خواتین کے خلاف جرائم -ایک لمحۂ فکریہ

خان سحرش
کشمیر

کشمیر میں خواتین کے خلاف بڑھتے تشدد، قتل اور جنسی جرائم نے ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ دنوں ایک نوجوان عورت کی المناک موت پر عوام کا سڑکوں پر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب لوگ ایسے مظالم کو مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
یہ کوئی ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک خطرناک سماجی رجحان ہے۔ عورت کی جان، حرمت اور وقار مسلسل غیر محفوظ ہو رہے ہیں۔ یہ سب کچھ معاشرتی، قانونی اور اخلاقی نظام کی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔
تشدد اب شاذ و نادر نہیں رہا۔ کبھی یہ گھریلو تشدد، کبھی جہیز، کبھی ہراسانی اور کبھی قتل یا ریپ کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا رویہ تماشائیوں جیسا ہے، جو صرف اس وقت بیدار ہوتا ہے جب کوئی لاش سڑک پر آ جائے۔ چند دن کا شور، چند وعدے، اور پھر خاموشی۔ اسی خاموشی میں اگلا جرم جنم لیتا ہے۔
کیا ہم یہی کشمیر اپنی نسلوں کے لیے چھوڑنا چاہتے ہیں؟ یہ لمحۂ فکریہ ہے۔
ہمیں سب سے پہلے سوچ اور رویہ بدلنا ہوگا۔ متاثرہ خواتین کو شرمندہ کرنے، انہیں خاموش کرانے اور "عزت” کے نام پر انصاف سے روکنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔ عزت تب ہے جب مظلوم کا ساتھ دیا جائے اور ظالم کو سزا ملے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو یقین دلانا ہوگا کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ عوام کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کرے۔ بار بار کے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پولیس کی تفتیش سست، عدالتی نظام کمزور اور انصاف کا عمل ناقص ہے۔ حکومت کو پولیس کو جدید تربیت، متاثرین کو تحفظ، اور عدالتوں میں تیز انصاف کے لیے اقدامات لینے ہوں گے۔
آئے دن ہم سنتے ہیں کہ ملزم ضمانت پر رہا ہو گیا یا گواہ منحرف ہو گئے۔ صرف سخت قوانین کافی نہیں، ان پر شفاف اور غیر جانبدار عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ انصاف جلد ملے تاکہ مجرموں کو واضح پیغام جائے کہ وہ بچ نہیں سکتے۔
ہمارے علما، خطبا، اساتذہ اور سماجی رہنما بھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔ اسلام نے عورت کو عظمت اور تحفظ دیا ہے۔ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ عورت پر ظلم معاشرتی برائی ہی نہیں، دینی لحاظ سے بھی سنگین جرم ہے۔
میڈیا کو چاہیے کہ ان واقعات کی سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرے۔ متاثرین کی شناخت چھپائے، سنسنی سے گریز کرے، اور عوامی دباؤ کو برقرار رکھتے ہوئے پولیس و حکومت سے جواب طلب کرے۔
آخر میں یہی کہ آج صفاپورہ میں کوئی ماں رو رہی ہے، کل یہ دکھ ہمارے گھر میں بھی ہو سکتا ہے۔ اگر قاتل آزاد پھرتے رہے تو ہمارا سماج مزید برباد ہو جائے گا۔
آیئے عہد کریں کہ ہم خاموش نہیں رہیں گے، انصاف کی آواز بلند کریں گے، اور اپنی بیٹیوں کے لیے ایک محفوظ کشمیر تعمیر کریں گے۔
"ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

خواتین کے خلاف جرائم -ایک لمحۂ فکریہ

خان سحرش
کشمیر

کشمیر میں خواتین کے خلاف بڑھتے تشدد، قتل اور جنسی جرائم نے ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ دنوں ایک نوجوان عورت کی المناک موت پر عوام کا سڑکوں پر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب لوگ ایسے مظالم کو مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
یہ کوئی ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک خطرناک سماجی رجحان ہے۔ عورت کی جان، حرمت اور وقار مسلسل غیر محفوظ ہو رہے ہیں۔ یہ سب کچھ معاشرتی، قانونی اور اخلاقی نظام کی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔
تشدد اب شاذ و نادر نہیں رہا۔ کبھی یہ گھریلو تشدد، کبھی جہیز، کبھی ہراسانی اور کبھی قتل یا ریپ کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا رویہ تماشائیوں جیسا ہے، جو صرف اس وقت بیدار ہوتا ہے جب کوئی لاش سڑک پر آ جائے۔ چند دن کا شور، چند وعدے، اور پھر خاموشی۔ اسی خاموشی میں اگلا جرم جنم لیتا ہے۔
کیا ہم یہی کشمیر اپنی نسلوں کے لیے چھوڑنا چاہتے ہیں؟ یہ لمحۂ فکریہ ہے۔
ہمیں سب سے پہلے سوچ اور رویہ بدلنا ہوگا۔ متاثرہ خواتین کو شرمندہ کرنے، انہیں خاموش کرانے اور "عزت” کے نام پر انصاف سے روکنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔ عزت تب ہے جب مظلوم کا ساتھ دیا جائے اور ظالم کو سزا ملے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو یقین دلانا ہوگا کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ عوام کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کرے۔ بار بار کے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پولیس کی تفتیش سست، عدالتی نظام کمزور اور انصاف کا عمل ناقص ہے۔ حکومت کو پولیس کو جدید تربیت، متاثرین کو تحفظ، اور عدالتوں میں تیز انصاف کے لیے اقدامات لینے ہوں گے۔
آئے دن ہم سنتے ہیں کہ ملزم ضمانت پر رہا ہو گیا یا گواہ منحرف ہو گئے۔ صرف سخت قوانین کافی نہیں، ان پر شفاف اور غیر جانبدار عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ انصاف جلد ملے تاکہ مجرموں کو واضح پیغام جائے کہ وہ بچ نہیں سکتے۔
ہمارے علما، خطبا، اساتذہ اور سماجی رہنما بھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔ اسلام نے عورت کو عظمت اور تحفظ دیا ہے۔ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ عورت پر ظلم معاشرتی برائی ہی نہیں، دینی لحاظ سے بھی سنگین جرم ہے۔
میڈیا کو چاہیے کہ ان واقعات کی سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرے۔ متاثرین کی شناخت چھپائے، سنسنی سے گریز کرے، اور عوامی دباؤ کو برقرار رکھتے ہوئے پولیس و حکومت سے جواب طلب کرے۔
آخر میں یہی کہ آج صفاپورہ میں کوئی ماں رو رہی ہے، کل یہ دکھ ہمارے گھر میں بھی ہو سکتا ہے۔ اگر قاتل آزاد پھرتے رہے تو ہمارا سماج مزید برباد ہو جائے گا۔
آیئے عہد کریں کہ ہم خاموش نہیں رہیں گے، انصاف کی آواز بلند کریں گے، اور اپنی بیٹیوں کے لیے ایک محفوظ کشمیر تعمیر کریں گے۔
"ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں