نعت اقدسﷺ- سعید قادری

سعید قادری

دنیا سے کیا غرض ہے کس چیز کی کمی ہے
تری یاد زندگی ہے ، ترا ذکر بندگی ہے
عشق نبیِ اکرم ،ایمان کی کڑی ہے
ہو گر کمی جو اس میں، پھر زندگی بری ہے
ان کا غلام ہوں میں ، کہ غلامی سروری ہے
دنیا میں بھی خوشی ہے ، عقبیٰ کی بہتری ہے
ہر گل میں ہر شجر میں تجھکو دکھائی دے گا
ہر ذرے سے نمایاں نورِ محمدیﷺ ہے
ایمان کی نظر سے دیکھی جو ان کی تربت
اس کے لئے شفاعت آقا کی لازمی ہے
دنیا کو چھان ڈالا سدرہ کے جب مکیں نے
ان سا کہیں نہ پایا ، یہ شان احمدی ہے
آقا نے عاصیوں کو اپنا بنا لیا ہے
یہ بندہ پروری ہے یہ بندہ پروری ہے
دے کر اثاثہ سارا بوبکر بولے آقا
جب آپ میرے گھر ہیں کس چیز کی کمی ہے
کیا کوئی کر سکے گا ان کی ثنا جہاں میں
مداح جن کا خود ہی اَللّٰہ القَوِی ہے
سرکار کا قصیدہ میں سوچتا ہوں لکھوں
پر جسم لرزاں لرزاں اور دل میں کپکپی ہے
ٹوٹی ہوئی چٹائی اک تکیہ چارپائی
” سرکار دو جہاں کی کیا شان رہبری ہے “
بن جائیں گے سعیدِ خوش بخت کام تیرے
ہاتھوں میں آج تیرے دامانِ قادری ہے
زز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

نعت اقدسﷺ- سعید قادری

سعید قادری

دنیا سے کیا غرض ہے کس چیز کی کمی ہے
تری یاد زندگی ہے ، ترا ذکر بندگی ہے
عشق نبیِ اکرم ،ایمان کی کڑی ہے
ہو گر کمی جو اس میں، پھر زندگی بری ہے
ان کا غلام ہوں میں ، کہ غلامی سروری ہے
دنیا میں بھی خوشی ہے ، عقبیٰ کی بہتری ہے
ہر گل میں ہر شجر میں تجھکو دکھائی دے گا
ہر ذرے سے نمایاں نورِ محمدیﷺ ہے
ایمان کی نظر سے دیکھی جو ان کی تربت
اس کے لئے شفاعت آقا کی لازمی ہے
دنیا کو چھان ڈالا سدرہ کے جب مکیں نے
ان سا کہیں نہ پایا ، یہ شان احمدی ہے
آقا نے عاصیوں کو اپنا بنا لیا ہے
یہ بندہ پروری ہے یہ بندہ پروری ہے
دے کر اثاثہ سارا بوبکر بولے آقا
جب آپ میرے گھر ہیں کس چیز کی کمی ہے
کیا کوئی کر سکے گا ان کی ثنا جہاں میں
مداح جن کا خود ہی اَللّٰہ القَوِی ہے
سرکار کا قصیدہ میں سوچتا ہوں لکھوں
پر جسم لرزاں لرزاں اور دل میں کپکپی ہے
ٹوٹی ہوئی چٹائی اک تکیہ چارپائی
” سرکار دو جہاں کی کیا شان رہبری ہے “
بن جائیں گے سعیدِ خوش بخت کام تیرے
ہاتھوں میں آج تیرے دامانِ قادری ہے
زز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون