نبی کریم ﷺ کے آخری لمحات !

 

ریاض فردوسی

صدیق جلوہ ریز جمال محمدی
فاروق پردہ دار جلال محمدی
عثمان حیا پزیر خصال محمدی
حیدر مقیم بزم کمال محمدی
(صلی اللہ علیہ وسلم)

نبی آخر الزماں سرور کون و مکاں فخر بنی آدم حضور صاحب تاج و معراج صلی اللہ علیہ وسلم یتیم پیدا ہوئے،اس وقت چند ایک کو چھوڑ کر سارا کا سارا ماحول و معاشرہ بت پرست،بے ایمان،اور بے غیرت تھا،ہر طرح کی اخلاقی زوال اس معاشرے میں موجود تھا،اگر کھانے کے ساتھ شراب نا ہو تو کھانا ادھورا کہلاتا اور میزبان غیر مہذب،لیکن آپ ﷺ اللہ کی مدد سے بغیر کسی ظاہری تعلیم و تربیت کے نہ صرف ان تمام آلائشوں سے پاک صاف رہے بلکہ جسمانی ترقی کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی عقل و فہم اور فضل و کمال میں بھی ترقی ہوتی گئی یہاں تک کہ سب نے یکساں و یک زبان ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق و امین کا خطاب دیا۔
آپ ﷺ نے رزق حلال کو یہ اہمیت دی کہ قریش کی بکریاں چرائ اور اس کی مزدوری سے اپنی ضروریات پوری فرمائ،تجارت جیسا اہم پیشہ اختیار فرمایا اور’’ التاجر الصدوق الامین ‘‘(امانت دار سچے تاجر) مشہور و معروف ہوئے۔
اس دنیائے فانی میں ایک مومن بندے کی زندگی گذارنے کے لیے اللہ تعالی نے اسلام کو نظامِ حیات اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نمونہ حیات بنایا ہے وہی طریقہ اسلامی طریقہ ہوگا جو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے عملا،قولاً، فعلاً منقول ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ سنت کہلاتا ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا ہے "من رغب عن سنتی فلیس منی”(او کماقالﷺ)
جس نے میرے طریقے سے اعراض کیاوہ مجھ سے نہیں ہے۔
نبی کریم ﷺ آخری حج میں امت کو نصیحتیں اور وصیتیں کرکے،قیامت تک کے لئے مشن سونپ چکے ہیں،
"سب سے اہم بات کے مسلمانوں تمہارا خون،تمہارا مال،تمہاری آبرو، اسی طرح محترم ہے جس طرح سے یہ دن یہ مہینہ اور یہ شہر محترم ہے۔تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو،
اے لوگو! تمہیں اللہ کے دربار میں حاضر ہونا ہے، وہ تم سے تمہارے اعمال کا حساب کرے گا اور کسی نے جرم کیا تو وہ خود اپنی جرم کا ذمہ دار ہوگا، باپ بیٹے کے جرم کا ذمہ دار نہیں ہوگا،اور نا بیٹا باپ کے گناہوں کا۔
اے لوگو! توحید،نماز،زکوۃ،روزہ‌اور حج یہی جنت کا داخلہ ہے،میں نے تمہیں حق کا پیغام پہنچا دیا ہے،اب یہاں موجود لوگ یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچاتے رہیں جو بعد میں آئیں گے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچ کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہونے کی تیاری میں مصروف ہوگئے،بارگاہ خداوندی کی حاضری کا شوق روز بروز بڑھتا جاتا تھا،صبح و شام معبود حقیقی کے ذکر و یاد کی طلب تھی اور بس اس کے علاوہ کچھ باقی نہیں،کچھ بھی باقی نہیں۔
پیاری بیٹی خاتون جنت سلام اللہ علیہا تشریف لائی تو ان سے فرمایا!پیاری بیٹی اب مجھے اپنی رخصت قریب معلوم ہوتی ہے۔
انہی ایام میں شہدائے احد کی تکلیف بے بسی کی شہادت، مردانہ وار قربانیوں کا خیال آگیا، تو گنج شہیداں میں تشریف لے گئے اور بڑے درد و گداز سے ان کے لیے دعائیں کی نماز جنازہ پڑھی۔
انہیں اس طرح الوداع کہا،جس طرح ایک بزرگ شفیق اپنے کم سن بچوں کو پیار کرتا ہے اور پھر انہیں الوداع کہتا ہے۔
وہاں سے واپس آئیں تو منبر نبی ﷺ پر جلوہ طراز ہوئے اور ارباب صدق وفا سے نہایت درد مندان لہجے میں مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا !
دوستو اب میں تم سے آگے منزل آخرت کی طرف چلا جا رہا ہوں تاکہ بارگاہ بے کس پناہ میں تمہاری شہادت دوں،واللہ مجھے یہاں سے اپنا وہ حوض نظر آرہا ہے،جس کی وسعت ایلہ سے حجفہ تک ہے۔
مجھے تمام دنیا کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں،اب مجھے خوف نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے، البتہ میں اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں تم دنیا میں مبتلا نہ ہو جاؤ اور اس کے لیے آپس میں کشت و خون نہ کرو،(اگر آپس میں لڑو گے تو) اس وقت تم اس طرح ہلاک ہو جاؤ گے جس طرح دوسری قوم ہلاک ہوئی۔
قلب منور ﷺ میں سیدنا زید بن حارث رضی اللہ عنہ کی یاد تازہ ہو گئ،انہیں حدود شام کے عربوں نے شہید کر دیا تھا۔ ارشاد فرمایا!
"اسامہ بن زید فوج لے کر جائیں اور اپنے والد کا انتقام لیں”
وفات اقدس سے پانچ روز پہلے چار شنبہ کے دن پتھر کے ٹب میں بیٹھ گئے سر مبارک پر پانی کے سات مشکیں ڈلوائیں۔
اس سے مزاج اقدس میں خنکی اور تسکین سی پیدا ہو گئی،مسجد نبوی میں تشریف لائے فرمایا! مسلمانوں تم سے پہلے جو قومیں گزر چکی ہے،انہوں نے اپنے انبیاء علیھم السلام و صلحاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا،تم ایسا نہ کرنا۔
پھر فرمایا!ان یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
پھر فرمایا! میرے قبر کو میرے بعد ایسی قبر نہ بنا دینا کہ اس کی پرستش شروع ہو جائے۔
پھر فرمایا! مسلمانوں وہ قوم اللہ کے غضب میں آجاتی ہے،جو قبور انبیاء علیھم السلام کو مساجد بناتی ہے۔
پھر فرمایا! دیکھو میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں،دیکھو اب پھر یہی وصیت کرتا ہوں،
اے اللہ تو گواہ رہنا،اے اللہ تو گواہ رہنا،اے اللہ تو گواہ رہنا۔
پھر اپنے رفیقوں کے سامنے اپنی شخصیت کی اعلیٰ ترین مثال اور اعزاز کو چھپاتے ہوئے ارشاد فرمایا!
اللہ تعالی نے اپنے ایک بندے کو اختیار عطا فرمایا ہے کہ وہ دنیا و مافیہا کو قبول کرے، یا آخرت کو مگر اس نے آخرت ہی کو قبول کر لیا ہے،اتنا کہہ کر صاحب کن فیکون خاموش ہوگئے،لیکن رمز شناس پیغمبر اکرم ﷺ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور زاروقطار رونے لگے،اور کہا یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے ماں و باپ،ہماری جانیں،ہماری اولادیں اور ہمارے زر و مال آپ ﷺ پر قربان ہو جائیں!
لوگوں نے ان کو تعجب سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک شخص کا واقعہ بیان فرما رہے ہیں،اس میں رونے کی کون سی بات ہے، مگر رفیق ہجرت کا دل جانتا تھا کہ یہ شخص وہی ہیں،جو فرما رہے ہیں،وہ جانتے تھے کہ وہ شخص خود رحمت عالم ﷺ ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس بے کلی نے خیال منور ﷺ کو دوسری طرف مبذول کر دیا ارشاد فرمایا!
میں سب سے زیادہ جس شخص کی دولت اور رفاقت کا مشکور ہوں وہ ابوبکر ہیں۔اگر میں اپنی امت میں سے کسی ایک شخص کو اپنی دوستی کے لیے منتخب کر سکتا تو وہ ابوبکر ہوتے ہیں،لیکن‌جس طرح سینے میں دو دل نہیں ہو سکتے اسی طرح ایک دل میں دو محبت اکٹھا نہیں ہو سکتی،اب اللہ کی دوستی میرے لئے ہے اور وہی کافی ہے،مسجد کے رخ پر کوئی دریچہ ابوبکر کے دریچہ کے سوا باقی نہ رکھا جائے۔
مدینہ منورہ کے انصار رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے متعلق ارشاد فرمایا!
اے لوگو میں اپنے انصار کے معاملے میں تم کو وصیت کرتا ہوں۔عام مسلمان روز بروز بڑھتے جائیں گے،مگر میرے انصار کھانے میں نمک کی طرح رہ جائیں گے،یہ لوگ میرے جسم کا پیرہن اور میرے سفر زندگی کا توشہ ہیں۔انہوں نے اپنے فرائض ادا کر دیے ہیں،مگر ان کے حقوق باقی ہیں،جو شخص امت کے نفع اور نقصان کا متولی ہو،اس کا فرض ہے کہ وہ انصاروں کے نیکوکار کی قدر افزائی کرے،اور جن انصار سے لغزش ہو جائے ان کے متعلق درگزر سے کام لے۔
وصیتیں نبی ﷺ!
حلال و حرام کے تعین کو میری طرف منسوب نہ کرنا،میں نے وہی چیز حلال کی ہے،جسے قرآن نے حلال کیا ہے اور اسی کو حرام قرار دیا ہے جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔کوئی مشرک عرب میں نہ رہے،سفیروں اور وفود کی بدستور عزت و مہمانی کی جائے۔قرآن اور میرے اہل بیت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا،کبھی گمراہ نہیں ہوگے(او کما قال ﷺ)
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم علالت کی تکلیف اور بے چینی کے باوجود 11 روز تک مسلسل مسجد میں تشریف لاتے رہیں،جمعرات کے روز مغرب کی نماز خود پڑھائی،اس میں سورہ مرسلات تلاوت فرمائی،عشاء کے وقت آنکھ کھولی دریافت فرمایا کہ نماز ہو چکی؟ مسلمانوں نے عرض کیا! مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر بیٹھے ہیں۔لگن میں پانی بھروا کر غسل فرمایا، اور پھر ہمت کر کے اٹھے مگر غش آگیا، تھوڑی دیر میں آنکھ کھولی اور فرمایا کہ نماز ہو چکی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مسلمان آپ کا انتظار کر رہے ہیں، اس مرتبہ پھر اٹھنا چاہا مگر بے ہوش ہو گئے، کچھ دیر کے بعد پھر آنکھ کھولی اور وہیں سوال دہرایا کیا نماز ہو چکی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! سب لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی انتظار ہے، تیسری مرتبہ جسم مبارک پر پانی ڈالا جب اٹھنا چاہا تو غشی آگیا،افاقہ ہونے پر ارشاد فرمایا ابوبکر نماز پڑھا دے۔
حضرت عائشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے والد رقیق القلب آدمی ہے جب وہ آپ ﷺ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے نماز نہیں پڑھا سکیں گے،
پھر بھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہی نماز پڑھائیں۔
آج نبی کریم ﷺ کے مزاج اقدس میں قدرے سکون تھا،آج کی حالت صبح ہی سے نہایت عجیب تھی، ایک سورج بلند ہو رہا تھا، اب دوسرا سورج غروب ہو رہا تھا،کاشانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں پے در پے غشی کے بادل آئے،رسول اللہ صلی ال علیہ وسلم کے وجود اقدس پر چھا گئے، ایک بے ہوشی گزر جاتی تھی،دوسری پھر وارد ہو جاتی،انہی تکلیفوں میں پیاری بیٹی کو یاد فرمایا!اپنے والد کا یہ حال دیکھ کر خاتون جنت برداشت نہ کر سکی، سینہ مبارک سے لپٹ گئی اور رونے لگی، بیٹی کو اس طرح نڈھال دیکھ کر ارشاد فرمایا!میرے بیٹی روؤں نہیں میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں گا، تو ان اللہ وانا الیہ راجعون کہنا اسی میں ہر شخص کے لیے سامان تسکین موجود ہے۔
سیدہ سلام اللہ علیہا نے پوچھا کہ ابا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی،آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس میں میری بھی تسکین مضمر ہے۔جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درد اور قرب بڑھتا جا رہا تھا،خاتون جنت سلام اللہ علیہا کا کلیجہ بھی کٹتا جا رہا تھا،حضرت رحمت اللہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اذیت کو محسوس کرکے کچھ کہنا چاہا تو پیاری بیٹی نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے لبوں سے اپنے کان لگا دیئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، بیٹی میں آج دنیا کو چھوڑ رہا ہوں، فاطمہ بے اختیار رو پڑی،پھر فرمایا فاطمہ، میرے اہل بیت میں تم سب سے پہلے مجھ سے ملو گی،فاطمہ بے اختیار ہنس پڑی کہ جدائی قلیل ہے۔
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت نازک ترین ہوتی جا رہی تھی،یہ حال دیکھ کر فاطمہ نے کہنا شروع کر دیا اے میرے باپ کی تکلیف۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا!
فاطمہ آج کے بعد تمہارا باپ کبھی بے چین نہیں ہوگا،حسن ،حسین سلام اللہ علیہا بہت غمگین ہو رہے تھے، انہیں اپنے پاس بلایا دونوں کو چوما۔
امت کو ان کے احترام کی وصیت فرمائی،ازواج مطہرات رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو طلب فرمایا اور انہیں نصحیتیں فرمائ۔
حضرت علی‌ رضی اللہ عنہ کو نصیحتیں کی،شیر خدا نے آپ ﷺ کا سر مبارک اپنی گود میں رکھ لیا،
پھر فرمایا۔
نماز،نماز، لونڈی،غلام اور پس ماندگان۔
رحمت اللہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم اماں عائشہ کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پانی کا پیالہ پاس رکھا تھا،اس میں ہاتھ ڈالتے تھے اور چہرہ انور پرپھیر لیتے تھے،روئے اقدس کبھی سرخ ہو جاتا تھا، اور کبھی زرد پر جاتا تھا،زبان مبارک آہستہ آہستہ ہل رہی تھی،اللہ کی بزرگی اور بڑائی کا ورد‌ جاری تھا۔
لا الہ الا اللہ ان للموت سکرات۔
حضرت حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر ایک تازہ مسواک کے ساتھ آئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک پر‌ نظر جما دی۔حضرت عائشہ سمجھ گئیں کہ مسواک فرمائیں گے،ام المومنین نے دانتوں سے نرم کرکے مسواک پیش کیا اور آپ ﷺ نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک کیا،دہان مبارک پہلے ہی سے طہارت کا سراپہ تھا،اب مسواک کے بعد اور بھی مجلہ ہو گیا،تو یک لخت ہاتھ اونچا کیا گویا کہیں تشریف لے جا رہے ہیں،زبان اقدس سے بے ساختہ نکلا۔
بل الرفيق الاعلى،بل الرفيق الاعلى،بل الرفيق الاعلى۔(اب اور کوئی نہیں صرف اسی کی رفاقت منظور ہے)۔تیسری آواز پر ہاتھ مبارک لٹک آئے،
پتلی اوپر اٹھ گئیں،روح مقدس ﷺ عالم قدس کو ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئ، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
مسلمانوں کے جگر کٹ گئے،قدم لڑکھڑا گئے،چہرے بجھ گئے،آنکھیں خون بہانے لگی،ارض وسما سے خوف آنے لگا،سورج تاریک ہوگیا،صحابہ اکرام کے آنسو بہہ رہے تھے،تھمتے نہیں تھے،کئی صحابہ حیران و سرگردان ہو کر آبادیوں سے نکل گئے،کوئی جنگل کی طرف بھاگ گیا،جو بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا جو کھڑا تھا،اس کو بیٹھ جانے کا یارانہ ہوا۔
مسجد نبوی قیامت سے پہلے قیامت کا نمونہ پیش کر رہی تھی،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے چپ چاپ اماں عائشہ کے گھر میں داخل ہوگئے،یہاں حضرت رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک میت رکھی تھی اور صدیق نے چہرہ اقدس سے کپڑا اٹھا کر پیشانی مبارک کو بوسہ دیا،رو کر کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان آپ کی زندگی بھی پاک تھی اور موت بھی پاک ہے، واللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو موت وارد نہیں ہوں گی،اللہ نے جو موت لکھ رکھی تھی آج آپ ﷺ نے اس کا ذائقہ چکھ لیا اور اب اس کے بعد موت ابد تک اپ کا دامن نہ چھو سکے گی۔
صدیق اکبر کے دوست نہیں رہے،فاروق اب بار بار کن کی زیارت کریں گے،عثمان و علی کن مقدس ہستی کو دیکھ کر اپنے غموں کو فراموش کریں گے،
انس ابن مالک اب کن کی خدمت کریں گے،ابو رافع کے آقا ﷺ نہیں رہے،اماں عائشہ کا سہاگ لٹ گیا،
بی بی فاطمہ کے ساتھ ساتھ پوری امت ہمیشہ ہمیش کے لئے یتیم ہو گئی،کل من علیہما فان۔۔۔
اسی دوران سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ اٹھیں اور اذان دینی شروع کر دی،جب بلال اشہد ان محمد رسول اللہ پر پہنچے تو بلال کی نگاہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر رہی تھی،لیکن آج بلال کی نگاہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا،ان کے ہاتھ گر گئے اور وہ بے ہوش ہو کر پڑے۔حضرت عثمان سکتے کے عالم میں تھے،مولی علی غم سے نڈھال ہوکر ایک طرف خاموش بیٹھے تھے،عمر اس غم کو تاب نا لا سکے،غصے میں فرمایا جو کہے گا محمد ﷺ وفات پاچکے ہیں،میں اس کی گردن اڑا دوں گا،
اس عظیم غم سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے کتاب اللہ کی سورہ آل عمران کی آیت۔144 تلاوت فرما کر ابارا۔
سیدنا فضل من عباس اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما پردہ تان کھڑے ہو گئے،انصار نے دروازہ پر پہنچ کر آواز دی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خدمت گزاری میں اپنا حصہ طلب کرنے آئے ہیں۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اوس بن خولی انصاری رضی اللہ عنہ کو اندر بلایا وہ پانی کا گھڑا بھر کر لاتے تھے،حضرت علی نے جسم مبارک کو سینہ سے لگا رکھا تھا،سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے بڑے احترام سے جسم مبارک کی کروٹیں بدلتے تھے،اسامہ ابن زید اوپر سے پانی ڈالتے تھے،حضرت علی کرم اللہ وجہ غسل دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے میرے مادر اور پدر قربان!
آپ کی دفات سے وہ دولت گم ہو گئی ہے،جو کسی دوسری موت سے گم نہیں ہوئی۔
آج نبوت، اخبار غیب، نزول وحی کا سلسلہ کٹ گیا۔ آپ کی وفات تمام انسانوں کے لیے یکساں مصیبت ہے۔
اگر آپ صبر کا حکم نہ دیتے اور گریہ و زاری سے منع نہ فرماتے تو ہم دل کھول کے آنسو بہاتے۔
پھر بھی یہ دکھ لاعلاج ہوتا اور یہ زخم لازوال رہتا۔ ہمارے درد،بے درماں ہے،ہماری مصیبت بے دوا ہے،
اے حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے والدین آپ پر قربان۔
جب آپ ﷺ بارگاہ الہی میں پہنچے تو ہمارا ذکر فرمائیں اور ہم لوگوں کو فراموش نہ کر دیں۔
تین سوتی سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا۔چونکہ وصیت پاک یہ تھی کہ آپ کی قبر ایسی جگہ نہ بنائی جائے کہ اہل عقیدت اسے سجدہ گاہ بنا لیں، اس لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق حجرہ عائشہ میں قبر کھودی گئی،جہاں آپ نے انتقال فرمایا تھا،حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے لحدی قبر کھودی۔زمین میں نمی تھی،اس واسطے وہ بستر جس میں وفات پائی تھی،قبر میں پچھا دیا گیا۔جب تیاری مکمل ہوگئی،تو اہل ایمان نماز کے لیے ٹوٹ پڑے،چونکہ جنازہ حجرہ کے اندر تھا اسی واسطے باری باری جماعتیں اندر جاتی تھیں اور نماز جنازہ ادا کرتی تھی،اس نماز میں امام کوئی نہیں تھا،پہلے کنبہ والوں نے نماز جنازہ پڑھی، پھر مہاجرین نے،پھر انصار نے،مردوں نے الگ جنازہ پڑھا،عورتوں نے الگ،بچوں نے الگ۔
یہ سلسلہ رات اور دن برابر جاری رہا۔اسی طرح تدفین مبارک چار شنبہ کی شب کو یعنی رحلت پاک سے 32 گھنٹے بعد عمل میں آئی،جسم اقدس کو حضرت علی،فضل بن عباس،اسامہ ابن زید اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے قبر انور میں اتارا۔نبوت آخر کے سرتاج،علم کے چاند، دین کے سرور،دین کی سورج اور ارتقاء کے گلزار کو اہل دنیا کی نگاہوں سے اوجھل کر دیا گیا۔
و یبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام۔
وہ دانائے سبل،ختم الرسل،مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سينا
نگاہ عشق و مستی ميں وہی اول،وہی آخر
وہی قرآں،وہی فرقاں،وہی يسيں، وہی طہ
زززز
نوٹ : مذہبی و علمی آراء کو قارئین کے سامنے رکھنے کے تعلق سےـ’ ادارہ روزنامہ سرینگر جنگ ‘محض ایک سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے ۔اس لئے کسی بھی منفی بحث اور تنقیدسے احتراز کیجئے !اس مضمون کے حوالے سے مضمون نگار سے براہ راست رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

نبی کریم ﷺ کے آخری لمحات !

 

ریاض فردوسی

صدیق جلوہ ریز جمال محمدی
فاروق پردہ دار جلال محمدی
عثمان حیا پزیر خصال محمدی
حیدر مقیم بزم کمال محمدی
(صلی اللہ علیہ وسلم)

نبی آخر الزماں سرور کون و مکاں فخر بنی آدم حضور صاحب تاج و معراج صلی اللہ علیہ وسلم یتیم پیدا ہوئے،اس وقت چند ایک کو چھوڑ کر سارا کا سارا ماحول و معاشرہ بت پرست،بے ایمان،اور بے غیرت تھا،ہر طرح کی اخلاقی زوال اس معاشرے میں موجود تھا،اگر کھانے کے ساتھ شراب نا ہو تو کھانا ادھورا کہلاتا اور میزبان غیر مہذب،لیکن آپ ﷺ اللہ کی مدد سے بغیر کسی ظاہری تعلیم و تربیت کے نہ صرف ان تمام آلائشوں سے پاک صاف رہے بلکہ جسمانی ترقی کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی عقل و فہم اور فضل و کمال میں بھی ترقی ہوتی گئی یہاں تک کہ سب نے یکساں و یک زبان ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق و امین کا خطاب دیا۔
آپ ﷺ نے رزق حلال کو یہ اہمیت دی کہ قریش کی بکریاں چرائ اور اس کی مزدوری سے اپنی ضروریات پوری فرمائ،تجارت جیسا اہم پیشہ اختیار فرمایا اور’’ التاجر الصدوق الامین ‘‘(امانت دار سچے تاجر) مشہور و معروف ہوئے۔
اس دنیائے فانی میں ایک مومن بندے کی زندگی گذارنے کے لیے اللہ تعالی نے اسلام کو نظامِ حیات اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نمونہ حیات بنایا ہے وہی طریقہ اسلامی طریقہ ہوگا جو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے عملا،قولاً، فعلاً منقول ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ سنت کہلاتا ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا ہے "من رغب عن سنتی فلیس منی”(او کماقالﷺ)
جس نے میرے طریقے سے اعراض کیاوہ مجھ سے نہیں ہے۔
نبی کریم ﷺ آخری حج میں امت کو نصیحتیں اور وصیتیں کرکے،قیامت تک کے لئے مشن سونپ چکے ہیں،
"سب سے اہم بات کے مسلمانوں تمہارا خون،تمہارا مال،تمہاری آبرو، اسی طرح محترم ہے جس طرح سے یہ دن یہ مہینہ اور یہ شہر محترم ہے۔تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو،
اے لوگو! تمہیں اللہ کے دربار میں حاضر ہونا ہے، وہ تم سے تمہارے اعمال کا حساب کرے گا اور کسی نے جرم کیا تو وہ خود اپنی جرم کا ذمہ دار ہوگا، باپ بیٹے کے جرم کا ذمہ دار نہیں ہوگا،اور نا بیٹا باپ کے گناہوں کا۔
اے لوگو! توحید،نماز،زکوۃ،روزہ‌اور حج یہی جنت کا داخلہ ہے،میں نے تمہیں حق کا پیغام پہنچا دیا ہے،اب یہاں موجود لوگ یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچاتے رہیں جو بعد میں آئیں گے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچ کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہونے کی تیاری میں مصروف ہوگئے،بارگاہ خداوندی کی حاضری کا شوق روز بروز بڑھتا جاتا تھا،صبح و شام معبود حقیقی کے ذکر و یاد کی طلب تھی اور بس اس کے علاوہ کچھ باقی نہیں،کچھ بھی باقی نہیں۔
پیاری بیٹی خاتون جنت سلام اللہ علیہا تشریف لائی تو ان سے فرمایا!پیاری بیٹی اب مجھے اپنی رخصت قریب معلوم ہوتی ہے۔
انہی ایام میں شہدائے احد کی تکلیف بے بسی کی شہادت، مردانہ وار قربانیوں کا خیال آگیا، تو گنج شہیداں میں تشریف لے گئے اور بڑے درد و گداز سے ان کے لیے دعائیں کی نماز جنازہ پڑھی۔
انہیں اس طرح الوداع کہا،جس طرح ایک بزرگ شفیق اپنے کم سن بچوں کو پیار کرتا ہے اور پھر انہیں الوداع کہتا ہے۔
وہاں سے واپس آئیں تو منبر نبی ﷺ پر جلوہ طراز ہوئے اور ارباب صدق وفا سے نہایت درد مندان لہجے میں مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا !
دوستو اب میں تم سے آگے منزل آخرت کی طرف چلا جا رہا ہوں تاکہ بارگاہ بے کس پناہ میں تمہاری شہادت دوں،واللہ مجھے یہاں سے اپنا وہ حوض نظر آرہا ہے،جس کی وسعت ایلہ سے حجفہ تک ہے۔
مجھے تمام دنیا کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں،اب مجھے خوف نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے، البتہ میں اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں تم دنیا میں مبتلا نہ ہو جاؤ اور اس کے لیے آپس میں کشت و خون نہ کرو،(اگر آپس میں لڑو گے تو) اس وقت تم اس طرح ہلاک ہو جاؤ گے جس طرح دوسری قوم ہلاک ہوئی۔
قلب منور ﷺ میں سیدنا زید بن حارث رضی اللہ عنہ کی یاد تازہ ہو گئ،انہیں حدود شام کے عربوں نے شہید کر دیا تھا۔ ارشاد فرمایا!
"اسامہ بن زید فوج لے کر جائیں اور اپنے والد کا انتقام لیں”
وفات اقدس سے پانچ روز پہلے چار شنبہ کے دن پتھر کے ٹب میں بیٹھ گئے سر مبارک پر پانی کے سات مشکیں ڈلوائیں۔
اس سے مزاج اقدس میں خنکی اور تسکین سی پیدا ہو گئی،مسجد نبوی میں تشریف لائے فرمایا! مسلمانوں تم سے پہلے جو قومیں گزر چکی ہے،انہوں نے اپنے انبیاء علیھم السلام و صلحاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا،تم ایسا نہ کرنا۔
پھر فرمایا!ان یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
پھر فرمایا! میرے قبر کو میرے بعد ایسی قبر نہ بنا دینا کہ اس کی پرستش شروع ہو جائے۔
پھر فرمایا! مسلمانوں وہ قوم اللہ کے غضب میں آجاتی ہے،جو قبور انبیاء علیھم السلام کو مساجد بناتی ہے۔
پھر فرمایا! دیکھو میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں،دیکھو اب پھر یہی وصیت کرتا ہوں،
اے اللہ تو گواہ رہنا،اے اللہ تو گواہ رہنا،اے اللہ تو گواہ رہنا۔
پھر اپنے رفیقوں کے سامنے اپنی شخصیت کی اعلیٰ ترین مثال اور اعزاز کو چھپاتے ہوئے ارشاد فرمایا!
اللہ تعالی نے اپنے ایک بندے کو اختیار عطا فرمایا ہے کہ وہ دنیا و مافیہا کو قبول کرے، یا آخرت کو مگر اس نے آخرت ہی کو قبول کر لیا ہے،اتنا کہہ کر صاحب کن فیکون خاموش ہوگئے،لیکن رمز شناس پیغمبر اکرم ﷺ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور زاروقطار رونے لگے،اور کہا یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے ماں و باپ،ہماری جانیں،ہماری اولادیں اور ہمارے زر و مال آپ ﷺ پر قربان ہو جائیں!
لوگوں نے ان کو تعجب سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک شخص کا واقعہ بیان فرما رہے ہیں،اس میں رونے کی کون سی بات ہے، مگر رفیق ہجرت کا دل جانتا تھا کہ یہ شخص وہی ہیں،جو فرما رہے ہیں،وہ جانتے تھے کہ وہ شخص خود رحمت عالم ﷺ ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس بے کلی نے خیال منور ﷺ کو دوسری طرف مبذول کر دیا ارشاد فرمایا!
میں سب سے زیادہ جس شخص کی دولت اور رفاقت کا مشکور ہوں وہ ابوبکر ہیں۔اگر میں اپنی امت میں سے کسی ایک شخص کو اپنی دوستی کے لیے منتخب کر سکتا تو وہ ابوبکر ہوتے ہیں،لیکن‌جس طرح سینے میں دو دل نہیں ہو سکتے اسی طرح ایک دل میں دو محبت اکٹھا نہیں ہو سکتی،اب اللہ کی دوستی میرے لئے ہے اور وہی کافی ہے،مسجد کے رخ پر کوئی دریچہ ابوبکر کے دریچہ کے سوا باقی نہ رکھا جائے۔
مدینہ منورہ کے انصار رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے متعلق ارشاد فرمایا!
اے لوگو میں اپنے انصار کے معاملے میں تم کو وصیت کرتا ہوں۔عام مسلمان روز بروز بڑھتے جائیں گے،مگر میرے انصار کھانے میں نمک کی طرح رہ جائیں گے،یہ لوگ میرے جسم کا پیرہن اور میرے سفر زندگی کا توشہ ہیں۔انہوں نے اپنے فرائض ادا کر دیے ہیں،مگر ان کے حقوق باقی ہیں،جو شخص امت کے نفع اور نقصان کا متولی ہو،اس کا فرض ہے کہ وہ انصاروں کے نیکوکار کی قدر افزائی کرے،اور جن انصار سے لغزش ہو جائے ان کے متعلق درگزر سے کام لے۔
وصیتیں نبی ﷺ!
حلال و حرام کے تعین کو میری طرف منسوب نہ کرنا،میں نے وہی چیز حلال کی ہے،جسے قرآن نے حلال کیا ہے اور اسی کو حرام قرار دیا ہے جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔کوئی مشرک عرب میں نہ رہے،سفیروں اور وفود کی بدستور عزت و مہمانی کی جائے۔قرآن اور میرے اہل بیت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا،کبھی گمراہ نہیں ہوگے(او کما قال ﷺ)
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم علالت کی تکلیف اور بے چینی کے باوجود 11 روز تک مسلسل مسجد میں تشریف لاتے رہیں،جمعرات کے روز مغرب کی نماز خود پڑھائی،اس میں سورہ مرسلات تلاوت فرمائی،عشاء کے وقت آنکھ کھولی دریافت فرمایا کہ نماز ہو چکی؟ مسلمانوں نے عرض کیا! مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر بیٹھے ہیں۔لگن میں پانی بھروا کر غسل فرمایا، اور پھر ہمت کر کے اٹھے مگر غش آگیا، تھوڑی دیر میں آنکھ کھولی اور فرمایا کہ نماز ہو چکی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مسلمان آپ کا انتظار کر رہے ہیں، اس مرتبہ پھر اٹھنا چاہا مگر بے ہوش ہو گئے، کچھ دیر کے بعد پھر آنکھ کھولی اور وہیں سوال دہرایا کیا نماز ہو چکی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! سب لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی انتظار ہے، تیسری مرتبہ جسم مبارک پر پانی ڈالا جب اٹھنا چاہا تو غشی آگیا،افاقہ ہونے پر ارشاد فرمایا ابوبکر نماز پڑھا دے۔
حضرت عائشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے والد رقیق القلب آدمی ہے جب وہ آپ ﷺ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے نماز نہیں پڑھا سکیں گے،
پھر بھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہی نماز پڑھائیں۔
آج نبی کریم ﷺ کے مزاج اقدس میں قدرے سکون تھا،آج کی حالت صبح ہی سے نہایت عجیب تھی، ایک سورج بلند ہو رہا تھا، اب دوسرا سورج غروب ہو رہا تھا،کاشانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں پے در پے غشی کے بادل آئے،رسول اللہ صلی ال علیہ وسلم کے وجود اقدس پر چھا گئے، ایک بے ہوشی گزر جاتی تھی،دوسری پھر وارد ہو جاتی،انہی تکلیفوں میں پیاری بیٹی کو یاد فرمایا!اپنے والد کا یہ حال دیکھ کر خاتون جنت برداشت نہ کر سکی، سینہ مبارک سے لپٹ گئی اور رونے لگی، بیٹی کو اس طرح نڈھال دیکھ کر ارشاد فرمایا!میرے بیٹی روؤں نہیں میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں گا، تو ان اللہ وانا الیہ راجعون کہنا اسی میں ہر شخص کے لیے سامان تسکین موجود ہے۔
سیدہ سلام اللہ علیہا نے پوچھا کہ ابا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی،آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس میں میری بھی تسکین مضمر ہے۔جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درد اور قرب بڑھتا جا رہا تھا،خاتون جنت سلام اللہ علیہا کا کلیجہ بھی کٹتا جا رہا تھا،حضرت رحمت اللہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اذیت کو محسوس کرکے کچھ کہنا چاہا تو پیاری بیٹی نے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے لبوں سے اپنے کان لگا دیئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، بیٹی میں آج دنیا کو چھوڑ رہا ہوں، فاطمہ بے اختیار رو پڑی،پھر فرمایا فاطمہ، میرے اہل بیت میں تم سب سے پہلے مجھ سے ملو گی،فاطمہ بے اختیار ہنس پڑی کہ جدائی قلیل ہے۔
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت نازک ترین ہوتی جا رہی تھی،یہ حال دیکھ کر فاطمہ نے کہنا شروع کر دیا اے میرے باپ کی تکلیف۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا!
فاطمہ آج کے بعد تمہارا باپ کبھی بے چین نہیں ہوگا،حسن ،حسین سلام اللہ علیہا بہت غمگین ہو رہے تھے، انہیں اپنے پاس بلایا دونوں کو چوما۔
امت کو ان کے احترام کی وصیت فرمائی،ازواج مطہرات رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو طلب فرمایا اور انہیں نصحیتیں فرمائ۔
حضرت علی‌ رضی اللہ عنہ کو نصیحتیں کی،شیر خدا نے آپ ﷺ کا سر مبارک اپنی گود میں رکھ لیا،
پھر فرمایا۔
نماز،نماز، لونڈی،غلام اور پس ماندگان۔
رحمت اللہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم اماں عائشہ کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پانی کا پیالہ پاس رکھا تھا،اس میں ہاتھ ڈالتے تھے اور چہرہ انور پرپھیر لیتے تھے،روئے اقدس کبھی سرخ ہو جاتا تھا، اور کبھی زرد پر جاتا تھا،زبان مبارک آہستہ آہستہ ہل رہی تھی،اللہ کی بزرگی اور بڑائی کا ورد‌ جاری تھا۔
لا الہ الا اللہ ان للموت سکرات۔
حضرت حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر ایک تازہ مسواک کے ساتھ آئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک پر‌ نظر جما دی۔حضرت عائشہ سمجھ گئیں کہ مسواک فرمائیں گے،ام المومنین نے دانتوں سے نرم کرکے مسواک پیش کیا اور آپ ﷺ نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک کیا،دہان مبارک پہلے ہی سے طہارت کا سراپہ تھا،اب مسواک کے بعد اور بھی مجلہ ہو گیا،تو یک لخت ہاتھ اونچا کیا گویا کہیں تشریف لے جا رہے ہیں،زبان اقدس سے بے ساختہ نکلا۔
بل الرفيق الاعلى،بل الرفيق الاعلى،بل الرفيق الاعلى۔(اب اور کوئی نہیں صرف اسی کی رفاقت منظور ہے)۔تیسری آواز پر ہاتھ مبارک لٹک آئے،
پتلی اوپر اٹھ گئیں،روح مقدس ﷺ عالم قدس کو ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئ، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
مسلمانوں کے جگر کٹ گئے،قدم لڑکھڑا گئے،چہرے بجھ گئے،آنکھیں خون بہانے لگی،ارض وسما سے خوف آنے لگا،سورج تاریک ہوگیا،صحابہ اکرام کے آنسو بہہ رہے تھے،تھمتے نہیں تھے،کئی صحابہ حیران و سرگردان ہو کر آبادیوں سے نکل گئے،کوئی جنگل کی طرف بھاگ گیا،جو بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا جو کھڑا تھا،اس کو بیٹھ جانے کا یارانہ ہوا۔
مسجد نبوی قیامت سے پہلے قیامت کا نمونہ پیش کر رہی تھی،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے چپ چاپ اماں عائشہ کے گھر میں داخل ہوگئے،یہاں حضرت رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک میت رکھی تھی اور صدیق نے چہرہ اقدس سے کپڑا اٹھا کر پیشانی مبارک کو بوسہ دیا،رو کر کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان آپ کی زندگی بھی پاک تھی اور موت بھی پاک ہے، واللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو موت وارد نہیں ہوں گی،اللہ نے جو موت لکھ رکھی تھی آج آپ ﷺ نے اس کا ذائقہ چکھ لیا اور اب اس کے بعد موت ابد تک اپ کا دامن نہ چھو سکے گی۔
صدیق اکبر کے دوست نہیں رہے،فاروق اب بار بار کن کی زیارت کریں گے،عثمان و علی کن مقدس ہستی کو دیکھ کر اپنے غموں کو فراموش کریں گے،
انس ابن مالک اب کن کی خدمت کریں گے،ابو رافع کے آقا ﷺ نہیں رہے،اماں عائشہ کا سہاگ لٹ گیا،
بی بی فاطمہ کے ساتھ ساتھ پوری امت ہمیشہ ہمیش کے لئے یتیم ہو گئی،کل من علیہما فان۔۔۔
اسی دوران سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ اٹھیں اور اذان دینی شروع کر دی،جب بلال اشہد ان محمد رسول اللہ پر پہنچے تو بلال کی نگاہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر رہی تھی،لیکن آج بلال کی نگاہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا،ان کے ہاتھ گر گئے اور وہ بے ہوش ہو کر پڑے۔حضرت عثمان سکتے کے عالم میں تھے،مولی علی غم سے نڈھال ہوکر ایک طرف خاموش بیٹھے تھے،عمر اس غم کو تاب نا لا سکے،غصے میں فرمایا جو کہے گا محمد ﷺ وفات پاچکے ہیں،میں اس کی گردن اڑا دوں گا،
اس عظیم غم سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے کتاب اللہ کی سورہ آل عمران کی آیت۔144 تلاوت فرما کر ابارا۔
سیدنا فضل من عباس اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما پردہ تان کھڑے ہو گئے،انصار نے دروازہ پر پہنچ کر آواز دی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خدمت گزاری میں اپنا حصہ طلب کرنے آئے ہیں۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اوس بن خولی انصاری رضی اللہ عنہ کو اندر بلایا وہ پانی کا گھڑا بھر کر لاتے تھے،حضرت علی نے جسم مبارک کو سینہ سے لگا رکھا تھا،سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے بڑے احترام سے جسم مبارک کی کروٹیں بدلتے تھے،اسامہ ابن زید اوپر سے پانی ڈالتے تھے،حضرت علی کرم اللہ وجہ غسل دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے میرے مادر اور پدر قربان!
آپ کی دفات سے وہ دولت گم ہو گئی ہے،جو کسی دوسری موت سے گم نہیں ہوئی۔
آج نبوت، اخبار غیب، نزول وحی کا سلسلہ کٹ گیا۔ آپ کی وفات تمام انسانوں کے لیے یکساں مصیبت ہے۔
اگر آپ صبر کا حکم نہ دیتے اور گریہ و زاری سے منع نہ فرماتے تو ہم دل کھول کے آنسو بہاتے۔
پھر بھی یہ دکھ لاعلاج ہوتا اور یہ زخم لازوال رہتا۔ ہمارے درد،بے درماں ہے،ہماری مصیبت بے دوا ہے،
اے حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے والدین آپ پر قربان۔
جب آپ ﷺ بارگاہ الہی میں پہنچے تو ہمارا ذکر فرمائیں اور ہم لوگوں کو فراموش نہ کر دیں۔
تین سوتی سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا۔چونکہ وصیت پاک یہ تھی کہ آپ کی قبر ایسی جگہ نہ بنائی جائے کہ اہل عقیدت اسے سجدہ گاہ بنا لیں، اس لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق حجرہ عائشہ میں قبر کھودی گئی،جہاں آپ نے انتقال فرمایا تھا،حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے لحدی قبر کھودی۔زمین میں نمی تھی،اس واسطے وہ بستر جس میں وفات پائی تھی،قبر میں پچھا دیا گیا۔جب تیاری مکمل ہوگئی،تو اہل ایمان نماز کے لیے ٹوٹ پڑے،چونکہ جنازہ حجرہ کے اندر تھا اسی واسطے باری باری جماعتیں اندر جاتی تھیں اور نماز جنازہ ادا کرتی تھی،اس نماز میں امام کوئی نہیں تھا،پہلے کنبہ والوں نے نماز جنازہ پڑھی، پھر مہاجرین نے،پھر انصار نے،مردوں نے الگ جنازہ پڑھا،عورتوں نے الگ،بچوں نے الگ۔
یہ سلسلہ رات اور دن برابر جاری رہا۔اسی طرح تدفین مبارک چار شنبہ کی شب کو یعنی رحلت پاک سے 32 گھنٹے بعد عمل میں آئی،جسم اقدس کو حضرت علی،فضل بن عباس،اسامہ ابن زید اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے قبر انور میں اتارا۔نبوت آخر کے سرتاج،علم کے چاند، دین کے سرور،دین کی سورج اور ارتقاء کے گلزار کو اہل دنیا کی نگاہوں سے اوجھل کر دیا گیا۔
و یبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام۔
وہ دانائے سبل،ختم الرسل،مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سينا
نگاہ عشق و مستی ميں وہی اول،وہی آخر
وہی قرآں،وہی فرقاں،وہی يسيں، وہی طہ
زززز
نوٹ : مذہبی و علمی آراء کو قارئین کے سامنے رکھنے کے تعلق سےـ’ ادارہ روزنامہ سرینگر جنگ ‘محض ایک سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے ۔اس لئے کسی بھی منفی بحث اور تنقیدسے احتراز کیجئے !اس مضمون کے حوالے سے مضمون نگار سے براہ راست رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں