کشمیر کے آستانوں میں چوری کے واقعات

حال ہی میں سری نگر کے خانیار علاقے میں ایک درگاہ کے چندہ بکس کو نامعلوم افراد نے توڑ کر رقم چرا لی اور فرار ہو گئے۔ اس سے ایک دن قبل کولگام کی ایک زیارت گاہ سے بھی چندہ باکس کی رقم لوٹ لی گئی تھی، اور ابتدائی شواہد کے مطابق واردات میں منشیات کے عادی افراد ملوث ہو سکتے ہیں۔ یہ واقعات نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ آستانوں کی حرمت پر سوالیہ نشان بھی ہیں۔
ان واقعات کی بھرپور مذمت ہونی چاہیے، لیکن ان کے ساتھ ساتھ ہمیں خود سے کچھ کڑے سوال بھی کرنے ہوں گے ۔خصوصاً ان اداروں سے جو اِن زیارت گاہوں اور مساجد کے انتظامات کے ذمہ دار ہیں۔
عرصہ دراز سے یہ مذہبی مراکز عوام کے عقیدے، اعتماد اور سخاوت کے مراکز رہے ہیں۔ لوگ دل کھول کر چندہ دیتے ہیں، اس نیت سے کہ یہ رقم غرباء، یتیموں، بیماروں اور ضرورت مندوں پر خرچ ہوگی۔ مگر بدقسمتی سے آج ہم دیکھتے ہیں کہ ان رقوم کا بڑا حصہ پرتعیش تعمیرات پر خرچ کیا جا رہا ہے، سنگِ مرمر کی فرشیں، طلائی دروازے، روشنیاں، اور دیگر تزئینی مظاہر۔ وہیں انہی در و دیوار کے سائے میں محتاج، بیمار اور بے گھر افراد دم توڑتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ دو عملی لمحۂ فکریہ ہے۔ جب معاشرہ منشیات کی لعنت میں جکڑا جا رہا ہو، تو مذہبی اداروں کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ مسجد اور درگاہیں صرف عمارتیں نہیں، یہ روحانی تربیت گاہیں ہیں، جنہیں انسانیت کا درد محسوس ہونا چاہیے۔
اس ادارتی نوٹ کا مقصد چوروں کو جواز دینا نہیں بلکہ ادارتی خود احتسابی کی دعوت دینا ہے۔ زیارت و مسجد کمیٹیوں کو اپنے مالی معاملات کے ساتھ اپنی ترجیحات کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ کیا واقعی تزئین و آرائش، فاقہ کشی میں مبتلا انسانوں سے زیادہ اہم ہے؟ کیا چمکتے مینار خدمتِ خلق کے جذبے سے زیادہ قابلِ فخر ہیں؟
یہ واقعات محض سیکورٹی کے نظام کو مضبوط بنانے کا اشارہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ضمیر کو بیدار کرنے کی صدا ہیں۔ اگر یہ رقم واقعی مستحقین کی مدد کے لئے بروئے کار آتی، تو شاید کوئی اسے چوری کرنے پر مجبور نہ ہوتا۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہماری زیارت گاہیں محض زیبائش کا نشان نہ رہیں بلکہ رفاہ عام کی زندہ مثال بنیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

کشمیر کے آستانوں میں چوری کے واقعات

حال ہی میں سری نگر کے خانیار علاقے میں ایک درگاہ کے چندہ بکس کو نامعلوم افراد نے توڑ کر رقم چرا لی اور فرار ہو گئے۔ اس سے ایک دن قبل کولگام کی ایک زیارت گاہ سے بھی چندہ باکس کی رقم لوٹ لی گئی تھی، اور ابتدائی شواہد کے مطابق واردات میں منشیات کے عادی افراد ملوث ہو سکتے ہیں۔ یہ واقعات نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ آستانوں کی حرمت پر سوالیہ نشان بھی ہیں۔
ان واقعات کی بھرپور مذمت ہونی چاہیے، لیکن ان کے ساتھ ساتھ ہمیں خود سے کچھ کڑے سوال بھی کرنے ہوں گے ۔خصوصاً ان اداروں سے جو اِن زیارت گاہوں اور مساجد کے انتظامات کے ذمہ دار ہیں۔
عرصہ دراز سے یہ مذہبی مراکز عوام کے عقیدے، اعتماد اور سخاوت کے مراکز رہے ہیں۔ لوگ دل کھول کر چندہ دیتے ہیں، اس نیت سے کہ یہ رقم غرباء، یتیموں، بیماروں اور ضرورت مندوں پر خرچ ہوگی۔ مگر بدقسمتی سے آج ہم دیکھتے ہیں کہ ان رقوم کا بڑا حصہ پرتعیش تعمیرات پر خرچ کیا جا رہا ہے، سنگِ مرمر کی فرشیں، طلائی دروازے، روشنیاں، اور دیگر تزئینی مظاہر۔ وہیں انہی در و دیوار کے سائے میں محتاج، بیمار اور بے گھر افراد دم توڑتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ دو عملی لمحۂ فکریہ ہے۔ جب معاشرہ منشیات کی لعنت میں جکڑا جا رہا ہو، تو مذہبی اداروں کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ مسجد اور درگاہیں صرف عمارتیں نہیں، یہ روحانی تربیت گاہیں ہیں، جنہیں انسانیت کا درد محسوس ہونا چاہیے۔
اس ادارتی نوٹ کا مقصد چوروں کو جواز دینا نہیں بلکہ ادارتی خود احتسابی کی دعوت دینا ہے۔ زیارت و مسجد کمیٹیوں کو اپنے مالی معاملات کے ساتھ اپنی ترجیحات کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ کیا واقعی تزئین و آرائش، فاقہ کشی میں مبتلا انسانوں سے زیادہ اہم ہے؟ کیا چمکتے مینار خدمتِ خلق کے جذبے سے زیادہ قابلِ فخر ہیں؟
یہ واقعات محض سیکورٹی کے نظام کو مضبوط بنانے کا اشارہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ضمیر کو بیدار کرنے کی صدا ہیں۔ اگر یہ رقم واقعی مستحقین کی مدد کے لئے بروئے کار آتی، تو شاید کوئی اسے چوری کرنے پر مجبور نہ ہوتا۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہماری زیارت گاہیں محض زیبائش کا نشان نہ رہیں بلکہ رفاہ عام کی زندہ مثال بنیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں