جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے غیر محفوظ اور غیر لیبل شدہ منجمد گوشت کی فروخت پر پابندی ایک بروقت اور ضروری قدم ہے۔ عوامی صحت کے تحفظ کے لئے ایسے اقدامات نہ صرف قابلِ ستائش ہیں بلکہ ان پر سختی سے عمل درآمد بھی لازمی ہے۔ فوڈ سیفٹی کے اسسٹنٹ کمشنر ہلال احمد میر کے مطابق یہ کارروائی غیر معیاری اور غیر محفوظ سرگرمیوں کو روکنے کے لئے کی گئی ہے، جو براہِ راست لوگوں کی صحت سے جڑی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ منجمد گوشت کی تیاری اور ذخیرہ ایک حساس عمل ہے جس میں معمولی لاپرواہی بھی سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ غیر لیبل شدہ یا غیر محفوظ گوشت میں بیماریوں کے جراثیم کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جو نہ صرف انفرادی صحت بلکہ سماجی سطح پر بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت سخت معیار وضع کیے گئے ہیں، تاکہ عوام کو محفوظ خوراک فراہم کی جا سکے۔
تاہم صرف حکم نامے جاری کرنا کافی نہیں۔ اس پابندی کو مؤثر بنانے کے لئے متعلقہ محکموں کو مارکیٹ میں سخت نگرانی، باقاعدہ معائنہ، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی عوامی بیداری بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ خود غیر لیبل شدہ یا مشکوک گوشت کی خریداری سے گریز کریں۔
یہ معاملہ براہِ راست عوام کی صحت اور زندگی سے وابستہ ہے، اس لئے اسے معمولی انتظامی اقدام سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس فیصلے پر سنجیدگی کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ شہریوں کو محفوظ اور معیاری خوراک میسر ہو، اور عوام کا اعتماد فوڈ سیفٹی نظام پر بحال رہے۔


