شاہد یوسف شاہد
جموں کشمیر یتیم خانہ ، سرینگر
عشق میں اکثر یہ دھوکہ نظر آتا ہے دوست
زخم کھا کر ہی راستہ نظر آتا ہے دوست
روشنی دل کی اگر ساتھ رہے انسان کے
اندھیروں میں بھی اجالانظر آتا ہے دوست
علم کو زیور بنا، زیست سنور جائے گی
ورنہ ہر جاہل کو تانبا نظر آتا ہے دوست
جھوٹ کی بنیاد پر کچھ بھی نہیں ٹکتا یہاں
سچ ہی آخر میں سہارا نظر آتا ہے دوست
وقت کی رفتار کو دیکھو محنت کو اپنا بنا
ورنہ ہر ایک راستہ خسارہ نظر آتا ہے دوست
شاہد ؔ نے تو ہر حال میں یہ بات کہیں ہے
صبر ہی دل کو سہارا نظر آتا ہے دوست
زز


