فلسفہ رہ گیا ، تلقین غزالیؔ نہ رہی

 

 

پیرزادہ شعیب اویسی

إنما الأعمال بالنيات یعنی اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔یہ اسلامی اصول کی ایک مرکزی و محوری اصل ہے،جو قطعی الثبوت حدیث سے ما خوذ ہے، اور اس حدیث کی شان و عظمت کے لے یہی کافی ہے کہ امام بخاری (علیہ رحمتہ) الباری نے اپنی صیح میں اس حدیث کو تمام احادیث پر مقدم رکھا ہے، اور اللہ کی کتاب کے بعد سب سے افضل کتاب کا آغاز حدیث پاک سے ہوا
ليكن اس یسے ہرگز یہ سمجھا جاے کہعمل اورنيت میں كوئی ہمہ جہتی تلازم ہے اور دونوں ایک دوسرے کیلے ایسے لازم و ملزوم ہیں کہ اگر نیت درست تو عمل درست اگرنيت صالح تو عمل صالح اگرنيت اچھی تولازمی طور پر عمل بھی اچھاہو، يا پھر اس کا بر عکس ہو
عام ازیں کہو عمل اپنی ذات يا اپنے نتيجوں كی اعتبار سے اچھاہويانہ ہو، اورگرنيت بُری ہوگی توعمل کی جزابھی اچھی نہ ہوگی اس سے قطع نظر کہ وہ اپنی ذات یا اپنی نتیجوں کے اعتبار سے برا ہو یا نہ ہو۔ دور حاضر کے وہ بعض علماء جنہوں نے واعظ و تبلیغ کو ذاتی انا بنا رکھا ہے اور جس کی آڈ میں ہمارے علماء ایک دوسرے کے گریبان کو آگئے ہے انکی اس کی پیچھے کی نیت کیا ہوتی ہے ؟
صرف اور صرف اپنی انا کی خاطر علماے حق کی تذلیل کرنا یا پنے نا شائستہ الفاظوں پر ہٹ درم رہنا اور قوم کو غمراہ کرکے فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنا۔آے روز سوشل میڈیا پر بیان بازیاں نوجوانوں کو فکر دین سے غافل کر رہی ہے جس کی وجہ سے ہمارے نوجوان راہ اسلام سے دوری اختیار کر رہے ہے کیونکہ یہ شر انگیزی اب ہماری مساجدوں میں بھی داخل ہو چکی ہے۔چونکہ ممبر رسول ﷺ ان علماؤں کے پاس ایک امانت تھی جس کی خیانت کرنے میں ہم سب من جملہ قوم اور ہمارے علما بھی شامل ہے کیونکہ ممبروں اور مساجدوں میں صرف فلسفہ رہ گیا ہمارے اسلافوں کی وہ تلقین نہ رہی ۔ جس پے ڈاکٹر علامہ اقبال فرماتے ہے
واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئ رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
علامہ اقبالؒ نے اپنے دور کے علما کی "پختہ خیالی” (یعنی جامد فکری رویّے، تقلید پرستی اور اجتہاد سے گریز) پر سخت تنقید کی ہے۔ اُن کے نزدیک ایسی سوچ امتِ مسلمہ کی زوال پذیری کا ایک اہم سبب ہے۔ اقبالؒ علما سے ایسے اجتہاد اور فکر کی توقع رکھتے تھے جو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔لیکن افسوس ہم اس زوال پذیری کے شکار ہو کر اسلام کے ہم آہنگی اور بقا میں ناکام رہے ہمارے علماء نے دین اسلام کو ذاتی مفاد اور انا پرستی پنا کر اس قوم کو شخض پرستی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا قوم کی بالا دستی ،اصلاح معاشرہ،نوجوانوں کی تربیت کو بالائے تاق رکھ کر اب وہ علما اور انکے ٹولوں میں بانٹے گیے لوگ اپنے اپنے خیموں سے ایک دوسرے پر کیچڈ اچھالتے ہے ۔ ہمارے علماؤں کی ذمہ داریاں کیا تھی
علمائے کرام کی ذمہ داریاں دین اسلام کی روشنی میں بہت اہم اور وسیع ہ ہیں۔
علماء کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں، بدعات، اور غلط رسومات کے خلاف آواز بلند کریں اور لوگوں کی اصلاح کریں۔ علماء کا کام ہے کہ فرقہ واریت، نفرت اور تفرقہ بازی سے بچائیں اور امت مسلمہ کو اتحاد، محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دیں۔ علماء کو چاہیے کہ وہ حکمرانوں کو نرمی، خیرخواہی اور تقویٰ کے ساتھ صحیح مشورے دیں تاکہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کریں۔
سماجی برائیوں کی روک تھام میں علمائے کرام کا کردار (رول) نہایت اہم اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف دینی رہنما ہوتے ہیں بلکہ معاشرتی اصلاح کے بھی قائد ہوتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے علماء کا فریضہ ہے کہ وہ معاشرے کو برائیوں سے پاک کرنے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔
علما دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ وہ قرآن، حدیث، فقہ، اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔
علما معاشرے کو اخلاقیات کا درس دیتے ہیں۔ سچائی، دیانت، صبر، احترام، عدل، اور بردباری جیسے اوصاف کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں، جو ایک پرامن اور منصفانہ معاشرے کے لیے ضروری ہیں۔
مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں میں علما نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کرتے ہیں۔ وہ صرف دینی علوم ہی نہیں بلکہ عمومی اخلاقی اور معاشرتی شعور بھی پیدا کرتے ہیں۔
علما سماجی برائیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں جیسے جھوٹ، رشوت، ظلم، بے حیائی، منشیات کا استعمال، اور دیگر سماجی مسائل۔ ان کی بات لوگوں پر اثر ڈالتی ہے، کیونکہ انہیں دینی اعتبار سے معتبر سمجھا جاتا ہے۔
علما فرقہ واریت کو کم کرنے اور مختلف مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اگر وہ حکمت، علم، اور رواداری سے کام لیں۔
جب بھی معاشرے میں انتشار یا فساد کی صورت ہو، علما کا کردار امن قائم رکھنے اور لوگوں کو صبر، برداشت اور بھائی چارے کی طرف مائل کرنے میں اہم ہوتا ہے۔
اگرچہ علما کا اصل میدان دین ہے، مگر وہ سیاسی معاملات میں بھی اخلاقی رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں، تاکہ عدل، انصاف، اور قانون کی بالادستی قائم ہو۔
یہ ایک نہایت اہم اور حساس سوال ہے: "فرقہ پرستی سے ہمارے علما کیسے بچیں؟” فرقہ پرستی صرف عوام کے لیے نہیں بلکہ علما کے لیے بھی ایک آزمائش بن سکتی ہے، کیونکہ وہ خود مسلکی وابستگی رکھتے ہیں اور ان کے ماننے والے ان سے جذباتی توقعات رکھتے ہیں۔ لیکن ایک ذمے دار اور مخلص عالم کے لیے فرقہ پرستی سے بچنا ضروری ہے، کیونکہ اسلام کا اصل پیغام اتحاد، اخوت، اور رواداری پر مبنی ہے
علما کو چاہیے کہ اپنی نیت کو خالص رکھیں، یعنی دین کی خدمت صرف اللہ کے لیے کریں، نہ کہ کسی مخصوص گروہ، فرقے یا جماعت کی حمایت کے لیے۔ تقویٰ اور خدا خوفی ان کے ہر فیصلے میں غالب ہونی چاہیے۔
اختلافات سے اوپر اٹھ کر، علما کو اپنے فتاویٰ، تقریر اور تعلیمات کی بنیاد قرآن و سنت پر رکھنی چاہیے، نہ کہ صرف فقہی یا مسلکی اقوال پر۔ اس سے وہ تعصب سے بچ سکتے ہیں۔
علما کو چاہیے کہ وہ "اختلافِ رائے” کو دشمنی نہ بنائیں۔ فقہا نے ہمیشہ علمی اختلاف کو برداشت کیا ہے، اور دلیل کے ساتھ بات کی ہے۔ علما کو یہ روایت زندہ رکھنی چاہیے۔
تمام مکاتب فکر کے درمیان بہت سے مشترکہ عقائد ہیں جیسے: توحید، رسالت، قیامت، نماز، روزہ، حج، زکوۃ۔ علما کو چاہیے کہ وہ ان پر زور دیں، بجائے ان باتوں پر جن سے تفرقہ بڑھتا ہے۔
منبر و محراب سے ایسی زبان استعمال نہ کی جائے جو کسی دوسرے مکتب فکر کی توہین یا تضحیک پر مبنی ہو۔ عام عوام علما کی باتوں سے متاثر ہوتے ہیں، اس لیے ہر لفظ احتیاط سے چنیں۔
علما کو مختلف مکاتب فکر کے علما سے علمی و دینی مکالمے کا آغاز کرنا چاہیے۔ مکالمہ غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے اور قربت پیدا کرتا ہے۔
کئی بار فرقہ واریت سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ علما کو چاہیے کہ وہ سیاسی گروہوں کے آلہ کار نہ بنیں اور دین کو سیاسی ہتھیار نہ بننے دیں۔
مدارس و تعلیمی اداروں میں ایسی تعلیم دی جائے جو دوسرے مکاتب فکر کی غلط تصویر نہ پیش کرے، بلکہ امت کو جوڑنے والی سوچ کو فروغ دے۔
اگر علماء ایمانداری، اخلاص، علم اور حکمت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو معاشرے میں بہت سی برائیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ لوگوں کے دلوں میں علماء کا مقام بلند ہوتا ہے، اور ان کی بات کا اثر ہوتا ہے۔
"اختلاف اپنی جگہ، مگر اتحاد امت کا ستون ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو باطل کی کمر خود بخود ٹوٹ جائے گی۔ آئیں! نفرتوں کو دفن کریں، محبتِ اہلِ بیتؑ کو مرکز بنائیں، اور اخوت و اتحاد کے پرچم کو بلند کریں. یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

فلسفہ رہ گیا ، تلقین غزالیؔ نہ رہی

 

 

پیرزادہ شعیب اویسی

إنما الأعمال بالنيات یعنی اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔یہ اسلامی اصول کی ایک مرکزی و محوری اصل ہے،جو قطعی الثبوت حدیث سے ما خوذ ہے، اور اس حدیث کی شان و عظمت کے لے یہی کافی ہے کہ امام بخاری (علیہ رحمتہ) الباری نے اپنی صیح میں اس حدیث کو تمام احادیث پر مقدم رکھا ہے، اور اللہ کی کتاب کے بعد سب سے افضل کتاب کا آغاز حدیث پاک سے ہوا
ليكن اس یسے ہرگز یہ سمجھا جاے کہعمل اورنيت میں كوئی ہمہ جہتی تلازم ہے اور دونوں ایک دوسرے کیلے ایسے لازم و ملزوم ہیں کہ اگر نیت درست تو عمل درست اگرنيت صالح تو عمل صالح اگرنيت اچھی تولازمی طور پر عمل بھی اچھاہو، يا پھر اس کا بر عکس ہو
عام ازیں کہو عمل اپنی ذات يا اپنے نتيجوں كی اعتبار سے اچھاہويانہ ہو، اورگرنيت بُری ہوگی توعمل کی جزابھی اچھی نہ ہوگی اس سے قطع نظر کہ وہ اپنی ذات یا اپنی نتیجوں کے اعتبار سے برا ہو یا نہ ہو۔ دور حاضر کے وہ بعض علماء جنہوں نے واعظ و تبلیغ کو ذاتی انا بنا رکھا ہے اور جس کی آڈ میں ہمارے علماء ایک دوسرے کے گریبان کو آگئے ہے انکی اس کی پیچھے کی نیت کیا ہوتی ہے ؟
صرف اور صرف اپنی انا کی خاطر علماے حق کی تذلیل کرنا یا پنے نا شائستہ الفاظوں پر ہٹ درم رہنا اور قوم کو غمراہ کرکے فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنا۔آے روز سوشل میڈیا پر بیان بازیاں نوجوانوں کو فکر دین سے غافل کر رہی ہے جس کی وجہ سے ہمارے نوجوان راہ اسلام سے دوری اختیار کر رہے ہے کیونکہ یہ شر انگیزی اب ہماری مساجدوں میں بھی داخل ہو چکی ہے۔چونکہ ممبر رسول ﷺ ان علماؤں کے پاس ایک امانت تھی جس کی خیانت کرنے میں ہم سب من جملہ قوم اور ہمارے علما بھی شامل ہے کیونکہ ممبروں اور مساجدوں میں صرف فلسفہ رہ گیا ہمارے اسلافوں کی وہ تلقین نہ رہی ۔ جس پے ڈاکٹر علامہ اقبال فرماتے ہے
واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئ رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
علامہ اقبالؒ نے اپنے دور کے علما کی "پختہ خیالی” (یعنی جامد فکری رویّے، تقلید پرستی اور اجتہاد سے گریز) پر سخت تنقید کی ہے۔ اُن کے نزدیک ایسی سوچ امتِ مسلمہ کی زوال پذیری کا ایک اہم سبب ہے۔ اقبالؒ علما سے ایسے اجتہاد اور فکر کی توقع رکھتے تھے جو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔لیکن افسوس ہم اس زوال پذیری کے شکار ہو کر اسلام کے ہم آہنگی اور بقا میں ناکام رہے ہمارے علماء نے دین اسلام کو ذاتی مفاد اور انا پرستی پنا کر اس قوم کو شخض پرستی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا قوم کی بالا دستی ،اصلاح معاشرہ،نوجوانوں کی تربیت کو بالائے تاق رکھ کر اب وہ علما اور انکے ٹولوں میں بانٹے گیے لوگ اپنے اپنے خیموں سے ایک دوسرے پر کیچڈ اچھالتے ہے ۔ ہمارے علماؤں کی ذمہ داریاں کیا تھی
علمائے کرام کی ذمہ داریاں دین اسلام کی روشنی میں بہت اہم اور وسیع ہ ہیں۔
علماء کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں، بدعات، اور غلط رسومات کے خلاف آواز بلند کریں اور لوگوں کی اصلاح کریں۔ علماء کا کام ہے کہ فرقہ واریت، نفرت اور تفرقہ بازی سے بچائیں اور امت مسلمہ کو اتحاد، محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دیں۔ علماء کو چاہیے کہ وہ حکمرانوں کو نرمی، خیرخواہی اور تقویٰ کے ساتھ صحیح مشورے دیں تاکہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کریں۔
سماجی برائیوں کی روک تھام میں علمائے کرام کا کردار (رول) نہایت اہم اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف دینی رہنما ہوتے ہیں بلکہ معاشرتی اصلاح کے بھی قائد ہوتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے علماء کا فریضہ ہے کہ وہ معاشرے کو برائیوں سے پاک کرنے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔
علما دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ وہ قرآن، حدیث، فقہ، اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔
علما معاشرے کو اخلاقیات کا درس دیتے ہیں۔ سچائی، دیانت، صبر، احترام، عدل، اور بردباری جیسے اوصاف کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں، جو ایک پرامن اور منصفانہ معاشرے کے لیے ضروری ہیں۔
مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں میں علما نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کرتے ہیں۔ وہ صرف دینی علوم ہی نہیں بلکہ عمومی اخلاقی اور معاشرتی شعور بھی پیدا کرتے ہیں۔
علما سماجی برائیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں جیسے جھوٹ، رشوت، ظلم، بے حیائی، منشیات کا استعمال، اور دیگر سماجی مسائل۔ ان کی بات لوگوں پر اثر ڈالتی ہے، کیونکہ انہیں دینی اعتبار سے معتبر سمجھا جاتا ہے۔
علما فرقہ واریت کو کم کرنے اور مختلف مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اگر وہ حکمت، علم، اور رواداری سے کام لیں۔
جب بھی معاشرے میں انتشار یا فساد کی صورت ہو، علما کا کردار امن قائم رکھنے اور لوگوں کو صبر، برداشت اور بھائی چارے کی طرف مائل کرنے میں اہم ہوتا ہے۔
اگرچہ علما کا اصل میدان دین ہے، مگر وہ سیاسی معاملات میں بھی اخلاقی رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں، تاکہ عدل، انصاف، اور قانون کی بالادستی قائم ہو۔
یہ ایک نہایت اہم اور حساس سوال ہے: "فرقہ پرستی سے ہمارے علما کیسے بچیں؟” فرقہ پرستی صرف عوام کے لیے نہیں بلکہ علما کے لیے بھی ایک آزمائش بن سکتی ہے، کیونکہ وہ خود مسلکی وابستگی رکھتے ہیں اور ان کے ماننے والے ان سے جذباتی توقعات رکھتے ہیں۔ لیکن ایک ذمے دار اور مخلص عالم کے لیے فرقہ پرستی سے بچنا ضروری ہے، کیونکہ اسلام کا اصل پیغام اتحاد، اخوت، اور رواداری پر مبنی ہے
علما کو چاہیے کہ اپنی نیت کو خالص رکھیں، یعنی دین کی خدمت صرف اللہ کے لیے کریں، نہ کہ کسی مخصوص گروہ، فرقے یا جماعت کی حمایت کے لیے۔ تقویٰ اور خدا خوفی ان کے ہر فیصلے میں غالب ہونی چاہیے۔
اختلافات سے اوپر اٹھ کر، علما کو اپنے فتاویٰ، تقریر اور تعلیمات کی بنیاد قرآن و سنت پر رکھنی چاہیے، نہ کہ صرف فقہی یا مسلکی اقوال پر۔ اس سے وہ تعصب سے بچ سکتے ہیں۔
علما کو چاہیے کہ وہ "اختلافِ رائے” کو دشمنی نہ بنائیں۔ فقہا نے ہمیشہ علمی اختلاف کو برداشت کیا ہے، اور دلیل کے ساتھ بات کی ہے۔ علما کو یہ روایت زندہ رکھنی چاہیے۔
تمام مکاتب فکر کے درمیان بہت سے مشترکہ عقائد ہیں جیسے: توحید، رسالت، قیامت، نماز، روزہ، حج، زکوۃ۔ علما کو چاہیے کہ وہ ان پر زور دیں، بجائے ان باتوں پر جن سے تفرقہ بڑھتا ہے۔
منبر و محراب سے ایسی زبان استعمال نہ کی جائے جو کسی دوسرے مکتب فکر کی توہین یا تضحیک پر مبنی ہو۔ عام عوام علما کی باتوں سے متاثر ہوتے ہیں، اس لیے ہر لفظ احتیاط سے چنیں۔
علما کو مختلف مکاتب فکر کے علما سے علمی و دینی مکالمے کا آغاز کرنا چاہیے۔ مکالمہ غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے اور قربت پیدا کرتا ہے۔
کئی بار فرقہ واریت سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ علما کو چاہیے کہ وہ سیاسی گروہوں کے آلہ کار نہ بنیں اور دین کو سیاسی ہتھیار نہ بننے دیں۔
مدارس و تعلیمی اداروں میں ایسی تعلیم دی جائے جو دوسرے مکاتب فکر کی غلط تصویر نہ پیش کرے، بلکہ امت کو جوڑنے والی سوچ کو فروغ دے۔
اگر علماء ایمانداری، اخلاص، علم اور حکمت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو معاشرے میں بہت سی برائیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ لوگوں کے دلوں میں علماء کا مقام بلند ہوتا ہے، اور ان کی بات کا اثر ہوتا ہے۔
"اختلاف اپنی جگہ، مگر اتحاد امت کا ستون ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو باطل کی کمر خود بخود ٹوٹ جائے گی۔ آئیں! نفرتوں کو دفن کریں، محبتِ اہلِ بیتؑ کو مرکز بنائیں، اور اخوت و اتحاد کے پرچم کو بلند کریں. یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں