ہر سال 19 نومبر کو منائے جانے والا بین الاقوامی یومِ مرداں (International Men’s Day) ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مرد بھی اپنی زندگی میں ایسے مسائل سے گزرتے ہیں جن پر بہت کم بات ہوتی ہے—جیسے ذہنی دباؤ، خودکشی، بے گھری، تشدد اور منشیات کا بڑھتا ہوا جال۔ یہ دن ماہیت مردانگی کے اشتہار کے لئے نہیں، بلکہ اس حقیقت کی پہچان کے لئے ہے کہ مرد بھی کمزور ہوتے ہیں اور انہیں بھی سماجی اور ذہنی سہارا درکار ہوتا ہے۔
اسی پس منظر میں کشمیر کے مردوں کا معاملہ خاص توجہ چاہتا ہے۔ برسوں کی سیاسی بے یقینی، معاشی دباؤ نے کشمیری نوجوانوں کو خاموش ذہنی گھٹن کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ ڈپریشن اور اضطراب کے بڑھتے ہوئے معاملوںکے ساتھ خودکشی کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، مگر سماج اب بھی مرد کے رونے یا مدد مانگنے کے حق کو کمزوری سمجھتا ہے۔ اس خاموش تکلیف کو مزید گہرا کر رہی ہے منشیات کی وہ وبا جو نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہے۔ علاج کے مراکز بھر چکے ہیں مگر نشے کا دھندا کم نہیں ہوتا، اور ہر تباہ ہوتا نوجوان ایک گھر کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔
انفرادی مسائل کے ساتھ ساتھ کشمیری مرد ایک ایسے سیاسی ڈھانچے کا بھی سامنا کر رہے ہیں جسے چند خاندانوں نے اپنی ذاتی وراثت بنا رکھا ہے۔ دہائیاں گزر گئیں مگر سیاسی قیادت چند مخصوص ناموں کے گرد گھومتی رہی، جس سے نوجوانوں کا اعتماد مجروح ہوا اور ان کے لئے ترقی و قیادت کے دروازے بند رہے۔ جب معاشرہ یہ دیکھے کہ میرٹ نہیں بلکہ خاندانی نام سیاست کا معیار ہے، تو بے بسی اور بیزاری بڑھتی ہی جاتی ہے۔
کشمیر کا معاشی منظرنامہ بھی مردوں کے ذہنی بوجھ کو بڑھا رہا ہے۔ صنعتوں کی کمی، روزگار کے محدود مواقع اور گھر کی ذمہ داریوں نے ہزاروں نوجوانوں کو ذہنی تھکن اور بے سمتی میں دھکیل دیا ہے۔ اس کے باوجود، سماج ان سے مضبوط بھی رہنے کی توقع رکھتا ہے اور خاموش بھی، جو ایک اور طرح کی ناانصافی ہے۔
تشدد اور عدمِ تحفّظ کی طویل تاریخ نے کشمیری مردوں کی نفسیات پر بھی گہرے زخم چھوڑے ہیں۔ ایسی فضا میں پروان چڑھنے والی نسل کو نہ صرف اپنے مستقبل کی فکر ہے بلکہ اپنی شناخت اور عزّتِ نفس کو بچانے کی جدوجہد بھی۔
بین الاقوامی یومِ مرداں کا اصل پیغام یہی ہے کہ مردوں کے درد کو بھی پہچانا جائے، ان کی کمزوریوں کو جرم نہ سمجھا جائے اور انہیں وہ سہارا دیا جائے جو ہر انسان کا حق ہے۔ کشمیر کے مردوں کے لئے اس کا مطلب ہے—منشیات کے خلاف سنجیدہ اقدام، ذہنی صحت کے لئے سہل رسائی، بہتر روزگار، اور سب سے اہم، ایک ایسا سیاسی ماحول جہاں میرٹ اور عوامی اعتماد، خاندانی وراثت پر بھاری ہوں۔


