نظم: ایک لڑکی تھی

ایک لڑکی تھی
تحریر: سیما شکور (حیدرآباد)
ایک لڑکی تھی
جو  ……
پھولوں سے باتیں کرتی تھی
سرخ گلابوں کی پتیاں  ……
کتابوں میں رکھتی تھی
کینوس پہ  ……
خوبصورت رنگ بکھیر کر  ……
اُن میں کہیں کھو جاتی تھی
سوچوں میں گم رہتی تھی
مہکے ، میٹھے سے  ……
گیت سنتی تھی
خوابوں کی حسین وادیوں میں  ……
کھوئی رہتی تھی
ایک اُمنگ تھی وہ  ……
ایک زندگی تھی وہ
دنیا میں امن چاہتی تھی وہ
وہ خوبصورت لفظوں سے  ……
قرطاس بھگو دیتی تھی
نہ سنگھار سے واسطہ تھا
نہ سجنے سنورنے سے غرض
پھر یوں ہوا  ……
کتابیں بکھر گئیں
قلم ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے
سارے خواب بکھر گئے  !  ……
سارے خواب بکھر گئے  !  ……
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

نظم: ایک لڑکی تھی

ایک لڑکی تھی
تحریر: سیما شکور (حیدرآباد)
ایک لڑکی تھی
جو  ……
پھولوں سے باتیں کرتی تھی
سرخ گلابوں کی پتیاں  ……
کتابوں میں رکھتی تھی
کینوس پہ  ……
خوبصورت رنگ بکھیر کر  ……
اُن میں کہیں کھو جاتی تھی
سوچوں میں گم رہتی تھی
مہکے ، میٹھے سے  ……
گیت سنتی تھی
خوابوں کی حسین وادیوں میں  ……
کھوئی رہتی تھی
ایک اُمنگ تھی وہ  ……
ایک زندگی تھی وہ
دنیا میں امن چاہتی تھی وہ
وہ خوبصورت لفظوں سے  ……
قرطاس بھگو دیتی تھی
نہ سنگھار سے واسطہ تھا
نہ سجنے سنورنے سے غرض
پھر یوں ہوا  ……
کتابیں بکھر گئیں
قلم ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے
سارے خواب بکھر گئے  !  ……
سارے خواب بکھر گئے  !  ……
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں