ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی
جوں ہی شہر یار نے اپنی سلطنت کے ہر خاص و عام کو دربار میں جمع ہونے کا فیصلہ صادر فرمایا۔تو سب بلا چوں و چرا حاضر ہوکر چہ مے گوئیاں کرنے لگے کہ آیا شہر یار کا ہمیں دربار میں جمع ہونے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے۔جبکہ ہمیں اس کی شہر یاری تسلیم ہے ۔دربار سجانے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔”شاید کوئی نیا فرمان صادر ہونے والا ہے” الغرض سب اپنی سوچ کے مطابق تانے بانے بننے لگے ۔پھر زیادہ دیر نہ ہوئی کہ شہر یار اپنے تخت پر جلوہ افروز ہوتے ہی فرمانے لگا ۔ ” لوگو ! سب توجہ سے سنو ۔تم سب کو اپنی اپنی باری پر سلطنت کے کونے کونے میں جاکر آزمائش کے طور کچھ وقت کے لئے رہائش پذیر ہونا پڑے گا۔ پرکھنا چاہتاہوں کہ سلطنت میں جاکر تمہارا مستعار وقت تمہارے اختیار کے مطابق اطاعت میں گزرے گا یا روگردانی میں ۔اگر اطاعت میں کامیاب رہے واپس آکر میرے دربار میں انعام و اکرام اور بلند سے بلند درجے پر ہمیشہ کے لئے فائز رہو گے۔سلطنت میں ہر قسم کی سہولیات میسر ہوں گی۔وقتأ فوقتأ تمہاری رہنمائی کے لئے اپنے نمائندوں کو بھیجتا رہوں گا ان کی اطاعت میں تمہاری کامیابی مضمر ہے ۔بولو تمہاری کیا رائے ہے۔؟” شہر یار نے سوالیہ طور پوچھا۔ "اے شہر یار ۔ہم سب تیرے ہر حکم پر سر بسجود رہیں گے ۔نمائندوں کی اطاعت بھی کریں گے ۔شکایت کا موقع نہیں دیں گے۔” سب لوگوں نے جواب دیا ۔ ” ٹھیک ہے۔پھر اسی طرح تم سب کو اپنی اپنی باری پر واپس آنا ہوگا دربار میں آج کی طرح پھر جمع ہونا تاکہ میں تم سب کی جانچ پڑتال کروں ۔پھر نہ کہنا ہم کو خبر نہ تھی ۔” شہر یار نے تفصلأ کہا اور سب لوگوں نے جواب دیا۔”اے شہر یار ۔آج ہم سب آپ کے ساتھ یہ عہد کرتے ہیں کہ اپنا مستعار وقت اطاعت میں ہی گزاریں گے اور تیرے نمائندوں کی بھی پیروی کریں گے ” شہر یار نے سب لوگوں سے عہد لیا اور دربار بھی برخواست ہوا۔ کچھ دیر بعد شہر یار نے اپنے نمائندوں سے ایک اور مجلس کا اہتمام کیا۔اور ان کو ذمہ داری سونپ کر کہا۔۔” میں نے اپنی رعیت کو سلطنت کے کونے کونے میں بسایا ۔انہوں نے مجھ سے عہد لیا۔ممکن ہے کہ وہ بھول جائیں لہذا تم کو بھی سلطنت کے مختلف علاقوں میں جاکر ان کی رہنمائی کرنا ہوگی اور میرےعہد کی ان کو یاد دہانی کرانا تمہاری اولین ذمہ داری ہوگی۔اگر اسی دوران میرا خاص نمائندہ *شہر علم* جن کی رہنمائی میں میری ساری سلطنت ہے تمہارے دور میں سلطنت میں آجائے تم سب اسی کی فرمانبرداری میں ہر حال میں اس کا ہر حکم بجا لانا ۔اس کے علاوہ یہ ذمہ داری بھی تم پر عاید رہے گی کہ اپنے اپنے علاقے کے لوگوں کو *شہر علم* کی آمد سے مطلع کرنا تاکہ سلطنت میں *شہر علم* کا چرچا ہو۔”
شہر یار کے سب نمائندے سر تسلیم خم رہے اور اسی کے ساتھ مجلس بھی اختتام ہوگئی پھر طائر وقت پرواز کرتا گیا لیل و النہار کی گردشیں وقت کو لپیٹتی رہیں ۔سلطنت کے کسی علاقے میں لوگ شہر یار کے وعدے پر پابند رہے بلکہ شہر یار کی فرمانبرداری میں ایک دوسرے پر سبقت بھی لیتے گئے ۔خوش اور خوشحال زندگی گزارنے لگے کئی بڑی شخصیات نے شہر یار کی فرمانبرداری میں شہرت پائی خصوصأ سواع۔نسر۔ود۔یعوق۔یغوث قابل ذکر رہے۔وہ جب اپنا مستعار وقت گزارکے شہر یار کے پاس واپس چلے گئے۔تو لوگ طویل مدت تک ان کے نقش قدم پر چلے یادگار کے طور پر ان کے مجسمے بھی بنائے پھر رفتہ رفتہ شہر یار کے بجائے ان مجسموں کو اپنا مدد گار حاجت روا سمجھنے لگے اور ان کے سامنے سر جھکاکے رہے۔۔۔ شہر یار نے ان کی یاد دہانی کے لئے اپنا ایک نمائندہ (ابن اخنوخ) بھیجا وہ پیشے سے بڑھئی بھی تھا اور کشتی بنانے کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ ابن اخنوخ نے ان کو صحیح راستہ اختیار کرنے کی بہت تلقین کی شہر یار کا وعدہ بھی یاد دلایا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے بلکہ اپنے مجسموں سے چمٹے رہے۔اور سب لوگوں کو بھی اسی نعرے پر متحد کرلیا کہ اب جو ہو سو ہو ہم اپنے ان بزرگ ہستیوں سے جو مجسموں کی صورت میں ہمارے پاس ہیں کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
ابن اخنوخ نے ان کو شہر یار کے احسانات جتلاتے جتلاتے پچاس کم دس صد سال لگائے لیکن کسی نے بھی اس کی نصیحت پر کان نہ دھرا البتہ بیس کم سو افراد کو راہ راست پر لانے میں کامیابی ملی وہ بھی نچلے درجے کے پیشے سے شاید دھوبی تھے۔ جب ابن اخنوخ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو شہر یار کی بارگاہ میں اپنی دلدوز فریاد یوں بیان کرنے لگا۔
"اے شہر یار!۔میں نے لوگوں کو دن رات سمجھایا کہ شہر یار کی فرمانبرداری میں بھلائی ہے لیکن وہ فرار ہوئے ۔میں نے جب بھی ان کو تجھ سے لئے گئے عہد کی یاد دلائی ۔انہوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے اپنے اوپر لپیٹ لئے۔وہ ضد پر اڑ گئے اور تکبر کیا ۔باوجود اس کے کہ میں نے باآواز بلند بھی ان کو پکارا ۔اعلانیہ بھی کہا اور خفیہ طور بھی سمجھایا تیری لاتعداد نعمتیں اور احسانات بھی جتلائے لیکن وہ نہیں مانے بلکہ ایک بہت بڑی چال چلے اور مذہبی اور نسلی عصبیت کا سہارا لے کر عوام کو میرے خلاف بھڑکایا اور تیرے مقابلے میں سواع ” ۔ود”یعوق” نسر” اور یغوث ” کو ترجیح دی۔ اب سلطنت میں ان کا بسا ہوا ایک گھر بھی مت چھوڑ۔کیونکہ وہ تیری ساری رعیت کو اپنا جیسا بنائیں گے ۔ان سے کسی خیر کی توقع نہیں ان کا وجود ہی ختم ہونا بہتر ہے۔” شہر یار نے ابن اخنوخ کی دلدوز فریاد سن لی اور کہا۔ "ہجرت کے لئے تیار رہو اور اپنے ساتھ بیس کم سو افراد اور ہر قسم کے جانوروں کے جوڑے کو کشتی میں سوار کرلو ۔شہر یار کشتی کو محفوظ جگہ تک پہونچھائے گا ” یہ فرمان سن کر ابن اخنوخ نے حکم کے مطابق عمل کیا اور وہاں سے ہجرت کی ۔اسی دوران شہر یار کے حکم سے ابن اخنوخ کے پورے علاقے کو غرق آب کرکے صفحہ ہستی سے نیست و نابود کردیا گیا۔۔ اس واقعے کی پوری تفصیل *شہر علم* کی وساطت سے سلطنت میں پھیل گئی اور سلطنت کا ہر باشندہ *شہر علم* کا تا ابد ممنون ہے اور سلطنت میں *شہر علم* کی سرداری بھی تسلیم ہے۔۔
– نوح (ابن اخنوخ) کی دلدوز فریاد ۔۔۔ ایک تحقیقی جائزہ۔ –
مولف نے سب سے پہلے سورہ الاعراف آیت ۱۷۲ (172)کے تناظر میں عالم ارواح میں اللہ ذات پاک کے اجلاس کا ذکر کیا ۔کہ اللہ ذات پاک نے آدم کی پوری نسل یعنی آدم سے لے کر دنیا میں آنے والے آخری انسانی ارواح سے ایک عہد لیا ہے *کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں* سب ارواح نے اقرار کیا ۔پھر اللہ ذات پاک نے یہ بھی کہا کہ اسی طرح حشر کے روز تم سب کو اکٹھے جمع کرکے اپنی مستعار زندگی سے متعلق پوچھا جائے گا اور تمہاری طرف سے کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔اگر اطاعت میں مستعار زندگی گزری تو جنت میں درجے بلند سے بلند تر کردئے جائیں گے۔یہ سن کر سب انسانی ارواح نے اقرار کرلیا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے رسولوں سے ایک اور اضافی عہد لیا ۔جس کا ذکر قرآن مجید کے سورہ آل عمران آیت ۸۱(81) میں درج ہے کہ تم کو دنیا میں ایک ایک کرکے جانا ہے اور لوگوں کی رہنمائی اور ان کو تبلیغ کرتے رہنا اور میرا وعدہ یاد دلانا ۔اگر اسی زمانے میں وہ یعنی میرا۔خاص رسول * شہر علم * یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگیا تو تم سب اسی کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنا اور لوگوں کو بھی اس کی آمد سے آگاہ کرنا۔ اللہ تعالی کے اس مجلس میں سارے انبیاء کرام حاضر تھے ما سوائے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے۔یعنی یہ اضافی عہد سارے رسولوں سے لیا گیا ۔۔ امیر خسرو نے اس مجلس کا نقشہ یوں کھینچا ہے ۔۔۔۔۔(خدا خود میر محفل بود ۔۔۔اندر لا مکان خسرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد شمع محفل بود ۔شب جائے کہ من بودم)
صاحب قلم نے پھر قوم نوح کا ذکر کیا نوح کو تورات میں ابن اخنوخ سے جانا جاتا ہے ۔نوح کی قوم شام يا عراق کے جنوبی علاقہ کوفہ میں آباد تھی۔پہلے پہل نوح کی قوم عبادت گزار تھی اور اس قوم میں کئی بڑی شخصیات نے اللہ کی عبادت میں شہرت حاصل کی ۔ان کے نام *ود*سواع نسر* یعوق* یغوث * تھے سورہ نوح آیت ۲۳(23) میں ان کا ذکر ہے ۔ان شخصیات کے موت کے بعد نوح کی قوم نے یادگار کے طور پر ان کے مجسمے بنائے ۔رفتہ رفتہ قوم نوح ان مجسموں کی عبادت کرنے لگے ۔سورہ عنکبوت آیت ۱۴(14) کے حوالے سے نوح نے اپنی قوم کو تبلیغ کرتے کرتے ساڑھے نو سو سال ۹۵۰(950) سال گزارے لیکن صرف ۸۰ (80) افراد کو ہدایت ملی۔ اس کے بعد نوح نے اللہ تعالی کے حضور دکھ اور دلدوز بھری فریاد کی۔سورہ نوح میں آیت ۵ سے آیت ۲۸ (28-5) تک اور سورہ القمر آیت ۱۰ (10) میں اس کا ذکر ہے
اللہ تعالی نے اس قوم کو غرق کردیا حضرت نوح نے اپنے (80) افراد کو لے کر کشتی میں سوار کرلیا یہ کشتی جودی پہاڑ کوہ ارارات پر جا ٹھہری اور آج تک وہیں محفوظ ہے ۔قیامت سے پہلے یہ کشتی ظاہر ہوگی ۔جوں جوں قرآن مجید آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل ہوا ۔ایسے رونما ہوئے واقعات نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے امت تک پہونچھے اور تا قیامت ان کی تلاوت کی جائے گی۔ اللہ تعالی نے اگر چہ قرآن مجید میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام بیان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہاں والوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا سورہ انبیاء آیت (105) میں اس کا ذکر ہے ۔وہیں اپنے کلام میں سورہ البقرہ آیت (143) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا مقام بھی بیان فرمایا ہے ۔ اللہ تعالی اور اس کے فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے رہتے ہیں وہیں امت کو بھی حکم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود و سلام بھیجا کریں سورہ الاحزاب آیت (56)۔ اس امت پر اللہ تعالی کا احسان ہے کہ جہاں کہیں اللہ تعالی کا ذکر ہوتا ہے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خود بخود لبوں پر آتا ہے ۔۔اس طرح قلمکار نے حضرت نوح (ابن اخنوخ) کی دلدوز فریاد کا تحقیقی جائزہ پیش کرنے کی ناکام کوشش کی ہے


