دوست کس کو بنائیں ؟

حافظ تائب ریاض
ترال، کشمیر

جس طرح یہ بات ایک حقیقت ہے کہ سورج مشرق سے طلوع ہو کر مغرب سے غروب ہوتا ہے اسی طرح اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا میں جو بھی چیز وجود میں اتی ہے اس کا کوئی نہ کوئی وجود میں لانے والا ضرور ہوتا ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ انسان روزمرہ کی زندگی میں کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح انسان کے علم میں یہ بھی واضح ہے کہ ہر چیز کا بنانے والا اس کے تمام فائدے، نقصانات،مقاصد،کس سے اس کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور کس سے اس کو فائدہ ہو سکتا ہے ،غرض ہر طرح کے احکام بیان کرتا ہے ۔اسی طرح جب انسان اپنے جسم اپنے وجود کی طرف دیکھتا ہے تو اس کے دل سے ایک ہی سدا اتی ہے کہ یقینا اس جسم کا کوئی نہ کوئی خالق ضرور ہے۔اور اس بات پر ہمارا یقین و ایمان ہے کہ ہمارا خالق،اس کائنات کا مالک اللہ ہے۔اود یقیناً اللہ نے بھی اس انسان سے متعلق تمام احکام کو واضح فرمایا ہے۔جس میں ایک چیز انسان کی تربیت ہے کہ کون اس کی تربیت کرے اور کس طرح اس کی تربیت کی جائے تاکہ یہ اپنی منزل تک بآسانی پہنچ سکے۔اور اللہ نے اس انسان کی تربیت کی پہلی ذمہ داری جن کے ہاتھوں سونپی ہے۔وہ ہے اس کے والدین ۔والدین ہی ایک انسان کی پہلی درسگاہ ایک انسان کا پہلا مدرسہ ہوتا ہے جہاں اس کی تربیت کا سامان فراہم ہوتا ہے۔جیسا کہ حدیث شریف میں ایا ہے۔
،”كل مولود يولد على الفطرة فابواه يهودانه او ينصرانه او يمجساني ” (الحديث)
ہر بچہ دینی فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر والدین اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ انسان اٹھنا، بیٹھنا ،چلنا، چھوٹوں اور بڑوں سے بات کرنا، ہر ایک چیز اپنے ماں باپ سے سیکھتا ہے۔یقینی بات ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد کی صحیح تربیت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ہیں۔وہ اپنے بچے کو اچھا انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب انسان کی شکل میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ایک بچہ کب تک اپنے ماں باپ کے سائے میں رہ سکتا ہے اسے اس سائے سے کبھی عارضی تو کبھی دائمی طور محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے بعد جب وہ ماں باپ کی تربیت سے باہر قدم رکھتا ہے تو سب سے پہلے وہ دوست بناتا ہے کیونکہ زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج اکثر والدین کی شکایت ہوتی ہے کہ ہمارا بچہ برے کاموں میں ملوث ہو گیا ہے اگرچہ ہم نے اس کو اچھی تربیت کی تھی ۔اج ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر جوان نشے کے عادی ہو گئے ہیں وجہ کیا ہے کیا ان کے والدین نے ان کو ایسی تربیت دی۔ نہیں بلکہ وہ ایسے لوگوں کی تربیت میں اتے ہیں جو ان کو بری چیزوں کا عادی بنا دیتے ہیں جیسے کہ ایک شاعر فرماتے ہیں
صحبت صالح ترا صالح کنند
صحبت طالح ترا طالح کنند
صحبت سے عادت منتقل ہوتی ہے اگر اپ اچھی صحبت میں ہیں تو امید ہے کہ اپ کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوگا اور اگر اپ بری صحبت کے زیر اثر ہیں تو وہ بری صحبت اپ کی شخصیت کو مجروح کرے گی انگریزی کا ایک مشہور جملہ ہے
A man known by the company he keeps
یعنی اگر اپ کو کوئی انسان جانچنا ہو تو اپ دیکھیے کہ وہ اپنا وقت کہاں اور کن کے ساتھ گزارتا ہے ۔ماں باپ کے بعد دوست ہی ایک ایسا انسان ہوتا ہے جس سے انسان اچھی تربیت بھی پا سکتا ہے اور بری تربیت بھی قران پاک میں اللہ کا ارشاد ہے۔
سورۃ الزخرف آیت نمبر 67
اَلۡاَخِلَّاۤءُ يَوۡمَئِذٍۢ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ ۞ سوائے متقیوں کے جتنے بھی دوست ہوں گے قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے دنیا میں تو وہ ان پر بہت اعتماد کرتے تھے لیکن اخرت میں وہی لوگ ان کے دشمن ہوں گے بلکہ یہ باہمی دوستی ہی ان کے لیے تباہی ثابت ہوگی۔
"الاالمتقین "سوائے متقیوں کے۔کیوں؟ کیونکہ انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی، عدل کی نصیحت کی اور اسی پر خود بھی عامل رہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
المرء على دين خليله فلينظر احدكم من يخالل (الحديث)
انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لیے تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ دوستی کس سے کر رہا ہے
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم دوست کس کو بنائیں؟کس کو ہم اپنا ساتھی بنائیں؟کہ جس سے ہماری دنیا بھی کامیاب رہے اور اخرت بھی۔صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے ایک بار حضور نے پوچھا یا اللہ کے رسول ہم کس کی مجلس میں بیٹھے؟تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتیں ارشاد فرمائی کہ "ذكركم الله رؤيه” جس کو اپ ساتھی بنائیں اس کو دیکھ کر اپ کو اللہ کی یاد ائے.”وزاره في علمكم منطقه” کہ جب وہ بات کرے تو اس کی بات تمہارے علم اضافہ کرے۔”وذكركم الاخره عمله” کہ اس کا عمل دیکھ کر تمہیں اخرت کی طرف رغبت ہو (جامع الاحادیث ٣٨٩٨٦). عزیز قارئین ! ہر انسان میں یہ خوبیاں ہونی چاہیے کیونکہ ہم اللہ کی وہ مخلوق ہیں جس کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا گیا ہے۔غرض جس انسان میں یہ صفات ہوں اس کو اپنا دوست بنائیں دوست کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے ہر مرحلے میں اپ کی رہنمائی کرے۔اگر اپ کوئی اچھا کام کرتے ہیں تو وہ اپ کوشاباشی دیتا ہے اور اگر اپ کا دھیان کسی برائی کی طرف جائے تو وہ اپ کو بتاتا ہے کہ بھائی اپ غلطی پر ہیں۔ اپ غلطی کی طرف جا رہے ہیں یہ اچھے دوست کی پہچان ہوتی ہے ۔اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوستی کرنے سے پہلے دیکھو کہ اپ دوستی کس سے کر رہے ہو اس لیے دوست کا دین دار ہونا ضروری ہوتا ہے جب کوئی انسان دیندار ہوتا ہے تو وہ وہ وفادار بھی ہوتا ہے وہ سچا بھی ہوتا ہے وہ رازدار بھی ہوتا ہے اور سب سے اہم بات وہ اپ کو برائی کی طرف نہیں جانے دیتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی تب تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جب جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔اور یقینی بات ہے کہ انسان کبھی بھی اپنا برا نہیں سوچتا وہ ہر حالت میں اپنے حق میں اچھائی سونچتاہے اور جب وہ اپنا اچھا سوچے گا تو وہ اپ کے لیے بھی اچھا ہی سوچے گا الغرض دوست بنانے سے پہلے یہ لازمی ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ جس کو میں دوست بنا رہا ہوں کیا وہ دوست بنانے کے قابل ہے بھی یا نہیں ایسا نہ ہو کہ انسان اخرت میں افسوس کرتے ہوئے یہ نہ کہے کہ” يا ليتني لم اتخذ فلان خليلا”(الفرقان) اے میری کمبختی ہائے افسوس کاش میں نے فلاں کو دو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

دوست کس کو بنائیں ؟

حافظ تائب ریاض
ترال، کشمیر

جس طرح یہ بات ایک حقیقت ہے کہ سورج مشرق سے طلوع ہو کر مغرب سے غروب ہوتا ہے اسی طرح اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا میں جو بھی چیز وجود میں اتی ہے اس کا کوئی نہ کوئی وجود میں لانے والا ضرور ہوتا ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ انسان روزمرہ کی زندگی میں کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح انسان کے علم میں یہ بھی واضح ہے کہ ہر چیز کا بنانے والا اس کے تمام فائدے، نقصانات،مقاصد،کس سے اس کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور کس سے اس کو فائدہ ہو سکتا ہے ،غرض ہر طرح کے احکام بیان کرتا ہے ۔اسی طرح جب انسان اپنے جسم اپنے وجود کی طرف دیکھتا ہے تو اس کے دل سے ایک ہی سدا اتی ہے کہ یقینا اس جسم کا کوئی نہ کوئی خالق ضرور ہے۔اور اس بات پر ہمارا یقین و ایمان ہے کہ ہمارا خالق،اس کائنات کا مالک اللہ ہے۔اود یقیناً اللہ نے بھی اس انسان سے متعلق تمام احکام کو واضح فرمایا ہے۔جس میں ایک چیز انسان کی تربیت ہے کہ کون اس کی تربیت کرے اور کس طرح اس کی تربیت کی جائے تاکہ یہ اپنی منزل تک بآسانی پہنچ سکے۔اور اللہ نے اس انسان کی تربیت کی پہلی ذمہ داری جن کے ہاتھوں سونپی ہے۔وہ ہے اس کے والدین ۔والدین ہی ایک انسان کی پہلی درسگاہ ایک انسان کا پہلا مدرسہ ہوتا ہے جہاں اس کی تربیت کا سامان فراہم ہوتا ہے۔جیسا کہ حدیث شریف میں ایا ہے۔
،”كل مولود يولد على الفطرة فابواه يهودانه او ينصرانه او يمجساني ” (الحديث)
ہر بچہ دینی فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر والدین اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ انسان اٹھنا، بیٹھنا ،چلنا، چھوٹوں اور بڑوں سے بات کرنا، ہر ایک چیز اپنے ماں باپ سے سیکھتا ہے۔یقینی بات ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد کی صحیح تربیت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ہیں۔وہ اپنے بچے کو اچھا انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب انسان کی شکل میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ایک بچہ کب تک اپنے ماں باپ کے سائے میں رہ سکتا ہے اسے اس سائے سے کبھی عارضی تو کبھی دائمی طور محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے بعد جب وہ ماں باپ کی تربیت سے باہر قدم رکھتا ہے تو سب سے پہلے وہ دوست بناتا ہے کیونکہ زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج اکثر والدین کی شکایت ہوتی ہے کہ ہمارا بچہ برے کاموں میں ملوث ہو گیا ہے اگرچہ ہم نے اس کو اچھی تربیت کی تھی ۔اج ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر جوان نشے کے عادی ہو گئے ہیں وجہ کیا ہے کیا ان کے والدین نے ان کو ایسی تربیت دی۔ نہیں بلکہ وہ ایسے لوگوں کی تربیت میں اتے ہیں جو ان کو بری چیزوں کا عادی بنا دیتے ہیں جیسے کہ ایک شاعر فرماتے ہیں
صحبت صالح ترا صالح کنند
صحبت طالح ترا طالح کنند
صحبت سے عادت منتقل ہوتی ہے اگر اپ اچھی صحبت میں ہیں تو امید ہے کہ اپ کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوگا اور اگر اپ بری صحبت کے زیر اثر ہیں تو وہ بری صحبت اپ کی شخصیت کو مجروح کرے گی انگریزی کا ایک مشہور جملہ ہے
A man known by the company he keeps
یعنی اگر اپ کو کوئی انسان جانچنا ہو تو اپ دیکھیے کہ وہ اپنا وقت کہاں اور کن کے ساتھ گزارتا ہے ۔ماں باپ کے بعد دوست ہی ایک ایسا انسان ہوتا ہے جس سے انسان اچھی تربیت بھی پا سکتا ہے اور بری تربیت بھی قران پاک میں اللہ کا ارشاد ہے۔
سورۃ الزخرف آیت نمبر 67
اَلۡاَخِلَّاۤءُ يَوۡمَئِذٍۢ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ ۞ سوائے متقیوں کے جتنے بھی دوست ہوں گے قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے دنیا میں تو وہ ان پر بہت اعتماد کرتے تھے لیکن اخرت میں وہی لوگ ان کے دشمن ہوں گے بلکہ یہ باہمی دوستی ہی ان کے لیے تباہی ثابت ہوگی۔
"الاالمتقین "سوائے متقیوں کے۔کیوں؟ کیونکہ انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی، عدل کی نصیحت کی اور اسی پر خود بھی عامل رہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
المرء على دين خليله فلينظر احدكم من يخالل (الحديث)
انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لیے تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ دوستی کس سے کر رہا ہے
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم دوست کس کو بنائیں؟کس کو ہم اپنا ساتھی بنائیں؟کہ جس سے ہماری دنیا بھی کامیاب رہے اور اخرت بھی۔صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے ایک بار حضور نے پوچھا یا اللہ کے رسول ہم کس کی مجلس میں بیٹھے؟تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتیں ارشاد فرمائی کہ "ذكركم الله رؤيه” جس کو اپ ساتھی بنائیں اس کو دیکھ کر اپ کو اللہ کی یاد ائے.”وزاره في علمكم منطقه” کہ جب وہ بات کرے تو اس کی بات تمہارے علم اضافہ کرے۔”وذكركم الاخره عمله” کہ اس کا عمل دیکھ کر تمہیں اخرت کی طرف رغبت ہو (جامع الاحادیث ٣٨٩٨٦). عزیز قارئین ! ہر انسان میں یہ خوبیاں ہونی چاہیے کیونکہ ہم اللہ کی وہ مخلوق ہیں جس کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا گیا ہے۔غرض جس انسان میں یہ صفات ہوں اس کو اپنا دوست بنائیں دوست کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے ہر مرحلے میں اپ کی رہنمائی کرے۔اگر اپ کوئی اچھا کام کرتے ہیں تو وہ اپ کوشاباشی دیتا ہے اور اگر اپ کا دھیان کسی برائی کی طرف جائے تو وہ اپ کو بتاتا ہے کہ بھائی اپ غلطی پر ہیں۔ اپ غلطی کی طرف جا رہے ہیں یہ اچھے دوست کی پہچان ہوتی ہے ۔اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوستی کرنے سے پہلے دیکھو کہ اپ دوستی کس سے کر رہے ہو اس لیے دوست کا دین دار ہونا ضروری ہوتا ہے جب کوئی انسان دیندار ہوتا ہے تو وہ وہ وفادار بھی ہوتا ہے وہ سچا بھی ہوتا ہے وہ رازدار بھی ہوتا ہے اور سب سے اہم بات وہ اپ کو برائی کی طرف نہیں جانے دیتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی تب تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جب جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔اور یقینی بات ہے کہ انسان کبھی بھی اپنا برا نہیں سوچتا وہ ہر حالت میں اپنے حق میں اچھائی سونچتاہے اور جب وہ اپنا اچھا سوچے گا تو وہ اپ کے لیے بھی اچھا ہی سوچے گا الغرض دوست بنانے سے پہلے یہ لازمی ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ جس کو میں دوست بنا رہا ہوں کیا وہ دوست بنانے کے قابل ہے بھی یا نہیں ایسا نہ ہو کہ انسان اخرت میں افسوس کرتے ہوئے یہ نہ کہے کہ” يا ليتني لم اتخذ فلان خليلا”(الفرقان) اے میری کمبختی ہائے افسوس کاش میں نے فلاں کو دو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں