طب کے علاقے میں فریبی رہائشی

آن لائن مارکیٹنگ اور موبائل ایپس نے دورِ جدید میں دوائیوں تک رسائی کو تیز اور آسان بنا دیا ہے۔ البتہ جب مارکیٹ کے اس نئے راستے پر غیر مصدقہ اشتہارات اور "سستی دوائی” کے پرکشش دعوے سوشل میڈیا پر بے لگام گردش کرنے لگیں تو یہ سہولت ایک سنگین خطرے میں بدل سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ معاشرہ جہاں نجی ہسپتالوں کی حد سے زیادہ قیمتیں عوام میں بےاعتمادی پیدا کر چکی ہوں، وہاں کم قیمت کا لالچ آسانی سے لوگوں کو دھوکے میں ڈال دیتا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے: آن لائن خریدی گئی دوا کی اصلیت اور حفاظت کی ذمہ داری کس کی ہے؟سوشل میڈیا اشتہارات عام طور پر تیز، جذباتی اور فوری عمل کی ترغیب دینے والے ہوتے ہیں۔ ‘اصل، سستا، جلدی پہنچے’ جیسے نعرے صارف کو فیصلہ لینے پر مجبور کرتے ہیں۔ کئی ایپس اور صفحات دکھاوے کے سرٹیفکیٹس، صارفین کے مبہم تعریف نامے اور کلیم کردہ ڈییلز کے ذریعے اعتماد جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اشتہار کی دلکشی صرف ایک قسم کی پیشکش ہے۔ جب بیچنے والی کمپنی یا ایپ کی تصدیق نامکمل ہو، یا اس کے سپلائی چین میں شفافیت نہ ہو تو صارف کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ایک وجہ جس کی بنا پر لوگ آسان سستی آپشنز تلاش کرتے ہیں وہ نجی ہسپتالوں کی بڑھتی قیمتیں ہیں۔ جب تشخیص، ادویات اور آپریشن کی قیمتیں بوجھ بن جائیں تو صارف کم قیمت کے متبادل تلاش کرتا ہے۔ یہ خالی پن جھوٹے سستا پن فروشوں کے لیے کھلا موقع بنتا ہے۔ مارکیٹ میں نازل ہونے والی جعلی یا ناقص ادویات صرف مریض کی جیب نہیں چھینتیں بلکہ اس کی جان کے ساتھ کھیلتی ہیں۔ اس لیے مسئلہ صرف "قیمت” کا نہیں بلکہ "اعتماد” اور "حفاظت” کا بھی ہے۔آن لائن ایپس اور سوشل میڈیا نے دوائیوں کی فراہمی کا منظر نامہ بدل دیا ہے۔ یہ تبدیلی مثبت بھی ہو سکتی ہے اور تباہ کن بھی۔ اگر ہم شفافیت، تکنیکی تصدیق، ریگولیٹری نگرانی اور عوامی شعور میں تاخیر کریں تو مارکیٹ میں جعلی اور خطرناک ادویات کے زہر پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ نجی ہسپتالوں کی غیر منصفانہ قیمتوں نے اس بحران کو ہوا دی ہے مگر اس کا حل انتقامی یا عجلت میں کیے گئے سستے متبادلات میں نہیں بلکہ مربوط، قانونی اور تکنیکی اصلاحات میں ہے۔ آخر میں جواب یہ ہے کہ دوا کی اصلیت کی ضمانت کسی اکیلے فرد یا ادارے کے پاس نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اجتماعی ذمہ داری ہے جس میں حکومت، ریگولیٹری ادارے، فارماسسٹ، ایپ پلیٹ فارمز، آزاد لیبارٹریز اور خود شہری مل کر ایک محفوظ اور شفاف نظام قائم کریں۔ یہی راہ عوام کے پیسے اور زندگیاں دونوں کی حفاظت کر سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

طب کے علاقے میں فریبی رہائشی

آن لائن مارکیٹنگ اور موبائل ایپس نے دورِ جدید میں دوائیوں تک رسائی کو تیز اور آسان بنا دیا ہے۔ البتہ جب مارکیٹ کے اس نئے راستے پر غیر مصدقہ اشتہارات اور "سستی دوائی” کے پرکشش دعوے سوشل میڈیا پر بے لگام گردش کرنے لگیں تو یہ سہولت ایک سنگین خطرے میں بدل سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ معاشرہ جہاں نجی ہسپتالوں کی حد سے زیادہ قیمتیں عوام میں بےاعتمادی پیدا کر چکی ہوں، وہاں کم قیمت کا لالچ آسانی سے لوگوں کو دھوکے میں ڈال دیتا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے: آن لائن خریدی گئی دوا کی اصلیت اور حفاظت کی ذمہ داری کس کی ہے؟سوشل میڈیا اشتہارات عام طور پر تیز، جذباتی اور فوری عمل کی ترغیب دینے والے ہوتے ہیں۔ ‘اصل، سستا، جلدی پہنچے’ جیسے نعرے صارف کو فیصلہ لینے پر مجبور کرتے ہیں۔ کئی ایپس اور صفحات دکھاوے کے سرٹیفکیٹس، صارفین کے مبہم تعریف نامے اور کلیم کردہ ڈییلز کے ذریعے اعتماد جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اشتہار کی دلکشی صرف ایک قسم کی پیشکش ہے۔ جب بیچنے والی کمپنی یا ایپ کی تصدیق نامکمل ہو، یا اس کے سپلائی چین میں شفافیت نہ ہو تو صارف کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ایک وجہ جس کی بنا پر لوگ آسان سستی آپشنز تلاش کرتے ہیں وہ نجی ہسپتالوں کی بڑھتی قیمتیں ہیں۔ جب تشخیص، ادویات اور آپریشن کی قیمتیں بوجھ بن جائیں تو صارف کم قیمت کے متبادل تلاش کرتا ہے۔ یہ خالی پن جھوٹے سستا پن فروشوں کے لیے کھلا موقع بنتا ہے۔ مارکیٹ میں نازل ہونے والی جعلی یا ناقص ادویات صرف مریض کی جیب نہیں چھینتیں بلکہ اس کی جان کے ساتھ کھیلتی ہیں۔ اس لیے مسئلہ صرف "قیمت” کا نہیں بلکہ "اعتماد” اور "حفاظت” کا بھی ہے۔آن لائن ایپس اور سوشل میڈیا نے دوائیوں کی فراہمی کا منظر نامہ بدل دیا ہے۔ یہ تبدیلی مثبت بھی ہو سکتی ہے اور تباہ کن بھی۔ اگر ہم شفافیت، تکنیکی تصدیق، ریگولیٹری نگرانی اور عوامی شعور میں تاخیر کریں تو مارکیٹ میں جعلی اور خطرناک ادویات کے زہر پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ نجی ہسپتالوں کی غیر منصفانہ قیمتوں نے اس بحران کو ہوا دی ہے مگر اس کا حل انتقامی یا عجلت میں کیے گئے سستے متبادلات میں نہیں بلکہ مربوط، قانونی اور تکنیکی اصلاحات میں ہے۔ آخر میں جواب یہ ہے کہ دوا کی اصلیت کی ضمانت کسی اکیلے فرد یا ادارے کے پاس نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اجتماعی ذمہ داری ہے جس میں حکومت، ریگولیٹری ادارے، فارماسسٹ، ایپ پلیٹ فارمز، آزاد لیبارٹریز اور خود شہری مل کر ایک محفوظ اور شفاف نظام قائم کریں۔ یہی راہ عوام کے پیسے اور زندگیاں دونوں کی حفاظت کر سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں