مرثیہ-نسیم اشک


نسیم اشک

کچھ بول ذوالجناح مرا بھائی ہے کہاں

کچھ بولتی نہیں ہے زمیں نا یہ آسماں

لیکر جہاں گیا تو ملا پانی تھا وہاں

اپنے سوار کا تو کرو کچھ مجھے بیاں

شاہ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

ہے چین مرتضی کا وہ زہرا کا لال ہے

جسکی مثال ہے ہی نہیں وہ کمال ہے

سوکھے ہوئے ہیں ہونٹ بڑا خستہ حال ہے

تنہا گیا ہے بھائی مرا کیسا حال ہے

شاہِ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

بابا کو جاکے ساری میں باتیں بتاؤں گی

مشکل کشا کو زخم یہ سارے دکھاؤں گی

مشکل کشا علی کو کہانی سناؤں گی

روؤں گی اور سارے جہاں کو رلاؤں گی

شاہِ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

خاموش ہو کے تو نے مجھے سب بتا دیا

شبیر نے کہا جو وہ کر کے دکھا دیا

دین نبی کی ناؤ کو اس نے بچا لیا

نانا کی امتی نے  یہ کیسا جزا دیا

شاہِ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

اب اور بھی ستم ہیں جو ہم کو اٹھانے ہیں

سجاد  خستہ جان پہ کانٹے پھرانے ہیں

سب ختم  ہوگیاہے  تو خیمے جلانے ہیں

لاشوں پہ اب شہیدوں کی گھوڑے چلانے ہیں

شاہِ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

بچوں پہ تیغ بھالے کبھی تانتے  نہیں

بینائی ختم ہے یا کہ پہچانتے نہیں

ہم ہیں نبی کے آل  ہمیں جانتے نہیں

اپنے نبی کی بات بھی تو مانتے نہیں

شاہِ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

حیران ہو رہی ہے زمیں تیرے کام پر

ہر دور کا سلام ہے میرے امام پر

قدرت کو ناز زیب ہے عالی مقام پر

روئے گا اشک خون جہاں  تیرے نام  پر

شاہِ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

مرثیہ-نسیم اشک


نسیم اشک

کچھ بول ذوالجناح مرا بھائی ہے کہاں

کچھ بولتی نہیں ہے زمیں نا یہ آسماں

لیکر جہاں گیا تو ملا پانی تھا وہاں

اپنے سوار کا تو کرو کچھ مجھے بیاں

شاہ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

ہے چین مرتضی کا وہ زہرا کا لال ہے

جسکی مثال ہے ہی نہیں وہ کمال ہے

سوکھے ہوئے ہیں ہونٹ بڑا خستہ حال ہے

تنہا گیا ہے بھائی مرا کیسا حال ہے

شاہِ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

بابا کو جاکے ساری میں باتیں بتاؤں گی

مشکل کشا کو زخم یہ سارے دکھاؤں گی

مشکل کشا علی کو کہانی سناؤں گی

روؤں گی اور سارے جہاں کو رلاؤں گی

شاہِ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

خاموش ہو کے تو نے مجھے سب بتا دیا

شبیر نے کہا جو وہ کر کے دکھا دیا

دین نبی کی ناؤ کو اس نے بچا لیا

نانا کی امتی نے  یہ کیسا جزا دیا

شاہِ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

اب اور بھی ستم ہیں جو ہم کو اٹھانے ہیں

سجاد  خستہ جان پہ کانٹے پھرانے ہیں

سب ختم  ہوگیاہے  تو خیمے جلانے ہیں

لاشوں پہ اب شہیدوں کی گھوڑے چلانے ہیں

شاہِ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

بچوں پہ تیغ بھالے کبھی تانتے  نہیں

بینائی ختم ہے یا کہ پہچانتے نہیں

ہم ہیں نبی کے آل  ہمیں جانتے نہیں

اپنے نبی کی بات بھی تو مانتے نہیں

شاہِ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

حیران ہو رہی ہے زمیں تیرے کام پر

ہر دور کا سلام ہے میرے امام پر

قدرت کو ناز زیب ہے عالی مقام پر

روئے گا اشک خون جہاں  تیرے نام  پر

شاہِ زمن کہاں ہیں بتا میرے ذوالجناح

شکلِ حسین مجھ کو دکھا میرے ذوالجناح

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں