حرکتِ قلب: ماضی میں نادر، آج ایک عام جان لیوا حقیقت

رشید پروین
سوپور، کشمیر

حرکتِ قلب یا دل کے دورے پڑنے سے ہر دور اور ہر زمانے میں اموات ہوتی رہی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن یہ واقعات بہت ہی کم، شاذ و نادر ہی ہوتے تھے۔ دوم یہ کہ اعداد و شمار اور ریکارڈ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حرکتِ قلب بند ہونے سے اکثر اموات 60-70 برس کی عمر میں ہی زیادہ تر ہوتی رہی ہیں اور کبھی کبھار ہی کوئی واقعہ نوجوانوں اور جوانوں کا وقوع پذیر ہوا کرتا تھا۔
لیکن پچھلے کئی برس کے اعداد و شمار حیرت انگیز اور تعجب خیز بھی کہے جا سکتے ہیں، کیونکہ ہارٹ اٹیکس سے ہونے والی اموات میں نہ صرف برق رفتاری سے اضافہ ہوا ہے بلکہ اس کا نشانہ نوجوان اور جوان لوگ ہیں۔ اس پس منظر میں پچھلے ایک سال کے اعداد و شمار نہ صرف کربناک ہیں بلکہ زبردست الارمنگ بھی ہیں۔
WHO کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، جو 15 نومبر 2025 کو منظرِ عام پر لائی گئی، ہندوستان بھر میں ہارٹ اٹیکس کے اعداد و شمار حیران کُن طور پر الارمنگ اور اذیت ناک ہیں۔ اس رپورٹ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں حال میں یہ بیماری زیادہ تر نوجوانوں اور جوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ بیماری ان پھولوں کو نگل رہی ہے جو ابھی یا تو کھلنے ہی والے تھے یا ابھی کلیوں کی صورت میں گلستاں میں موجود تھیں۔
اس رپورٹ کے مطابق واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان بھر میں CVC سے مرنے والوں کی شرح ایک لاکھ مردوں میں 349 اور عورتوں کی تعداد 255 ہے۔ ان اعداد و شمار میں سب سے خطرناک اور پریشان کُن بات یہ ہے کہ ہارٹ اٹیکس سے مرنے والوں میں محض 53 یا اس سے بھی کم عمر کے لوگ شامل ہیں، لیکن ان میں ایک بڑی تعداد، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، صرف 32 برس تک کی عمر کے لوگوں کی ہے۔
یہ ہندوستان کے اوسط اعداد و شمار ہیں، اور جہاں تک جموں و کشمیر کا تعلق ہے، ہماری تشویش ان سے بھی بڑی اور الارمنگ ہے۔ دل کی بیماریوں نے جیسے اسی وادیٔ گلپوش میں اپنے ڈیرے جمالیے ہیں۔ حالیہ دنوں ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق تمام ہارٹ اسپیشلسٹ اس بات پر متفق ہیں کہ کشمیر میں CVC کی برق رفتاری خصوصاً 30 سے 40 برس کے جوانوں کو اپنی ابدی گود میں سمو رہی ہے۔
اس بات کے شواہد اور حقائق حال ہی میں انڈین ہارٹ جرنل میں دل کی بیماریوں پر شائع ایک رپورٹ سے واضح ہوجاتے ہیں جو بہت زیادہ پریشان کُن ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق7.5فیصد کشمیری صرف 40 برس کی عمر میں Coronary Artery Disease میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ایک اور سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر 5 ہارٹ اٹیکس کے بیماروں میں ایک 45 برس کی عمر کا ہوتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اور سروے سے پتہ چلا ہے کہ کشمیر میں امسال یعنی 2025 میں ہارٹ اٹیکس کی شرح بہت زیادہ اور اپنی بلند سطح پر رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق کہا جا سکتا ہے کہ تمام اموات میں 30 فیصد فوت ہونے والوں کی وجوہات کسی نہ کسی طرح دل کی بیماری سے جڑی ہوتی ہیں۔ یہ بھی اسپیشلسٹوں کا ماننا ہے کہ موسمِ سرما میں یہ تعداد دوگنی ہوجاتی ہے، جب کہ موسمِ گرما میں شرحِ فیصد نصف رہ جاتی ہے۔
ہمارے بڑے اسپتالوں نے جو رپورٹ اس پر شائع کی ہے، اس کے مطابق Cardiac Emergencies یومیہ 30 تک رپورٹ ہو رہی ہیں، اور یہی تعداد گرمیوں میں 12 سے 15 تک رہ جاتی ہے۔ ظاہر ہے موسمِ سرما اس میں ایک اہم اور کلیدی رول نبھا رہا ہے۔ SKIMS کے سینئر ڈاکٹروں کے مطابق ہر ہفتے ہم نئے دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو دیکھتے ہیں جن کی عمر صرف 40 برس سے ذرا اوپر ہوتی ہے۔
یہ سب رپورٹس اور سروے ہمیں بہرحال بتانے کے لیے کافی ہیں کہ کشمیر دل کی بیماریوں کا مسکن بن چکا ہے، اور ماضی میں جھانکنے اور اس طرح کی اموات کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے یہ انتہائی سنگین صورتحال ہے، جس نے سارے معاشرے کی چولیں ہلا دی ہیں۔ وہ لوگ یا ڈاکٹرس جو اس فیلڈ میں کام کر رہے ہیں، اس مسئلے کو انتہائی سنگین اور ہوش ربا قرار دے رہے ہیں۔
اگرچہ عام لوگ بھی اپنے آس پاس ان واقعات اور اموات کو دیکھ رہے ہیں، لیکن وہ اپنے دکھ اور غم کا اظہار کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ طبی معاملات اور جسم سے جڑے سنگین خطرات کو سمجھنے ہی سے قاصر ہوتے ہیں، اور یہ ایک فطری تقاضا ہے۔
ہمارے سینئر ڈاکٹرس اور ماہرین، جنہوں نے اس میدان میں اپنی عمریں کھپائی ہیں، دل کی ان بیماریوں کے برق رفتاری سے پھیلنے اور پنپنے کی بہت ساری وجوہات بتا رہے ہیں۔ ان میں پہلے نمبر پر تمباکو نوشی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسا کہا جا رہا ہے کہ کشمیر تمباکو نوشی میں سارے ہندوستان میں نمبر ون پر ہے۔
اس بارے میں جو لیٹسٹ سروے ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ 38 سے 56 فیصد لوگ تمباکو نوشی کے عادی ہیں اور دیہی علاقوں میں یہ شرح فیصد 76 تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر یہ سروے درست ہے تو گویا کشمیر کی آبادی کے تین حصے اس عادت میں مبتلا ہیں۔
تمباکو نوشی بہرحال یہاں صدیوں سے رہی ہے، اور اس رپورٹ کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کیونکہ بہرحال یہ ذمہ دار محکمے کراتے رہتے ہیں۔ لیکن تمباکو نوشی کو چھوڑ کر اس گلشن کا ہر گلاب زخم زخم ہے، کیونکہ ہمیں تمباکو نوشی سے زیادہ مہیب اور اناکونڈا ڈرگس مافیا نے اپنے پنجوں میں دبوچ رکھا ہے۔
قائمہ کمیٹی برائے سماجی انصاف و عطائے اختیار نے محتاط طریقے سے جموں و کشمیر میں ڈرگس پر سروے کے بعد اپنی رپورٹ کو کچھ برس پہلے حتمی شکل دے کر پیش کیا تھا۔ اس رپورٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ جموں و کشمیر شاید کرپشن میں جہاں سر فہرست اپنا مقام بنا چکا ہے، شاید اسی طرح منشیات کے استعمال میں بھی اسی مقام پر آ چکا ہے۔
اگر یہ حال جموں و کشمیر کا ہے، جہاں نہ تو بالی وڈ کی جھماکے دار روشنیاں ہیں اور نہ ہی میٹرو سٹیز کی ماڈرن چکاچوند، تو ہندوستان کے ان بڑے اور کثیر آباد شہروں کا حال کیا ہوگا اور کیا ہوسکتا ہے، جہاں گلیمر ہی دکھائی دیتا ہے اور کچھ نہیں؟
مجموعی طور پر اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں 13 لاکھ 50 ہزار 700 ڈرگ ایڈکٹ ہیں جو 18 سال کی عمر سے لے کر 75 سال کی عمر کے درمیان ہیں، لیکن ان میں سب سے بڑی تعداد 18 سے 27 سال تک کے نوجوانوں کی ہے، جس میں ایک بہت بڑی تعداد صنفِ نازک سے بھی تعلق رکھتی ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ 2018 میں متوقع آبادی پر مبنی اعداد و شمار ہیں، اور 2018 سے لے کر اب تک زمینی سطح پر اس اناکونڈا نے کتنی بڑی تعداد کو نگل لیا ہوگا، اس کا ہم صرف اندازہ ہی کر سکتے ہیں۔ معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 10 برس سے 17 برس کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد ایک لاکھ 68 ہزار 700 ہے۔
ملک کی دوسری ریاستوں کا حال اس سے کچھ زیادہ ہی خراب یا انیس بیس کے فرق کے ساتھ اسی طرح کا ہوگا۔ دوسری سب سے بڑی وجہ جو ماہرین کے فہم و ادراک میں آتی ہے، وہ ذہنی دباؤ ہے۔ میڈیسن سائنس فرنتیرز کے ایک سروے کے مطابق 54 فیصد کشمیری کسی نہ کسی درجے کے نفسیاتی دباؤ سے جھوج رہے ہیں، اور اس نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے سارا جسم ہی ایک طرح سے مفلوج ہوجاتا ہے۔
اس ذہنی دباؤ کو اپنے پس منظر میں بھی دیکھا گیا ہے کہ برسوں سے جاری سیاسی غیر یقینی، انتشار، تشدد اور بیروزگاری ان امراض کے عوامل ہیں۔ ان میں سب سے بڑا رول مستقبل کے اندیشوں سے متعلق ہے کیونکہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ نصف عمر دانشگاہوں میں گزارنے کے بعد بھی ہمارے نوجوان روزگار سے محروم رہتے ہیں۔
یہاں پڑھے لکھے اور ڈگری یافتہ نوجوانوں کے لیے اب حالات ایسے پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ ہر طالب علم کو نہ سہی، پھر بھی ایک بڑی تعداد پہلے ہی سے محرومیوں اور مایوسیوں کا شکار رہتی ہے، جس کی وجہ سے وہ منشیات کا سہارا لے کر اپنی زندگیوں سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا اپاہج بن کر زندہ رہتے ہیں۔
اس مستقبل کی تاریکی نے معاشرے اور معاشرے سے وابستہ تمام طبقات اور افراد کو ذہنی تناؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ’’ذہنی تناؤ بڑھتا ہے تو سارا جسم اور اعصابی نظام غیر متوازن ہوجاتا ہے‘‘۔ بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور آخر ’’دل‘‘ تھک کر دھڑکنا ہی بند کرتا ہے۔
’’صورہ‘‘ کے ایک ہارٹ اسپیشلسٹ کے مطابق: ’’جسم کو جب سکون نہیں ملتا تو ایک دن دل ہار مان لیتا ہے۔‘‘
تیسری بڑی وجہ ہارٹ اٹیکس کی جو بتائی جا رہی ہے، وہ چکنائی، نمک اور سرخ گوشت کی زیادتی ہے، جو دل کے نظام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ہمارے روایتی کھانے فاسٹ فوڈ اور پیک شدہ خوراکوں سے بدل چکے ہیں، جس کی وجہ سے نوجوانوں میں موٹاپا اور دوسری کئی منفی تبدیلیاں آ جاتی ہیں۔
ذہنی صحت پر کام ناگزیر ہے کیونکہ جب ذہن پُرسکون ہوگا تو جسم بھی محفوظ رہے گا۔ یہ ماہرین کی متفقہ رائے ہے۔ اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اس اسٹریس، ذہنی تناؤ اور مایوسیوں کے پیچھے ’’سماجی بحران‘‘ ہے جس کے روپ غربت، مستقبل کے اندھیرے، مایوسی، بیروزگاری جیسے اہم عوامل ہیں جنہیں ایڈریس کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اسلامی تعلیمات ان سب امراض کا علاج صرف تین لفظوں میں سمو دیتی ہیں، لیکن ہم اس پر غور نہیں کرتے۔ پہلا زینہ ’’صبر‘‘، دوسرا ’’شکر‘‘ اور تیسرا ’’توکّل‘‘ ہے۔ ان تین زینوں کے سفر کا اختتام ’’نفسِ مطمئنہ‘‘ پر ہوتا ہے، جہاں کوئی بھی سماجی بحران، مایوسیاں، محرومیاں اور روزگار کے اندیشے معاشرے کے افراد کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔
نہ ہی پروان چڑھنے والی نسلیں ان بحرانوں سے خوف اور ذہنی امراض میں مبتلا ہوجاتی ہیں بلکہ وہ سب مل کر ایک صالح اور فلاحی معاشرے کی تشکیل اپنے ماحول، اپنے وسائل اور اپنی صلاحیتوں پر استوار کرنے کی مسلسل کوششیں کرتے ہیں۔
٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

حرکتِ قلب: ماضی میں نادر، آج ایک عام جان لیوا حقیقت

رشید پروین
سوپور، کشمیر

حرکتِ قلب یا دل کے دورے پڑنے سے ہر دور اور ہر زمانے میں اموات ہوتی رہی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن یہ واقعات بہت ہی کم، شاذ و نادر ہی ہوتے تھے۔ دوم یہ کہ اعداد و شمار اور ریکارڈ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حرکتِ قلب بند ہونے سے اکثر اموات 60-70 برس کی عمر میں ہی زیادہ تر ہوتی رہی ہیں اور کبھی کبھار ہی کوئی واقعہ نوجوانوں اور جوانوں کا وقوع پذیر ہوا کرتا تھا۔
لیکن پچھلے کئی برس کے اعداد و شمار حیرت انگیز اور تعجب خیز بھی کہے جا سکتے ہیں، کیونکہ ہارٹ اٹیکس سے ہونے والی اموات میں نہ صرف برق رفتاری سے اضافہ ہوا ہے بلکہ اس کا نشانہ نوجوان اور جوان لوگ ہیں۔ اس پس منظر میں پچھلے ایک سال کے اعداد و شمار نہ صرف کربناک ہیں بلکہ زبردست الارمنگ بھی ہیں۔
WHO کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، جو 15 نومبر 2025 کو منظرِ عام پر لائی گئی، ہندوستان بھر میں ہارٹ اٹیکس کے اعداد و شمار حیران کُن طور پر الارمنگ اور اذیت ناک ہیں۔ اس رپورٹ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں حال میں یہ بیماری زیادہ تر نوجوانوں اور جوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ بیماری ان پھولوں کو نگل رہی ہے جو ابھی یا تو کھلنے ہی والے تھے یا ابھی کلیوں کی صورت میں گلستاں میں موجود تھیں۔
اس رپورٹ کے مطابق واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان بھر میں CVC سے مرنے والوں کی شرح ایک لاکھ مردوں میں 349 اور عورتوں کی تعداد 255 ہے۔ ان اعداد و شمار میں سب سے خطرناک اور پریشان کُن بات یہ ہے کہ ہارٹ اٹیکس سے مرنے والوں میں محض 53 یا اس سے بھی کم عمر کے لوگ شامل ہیں، لیکن ان میں ایک بڑی تعداد، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، صرف 32 برس تک کی عمر کے لوگوں کی ہے۔
یہ ہندوستان کے اوسط اعداد و شمار ہیں، اور جہاں تک جموں و کشمیر کا تعلق ہے، ہماری تشویش ان سے بھی بڑی اور الارمنگ ہے۔ دل کی بیماریوں نے جیسے اسی وادیٔ گلپوش میں اپنے ڈیرے جمالیے ہیں۔ حالیہ دنوں ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق تمام ہارٹ اسپیشلسٹ اس بات پر متفق ہیں کہ کشمیر میں CVC کی برق رفتاری خصوصاً 30 سے 40 برس کے جوانوں کو اپنی ابدی گود میں سمو رہی ہے۔
اس بات کے شواہد اور حقائق حال ہی میں انڈین ہارٹ جرنل میں دل کی بیماریوں پر شائع ایک رپورٹ سے واضح ہوجاتے ہیں جو بہت زیادہ پریشان کُن ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق7.5فیصد کشمیری صرف 40 برس کی عمر میں Coronary Artery Disease میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ایک اور سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر 5 ہارٹ اٹیکس کے بیماروں میں ایک 45 برس کی عمر کا ہوتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اور سروے سے پتہ چلا ہے کہ کشمیر میں امسال یعنی 2025 میں ہارٹ اٹیکس کی شرح بہت زیادہ اور اپنی بلند سطح پر رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق کہا جا سکتا ہے کہ تمام اموات میں 30 فیصد فوت ہونے والوں کی وجوہات کسی نہ کسی طرح دل کی بیماری سے جڑی ہوتی ہیں۔ یہ بھی اسپیشلسٹوں کا ماننا ہے کہ موسمِ سرما میں یہ تعداد دوگنی ہوجاتی ہے، جب کہ موسمِ گرما میں شرحِ فیصد نصف رہ جاتی ہے۔
ہمارے بڑے اسپتالوں نے جو رپورٹ اس پر شائع کی ہے، اس کے مطابق Cardiac Emergencies یومیہ 30 تک رپورٹ ہو رہی ہیں، اور یہی تعداد گرمیوں میں 12 سے 15 تک رہ جاتی ہے۔ ظاہر ہے موسمِ سرما اس میں ایک اہم اور کلیدی رول نبھا رہا ہے۔ SKIMS کے سینئر ڈاکٹروں کے مطابق ہر ہفتے ہم نئے دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو دیکھتے ہیں جن کی عمر صرف 40 برس سے ذرا اوپر ہوتی ہے۔
یہ سب رپورٹس اور سروے ہمیں بہرحال بتانے کے لیے کافی ہیں کہ کشمیر دل کی بیماریوں کا مسکن بن چکا ہے، اور ماضی میں جھانکنے اور اس طرح کی اموات کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے یہ انتہائی سنگین صورتحال ہے، جس نے سارے معاشرے کی چولیں ہلا دی ہیں۔ وہ لوگ یا ڈاکٹرس جو اس فیلڈ میں کام کر رہے ہیں، اس مسئلے کو انتہائی سنگین اور ہوش ربا قرار دے رہے ہیں۔
اگرچہ عام لوگ بھی اپنے آس پاس ان واقعات اور اموات کو دیکھ رہے ہیں، لیکن وہ اپنے دکھ اور غم کا اظہار کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ طبی معاملات اور جسم سے جڑے سنگین خطرات کو سمجھنے ہی سے قاصر ہوتے ہیں، اور یہ ایک فطری تقاضا ہے۔
ہمارے سینئر ڈاکٹرس اور ماہرین، جنہوں نے اس میدان میں اپنی عمریں کھپائی ہیں، دل کی ان بیماریوں کے برق رفتاری سے پھیلنے اور پنپنے کی بہت ساری وجوہات بتا رہے ہیں۔ ان میں پہلے نمبر پر تمباکو نوشی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسا کہا جا رہا ہے کہ کشمیر تمباکو نوشی میں سارے ہندوستان میں نمبر ون پر ہے۔
اس بارے میں جو لیٹسٹ سروے ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ 38 سے 56 فیصد لوگ تمباکو نوشی کے عادی ہیں اور دیہی علاقوں میں یہ شرح فیصد 76 تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر یہ سروے درست ہے تو گویا کشمیر کی آبادی کے تین حصے اس عادت میں مبتلا ہیں۔
تمباکو نوشی بہرحال یہاں صدیوں سے رہی ہے، اور اس رپورٹ کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کیونکہ بہرحال یہ ذمہ دار محکمے کراتے رہتے ہیں۔ لیکن تمباکو نوشی کو چھوڑ کر اس گلشن کا ہر گلاب زخم زخم ہے، کیونکہ ہمیں تمباکو نوشی سے زیادہ مہیب اور اناکونڈا ڈرگس مافیا نے اپنے پنجوں میں دبوچ رکھا ہے۔
قائمہ کمیٹی برائے سماجی انصاف و عطائے اختیار نے محتاط طریقے سے جموں و کشمیر میں ڈرگس پر سروے کے بعد اپنی رپورٹ کو کچھ برس پہلے حتمی شکل دے کر پیش کیا تھا۔ اس رپورٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ جموں و کشمیر شاید کرپشن میں جہاں سر فہرست اپنا مقام بنا چکا ہے، شاید اسی طرح منشیات کے استعمال میں بھی اسی مقام پر آ چکا ہے۔
اگر یہ حال جموں و کشمیر کا ہے، جہاں نہ تو بالی وڈ کی جھماکے دار روشنیاں ہیں اور نہ ہی میٹرو سٹیز کی ماڈرن چکاچوند، تو ہندوستان کے ان بڑے اور کثیر آباد شہروں کا حال کیا ہوگا اور کیا ہوسکتا ہے، جہاں گلیمر ہی دکھائی دیتا ہے اور کچھ نہیں؟
مجموعی طور پر اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں 13 لاکھ 50 ہزار 700 ڈرگ ایڈکٹ ہیں جو 18 سال کی عمر سے لے کر 75 سال کی عمر کے درمیان ہیں، لیکن ان میں سب سے بڑی تعداد 18 سے 27 سال تک کے نوجوانوں کی ہے، جس میں ایک بہت بڑی تعداد صنفِ نازک سے بھی تعلق رکھتی ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ 2018 میں متوقع آبادی پر مبنی اعداد و شمار ہیں، اور 2018 سے لے کر اب تک زمینی سطح پر اس اناکونڈا نے کتنی بڑی تعداد کو نگل لیا ہوگا، اس کا ہم صرف اندازہ ہی کر سکتے ہیں۔ معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 10 برس سے 17 برس کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد ایک لاکھ 68 ہزار 700 ہے۔
ملک کی دوسری ریاستوں کا حال اس سے کچھ زیادہ ہی خراب یا انیس بیس کے فرق کے ساتھ اسی طرح کا ہوگا۔ دوسری سب سے بڑی وجہ جو ماہرین کے فہم و ادراک میں آتی ہے، وہ ذہنی دباؤ ہے۔ میڈیسن سائنس فرنتیرز کے ایک سروے کے مطابق 54 فیصد کشمیری کسی نہ کسی درجے کے نفسیاتی دباؤ سے جھوج رہے ہیں، اور اس نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے سارا جسم ہی ایک طرح سے مفلوج ہوجاتا ہے۔
اس ذہنی دباؤ کو اپنے پس منظر میں بھی دیکھا گیا ہے کہ برسوں سے جاری سیاسی غیر یقینی، انتشار، تشدد اور بیروزگاری ان امراض کے عوامل ہیں۔ ان میں سب سے بڑا رول مستقبل کے اندیشوں سے متعلق ہے کیونکہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ نصف عمر دانشگاہوں میں گزارنے کے بعد بھی ہمارے نوجوان روزگار سے محروم رہتے ہیں۔
یہاں پڑھے لکھے اور ڈگری یافتہ نوجوانوں کے لیے اب حالات ایسے پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ ہر طالب علم کو نہ سہی، پھر بھی ایک بڑی تعداد پہلے ہی سے محرومیوں اور مایوسیوں کا شکار رہتی ہے، جس کی وجہ سے وہ منشیات کا سہارا لے کر اپنی زندگیوں سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا اپاہج بن کر زندہ رہتے ہیں۔
اس مستقبل کی تاریکی نے معاشرے اور معاشرے سے وابستہ تمام طبقات اور افراد کو ذہنی تناؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ’’ذہنی تناؤ بڑھتا ہے تو سارا جسم اور اعصابی نظام غیر متوازن ہوجاتا ہے‘‘۔ بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور آخر ’’دل‘‘ تھک کر دھڑکنا ہی بند کرتا ہے۔
’’صورہ‘‘ کے ایک ہارٹ اسپیشلسٹ کے مطابق: ’’جسم کو جب سکون نہیں ملتا تو ایک دن دل ہار مان لیتا ہے۔‘‘
تیسری بڑی وجہ ہارٹ اٹیکس کی جو بتائی جا رہی ہے، وہ چکنائی، نمک اور سرخ گوشت کی زیادتی ہے، جو دل کے نظام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ہمارے روایتی کھانے فاسٹ فوڈ اور پیک شدہ خوراکوں سے بدل چکے ہیں، جس کی وجہ سے نوجوانوں میں موٹاپا اور دوسری کئی منفی تبدیلیاں آ جاتی ہیں۔
ذہنی صحت پر کام ناگزیر ہے کیونکہ جب ذہن پُرسکون ہوگا تو جسم بھی محفوظ رہے گا۔ یہ ماہرین کی متفقہ رائے ہے۔ اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اس اسٹریس، ذہنی تناؤ اور مایوسیوں کے پیچھے ’’سماجی بحران‘‘ ہے جس کے روپ غربت، مستقبل کے اندھیرے، مایوسی، بیروزگاری جیسے اہم عوامل ہیں جنہیں ایڈریس کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اسلامی تعلیمات ان سب امراض کا علاج صرف تین لفظوں میں سمو دیتی ہیں، لیکن ہم اس پر غور نہیں کرتے۔ پہلا زینہ ’’صبر‘‘، دوسرا ’’شکر‘‘ اور تیسرا ’’توکّل‘‘ ہے۔ ان تین زینوں کے سفر کا اختتام ’’نفسِ مطمئنہ‘‘ پر ہوتا ہے، جہاں کوئی بھی سماجی بحران، مایوسیاں، محرومیاں اور روزگار کے اندیشے معاشرے کے افراد کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔
نہ ہی پروان چڑھنے والی نسلیں ان بحرانوں سے خوف اور ذہنی امراض میں مبتلا ہوجاتی ہیں بلکہ وہ سب مل کر ایک صالح اور فلاحی معاشرے کی تشکیل اپنے ماحول، اپنے وسائل اور اپنی صلاحیتوں پر استوار کرنے کی مسلسل کوششیں کرتے ہیں۔
٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں