جنگ نیوز ڈیسک
جاپان کے دورے کے بعد، وزیر اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز دو روزہ دورے پر چین پہنچے تاکہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس میں شرکت کریں۔ یہ ان کا سات سال بعد پہلا چین کا دورہ ہے۔
چین میں بھارتی برادری نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا۔ وزیر اعظم مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا: ’’میں ٹِیئن جِن میں ایک خاص استقبال پر شکر گزار ہوں۔ ایس سی او اجلاس میں شرکت اور مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقات کا منتظر ہوں‘‘۔
وزیر اعظم اس 10 رکنی ایس سی او بلاک کے رہنماؤں کے ساتھ 31 اگست اور یکم ستمبر کو سالانہ اجلاس میں شامل ہوں گے۔ مودی کی اتوار کو چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کو بھی قریب سے دیکھا جائے گا، خاص طور پر حالیہ بھارت-چین تعلقات کے تناظر میں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم مودی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی پیر کو ملاقات کریں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی کشیدگی موجود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی برآمدات پر بھاری ٹیرف عائد کیے ہیں اور تیل کی خریداری پر بھی دباؤ ڈالا ہے۔
اگرچہ امریکہ کے ساتھ تعلقات اسٹریٹجک اعتبار سے اہم ہیں، نئی دہلی بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری لانے اور اپنی سفارتی آپشنز کو متنوع بنانے کی کوشش کررہا ہے۔


