٭ آوارہ کتوں کو ویکسینیشن، ڈی وارمنگ اور نس بندی کے بعد شیلٹرز سے رہا کیا جائے۔
٭ ریبیز سے متاثرہ یا جارحانہ رویہ دکھانے والے کتوں کو رہا نہ کیا جائے۔
٭ کھانا کھلانے کے لیے مخصوص مقامات بنائے جائیں؛ سڑکوں پر کھانا کھلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
٭ کتوں کو کھلانے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
٭ ہر میونسپل اتھارٹی کو شکایات درج کرنے کے لیے خصوصی ہیلپ لائن قائم کرنا ہوگی۔
٭ جانوروں کے حقوق کے کارکن رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔
٭ ہر انفرادی ڈاگ لور اور این جی او جس نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے، بالترتیب 25 ہزار اور 2 لاکھ روپے ادا کریں گے۔
٭ کوئی بھی گود لیا گیا کتا دوبارہ سڑک پر نہیں چھوڑا جائے گا۔
٭ سپریم کورٹ تمام ریاستوں کی سماعت کے بعد قومی پالیسی تشکیل دے گی۔
آوارہ کتوں پر پہلے حکم کو ’’سخت‘‘ قرار دیا
11 اگست 2025 کے اپنے حکم میں جسٹس جے بی پردیوالا اور آر ماہدیوَن نے دہلی میونسپل کارپوریشن اور دیگر شہری حکام کو ہدایت دی تھی کہ آٹھ ہفتوں کے اندر تمام آوارہ کتوں کو پکڑ کر مخصوص شیلٹرز میں رکھا جائے اور انہیں دوبارہ سڑکوں پر نہ چھوڑا جائے۔


