سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی ایکٹ کی بعض دفعات پر حکم امتناعی جاری کیا

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی/ سپریم کورٹ نے پیر کو وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کی چند دفعات پر عمل درآمد روک دیا ہے، جب تک کہ ایکٹ کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا۔
چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی بنچ نے کہا کہ پورے ایکٹ پر حکم امتناعی دینے کی بنیاد نہیں بنتی، تاہم بعض دفعات کو عارضی طور پر روکا گیا ہے، جن میں شامل ہیں:
٭کسی شخص کے وقف بنانے کے لیے کم از کم پانچ سال سے عملی مسلمان ہونے کی شرط۔
٭یہ شرط کہ کسی جائیداد کو وقف قرار دینے سے قبل کلکٹر کی رپورٹ ضروری ہوگی۔
عدالت نے کہا کہ کلکٹر کو شہریوں کے بنیادی حقوق پر فیصلہ کرنے کا اختیار دینا اختیارات کی علیحدگی کے خلاف ہے۔
تاہم سپریم کورٹ نے وقف جائیدادوں کی رجسٹریشن کی شرط کو برقرار رکھا اور کہا کہ یہ پہلے سے موجود قوانین میں بھی شامل تھی۔ اسی طرح عدالت نے وضاحت کی کہ مرکزی وقف کونسل میں 22 ارکان میں سے زیادہ سے زیادہ 4 غیر مسلم اور ریاستی وقف بورڈز میں 11 میں سے زیادہ سے زیادہ 3 غیر مسلم ارکان ہوں گے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ موجودہ "وقف بای یوزر” جائیدادیں فی الحال متاثر نہیں ہوں گی اور ان کے تنازعات کا فیصلہ صرف وقف ٹریبونل اور ہائی کورٹ کے ذریعے ہی ہوگا۔
دوسری جانب عدالت نے ان دفعات کو نہیں روکا جو محکمہ آثارِ قدیمہ کے تحت آنے والی عمارتوں اور قبائلی زمینوں کو وقف کے دائرے سے باہر کرتی ہیں۔
یاد رہے کہ یہ ترمیمی بل لوک سبھا سے 3 اپریل، راجیہ سبھا سے 4 اپریل کو منظور ہوا اور 5 اپریل کو صدر کی منظوری کے بعد قانون بن گیا۔ اس کے خلاف کانگریس کے رکن پارلیمان محمد جاوید اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی سمیت کئی افراد نے سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کیں۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ یہ ترمیم مسلم مذہبی اوقاف کو نشانہ بناتی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ترمیم کا مقصد ناجائز دعووں اور سرکاری زمینوں پر قبضوں کو روکنا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  موسمیاتی ماڈلز کے مطابق 16 ستمبر کی شام سے...

رفیع آباد میں فیشن ڈیزائننگ سنٹر کا افتتاح 

بارہمولہ 12    ستمبر 2026 ء؁  وزیر برائے زراعت ،...

BRICS اعلامیہ میں پہلگام حملے کی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی/برکس ممالک کے رہنماؤں نے 22 اپریل...

ڈاکٹر عزیز حاجنی کی پانچویں برسی کے موقعہ پر  ادبی اجتماع اور یوتھ کوئز کا انعقاد

  جنگ نیوز حاجن/کشمیری زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد،...

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  موسمیاتی ماڈلز کے مطابق 16 ستمبر کی شام سے...

رفیع آباد میں فیشن ڈیزائننگ سنٹر کا افتتاح 

بارہمولہ 12    ستمبر 2026 ء؁  وزیر برائے زراعت ،...

BRICS اعلامیہ میں پہلگام حملے کی مذمت

جنگ نیوز نئی دہلی/برکس ممالک کے رہنماؤں نے 22 اپریل...

ڈاکٹر عزیز حاجنی کی پانچویں برسی کے موقعہ پر  ادبی اجتماع اور یوتھ کوئز کا انعقاد

  جنگ نیوز حاجن/کشمیری زبان و ادب کے ممتاز ادیب، نقاد،...

سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی ایکٹ کی بعض دفعات پر حکم امتناعی جاری کیا

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی/ سپریم کورٹ نے پیر کو وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کی چند دفعات پر عمل درآمد روک دیا ہے، جب تک کہ ایکٹ کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا۔
چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی بنچ نے کہا کہ پورے ایکٹ پر حکم امتناعی دینے کی بنیاد نہیں بنتی، تاہم بعض دفعات کو عارضی طور پر روکا گیا ہے، جن میں شامل ہیں:
٭کسی شخص کے وقف بنانے کے لیے کم از کم پانچ سال سے عملی مسلمان ہونے کی شرط۔
٭یہ شرط کہ کسی جائیداد کو وقف قرار دینے سے قبل کلکٹر کی رپورٹ ضروری ہوگی۔
عدالت نے کہا کہ کلکٹر کو شہریوں کے بنیادی حقوق پر فیصلہ کرنے کا اختیار دینا اختیارات کی علیحدگی کے خلاف ہے۔
تاہم سپریم کورٹ نے وقف جائیدادوں کی رجسٹریشن کی شرط کو برقرار رکھا اور کہا کہ یہ پہلے سے موجود قوانین میں بھی شامل تھی۔ اسی طرح عدالت نے وضاحت کی کہ مرکزی وقف کونسل میں 22 ارکان میں سے زیادہ سے زیادہ 4 غیر مسلم اور ریاستی وقف بورڈز میں 11 میں سے زیادہ سے زیادہ 3 غیر مسلم ارکان ہوں گے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ موجودہ "وقف بای یوزر” جائیدادیں فی الحال متاثر نہیں ہوں گی اور ان کے تنازعات کا فیصلہ صرف وقف ٹریبونل اور ہائی کورٹ کے ذریعے ہی ہوگا۔
دوسری جانب عدالت نے ان دفعات کو نہیں روکا جو محکمہ آثارِ قدیمہ کے تحت آنے والی عمارتوں اور قبائلی زمینوں کو وقف کے دائرے سے باہر کرتی ہیں۔
یاد رہے کہ یہ ترمیمی بل لوک سبھا سے 3 اپریل، راجیہ سبھا سے 4 اپریل کو منظور ہوا اور 5 اپریل کو صدر کی منظوری کے بعد قانون بن گیا۔ اس کے خلاف کانگریس کے رکن پارلیمان محمد جاوید اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی سمیت کئی افراد نے سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کیں۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ یہ ترمیم مسلم مذہبی اوقاف کو نشانہ بناتی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ترمیم کا مقصد ناجائز دعووں اور سرکاری زمینوں پر قبضوں کو روکنا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں