طارق منور
ہردوشورہ ٹنگمرگ
رات کے ڈائے بجے یعنی تہجد کا وقت تھا۔ چاند نصف منزل پار کر چکا تھا۔ خنکی ہوائیں ہر سمت سے آ رہی تھیں، اور شبنم کے قطروں کی ٹپ ٹپ کی آواز خاموشی میں گھل رہی تھی۔ دامنِ کہسار میں وہی چھوٹا سا گھر تھا جہاں ماں اور بیٹی پناہ گزیں تھیں۔
رات کی اندھیری کمرے میں چھا گئی تھی۔ ضعیف العمر خاتون نے اک دیے کو جلایا، اور کمرے کی مٹی کی دیواریں روشن ہو گئیں۔ عادتِ جوانی کے مطابق اس ضعیفہ نے وضو کیا۔ اگرچہ باہر سردی تھی، مگر عشق کی آگ سے اس کی ہمت بڑھ گئی۔
وضو مکمل ہوا، وہ کمرے میں داخل ہوئی جو صرف عبادت کے لیے مخصوص تھا۔ قبلہ کی سیدھی دیوار پر چھوٹی سی الماری اور شلف پر قرآن اور مصلیٰ رکھے تھے۔ کمزور ہاتھوں سے قرآن اور مصلیٰ نیچے اتارے، جائے نماز بچھائی اور دو رکعت تہجد پڑھی۔
قرآنِ مجید کو سینے سے لگایا، تلاوت مکمل کی اور آگے پڑھنا شروع کیا:
"یا أيها الذين آمنوا استعينوا بالصبر والصلاة ان اللہ مع الصابرین…”
خشک ہونٹ جنبش کرنے لگے، پورا وجود وجد میں آ گیا۔ بوجھی ہوئی چشموں سے آنسو رواں ہو گئے۔ بغل والے کمرے میں اماں کی آواز سنائی دی:
"اماں جان!”
خالدہ جلدی سے آنسو پونچھ کر جواب دیں:
"ہاں میرا جگر، میں یہی ہوں۔ گھبراؤ نہیں، ابھی آ رہی ہوں۔
اماں نے دعا میں وقت گزارا، پھر اپنی یتیم بیٹی صفورہ کے کمرے میں گئی۔ سرہانے بیٹھی، صفورہ کے چہرے کو دیکھتی رہی، جبین پر بوسہ دیا، گھنگریالے بال سہلائے، اور بولی:
"میری بیٹی کی آنکھیں بالکل اپنے پاکدامن، شریف اور باوقار باپ سے ملتی ہیں۔ ہائے… کاش آج یوسف صاحب ہوتے، اور اپنی بیٹی صفورہ کو دیکھ کر خوش ہوجاتے۔ خالدہ کے کانوں میں یوسف کی یادیں بار بار گونج رہی تھیں۔
جب صفورہ بڑی ہوگی، ناں… ہم اسے اچھی تعلیم دلائیں گے، اور زمانے کے بڑے عالم دین سے نکاح کریں گے۔”
صفورہ اس وقت صرف تین سال کی تھی۔ جب اس کا باپ یوسف انتقال کر گئے، تو دل میں جو تمنا اور آرزو تھی، وہ دل میں ہی رہ گئی۔ خالدہ کی آنکھیں نم ہو گئیں، اور آنسو صفورہ کے معصوم چہرے پر گرنے لگے۔
صفورہ نے چونک کر پوچھا:
"اماں جان، یہ آنسو… آپ کیوں رو رہی ہیں؟ کیا آپ کو درد ہے؟”
خالدہ نے ہمت کر کے کہا:
"نہیں بیٹا، بس ایسے ہی۔ اچھا، اب سوتے ہیں۔”
ماں نے بیٹی کو سینے سے لگایا، اور صفورہ نے ماں کے زرد چہرے پر ہاتھ رکھا۔ یوں دونوں سو گئیں۔
صبح صادق ہوچکا تھا۔ پرندے حمدِ باری تعالیٰ کرنے لگے۔ آفتاب مشرق سے طلوع ہونے لگا۔ ایک کرن خالدہ کے گھر کے روشن دان سے داخل ہوئی اور صفورہ کی آنکھوں پر پڑی۔
صفورہ نے آنکھیں ملائیں اور رُدائ کو ہٹایا:
"اماں جان، اُٹھیں، دیکھیں آج کتنی دیر ہوگئی!”
مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ صفورہ نے ہمت کی اور نبض چیک کی۔ پورا وجود جم گیا، دل خون جم گیا، آنکھیں دنگ رہ گئیں۔ پھر صفورہ کے حلق سے ایک چیخ نکلی:
"اماں جان! آپ بھی مجھے چھوڑ کے چلی گئی… میں، آپ کی چھوٹی صفورہ، کہاں جاؤں؟”
آنکھوں سے دریا اور قلزم دونوں بہنے لگے۔ شاید خالدہ اپنے شوہر یوسف کی جدائی برداشت نہ کر پائی تھی۔ عرب کا کہاوت یاد آیا: "جدائی موت سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے”۔
خالدہ کی فوتگی کی خبر پورے محلے میں پھیل گئی۔ تجھیز و تدفین مکمل ہوئی، اور یوسف کے پہلو میں خالدہ کی قبر بنائی گئی۔ دور سے ایسا لگ رہا تھا جیسے صد سال بعد کسی منتظر کو اپنا محبوب گلے لگا رہا ہو۔
وقت آگے بڑھتا رہا، انسان بھی آگے بڑھتا گیا۔ لیکن صفورہ کا درد شدید تھا۔ اس کی پرورش اب نانی اور نانا کر رہے تھے، جو صفورہ کا بہت خیال رکھتے تھے۔ بڑے ماموں محمد حکیم نے اس کا بارہویں جماعت کا داخلہ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری میں کرایا۔
صفورہ سکول پیدل جاتی، اور راستے میں اپنا گھر دیکھ کر آنکھوں سے آنسو چھپاتی، صبر کے ریگستان میں جذب کر لیتی۔ کلاس میں صفورہ خاموش رہتی، مگر اس کے شوخ چہرے پر کرب کی کہانیاں واضح ہوتی تھیں۔
ایک دن اردو کے استاد حامد سر والدین کی خدمت اور حقوق پر لیکچر دے رہے تھے۔ صفورہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور بے ہوش ہو گئی۔ حامد سر نے اسے سینے سے لگایا، اپنے یتیم دن یاد آئے اور وہ بھی رونے لگے۔
کچھ دیر بعد صفورہ نے آنکھیں کھولیں:
"اماں جان… مجھے پانی دیں”۔
کلاس میں سہیلی نے پانی دیا۔ صفورہ نے استاد کی طرف دیکھ کر دھیمی آواز میں کہا:
"سر، جس کے ماں باپ نہیں، وہ کیا کرے؟”
حامد سر نے نرمی سے کہا:
"بیٹا، صبر…”
صفورہ بولی:
"کیا صبر… میری اماں بھی مجھے یہی کہتی تھی! میں چھوٹی ہوں، اور صبر کرنا…”
حامد سر نے سکون سے جواب دیا:
"بیٹا، جس کلفت سے تم گزر رہی ہو، میں نے بھی یہ آگ پار کی ہے۔”
صفورہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی:
"کیسے پار کیے سر؟”
حامد سر نے کہا:
"بس صبر کی کشتی میں بیٹھ کر، اللہ پر بھروسہ کیا۔ شر میں بھی خیر نکلتی ہے۔”
صفورہ نے دل سے کہا:
"سر، میں ہمیشہ اماں جان کا صبر کا دیا روشن رکھوں گی…”
چھٹی کے وقت، صفورہ خوشی خوشی گھر کی طرف لوٹ گئی، یہ سوچتے ہوئے کہ صبر اور امید کی روشنی ہمیشہ دل میں جلتی رہے گی۔


