کبھی تم ملو
کیسر خان قیس
بانڈی پورہ، ریاسی
کبھی تم ملو تو کہوں داستاں
مرے درد میں روتا ہے آسماں
تری چاہتوں میں ہوا سب دھواں
بچا ہی نہیں کچھ بھی میرے یہاں
کبھی تم ملو تو کہوں داستاں
ترے بن میں جاؤ کہاں ساتھیاں
ترے بن نہیں میرا کو ئی جہاں
تو آ لوٹ کر میں ترے ساتھ ہی
گزاروں گا اپنا تو ہر امتحاں
کبھی تم ملو تو کہوں داستاں
یادوں میں تیری جو بہائے گئے ہیں
آنسوں وہ سارے سمندر بنے ہیں
جو دیے ہے تو نے جہاں بھر کے مجھ کو
رنج وہ سارے ہی مقدر بنے ہیں
زندگی مشکل سے جیے جا رہا ہوں
آنسوں میں اپنے پیے جا رہا ہوں
حدوں کی ہد بھی ختم اب ہو رہی ہے
زخم میں اپنے ہی سیے جا رہا ہوں
کبھی تم ملو تو کہوں داستاں
لوٹ کے تو بھی آ نہ سکا
میں تجھے تو بھلا نہ سکا
ائینہ ہنستا ہے مجھ پے میں بھی
نظرے خود سے ملا نہ سکا
زخم تو بھر گئے ہیں سبھی
بس نشاں میں مٹا نہ سکا
بھول جا تو اسے ہاں مگر
اپنے دل کو میں منہ نہ سکا
کبھی تم ملو تو کہوں داستاں
ززز


