چنار کتاب میلے کے اختتامی روز سامعین اردو مشاعرے کے سحر میں محو ہوگئے

بلال بشیر بٹ

سری نگر/ جنگ نیوز/ نئی دہلی: چنار بک فیسٹیول 2025 کے نویں اور آخری روز قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (NCPUL) اور شعبۂ اردو، کشمیر یونیورسٹی کے اشتراک سے ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں وادیٔ کشمیر کے نمائندہ شعرا نے اپنے خوب صورت اور معیاری کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔

مشاعرے میں غزل اور نظم کے ذریعے انسانی اقدار، سماجی مسائل اور فطری مناظر کو نہایت دلکش اور پُر اثر انداز میں پیش کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت وادی کے معروف شاعر رفیق راز نے کی۔ اپنے صدارتی کلمات میں انہوں نے کہا کہ تمام شعرا نے عمدہ اور معیاری کلام پیش کیا، جو اہلِ ذوق کے لیے ایک یادگار ادبی تجربہ ثابت ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے مشاعرے اور ادبی اجتماعات نہ صرف شعر و ادب کے فروغ کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ اہلِ ذوق کو باہمی میل جول اور اظہارِ خیال کے قیمتی مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

اختتامی کلمات اور اظہارِ تشکر قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ نو دن تک جاری رہنے والا یہ ادبی و ثقافتی میلہ کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔ انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ جس معیار کے علمی و فکری مکالمے کی امید تھی، اسکالرز نے اس سے بڑھ کر ادبی اور فکری گفتگو کی، جس سے سامعین کو نہ صرف محظوظ ہونے کا موقع ملا بلکہ انہوں نے علمی طور پر بھی بہت کچھ سیکھا۔

ڈاکٹر شمس اقبال نے نوجوانوں کے ذوق و شوق اور فعال شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس فیسٹیول کی کامیابی میں ان کا کردار نہایت اہم رہا۔

قابل ذکر ہے قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (NCPUL) نے فیسٹیول کے دوران متعدد علمی، ادبی اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے، جن میں مشاعرے، مذاکرے، مکالمے اور کتابوں کی رونمائی شامل تھی۔ اس میلے کا انعقاد نیشنل بُک ٹرسٹ (NBT) کے اشتراک سے کیا گیا، جبکہ NCPUL کی جانب سے فنِ خطاطی کے خوبصورت نمونے اور متنوع کتابیں بھی نمائش کے لیے پیش کی گئیں، جو شرکا اور وزیٹرز کی خاص توجہ کا مرکز رہیں۔

این سی پی یو ایل کے اعلیٰ عہدیدار شاہداب شمیم نے روزنامہ سرینگر جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"ہماری کوشش ہے کہ اس طرح کے میلوں کے ذریعے اردو زبان، ادب، اور ثقافت کو نئی نسل تک پہنچایا جائے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ وادی کے نوجوان نہ صرف دلچسپی سے شامل ہوئے بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار بھی کیا۔”

مشاعرے کی نظامت پرویز مانوس نے کی. مشاعرے میں پیش کیے گئے شعرا کے اشعار درج ذیل ہیں:
قطرۂ اشک ہے دورخ کو بجھا سکتاہے
ایسی طاقت ہے کہاں اور کسی پانی میں
(رفیق راز)
بوسیدہ ہمارے ہیں ضمیروں کے مکانات
کرتے ہیں اثر سنگ ملامت بھی بہت کم
(ستیش ومل)
عشق تھا آخری امید مگر
عشق کر کے بھی کیا ملا ہے مجھے
(شفق سوپوری)
میں زندگی کا زخم ہوں
جب بھی کریدو نظم جنتی ہوں
(شبنم عشائی)
محبت ہم پس دیوار کرتے ہیں
مگر نفرت سربازار کرتے ہیں
(اشرف عادل)
وہ اکثر خواب میں آکر مرے ہمراہ چلتا ہے
مجھے اب نیند میں چلنے کی بیماری نہ ہوجائے
(شبینہ آرا)
زندگی یہ قید ہے عابد کے زنجیر جیسی
ہے ٹیس یہاں ننھے اصغر کے تیر جیسی
(کفایت فہیم)
نظروں کے آگے آیا جو چہرہ جناب کا
دیدار ہم نے کر لیا تازہ گلاب کا
(بشیر چراغ)
کس قدر ہیں پیچیدہ مسئلے محبت کے
بند کیے ہیں اب دل نے داخلے محبت کے
(پرویز مانوس)

ویڈیو: چنار بک فیسٹیول کے آخری دن کشمیر کے ادبی شبیہیں کی آوازیں:

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

چنار کتاب میلے کے اختتامی روز سامعین اردو مشاعرے کے سحر میں محو ہوگئے

بلال بشیر بٹ

سری نگر/ جنگ نیوز/ نئی دہلی: چنار بک فیسٹیول 2025 کے نویں اور آخری روز قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (NCPUL) اور شعبۂ اردو، کشمیر یونیورسٹی کے اشتراک سے ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں وادیٔ کشمیر کے نمائندہ شعرا نے اپنے خوب صورت اور معیاری کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔

مشاعرے میں غزل اور نظم کے ذریعے انسانی اقدار، سماجی مسائل اور فطری مناظر کو نہایت دلکش اور پُر اثر انداز میں پیش کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت وادی کے معروف شاعر رفیق راز نے کی۔ اپنے صدارتی کلمات میں انہوں نے کہا کہ تمام شعرا نے عمدہ اور معیاری کلام پیش کیا، جو اہلِ ذوق کے لیے ایک یادگار ادبی تجربہ ثابت ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے مشاعرے اور ادبی اجتماعات نہ صرف شعر و ادب کے فروغ کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ اہلِ ذوق کو باہمی میل جول اور اظہارِ خیال کے قیمتی مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

اختتامی کلمات اور اظہارِ تشکر قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ نو دن تک جاری رہنے والا یہ ادبی و ثقافتی میلہ کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔ انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ جس معیار کے علمی و فکری مکالمے کی امید تھی، اسکالرز نے اس سے بڑھ کر ادبی اور فکری گفتگو کی، جس سے سامعین کو نہ صرف محظوظ ہونے کا موقع ملا بلکہ انہوں نے علمی طور پر بھی بہت کچھ سیکھا۔

ڈاکٹر شمس اقبال نے نوجوانوں کے ذوق و شوق اور فعال شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس فیسٹیول کی کامیابی میں ان کا کردار نہایت اہم رہا۔

قابل ذکر ہے قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (NCPUL) نے فیسٹیول کے دوران متعدد علمی، ادبی اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے، جن میں مشاعرے، مذاکرے، مکالمے اور کتابوں کی رونمائی شامل تھی۔ اس میلے کا انعقاد نیشنل بُک ٹرسٹ (NBT) کے اشتراک سے کیا گیا، جبکہ NCPUL کی جانب سے فنِ خطاطی کے خوبصورت نمونے اور متنوع کتابیں بھی نمائش کے لیے پیش کی گئیں، جو شرکا اور وزیٹرز کی خاص توجہ کا مرکز رہیں۔

این سی پی یو ایل کے اعلیٰ عہدیدار شاہداب شمیم نے روزنامہ سرینگر جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"ہماری کوشش ہے کہ اس طرح کے میلوں کے ذریعے اردو زبان، ادب، اور ثقافت کو نئی نسل تک پہنچایا جائے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ وادی کے نوجوان نہ صرف دلچسپی سے شامل ہوئے بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار بھی کیا۔”

مشاعرے کی نظامت پرویز مانوس نے کی. مشاعرے میں پیش کیے گئے شعرا کے اشعار درج ذیل ہیں:
قطرۂ اشک ہے دورخ کو بجھا سکتاہے
ایسی طاقت ہے کہاں اور کسی پانی میں
(رفیق راز)
بوسیدہ ہمارے ہیں ضمیروں کے مکانات
کرتے ہیں اثر سنگ ملامت بھی بہت کم
(ستیش ومل)
عشق تھا آخری امید مگر
عشق کر کے بھی کیا ملا ہے مجھے
(شفق سوپوری)
میں زندگی کا زخم ہوں
جب بھی کریدو نظم جنتی ہوں
(شبنم عشائی)
محبت ہم پس دیوار کرتے ہیں
مگر نفرت سربازار کرتے ہیں
(اشرف عادل)
وہ اکثر خواب میں آکر مرے ہمراہ چلتا ہے
مجھے اب نیند میں چلنے کی بیماری نہ ہوجائے
(شبینہ آرا)
زندگی یہ قید ہے عابد کے زنجیر جیسی
ہے ٹیس یہاں ننھے اصغر کے تیر جیسی
(کفایت فہیم)
نظروں کے آگے آیا جو چہرہ جناب کا
دیدار ہم نے کر لیا تازہ گلاب کا
(بشیر چراغ)
کس قدر ہیں پیچیدہ مسئلے محبت کے
بند کیے ہیں اب دل نے داخلے محبت کے
(پرویز مانوس)

ویڈیو: چنار بک فیسٹیول کے آخری دن کشمیر کے ادبی شبیہیں کی آوازیں:

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں