گاڑی چلا رہی ہے وہ

 عبدالرشید خان
 چھانہ پورہ سرینگر
گاڑی کا نام سنتے ہی ہماری آنکھوں کے سامنے وہ لمبی چوڑی خوبصورت گاڑیاں گھومنے لگتی ہیں جنہیں خریدنے کے لئے آدھی زندگی تو گزر ہی جاتی ہے، پھر بھی ان میں بیٹھنا نصیب نہیں ہوتا۔ ایک زمانہ تھا جب علم، اخلاق اور دیانتداری کسی کا مقام متعین کرتے تھے، جب سے ان کا جنازہ اٹھایا گیا اب بڑی اور قیمتی گاڑی ہی آدمی کا درجہ مقرر کرتی ہے۔ جتنی بڑی اور قیمتی گاڑی، اتنی زیادہ عزت۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ کرایے کے مکان میں رہ کر بھی قیمتی گاڑی خرید لیتے ہیں، چاہیے اس کے لئے چوری کرنا پڑے یا ڈاکہ ڈالنا، یا بینک سے قرضہ لے کر اشتہاری defaulter بن کر اپنی عزت کا فالودہ ہی کیوں نہ ہو۔
عورت جس کو "چراغِ خانہ” کا عظیم لقب دے کر چاردیواری کے اندر رہنے کے لئے مجبور کیا گیا تھا، جب سے وہ اس چراغ کو بجھا کر، معاف کیجے، گھر کے اندر بھول کر سڑک پر آئی، مردوں کا گویا ناک میں دم ہو گیا۔ کسی شاعر نے کہا تھا:
"کل تک مننے کو اپنے دودھ پلا سکتی تھی نہ جو
اَج بندر روڈ پر گاڑی چلا رہی ہے وہ”۔
مننا تو دور، مننے کے ابو کو ایک طرف کر کے اس نے زندگی کے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں (وہ اور بات ہے کہ معاملات اس قدر بھاری ہیں جنہیں میڈم کے نرم و نازک ہاتھ اچھی طرح سنبھال نہیں پاتے)۔ شادی بیاہ کے لئے خریداری کرنی ہو یا کسی کی تعزیت پرسی کے لئے جانا، کھانے پینے کا سامان لینا ہو یا بچوں کو سکول چھوڑنا، یہ سب کام گاڑی چلانے والی میڈم کر رہی ہے۔ کام صحیح ڈھنگ سے نہ ہو، اس میں میڈم کا کیا قصور!
جب سے میڈم گاڑی لے کر سڑک پر آئی، منٹوں کا سفر گھنٹوں میں بھی طے نہیں ہو پاتا، جگہ جگہ ٹریفک جام۔ اس لئے کہ میڈم کو معلوم نہیں کب اور کہاں گاڑی روک دے۔ اچانک کسی کپڑے یا زیورات کی دکان پر نظر کیا پڑی، ایک دم بریک لگا دی۔ پیچھے سے آنے والی گاڑی اور اس میں بیٹھے لوگوں کا کیا حال ہوگا، میڈم کو اس کی پرواہ نہیں۔ ہاں، نیچے اتر کر اپنی گاڑی کو دیکھے گی کہ اس کا حلیہ تو نہیں بگاڑ دیا، پھر آس گاڑی والے کو میٹھی آواز میں sorry کہہ کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کرے گی، پھر اپنی غلطی دوسرے کے سر تھوپ دے گی، اور اگر تب بھی بات نہ بنی تو وہی صدیوں پرانا آزمایا ہوا حربہ یعنی رونا دھونا۔ مجال ہے کہ وہ آدمی دوسری بات کرے؛ بیچارہ دم دبا کر بھاگ جاتا ہے کہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑیں۔
رہی بات ٹریفک والوں کی، ان کی تو تب ہی بولتی بند ہوگئی جب سے میڈم گاڑی لے کر سڑک پر آئی۔ آنکھیں ملانا تو دور، اب وہ منہ دکھانے کے لائق بھی نہ رہے۔ اپنی عزت بچانے کے لئے انہوں نے انوکھا طریقہ ڈھونڈ لیا؛ سامنے آنے کے بجائے اب وہ دور سے ہی گاڑیوں کے فوٹو لیتے ہیں۔
میڈم ڈرائیور کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی کو اپنے سے آگے جانے نہیں دیتی ہے۔ زندگی ہو یا سڑک، وہ ہر کسی کو پیچھے چھوڑ دینا چاہتی ہے۔ آدمی ہزار بار ہارن بجائے، گاڑی میں چاہے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا بیمار کو جلد از جلد ہسپتال پہنچانا ہو، کسی طالب علم کو امتحانی مرکز پہنچنے کی جلدی کیوں نہ ہو، پوری بستی جل کر راکھ ہو رہی ہو؛ مجال ہے کہ میڈم کسی کو اپنے سے آگے نکلنے دے۔
گھر کو گاڑی سے تشبیہ دی جاتی ہے اور میاں بیوی اس کے دو پہیے۔ جب تک ان دونوں میں توازن اور ہم آہنگی برقرار رہے، گاڑی آگے بڑھتی ہی رہے گی۔ میاں کو ازل سے ہی گھر کی گاڑی چلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا جس میں پورا خاندان محوِ سفر تھا: ماں باپ، دادا دادی، چاچا چچی وغیرہ۔ گاڑی چلانے والا ناہموار راستوں پر چلتے ہوئے ہزاروں مشکلات کے باوجود بلا کسی شکوہ و شکایت اسے آگے بڑھاتا تھا۔ مسافر اس سے بے فکر کہ گاڑی کیسے چل رہی ہے اور تیل کس کا جل رہا ہے، ہر کوئی دیر یا بدیر منزل پر پہنچ ہی جاتا تھا۔
لیکن جب سے میڈم نے گھر کی گاڑی چلانے کی ذمہ داری قبول کی ہے، اب یہ ہموار راستوں پر بھی ہچکولے کھا رہی ہے۔ مسافروں کے لئے سفر کٹھن ہی نہیں بلکہ عذاب بن گیا ہے، منزل کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ بوجھ ہلکا کرنے کے لئے اگرچہ میڈم نے کئی مسافروں کو بیچ راستے میں ہی اتار پھینکا، پھر بھی گاڑی آگے جانے کے بجائے پیچھے کی طرف آ رہی ہے۔ چاچا چچی نے الگ سے جوں توں کر کے لوکل گاڑی پکڑ کر آگے کا سفر جاری رکھا۔
رہی بات دادا دادی کی، وہ بغیر ٹکٹ کے اس گاڑی میں سوار ہو کر ایسی جگہ چلے گئے جہاں نہ لانے کی فکر ہے اور نہ کھانے کا غم؛ طعنے سنانے والا بھی کوئی نہیں، ہر طرف خاموشی۔
رہی بات گھر کی، میڈم نے وہ گاڑی کباڑ سمجھ کر ایسی جگہ پارک کر دی جہاں اس کا پرزہ پرزہ بیکار ہو گیا اور وہ antique بن گئی۔ "ہم دو اور ہمارا ایک” کے نعرے پر عمل کر کے الگ سے ایک چھوٹی سی گاڑی لی، جسے آج کل nuclear family کہتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

گاڑی چلا رہی ہے وہ

 عبدالرشید خان
 چھانہ پورہ سرینگر
گاڑی کا نام سنتے ہی ہماری آنکھوں کے سامنے وہ لمبی چوڑی خوبصورت گاڑیاں گھومنے لگتی ہیں جنہیں خریدنے کے لئے آدھی زندگی تو گزر ہی جاتی ہے، پھر بھی ان میں بیٹھنا نصیب نہیں ہوتا۔ ایک زمانہ تھا جب علم، اخلاق اور دیانتداری کسی کا مقام متعین کرتے تھے، جب سے ان کا جنازہ اٹھایا گیا اب بڑی اور قیمتی گاڑی ہی آدمی کا درجہ مقرر کرتی ہے۔ جتنی بڑی اور قیمتی گاڑی، اتنی زیادہ عزت۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ کرایے کے مکان میں رہ کر بھی قیمتی گاڑی خرید لیتے ہیں، چاہیے اس کے لئے چوری کرنا پڑے یا ڈاکہ ڈالنا، یا بینک سے قرضہ لے کر اشتہاری defaulter بن کر اپنی عزت کا فالودہ ہی کیوں نہ ہو۔
عورت جس کو "چراغِ خانہ” کا عظیم لقب دے کر چاردیواری کے اندر رہنے کے لئے مجبور کیا گیا تھا، جب سے وہ اس چراغ کو بجھا کر، معاف کیجے، گھر کے اندر بھول کر سڑک پر آئی، مردوں کا گویا ناک میں دم ہو گیا۔ کسی شاعر نے کہا تھا:
"کل تک مننے کو اپنے دودھ پلا سکتی تھی نہ جو
اَج بندر روڈ پر گاڑی چلا رہی ہے وہ”۔
مننا تو دور، مننے کے ابو کو ایک طرف کر کے اس نے زندگی کے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں (وہ اور بات ہے کہ معاملات اس قدر بھاری ہیں جنہیں میڈم کے نرم و نازک ہاتھ اچھی طرح سنبھال نہیں پاتے)۔ شادی بیاہ کے لئے خریداری کرنی ہو یا کسی کی تعزیت پرسی کے لئے جانا، کھانے پینے کا سامان لینا ہو یا بچوں کو سکول چھوڑنا، یہ سب کام گاڑی چلانے والی میڈم کر رہی ہے۔ کام صحیح ڈھنگ سے نہ ہو، اس میں میڈم کا کیا قصور!
جب سے میڈم گاڑی لے کر سڑک پر آئی، منٹوں کا سفر گھنٹوں میں بھی طے نہیں ہو پاتا، جگہ جگہ ٹریفک جام۔ اس لئے کہ میڈم کو معلوم نہیں کب اور کہاں گاڑی روک دے۔ اچانک کسی کپڑے یا زیورات کی دکان پر نظر کیا پڑی، ایک دم بریک لگا دی۔ پیچھے سے آنے والی گاڑی اور اس میں بیٹھے لوگوں کا کیا حال ہوگا، میڈم کو اس کی پرواہ نہیں۔ ہاں، نیچے اتر کر اپنی گاڑی کو دیکھے گی کہ اس کا حلیہ تو نہیں بگاڑ دیا، پھر آس گاڑی والے کو میٹھی آواز میں sorry کہہ کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کرے گی، پھر اپنی غلطی دوسرے کے سر تھوپ دے گی، اور اگر تب بھی بات نہ بنی تو وہی صدیوں پرانا آزمایا ہوا حربہ یعنی رونا دھونا۔ مجال ہے کہ وہ آدمی دوسری بات کرے؛ بیچارہ دم دبا کر بھاگ جاتا ہے کہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑیں۔
رہی بات ٹریفک والوں کی، ان کی تو تب ہی بولتی بند ہوگئی جب سے میڈم گاڑی لے کر سڑک پر آئی۔ آنکھیں ملانا تو دور، اب وہ منہ دکھانے کے لائق بھی نہ رہے۔ اپنی عزت بچانے کے لئے انہوں نے انوکھا طریقہ ڈھونڈ لیا؛ سامنے آنے کے بجائے اب وہ دور سے ہی گاڑیوں کے فوٹو لیتے ہیں۔
میڈم ڈرائیور کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی کو اپنے سے آگے جانے نہیں دیتی ہے۔ زندگی ہو یا سڑک، وہ ہر کسی کو پیچھے چھوڑ دینا چاہتی ہے۔ آدمی ہزار بار ہارن بجائے، گاڑی میں چاہے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا بیمار کو جلد از جلد ہسپتال پہنچانا ہو، کسی طالب علم کو امتحانی مرکز پہنچنے کی جلدی کیوں نہ ہو، پوری بستی جل کر راکھ ہو رہی ہو؛ مجال ہے کہ میڈم کسی کو اپنے سے آگے نکلنے دے۔
گھر کو گاڑی سے تشبیہ دی جاتی ہے اور میاں بیوی اس کے دو پہیے۔ جب تک ان دونوں میں توازن اور ہم آہنگی برقرار رہے، گاڑی آگے بڑھتی ہی رہے گی۔ میاں کو ازل سے ہی گھر کی گاڑی چلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا جس میں پورا خاندان محوِ سفر تھا: ماں باپ، دادا دادی، چاچا چچی وغیرہ۔ گاڑی چلانے والا ناہموار راستوں پر چلتے ہوئے ہزاروں مشکلات کے باوجود بلا کسی شکوہ و شکایت اسے آگے بڑھاتا تھا۔ مسافر اس سے بے فکر کہ گاڑی کیسے چل رہی ہے اور تیل کس کا جل رہا ہے، ہر کوئی دیر یا بدیر منزل پر پہنچ ہی جاتا تھا۔
لیکن جب سے میڈم نے گھر کی گاڑی چلانے کی ذمہ داری قبول کی ہے، اب یہ ہموار راستوں پر بھی ہچکولے کھا رہی ہے۔ مسافروں کے لئے سفر کٹھن ہی نہیں بلکہ عذاب بن گیا ہے، منزل کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ بوجھ ہلکا کرنے کے لئے اگرچہ میڈم نے کئی مسافروں کو بیچ راستے میں ہی اتار پھینکا، پھر بھی گاڑی آگے جانے کے بجائے پیچھے کی طرف آ رہی ہے۔ چاچا چچی نے الگ سے جوں توں کر کے لوکل گاڑی پکڑ کر آگے کا سفر جاری رکھا۔
رہی بات دادا دادی کی، وہ بغیر ٹکٹ کے اس گاڑی میں سوار ہو کر ایسی جگہ چلے گئے جہاں نہ لانے کی فکر ہے اور نہ کھانے کا غم؛ طعنے سنانے والا بھی کوئی نہیں، ہر طرف خاموشی۔
رہی بات گھر کی، میڈم نے وہ گاڑی کباڑ سمجھ کر ایسی جگہ پارک کر دی جہاں اس کا پرزہ پرزہ بیکار ہو گیا اور وہ antique بن گئی۔ "ہم دو اور ہمارا ایک” کے نعرے پر عمل کر کے الگ سے ایک چھوٹی سی گاڑی لی، جسے آج کل nuclear family کہتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون