عالمی یومِ اردو: تہذیب کی حفاظت ناگزیر

عظیم مفکر، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی یوم پیدائش کے موقعہ پر ہر سال 9 نومبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ اردو منایا جاتا ہے۔ اقبالؒ کی شخصیت اردو زبان کی فکری، روحانی اور تہذیبی بلندی کی علامت ہے۔ ان کے اشعار نے اردو کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک فکری تحریک میں بدل دیا۔
آج جب ہم یومِ اردو مناتے ہیں، تو دل میں ایک تلخی بھی جاگ اٹھتی ہے۔ کوئی بھی شخص کسی زبان کا دشمن نہیں، مگر یہ منظر روح کو زخمی کر دیتا ہے جب اردو کے نام پر ہونے والے پروگراموں میں ہندی اور انگریزی الفاظ کی آمیزش سے زبان کا خالص حسن مسخ ہو جاتا ہے۔ اردو کے اسٹیج پر اردو ہی کو قربان کرنا، دراصل اپنی تہذیب کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔ یہ محض زبان کی نہیں بلکہ ذوق، تربیت اور فکری نزاکت کی موت ہے۔
کشمیر میں کبھی کتابوں سے محبت ایک روایت تھی۔ محفلوں میں شعروادب کا چرچا ہوتا، گھروں میں دیوانِ اقبال اور کلیاتِ غالب جیسے مجموعے موجود رہتے، اور بول چال میں ایک ادبی نزاکت محسوس ہوتی۔ مگر سوشل میڈیا کے اس شور و غوغا نے زبان کی تہذیبی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ آج ایسے افراد، جو کبھی کتاب کے قریب نہیں گئے، خود کو صحافت اور ادبیات کا نمائندہ ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کے فالوورز لاکھوں میں ہیں، مگر لفظوں سے ان کی دوری واضح ہے۔ یہی وہ المیہ ہے جس نے ہماری نئی نسل کو الفاظ کی فصاحت سے محروم اور سطحیت سے آشنا کر دیا ہے۔
اردو محض بولنے کا ذریعہ نہیں، یہ ہماری تاریخ، ثقافت اور شعور کی زبان ہے۔ اس کی بقا صرف تقریبات یا تقریروں سے نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں اس کے استعمال اور احترام سے ممکن ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زبان محض ایک اظہار نہیں، بلکہ شناخت کا استعارہ ہے۔
اس دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی گفتگو، تحریر اور تعلیم میں اردو کی اصل روح کو زندہ رکھیں گے۔ مطالعے کی روایت کو دوبارہ زندہ کریں گے، تاکہ ہماری نئی نسل لفظوں کی چمک اور خیال کی گہرائی سے آشنا ہو۔
عالمی یومِ اردو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم نے اپنی زبان کو نہ سنبھالا، تو آنے والی نسلیں محض ماضی کی کتابوں میں اردو کا ذکر پڑھیں گی، بولیں گی نہیں۔لہٰذا آج کے دن یہ عہد کیجیے اردو صرف ہماری زبان نہیں، ہماری پہچان، ہمارا شعور اور ہماری تہذیب ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈتوں کی واپسی!

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی...

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈتوں کی واپسی!

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی...

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

عالمی یومِ اردو: تہذیب کی حفاظت ناگزیر

عظیم مفکر، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی یوم پیدائش کے موقعہ پر ہر سال 9 نومبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ اردو منایا جاتا ہے۔ اقبالؒ کی شخصیت اردو زبان کی فکری، روحانی اور تہذیبی بلندی کی علامت ہے۔ ان کے اشعار نے اردو کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک فکری تحریک میں بدل دیا۔
آج جب ہم یومِ اردو مناتے ہیں، تو دل میں ایک تلخی بھی جاگ اٹھتی ہے۔ کوئی بھی شخص کسی زبان کا دشمن نہیں، مگر یہ منظر روح کو زخمی کر دیتا ہے جب اردو کے نام پر ہونے والے پروگراموں میں ہندی اور انگریزی الفاظ کی آمیزش سے زبان کا خالص حسن مسخ ہو جاتا ہے۔ اردو کے اسٹیج پر اردو ہی کو قربان کرنا، دراصل اپنی تہذیب کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔ یہ محض زبان کی نہیں بلکہ ذوق، تربیت اور فکری نزاکت کی موت ہے۔
کشمیر میں کبھی کتابوں سے محبت ایک روایت تھی۔ محفلوں میں شعروادب کا چرچا ہوتا، گھروں میں دیوانِ اقبال اور کلیاتِ غالب جیسے مجموعے موجود رہتے، اور بول چال میں ایک ادبی نزاکت محسوس ہوتی۔ مگر سوشل میڈیا کے اس شور و غوغا نے زبان کی تہذیبی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ آج ایسے افراد، جو کبھی کتاب کے قریب نہیں گئے، خود کو صحافت اور ادبیات کا نمائندہ ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کے فالوورز لاکھوں میں ہیں، مگر لفظوں سے ان کی دوری واضح ہے۔ یہی وہ المیہ ہے جس نے ہماری نئی نسل کو الفاظ کی فصاحت سے محروم اور سطحیت سے آشنا کر دیا ہے۔
اردو محض بولنے کا ذریعہ نہیں، یہ ہماری تاریخ، ثقافت اور شعور کی زبان ہے۔ اس کی بقا صرف تقریبات یا تقریروں سے نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں اس کے استعمال اور احترام سے ممکن ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زبان محض ایک اظہار نہیں، بلکہ شناخت کا استعارہ ہے۔
اس دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی گفتگو، تحریر اور تعلیم میں اردو کی اصل روح کو زندہ رکھیں گے۔ مطالعے کی روایت کو دوبارہ زندہ کریں گے، تاکہ ہماری نئی نسل لفظوں کی چمک اور خیال کی گہرائی سے آشنا ہو۔
عالمی یومِ اردو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم نے اپنی زبان کو نہ سنبھالا، تو آنے والی نسلیں محض ماضی کی کتابوں میں اردو کا ذکر پڑھیں گی، بولیں گی نہیں۔لہٰذا آج کے دن یہ عہد کیجیے اردو صرف ہماری زبان نہیں، ہماری پہچان، ہمارا شعور اور ہماری تہذیب ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں