جنگ نیوز ڈیسک
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ 142 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ امریکہ اور سعودی عرب کے قریبی تعلقات کی تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک اسٹریٹجک اقتصادی معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے متعلق سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ اس ہمہ گیر معاہدہ میں توانائی، دفاع، کان کنی اور دیگر شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اس اہم بات چیت کے دوران سعودی عرب کو امریکہ کے جدید ترین ایف 35 سٹیلتھ طیاروں کی فروخت پر بھی بات ہوئی ہے۔ تاہم اس بات چیت کا نتیجہ معلوم نہیں۔
وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ سعودی عرب امریکہ میں 600 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہے، جس میں اتحادیوں کے درمیان "تاریخ کا سب سے بڑا” ہتھیاروں کا معاہدہ بھی شامل ہے، جس کی مالیت تقریباً 142 بلین ڈالر ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج سعودی عرب کے ساتھ ایک سٹریٹجک اقتصادی معاہدے پر دستخط کئے۔ سعودی عرب کی طرف سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی امریکی تعاون کی تاریخ کے غیر معمولی معاہدے پر دستخط کیےاس معاہدہ میں توانائی، دفاع، کان کنی اور دیگر شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ریاض میں سعودی-امریکی سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کو "دنیا کی عظیم ترین قوم” قرار دیا۔ ان کے اس بیان نے واشنگٹن اور ریاض کے درمیان گہرے ہوتے تعلقات اور مشترکہ عزائم کو اجاگر کیا۔
فورم میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے سعودی قیادت، معاشی ترقی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کردار کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا، "آپ دنیا کی خوشحال ترین اقوام میں شامل ہیں۔ ریاض ایک عالمی کاروباری مرکز بننے جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کا مستقبل یہیں سے شروع ہوتا ہے۔”
صدر نے ولی عہد محمد بن سلمان کو ایک انتھک رہنما قرار دیتے ہوئے کہا، "وہ بہت محنت کرتے ہیں، میرے خیال میں وہ رات کو سوتے بھی نہیں۔” انہوں نے شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان دونوں کو خطے میں "غیر معمولی اور گہرے تبدیلی” کا معمار قرار دیا۔ٹرمپ نے اپنے دورہ سعودی عرب کو تاریخی قرار دیا اور کہا، "سعودی عرب کی اس انداز میں میزبانی میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔” انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا، "ہم سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے۔”اپنے خطاب میں ٹرمپ نے یوکرین کے حوالے سے مذاکرات میں سعودی عرب کے "تعمیری کردار” کا شکریہ ادا کیا اور خطے میں کشیدگی کے حل کے لیے سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ایران سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا، "میں ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہوں تاکہ دنیا کو ایک محفوظ جگہ بنایا جا سکے۔”ایک اہم پالیسی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ شام پر عائد پابندیاں ختم کرے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ فیصلہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا۔دفاع اور سلامتی کے حوالے سے ٹرمپ نے امریکی اتحادیوں کے ساتھ عزمِ وفا دہرانے کے ساتھ واضح پیغام دیا: "جو کوئی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دھمکائے گا، اسے طاقت کا جواب دیا جائے گا۔ میں سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی طاقت کے استعمال سے ہچکچاؤں گا نہیں۔”
دورے کا مرکزی نکتہ وہ ہے جسے وائٹ ہاؤس نے "تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ” قرار دیا ہے — واشنگٹن اور ریاض کے درمیان 142 ارب ڈالر کا حیران کن ہتھیاروں کا سودا۔


