فلسطینی عوام: اسرائیل کے لیے کیڑے مکوڑے اور ریسرچ سینٹر

غلام غوث

ایک وقت تھا جب ہم کسی عرب کو دیکھتے تو احترام سے ہمارے سر جھک جاتے تھے اور ہم انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے۔ ایک وقت اب ہے جب ہم انہیں دیکھتے ہی شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ فلسطین میں ان کے اپنے بھائی، بہنیں، بچے اور بوڑھے ہر دن پچاس ساٹھ کی تعداد میں اسرائیلی بمباری سے مر رہے ہیں، اور وہ ہیں کہ امریکہ کے صدر کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہے ہیں، صدر کے سامنے اپنے "ہیجڑے” فوجیوں کی پریڈ کروارہے ہیں، سلامی دے رہے ہیں اور تلواریں لے کر ناچ کود کر رہے ہیں۔ وہاں ان کی اپنی بہنیں دانے دانے کو محتاج ہیں اور یہاں عرب حکمران امریکہ سے دو سو یا دو سو پچاس ارب ڈالر کے ہتھیار خرید کر خوشیاں منا رہے ہیں۔
ان کی بے غیرتی کو دیکھ کر انہیں مسلمان کہنا بھی شرم کا باعث ہے۔ ہر مسلمان کے دل سے ان کے لیے بددعائیں ہی نکل رہی ہیں۔ عرب ممالک سے ٹرمپ تقریباً چار کھرب ڈالر کے ڈپازٹ لے کر امریکہ گیا، جبکہ فلسطینی عوام ایک ایک لقمے کو ترس رہے ہیں۔
جنگ نہیں لڑ سکتے، نہ سہی، مگر دوسرے راستے تو اپنا سکتے ہو۔ اسرائیل میں موجود 70 لاکھ یہودی فلسطینیوں کو انسان نہیں سمجھتے اور انہیں مارنا، ستانا اور بے گھر کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ 7 اکتوبر 2022 کو جو اچانک حملہ حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل پر کیا، وہ دراصل خود اسرائیل کی چال تھی تاکہ دنیا کو دکھا سکے کہ اسرائیل مظلوم ہے اور حماس ایک دہشت گرد تنظیم۔
اسی بہانے امریکہ، جرمنی، نیدرلینڈ، آسٹریلیا اور برطانیہ نے اسرائیل کو بھرپور فوجی اور مالی امداد دینا شروع کردی۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اسرائیل فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنا چاہتا تھا تاکہ وہاں مکمل کنٹرول حاصل کر سکے۔
اس بہانے اسرائیل نے جو بربریت فلسطینیوں پر کی، اسے دیکھ کر دنیا کے بیشتر ممالک نے اسرائیل کی مذمت کی، اور خود امریکہ میں بھی لوگوں نے احتجاج کیا کہ ان کا ملک اسرائیل کو کیوں نہیں روک رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو پہلے سے پتہ تھا کہ حماس حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس بہانے سے اس نے امریکی ہتھیار فلسطینیوں پر آزمائے اور ان کی کارکردگی کی رپورٹ دنیا کو دی تاکہ انہیں مارکیٹ میں "battle tested” کہہ کر فروخت کیا جا سکے۔
اسرائیل کے لیے فلسطین ایک تجربہ گاہ (لیبارٹری) بن چکا ہے۔ 2021 میں اسرائیل کی ہتھیاروں کی فروخت گزشتہ دو برسوں سے 55 فیصد زیادہ ہو کر 11.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
جہاں جہاں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں، وہاں اسرائیل اپنے مہلک ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ 1994 میں روانڈا میں ہوتو اور تتسی قبیلوں کے درمیان لڑائی ہوئی تو اسرائیل نے ہوتو قبائل کو اسلحہ بیچا، جس سے 8 لاکھ تتسی باشندے قتل کر دیے گئے۔ دکھاوے کے لیے اسرائیل نے بعد میں ایک میڈیکل ٹیم دواؤں کے ساتھ روانڈا بھیجی، جس کی سربراہی موسمیات کے وزیر یوسی ساریڈ کر رہے تھے۔ جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، "ہماری ہتھیار کہاں جاتے ہیں، اس پر ہمارا کنٹرول نہیں۔”
2022 میں روس-یوکرین جنگ کے دوران اسرائیل نے روس کو فون ہیکنگ ٹیکنالوجی Pegasus دی، جس سے روس نے یوکرین کو شدید نقصان پہنچایا، لیکن جب یوکرین نے یہی ٹیکنالوجی مانگی، تو انکار کر دیا گیا۔
امریکی پولیس افسر جارج فلوئڈ نے ایک سیاہ فام شخص کی گردن پر گھٹنا رکھ کر اسے مار دیا — یہ طریقہ اسے اسرائیل میں سکھایا گیا تھا۔ یہی ظلم اسرائیل فلسطینیوں پر روز کرتا ہے۔
اسرائیلی صحافی رونن برگ مین نے 2001 میں ایک کتاب Rise and Kill First لکھی، جس میں بتایا کہ یہودی فلسطینیوں سے کیسے سلوک کرتے ہیں۔
چلی (Chile) میں ڈکٹیٹر پینوشے نے جب اپنی عوام کی آواز کو دبانے کے لیے اسرائیل سے اسلحہ خرید کر ہزاروں شہریوں کا قتلِ عام کیا، تو امریکہ نے اس پر پابندی لگا دی۔ لیکن اسرائیل کو چھوٹ دی گئی کہ وہ اسلحہ فراہم کرتا رہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ دنیا میں لڑائیاں جاری رہیں تاکہ اس کا اسلحہ کاروبار چلتا رہے۔ وہ ہمیشہ کہتا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں واحد جمہوری ملک ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں یہودیوں کے سوا کوئی آزاد نہیں۔
اسرائیلی فوج اپنے آپ کو "اخلاقی فوج” کہتی ہے (Army with Morality) — کتنی اخلاقی ہے، یہ ساری دنیا جانتی ہے۔
یہودی تقریباً دو ہزار سال کی دربدری کے بعد 14 مئی 1948 کو بین گوریان کی قیادت میں اسرائیل قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 1947 سے 1949 کے درمیان انہوں نے 19 لاکھ فلسطینیوں کو بے دخل کیا، 531 شہر تباہ کیے، 15 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا اور باقی کو قید یا زخمی کر دیا۔
فلسطینیوں کے خلاف جنگ بند کرنا اسرائیل کی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ وہ امریکی ہتھیار بھی فلسطینیوں پر آزماتا ہے اور ان کی رپورٹ امریکہ کو دیتا ہے۔
سابق وزیر اعظم یہود براک کا کہنا ہے:
"Israel is a villa in the middle of a jungle”
یعنی اسرائیل عرب "درندوں” کے درمیان ایک مہذب ملک ہے۔
یہودی اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ وہ اللہ کے چُنے ہوئے بندے ہیں۔
جب ایران میں شاہ کی حکومت تھی، اسرائیل اس کا دوست تھا۔ شاہ کی مخالفت کرنے والوں کو دبانے کے لیے اسرائیل نے ایران کو مشورے اور تربیت دی۔ اسرائیل نے شاہ کو جدید میزائل دیے اور خفیہ پولیس "ساواک” کو تربیت دی۔
1979 میں جب آیت اللہ خمینی نے اقتدار سنبھالا، اسرائیل کو امید تھی کہ اس کے ہتھیاروں کی وجہ سے ایران کو اس کی ضرورت پڑے گی، مگر ایسا نہ ہوا۔
1967 کی عرب-اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے پیراگوئے کے آمر سے معاہدہ کیا کہ وہ 60 ہزار فلسطینیوں کو وہاں منتقل کرے گا، مگر صرف 30 فلسطینی وہاں گئے۔
لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل نے بے تحاشا جدید ہتھیار استعمال کیے، جن میں شہری و عسکری اہداف کی تمیز نہیں رکھی گئی۔ 1986 میں اسرائیل نے لبنان میں PLO کے ایک تحقیقی مرکز پر حملہ کیا، جہاں صرف تاریخی دستاویزات تھیں — اس کا مقصد ان دستاویزات کو لوٹنا تھا، تاکہ فلسطینی اپنی تاریخ سے محروم ہو جائیں۔ بعد میں 1993 کے ایک معاہدے کے تحت اسرائیل کو یہ دستاویزات واپس کرنا پڑیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

فلسطینی عوام: اسرائیل کے لیے کیڑے مکوڑے اور ریسرچ سینٹر

غلام غوث

ایک وقت تھا جب ہم کسی عرب کو دیکھتے تو احترام سے ہمارے سر جھک جاتے تھے اور ہم انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے۔ ایک وقت اب ہے جب ہم انہیں دیکھتے ہی شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ فلسطین میں ان کے اپنے بھائی، بہنیں، بچے اور بوڑھے ہر دن پچاس ساٹھ کی تعداد میں اسرائیلی بمباری سے مر رہے ہیں، اور وہ ہیں کہ امریکہ کے صدر کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہے ہیں، صدر کے سامنے اپنے "ہیجڑے” فوجیوں کی پریڈ کروارہے ہیں، سلامی دے رہے ہیں اور تلواریں لے کر ناچ کود کر رہے ہیں۔ وہاں ان کی اپنی بہنیں دانے دانے کو محتاج ہیں اور یہاں عرب حکمران امریکہ سے دو سو یا دو سو پچاس ارب ڈالر کے ہتھیار خرید کر خوشیاں منا رہے ہیں۔
ان کی بے غیرتی کو دیکھ کر انہیں مسلمان کہنا بھی شرم کا باعث ہے۔ ہر مسلمان کے دل سے ان کے لیے بددعائیں ہی نکل رہی ہیں۔ عرب ممالک سے ٹرمپ تقریباً چار کھرب ڈالر کے ڈپازٹ لے کر امریکہ گیا، جبکہ فلسطینی عوام ایک ایک لقمے کو ترس رہے ہیں۔
جنگ نہیں لڑ سکتے، نہ سہی، مگر دوسرے راستے تو اپنا سکتے ہو۔ اسرائیل میں موجود 70 لاکھ یہودی فلسطینیوں کو انسان نہیں سمجھتے اور انہیں مارنا، ستانا اور بے گھر کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ 7 اکتوبر 2022 کو جو اچانک حملہ حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل پر کیا، وہ دراصل خود اسرائیل کی چال تھی تاکہ دنیا کو دکھا سکے کہ اسرائیل مظلوم ہے اور حماس ایک دہشت گرد تنظیم۔
اسی بہانے امریکہ، جرمنی، نیدرلینڈ، آسٹریلیا اور برطانیہ نے اسرائیل کو بھرپور فوجی اور مالی امداد دینا شروع کردی۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اسرائیل فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنا چاہتا تھا تاکہ وہاں مکمل کنٹرول حاصل کر سکے۔
اس بہانے اسرائیل نے جو بربریت فلسطینیوں پر کی، اسے دیکھ کر دنیا کے بیشتر ممالک نے اسرائیل کی مذمت کی، اور خود امریکہ میں بھی لوگوں نے احتجاج کیا کہ ان کا ملک اسرائیل کو کیوں نہیں روک رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو پہلے سے پتہ تھا کہ حماس حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس بہانے سے اس نے امریکی ہتھیار فلسطینیوں پر آزمائے اور ان کی کارکردگی کی رپورٹ دنیا کو دی تاکہ انہیں مارکیٹ میں "battle tested” کہہ کر فروخت کیا جا سکے۔
اسرائیل کے لیے فلسطین ایک تجربہ گاہ (لیبارٹری) بن چکا ہے۔ 2021 میں اسرائیل کی ہتھیاروں کی فروخت گزشتہ دو برسوں سے 55 فیصد زیادہ ہو کر 11.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
جہاں جہاں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں، وہاں اسرائیل اپنے مہلک ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ 1994 میں روانڈا میں ہوتو اور تتسی قبیلوں کے درمیان لڑائی ہوئی تو اسرائیل نے ہوتو قبائل کو اسلحہ بیچا، جس سے 8 لاکھ تتسی باشندے قتل کر دیے گئے۔ دکھاوے کے لیے اسرائیل نے بعد میں ایک میڈیکل ٹیم دواؤں کے ساتھ روانڈا بھیجی، جس کی سربراہی موسمیات کے وزیر یوسی ساریڈ کر رہے تھے۔ جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، "ہماری ہتھیار کہاں جاتے ہیں، اس پر ہمارا کنٹرول نہیں۔”
2022 میں روس-یوکرین جنگ کے دوران اسرائیل نے روس کو فون ہیکنگ ٹیکنالوجی Pegasus دی، جس سے روس نے یوکرین کو شدید نقصان پہنچایا، لیکن جب یوکرین نے یہی ٹیکنالوجی مانگی، تو انکار کر دیا گیا۔
امریکی پولیس افسر جارج فلوئڈ نے ایک سیاہ فام شخص کی گردن پر گھٹنا رکھ کر اسے مار دیا — یہ طریقہ اسے اسرائیل میں سکھایا گیا تھا۔ یہی ظلم اسرائیل فلسطینیوں پر روز کرتا ہے۔
اسرائیلی صحافی رونن برگ مین نے 2001 میں ایک کتاب Rise and Kill First لکھی، جس میں بتایا کہ یہودی فلسطینیوں سے کیسے سلوک کرتے ہیں۔
چلی (Chile) میں ڈکٹیٹر پینوشے نے جب اپنی عوام کی آواز کو دبانے کے لیے اسرائیل سے اسلحہ خرید کر ہزاروں شہریوں کا قتلِ عام کیا، تو امریکہ نے اس پر پابندی لگا دی۔ لیکن اسرائیل کو چھوٹ دی گئی کہ وہ اسلحہ فراہم کرتا رہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ دنیا میں لڑائیاں جاری رہیں تاکہ اس کا اسلحہ کاروبار چلتا رہے۔ وہ ہمیشہ کہتا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں واحد جمہوری ملک ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں یہودیوں کے سوا کوئی آزاد نہیں۔
اسرائیلی فوج اپنے آپ کو "اخلاقی فوج” کہتی ہے (Army with Morality) — کتنی اخلاقی ہے، یہ ساری دنیا جانتی ہے۔
یہودی تقریباً دو ہزار سال کی دربدری کے بعد 14 مئی 1948 کو بین گوریان کی قیادت میں اسرائیل قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 1947 سے 1949 کے درمیان انہوں نے 19 لاکھ فلسطینیوں کو بے دخل کیا، 531 شہر تباہ کیے، 15 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا اور باقی کو قید یا زخمی کر دیا۔
فلسطینیوں کے خلاف جنگ بند کرنا اسرائیل کی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ وہ امریکی ہتھیار بھی فلسطینیوں پر آزماتا ہے اور ان کی رپورٹ امریکہ کو دیتا ہے۔
سابق وزیر اعظم یہود براک کا کہنا ہے:
"Israel is a villa in the middle of a jungle”
یعنی اسرائیل عرب "درندوں” کے درمیان ایک مہذب ملک ہے۔
یہودی اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ وہ اللہ کے چُنے ہوئے بندے ہیں۔
جب ایران میں شاہ کی حکومت تھی، اسرائیل اس کا دوست تھا۔ شاہ کی مخالفت کرنے والوں کو دبانے کے لیے اسرائیل نے ایران کو مشورے اور تربیت دی۔ اسرائیل نے شاہ کو جدید میزائل دیے اور خفیہ پولیس "ساواک” کو تربیت دی۔
1979 میں جب آیت اللہ خمینی نے اقتدار سنبھالا، اسرائیل کو امید تھی کہ اس کے ہتھیاروں کی وجہ سے ایران کو اس کی ضرورت پڑے گی، مگر ایسا نہ ہوا۔
1967 کی عرب-اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے پیراگوئے کے آمر سے معاہدہ کیا کہ وہ 60 ہزار فلسطینیوں کو وہاں منتقل کرے گا، مگر صرف 30 فلسطینی وہاں گئے۔
لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل نے بے تحاشا جدید ہتھیار استعمال کیے، جن میں شہری و عسکری اہداف کی تمیز نہیں رکھی گئی۔ 1986 میں اسرائیل نے لبنان میں PLO کے ایک تحقیقی مرکز پر حملہ کیا، جہاں صرف تاریخی دستاویزات تھیں — اس کا مقصد ان دستاویزات کو لوٹنا تھا، تاکہ فلسطینی اپنی تاریخ سے محروم ہو جائیں۔ بعد میں 1993 کے ایک معاہدے کے تحت اسرائیل کو یہ دستاویزات واپس کرنا پڑیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں