وُلر میں امید کا نیا موسم

 

تین دہائیوں کے طویل انتظار کے بعدکشمیر کی وُلر جھیل میں کنول کے پھول ایک بار پھر کھلنے لگے ہیں۔ عام نظر سے دیکھیں تو یہ محض ایک موسمی واقعہ لگتا ہے، لیکن جو لوگ کبھی اس جھیل کے سہارے زندگی گزارتے تھے، ان کے لئے یہ منظر امید، معاش اور ثقافت کی بحالی کی علامت ہے۔
وُلر جھیل میں دوبارہ اُگنے والے کنول محض نباتاتی بہار نہیں، بلکہ یہ ایک ماحولیاتی اور معاشی خوشخبری ہے۔ کنول کی جڑجسے کشمیر میں نَدرُو کہا جاتا ہے، وادی کی روایتی غذا میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور سردیوں کے دوران کئی گھرانوں کے لئے روزگار کا ذریعہ بھی رہی ہے۔
سن 1992 کے تباہ کن سیلاب کے بعد جب جھیل کی تہہ میں مٹی کی دبیز تہیں جم گئیں، تو کنول کے پودے بھی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی جھیل پر انحصار کرنے والے سیکڑوں خاندانوں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بھی ختم ہو گیا۔ وُلر، جو تقریباً 200 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور بانڈی پورہ و سوپور کے درمیان واقع ہے، کبھی ایشیا کی سب سے بڑی تازہ پانی کی جھیلوں میں شمار ہوتی تھی۔ یہ صرف ایک قدرتی ذخیرہ نہیں، بلکہ وادی کے سماجی اور ثقافتی وجود کا حصہ تھی۔
محکمہ جنگلات و ماحولیات کے مطابق، کنول کی جڑیں اگرچہ زمین میں دبی ہوئی تھیں، لیکن جھیل کی صفائی اور مٹی ہٹانے کے بعد یہ دوبارہ اُگنے لگی ہیں۔ قدرت نے تو موقع دیا تھا، انسان نے دیر سے سہی، مگر اس موقع کو پہچانا اور زمین کی سانس بحال کی۔
لیکن یہاں رکنا نہیں چاہیے۔ کنول کے پھول کی واپسی کوئی معجزہ نہیں، بلکہ ایک اشارہ ہے—کہ اگر ہم چاہیں تو وادی کے قدرتی وسائل اور مقامی معیشت کو پھر سے زندہ کر سکتے ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں اس امر پر بھی غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم نے اپنی قدرتی میراث کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ آج بھی وُلر جھیل کو ماحولیاتی آلودگی، تجاوزات اور سرکاری غفلت جیسے خطرات لاحق ہیں۔ اگر یہ خوشبو اور رنگ دیرپا بنانے ہیں، تو صرف مقامی محنت کافی نہیں، بلکہ مستقل منصوبہ بندی، نگہداشت اور پالیسی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

وُلر میں امید کا نیا موسم

 

تین دہائیوں کے طویل انتظار کے بعدکشمیر کی وُلر جھیل میں کنول کے پھول ایک بار پھر کھلنے لگے ہیں۔ عام نظر سے دیکھیں تو یہ محض ایک موسمی واقعہ لگتا ہے، لیکن جو لوگ کبھی اس جھیل کے سہارے زندگی گزارتے تھے، ان کے لئے یہ منظر امید، معاش اور ثقافت کی بحالی کی علامت ہے۔
وُلر جھیل میں دوبارہ اُگنے والے کنول محض نباتاتی بہار نہیں، بلکہ یہ ایک ماحولیاتی اور معاشی خوشخبری ہے۔ کنول کی جڑجسے کشمیر میں نَدرُو کہا جاتا ہے، وادی کی روایتی غذا میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور سردیوں کے دوران کئی گھرانوں کے لئے روزگار کا ذریعہ بھی رہی ہے۔
سن 1992 کے تباہ کن سیلاب کے بعد جب جھیل کی تہہ میں مٹی کی دبیز تہیں جم گئیں، تو کنول کے پودے بھی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی جھیل پر انحصار کرنے والے سیکڑوں خاندانوں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بھی ختم ہو گیا۔ وُلر، جو تقریباً 200 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور بانڈی پورہ و سوپور کے درمیان واقع ہے، کبھی ایشیا کی سب سے بڑی تازہ پانی کی جھیلوں میں شمار ہوتی تھی۔ یہ صرف ایک قدرتی ذخیرہ نہیں، بلکہ وادی کے سماجی اور ثقافتی وجود کا حصہ تھی۔
محکمہ جنگلات و ماحولیات کے مطابق، کنول کی جڑیں اگرچہ زمین میں دبی ہوئی تھیں، لیکن جھیل کی صفائی اور مٹی ہٹانے کے بعد یہ دوبارہ اُگنے لگی ہیں۔ قدرت نے تو موقع دیا تھا، انسان نے دیر سے سہی، مگر اس موقع کو پہچانا اور زمین کی سانس بحال کی۔
لیکن یہاں رکنا نہیں چاہیے۔ کنول کے پھول کی واپسی کوئی معجزہ نہیں، بلکہ ایک اشارہ ہے—کہ اگر ہم چاہیں تو وادی کے قدرتی وسائل اور مقامی معیشت کو پھر سے زندہ کر سکتے ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں اس امر پر بھی غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم نے اپنی قدرتی میراث کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ آج بھی وُلر جھیل کو ماحولیاتی آلودگی، تجاوزات اور سرکاری غفلت جیسے خطرات لاحق ہیں۔ اگر یہ خوشبو اور رنگ دیرپا بنانے ہیں، تو صرف مقامی محنت کافی نہیں، بلکہ مستقل منصوبہ بندی، نگہداشت اور پالیسی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں