مصنوعی ذہانت آج عالمی سطح پر انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی، صحت، زراعت، تعلیم اور حکمرانی تک ہر شعبے کو نئی سمت دے رہی ہے۔ بھارت میں یہ تبدیلی "میڈ اِن انڈیا اے آئی اور میکنگ اے آئی ورک فار انڈیا” کے وژن کے تحت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جس کی قیادت وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کر رہی ہے۔
سرکاری تخمینوں کے مطابق، ملک کا ٹیکنالوجی شعبہ 2025 میں 280 ارب ڈالر عبور کرے گا۔ بھارت اس وقت اے آئی مہارتوں اور پالیسیوں میں دنیا کے چار بڑے ممالک میں شامل ہے جبکہ GitHub پر عالمی سطح پر دوسرا سب سے بڑا تعاون کنندہ ہے۔ چھ ملین سے زائد افراد ٹیک اور اے آئی شعبے میں روزگار پاتے ہیں اور ملک میں قائم 1800 سے زائد گلوبل کیپبِلٹی سینٹرز میں سے 500 صرف اے آئی پر کام کرتے ہیں۔NASSCOM کے مطابق بھارت کا AI Adoption Index اس وقت 2.45 ہے اور 87 فیصد بھارتی کمپنیاں اے آئی استعمال کر رہی ہیں۔ ملک کے 1.8 لاکھ فعال اسٹارٹ اپس میں سے 89 فیصد نے 2024 میں اے آئی پر مبنی مصنوعات یا خدمات متعارف کرائیں۔
مارچ 2024 میں منظور ہوا IndiaAI Mission اس پورے عمل کا بنیادی ستون ہے جس پر پانچ سال میں 10371 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے ذریعے بھارت نے کمپیوٹنگ پاور کو 10,000 سے بڑھا کر 38,000 جی پی یوز تک پہنچا دیا ہے۔ مشن کے سات ستونوں میں سستے جی پی یوز، ہیلتھ، زراعت اور کلائمیٹ پر مبنی ایپلیکیشنز، AIKosh ڈیٹا پلیٹ فارم، بھارتی لسانی ماڈلز، فیوچر اسکلز، اسٹارٹ اپ فنانسنگ اور محفوظ اے آئی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
صحت، زراعت اور پائیدار شہروں کیلئے قائم مراکزِ فضیلت اور بجٹ 2025 میں اعلان کردہ ایجوکیشن سینٹر اس پورے نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔گھریلو سطح پر تیار ہونے والے اے آئی ماڈلز جیسے Sarvam AI اور Bhashini زبان و شناخت کی بنیاد پر بھارت کا اپنا ڈیجیٹل ماڈل تیار کر رہے ہیں۔ جون 2025 میں متعارف ہونے والا BharatGen AI ملک کی 22 زبانوں میں ٹیکسٹ، آواز اور تصویر کی صلاحیت رکھتا ہے۔صحت میں تیز تشخیص اور ٹیلی میڈیسن، زراعت میں کسان ای میترا اور نیشنل پیسٹ سرویلنس جیسے سسٹمز، تعلیم میں CBSE کا اے آئی سبجیکٹ اور YUVAi پروگرام، اور گورننس میں ای کورٹس فیز تھری اور موسَمGPT اس تبدیلی کے اہم مظاہر ہیں۔
MeitY کے Future Skills PRIME پروگرام میں 18 لاکھ افراد رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جبکہ ملک کی اے آئی ورک فورس 2027 تک بڑھ کر 1.27 ملین ہونے کی توقع ہے۔نیتی آیوگ کا AI for Inclusive Development ملک کے 49 کروڑ غیر منظم شعبے کے کارکنوں کو جدید مہارت، ڈیجیٹل رسائی اور شفافیت فراہم کرنے کا روڈ میپ پیش کرتا ہے۔ ڈیجیٹل شرم سیتو مشن 2025 سے 2035 تک مرحلہ وار نافذ ہوگا۔
انڈیا اے آئی مشن، مراکزِ فضیلت، گھریلو لسانی ماڈلز اور شعبہ جاتی ایپلیکیشنز کے ذریعے بھارت تیزی سے ایک ایسی ٹیکنالوجی معیشت کی تشکیل کر رہا ہے جو 2047 کے وژن "وِکست بھارت” کا بنیادی محرک بن سکتی ہے۔ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو بھارت نہ صرف اپنے لئے بلکہ دنیا کیلئے بھی اے آئی کا ایک رہنما ملک بن کر ابھر سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیلی
مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیلی
مصنوعی ذہانت آج عالمی سطح پر انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی، صحت، زراعت، تعلیم اور حکمرانی تک ہر شعبے کو نئی سمت دے رہی ہے۔ بھارت میں یہ تبدیلی "میڈ اِن انڈیا اے آئی اور میکنگ اے آئی ورک فار انڈیا” کے وژن کے تحت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جس کی قیادت وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کر رہی ہے۔
سرکاری تخمینوں کے مطابق، ملک کا ٹیکنالوجی شعبہ 2025 میں 280 ارب ڈالر عبور کرے گا۔ بھارت اس وقت اے آئی مہارتوں اور پالیسیوں میں دنیا کے چار بڑے ممالک میں شامل ہے جبکہ GitHub پر عالمی سطح پر دوسرا سب سے بڑا تعاون کنندہ ہے۔ چھ ملین سے زائد افراد ٹیک اور اے آئی شعبے میں روزگار پاتے ہیں اور ملک میں قائم 1800 سے زائد گلوبل کیپبِلٹی سینٹرز میں سے 500 صرف اے آئی پر کام کرتے ہیں۔NASSCOM کے مطابق بھارت کا AI Adoption Index اس وقت 2.45 ہے اور 87 فیصد بھارتی کمپنیاں اے آئی استعمال کر رہی ہیں۔ ملک کے 1.8 لاکھ فعال اسٹارٹ اپس میں سے 89 فیصد نے 2024 میں اے آئی پر مبنی مصنوعات یا خدمات متعارف کرائیں۔
مارچ 2024 میں منظور ہوا IndiaAI Mission اس پورے عمل کا بنیادی ستون ہے جس پر پانچ سال میں 10371 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے ذریعے بھارت نے کمپیوٹنگ پاور کو 10,000 سے بڑھا کر 38,000 جی پی یوز تک پہنچا دیا ہے۔ مشن کے سات ستونوں میں سستے جی پی یوز، ہیلتھ، زراعت اور کلائمیٹ پر مبنی ایپلیکیشنز، AIKosh ڈیٹا پلیٹ فارم، بھارتی لسانی ماڈلز، فیوچر اسکلز، اسٹارٹ اپ فنانسنگ اور محفوظ اے آئی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
صحت، زراعت اور پائیدار شہروں کیلئے قائم مراکزِ فضیلت اور بجٹ 2025 میں اعلان کردہ ایجوکیشن سینٹر اس پورے نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔گھریلو سطح پر تیار ہونے والے اے آئی ماڈلز جیسے Sarvam AI اور Bhashini زبان و شناخت کی بنیاد پر بھارت کا اپنا ڈیجیٹل ماڈل تیار کر رہے ہیں۔ جون 2025 میں متعارف ہونے والا BharatGen AI ملک کی 22 زبانوں میں ٹیکسٹ، آواز اور تصویر کی صلاحیت رکھتا ہے۔صحت میں تیز تشخیص اور ٹیلی میڈیسن، زراعت میں کسان ای میترا اور نیشنل پیسٹ سرویلنس جیسے سسٹمز، تعلیم میں CBSE کا اے آئی سبجیکٹ اور YUVAi پروگرام، اور گورننس میں ای کورٹس فیز تھری اور موسَمGPT اس تبدیلی کے اہم مظاہر ہیں۔
MeitY کے Future Skills PRIME پروگرام میں 18 لاکھ افراد رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جبکہ ملک کی اے آئی ورک فورس 2027 تک بڑھ کر 1.27 ملین ہونے کی توقع ہے۔نیتی آیوگ کا AI for Inclusive Development ملک کے 49 کروڑ غیر منظم شعبے کے کارکنوں کو جدید مہارت، ڈیجیٹل رسائی اور شفافیت فراہم کرنے کا روڈ میپ پیش کرتا ہے۔ ڈیجیٹل شرم سیتو مشن 2025 سے 2035 تک مرحلہ وار نافذ ہوگا۔
انڈیا اے آئی مشن، مراکزِ فضیلت، گھریلو لسانی ماڈلز اور شعبہ جاتی ایپلیکیشنز کے ذریعے بھارت تیزی سے ایک ایسی ٹیکنالوجی معیشت کی تشکیل کر رہا ہے جو 2047 کے وژن "وِکست بھارت” کا بنیادی محرک بن سکتی ہے۔ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو بھارت نہ صرف اپنے لئے بلکہ دنیا کیلئے بھی اے آئی کا ایک رہنما ملک بن کر ابھر سکتا ہے۔


