بارہمولہ کے چیف ایجوکیشن آفیسر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا حکومت کا فیصلہ بروقت، دانشمندانہ اور قابلِ تحسین قدم ہے۔ صرف دو روز قبل انہوں نے ایک ایسا سرکلر جاری کیا تھا جس میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ سوشل میڈیا پر حکومتی پالیسیوں پر تنقید نہ کریں۔ یہ اقدام نہ صرف غیر ضروری تھا بلکہ ایک ایسے ذہن کی عکاسی کرتا تھا جو خود کو ’’شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار‘‘ ثابت کرنے پرتلا ہوا ہے۔
وفاداری کا مطلب حکومت کی پالیسیوں پر اندھی تقلید نہیں، بلکہ آئین کی پاسداری اور انصاف کے اصولوں کی حفاظت ہے۔ افسوس کہ مذکورہ افسر نے اپنے اختیار کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے وہی غلطی دہرائی جو اکثر ایسے لوگوں سے سرزد ہوتی ہے جو چاپلوسی کو خدمت اور اطاعت کو ذہانت سمجھ بیٹھتے ہیں۔
حکومت نے جس سرعت اور سختی کے ساتھ کارروائی کی ہے، اس نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ جمہوریت کے دائرے میں آمرانہ روش کی کوئی گنجائش نہیں۔ عوامی نظم و نسق میں اصل طاقت آزادیِ اظہار کے احترام اور تنقیدی آوازوں کے ساتھ مکالمے میں مضمر ہے، نہ کہ انہیں دبانے میں۔
یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سرکاری ملازمین کی اصل وفاداری عوام کے تئیں ہونی چاہیے، نہ کہ کسی ذاتی خوشامد کے جذبے کے تحت۔ جو افسران آئین اور قانون سے زیادہ اپنی ذاتی چمک دمک کے اسیر ہو جاتے ہیں، وہ دراصل نظامِ حکمرانی پر بوجھ بن جاتے ہیں۔
حکومت نے بروقت قدم اٹھا کر ایک صحت مند مثال قائم کی ہے کہ ریاست کا نظم عدل و انصاف کے توازن پر چلتا ہے، خوشامد یا خوف کے سہارے نہیں۔ یہ اقدام نہ صرف ایک فرد کے رویے کی تردید ہے بلکہ اس اصول کی توثیق بھی کہ وفاداری کی اصل بنیاد دیانت، آئینی شعور اور عوامی خدمت ہے — نہ کہ ضرورت سے زیادہ اطاعت گزاری۔


