی صورت دفاعی اقدام نہیں کہلا سکتا۔
ٹرمپ منصوبہ فلسطینی خود ارادیت کا ذکر تو کرتا ہے مگر اسے اس شرط سے مشروط کر دیتا ہے کہ پہلے مکمل غیر مسلح ہو جائیں پھر برسوں تک غیر ملکی نگرانی قبول کریں۔ یہ تصویر امن کی کم اور سرنڈر کی زیادہ لگتی ہے جسے سفارتی زبان میں چمکا کر پیش کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے جس عمل کی منظوری دی ہے اس کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس میں اسرائیل کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے اور مزاحمت کو ہی جرم بنا دیا گیا ہے۔ جب تک اسرائیل کو واقعی جنگ بندی کی پابندی پر مجبور نہیں کیا جاتا اور جب تک فلسطینیوں کو خود مختاری کے حقیقی مواقع فراہم نہیں کئے جاتے اس وقت تک یہ قرار داد تاریخی ہونے کے بجائے غزہ کی دیرینہ اذیت کے ایک اور باب کی طرح ثابت ہو گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

ٹرمپ پلان:اقوام متحدہ کی تلخ گولی

17 نومبر 2025 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکہ کی تیار کردہ وہ قرار داد منظور کر لی جس میں صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی غزہ منصوبے کی توثیق کی گئی۔ تیرا ووٹ حق میں پڑے جبکہ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ قرار داد کے مطابق ایک بین الاقوامی فورس تشکیل دی جائے گی جو غزہ کو غیر عسکری بنائے گی، حماس کی تنظیمی قوت کو ختم کرے گی اور ایک ایسی عبوری انتظامیہ قائم کرے گی جس کی سربراہی خود ٹرمپ کریں گے۔
حماس نے اس تجویز کو فوری طور پر مسترد کر دیا اور اسے غزہ پر نئے طرز کی بالواسطہ قبضہ داری قرار دیا۔ ان کے نزدیک غیر مسلح ہونے کا تقاضا دراصل مزاحمت کو دفن کرنے کی کوشش ہے، اس لئے اس منصوبے کی بنیاد ہی ناقابل قبول ہے۔
لیکن اصل المیہ کچھ اور ہے۔ وہ جنگ بندی جس پر اس پوری سفارتی کوشش کی عمارت کھڑی ہے خود ہی زمین بوس ہو چکی ہے اور اس انہدام کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیاں ہیں۔ اکتوبر کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوج تقریباً چار سو بار جنگ بندی توڑ چکی ہے۔ کم سے کم دو سو اسی فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور پندرہ سو سے زیادہ عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں۔ اسرائیل کا دعوی ہے کہ یہ کارروائیاں سرنگوں کی صفائی کے لئے کی جا رہی ہیں لیکن کل کا فضائی حملہ جس میں بارہ بے گناہ شہری جان سے گئے ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ تل ابیب نے کبھی بھی اس جنگ بندی کو سنجیدگی سے قبول نہیں کیا۔ جوابی طور پر حماس نے چند راکٹ داغے ہیں مگر دونوں جانب کے وسائل کا فرق خود ہی منظر واضح کر دیتا ہے۔ ایک طرف جدید لڑاکا طیارے اور امریکی اسلحہ ہے دوسری طرف گھریلو ساخت کے کمزور راکٹ۔ اس عدم توازن کے درمیان فلسطینی آبادی کو اجتماعی سزا دینا کسی صورت دفاعی اقدام نہیں کہلا سکتا۔
ٹرمپ منصوبہ فلسطینی خود ارادیت کا ذکر تو کرتا ہے مگر اسے اس شرط سے مشروط کر دیتا ہے کہ پہلے مکمل غیر مسلح ہو جائیں پھر برسوں تک غیر ملکی نگرانی قبول کریں۔ یہ تصویر امن کی کم اور سرنڈر کی زیادہ لگتی ہے جسے سفارتی زبان میں چمکا کر پیش کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے جس عمل کی منظوری دی ہے اس کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس میں اسرائیل کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے اور مزاحمت کو ہی جرم بنا دیا گیا ہے۔ جب تک اسرائیل کو واقعی جنگ بندی کی پابندی پر مجبور نہیں کیا جاتا اور جب تک فلسطینیوں کو خود مختاری کے حقیقی مواقع فراہم نہیں کئے جاتے اس وقت تک یہ قرار داد تاریخی ہونے کے بجائے غزہ کی دیرینہ اذیت کے ایک اور باب کی طرح ثابت ہو گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں