جنگ نیوز ڈیسک
کالج آف ٹیمپریٹ سیریکلچر، شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر (SKUAST-K)، مرگنڈ نے ایک نیا ریشم کے کیڑوں کے جسمانی جراثیم کش (ڈس انفیکٹینٹ) "سیری فن (SERIFIN)” تیار کیا ہے، جو ایک بیرونی مالی امداد یافتہ پروجیکٹ کے تحت بنایا گیا۔ اس پروجیکٹ کا عنوان ہے: "ریشمی کیڑوں کے جسم اور پرورش گاہ کے لیے آسان استعمال کے قابل ڈس انفیکٹینٹ کی تیاری”، جسے بھارت سرکار کے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی نے ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت اسپانسر کیا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی موجودہ دور میں خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ ماحولیاتی طور پر پائیدار، اقتصادی طور پر مؤثر اور تکنیکی لحاظ سے قابلِ عمل ہے۔ اس کا مقصد ریشم کی صنعت سے جڑے افراد کو بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کرنے اور بہتر کوکون (ریشم کے پیلے) کی پیداوار کے ذریعے مدد فراہم کرنا ہے۔
آج 20 مئی 2025 کو ضلع بارہمولہ کے ریشم پرورش کرنے والوں میں یہ پروڈکٹ کالج آف ٹیمپریٹ سیریکلچر، مرگنڈ میں ڈویژن آف سیریکلچر کراپ امپروومنٹ کی جانب سے تقسیم کیا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر خورشید احمد صحاف، ایسوسی ایٹ ڈین، کالج آف ٹیمپریٹ سیریکلچر، پروفیسر نثار احمد گنائی، سربراہ ڈویژن آف سیریکلچر کراپ امپروومنٹ، پروفیسر عرفان لطیف خان، سربراہ ڈویژن آف کوکون کراپ پروڈکشن، ڈاکٹر شبیر احمد بھٹ، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پرنسپل انویسٹی گیٹر، اور ڈاکٹر آصف رفیق راثر، جونیئر ریسرچ اسکالر موجود تھے۔
تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر شبیر احمد بھٹ نے "سیری فن” کی اہمیت، اس کے فوائد، اور اس کے ذریعے ریشمی کیڑوں کی صحت مند پرورش اور بیماریوں کے مؤثر کنٹرول پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
اس لانچ ایونٹ میں مقامی ریشم پرورش کرنے والوں نے جوش و خروش سے شرکت کی اور "سیری فن” کی آمد کو خوش آئند قرار دیا۔


