غزل- میر شہریارؔ

میر شہریارؔ
اننت ناگ کشمیر

دیکھا اس کے بن کیسا لگتا ہوں
پورا ہو کے بھی آدھا لگتا ہوں
اندر کیا ہوں وہ بس میں جانتا ہوں
حلیے سے تو دیوانہ لگتا ہوں
یہ بیگانی نظروں کی شرارت ہے
دیکھو میں بالکل تم سا لگتا ہوں
دیواروں کو لگتا ہوں میں دیوار
آئینوں کو آئینہ لگتا ہوں
پاس آکے ہوتا ہوں دریا معلوم
پر دور سے کوئی صحرا لگتا ہوں
کتنے کردار نبھاتا ہوں ایک ساتھ
میں تو کوئی افسانہ لگتا ہوں
ساری سچائی آج بتا کر میں
واعظ کو بہکا بہکا لگتا ہوں
میں ڈھلتا ہوں کچھ ایسے رنگوں میں
کبھی رادھا تو کبھی کانہا لگتا ہوں
اندھوں کو لگتا ہوں میں دیدہ ور
دیدہ وروں کو میں اندھا لگتا ہوں
تنہائی میں ہوتا ہے یاروں کا ہجوم
اور بھیڑ میں تنہا تنہا لگتا ہوں
اپنا لگتا ہوں سارے عالم کو
کیامیں خود کو بھی اپنا لگتا ہوں
ززز

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سمبا کی ٹیم نے ’اُڑان‘ پیش کیا، کیتھل نے پہلی پوزیشن حاصل کی

  جنگ نیوز ڈیسک پنچکولہ/ پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ...

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

تازہ ترین خبریں

سمبا کی ٹیم نے ’اُڑان‘ پیش کیا، کیتھل نے پہلی پوزیشن حاصل کی

  جنگ نیوز ڈیسک پنچکولہ/ پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ...

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

غزل- میر شہریارؔ

میر شہریارؔ
اننت ناگ کشمیر

دیکھا اس کے بن کیسا لگتا ہوں
پورا ہو کے بھی آدھا لگتا ہوں
اندر کیا ہوں وہ بس میں جانتا ہوں
حلیے سے تو دیوانہ لگتا ہوں
یہ بیگانی نظروں کی شرارت ہے
دیکھو میں بالکل تم سا لگتا ہوں
دیواروں کو لگتا ہوں میں دیوار
آئینوں کو آئینہ لگتا ہوں
پاس آکے ہوتا ہوں دریا معلوم
پر دور سے کوئی صحرا لگتا ہوں
کتنے کردار نبھاتا ہوں ایک ساتھ
میں تو کوئی افسانہ لگتا ہوں
ساری سچائی آج بتا کر میں
واعظ کو بہکا بہکا لگتا ہوں
میں ڈھلتا ہوں کچھ ایسے رنگوں میں
کبھی رادھا تو کبھی کانہا لگتا ہوں
اندھوں کو لگتا ہوں میں دیدہ ور
دیدہ وروں کو میں اندھا لگتا ہوں
تنہائی میں ہوتا ہے یاروں کا ہجوم
اور بھیڑ میں تنہا تنہا لگتا ہوں
اپنا لگتا ہوں سارے عالم کو
کیامیں خود کو بھی اپنا لگتا ہوں
ززز

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں