زاہد مختار

زاہد مختار

تحریر: فلک ریاض

حسینی کالونی چھتر گام کشمیر
فنون ِ ادب کے سالار تھے وہ
اعلٰی و برتر اور مختار تھے وہ
انہیں میں نے پایا ادیب و سّخنٓور
نظم اور نثر کے نرالے شناور
ہمارے وہ یاور ہمارے وہ رہبر
کہاں کھو گئے میری وادی کے گوہر
ہاں دورِ خزاں میں بھی گلزار تھے وہ
اعلی و برتر اور مختار تھے وہ
خد و خال پیارے وجیہہ سی صورت
وہ فنکار بھی تھے بہت خوبصورت
لگے مجھ کو ہر دم شرافت کی مورت
نئے شاعروں کو تھی ان کی ضرورت
تخیُل کی وادی کے سرکار تھے وہ
اعلٰی و برتر اور مختار تھے وہ
فسانوں کے خالق و فنکار بھی تھے
وہ نظموں کے مالک کلا کار بھی تھے
مدبر و سالک خوش گفتار بھی تھے
اردو کی خدمت کو تیار بھی تھے
ہمیشہ یاروں کے بھی یار تھے وہ
اعلٰی و برتر اور مختار تھے وہ
کلی جو فسانے کی لہرا رہی ہے
نظم بھی دریچے سے مُسکا رہی ہے
رباعی وہ الھڑ سی شرما رہی ہے
گلابی غزل ان کی اِترا رہی ہے
انہی سب گلوں کی ہاں مہکار تھے وہ
اعلٰی و برتر اور مختار تھے وہ
زز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

زاہد مختار

زاہد مختار

تحریر: فلک ریاض

حسینی کالونی چھتر گام کشمیر
فنون ِ ادب کے سالار تھے وہ
اعلٰی و برتر اور مختار تھے وہ
انہیں میں نے پایا ادیب و سّخنٓور
نظم اور نثر کے نرالے شناور
ہمارے وہ یاور ہمارے وہ رہبر
کہاں کھو گئے میری وادی کے گوہر
ہاں دورِ خزاں میں بھی گلزار تھے وہ
اعلی و برتر اور مختار تھے وہ
خد و خال پیارے وجیہہ سی صورت
وہ فنکار بھی تھے بہت خوبصورت
لگے مجھ کو ہر دم شرافت کی مورت
نئے شاعروں کو تھی ان کی ضرورت
تخیُل کی وادی کے سرکار تھے وہ
اعلٰی و برتر اور مختار تھے وہ
فسانوں کے خالق و فنکار بھی تھے
وہ نظموں کے مالک کلا کار بھی تھے
مدبر و سالک خوش گفتار بھی تھے
اردو کی خدمت کو تیار بھی تھے
ہمیشہ یاروں کے بھی یار تھے وہ
اعلٰی و برتر اور مختار تھے وہ
کلی جو فسانے کی لہرا رہی ہے
نظم بھی دریچے سے مُسکا رہی ہے
رباعی وہ الھڑ سی شرما رہی ہے
گلابی غزل ان کی اِترا رہی ہے
انہی سب گلوں کی ہاں مہکار تھے وہ
اعلٰی و برتر اور مختار تھے وہ
زز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون